اقول کانہ یرید قولہ تعالٰی علم ان لم تحصوہ فتاب علیکم وقولہ تعالٰی علم
ان سیکون منکم مرضی و اٰخرون یضربون فی الارض یبتغون من فضل اﷲ ۲؎
فان الظاھران الخطاب فیہ للامۃ۔
اقول شاید اس سے ان کی مرادخاتمہ سورۃ کے یہ الفاظ ہوں کہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا: ''وہ جانتاہے اے مسلمانو! تم سے رات کاشمارنہ ہوسکے گا تو اس نے اپنے کرم سے تم پررجوع فرمایا'' اور اﷲ تعالٰی کایہ فرمان : ''وہ جانتاہے کہ عنقریب تم میں کچھ بیمارہوں گے اور کچھ زمین پرسفر کریں گے، اﷲ کا فضل تلاش کریں گے'' کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ یہاں خطاب اُمت کے لئے ہے(ت)
(۲؎ القرآن ۷۳ /۲۰)
ثم اقول ہمیں احتمال کافی خصوصاً جبکہ بوجہ عدیدہ اس کاپتا چلتاہو اوّلاً اسی حدیث میں لفظ ابوداؤد یوں ہیں:
قال (ای سعد بن ھشام، قلت حدثنی عن قیام اللیل قالت الست تقرأ یایھا المزمل قال قلت بلٰی قالت فان اوّل ھذہ السورۃ نزلت فقام اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حتی انتفخت اقدامھم وحبس خاتمتھا فی السماء اثنی عشر شھرا ثم نزل اٰخرھا فصار قیام اللیل تطوعا بعد فریضۃ۱؎۔
اس (یعنی سعد بن ہشام ) نے کہا کہ میں نے عرض کیا کہ مجھے قیام شب کے بارے میں بیان کیجئے تو اُمّ المومنین نے فرمایا کیا تونے یایھا المزمل نہیں پڑھی؟ عرض کیا ہاں پڑھی ہے۔ فرمایا اس سورۃ کاابتدائی حصہ جب نازل ہوا تو حضور کے اصحاب نے یہاں تک قیام کیا کہ ان کے پاؤن سوج گئے، لیکن اس کا آخری حصہ بارہ۱۲ماہ آسمان پر روک لیا، پھر جب آخری حصہ نازل فرمایا تو قیام شب فرض ہونے کے بعد نفل بن گیا(ت)
(۱؎ سنن ابوداؤد باب رفع الصوت بالقرأۃ الخ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۱۹۰)
ثانیاً خود ام المومنین سے حدیث گزری کہ قیام ِ لیل حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پرفرض، اُمت کے لئے سنت تھا۔
ثالثاً اسی طرح ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما نے نسخ ذکرفرمایا۲؎ کما رواہ ابوداؤد (جیسا کہ ابوداؤد نے اسے روایت کیا ہے۔ت)
(۲؎ سنن ابوداؤد باب نسخ قیام اللیل الخ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۱۸۵)
حالانکہ وہ حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے حق میں فرضیت مانتے ہیں کما تقدم (جیسا کہ پیچھے گزرا۔ت)
رابعاً جب ام المومنین کاارشاد ان تک پہنچافرمادیا:
صدقت، کما بیّنہ مسلم والنسائی
(انہوں نے سچ فرمایا، جیسا کہ اسے مسلم اور نسائی نے بیان کیاہے۔ت) اور فرمایا
ھذا واﷲ ھو الحدیث۳؎ کما عند ابی داؤد
(اﷲ کی قسم یہ وہی حدیث ہے جیسا کہ ابوداؤد کے ہاں ہے۔ت)
(۳؎سنن ابوداؤد باب رفع الصوت بالقرأۃ الخ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۱۹۰)
اگراس کے معنی وہ اپنے خلاف سمجھتے، بیان فرماتے۔
ثم اقول ( پھرمیں کہتا ہوں) بلکہ تحقیق یہ ہے کہ آخر سورۃ نے مطلق قیام لیل نسخ نہ فرمایا بلکہ اول سورۃ میں جونصف شب یاقریب بہ نصف کے تقدیر تھی اسے منسوخ فرماکر مطلق قیام کی فرضیت باقی رکھی
لقولہ تعالٰی فتاب علیکم فاقرؤا ماتیسر من القرآن۴؎
(کیونکہ اﷲ تعالٰی کا ارشاد ہے اﷲ تعالٰی نے تم پر اپنے کرم سے رجوع فرمایاہے کہ اب تم اتنا قرآن پڑھو جو تم پرآسان ہو۔ت)
(۴؎ القرآن ۷۳ /۲۰)
اس کے بعد پھر دوبارہ نسخ مطلق ہوکر استحباب رہاہے،
جلالین شریف میں ہے :
خفف عنھم بقیام ماتیسر منہ ثم نسخ ذلک بالصلوات الخمس۵؎۔
اﷲ تعالٰی نے تخفیف فرماتے ہوئے آسانی کے ساتھ بندوں پرقیام رکھا پھر یہ قیام پانچ نمازوں کی فرضیت کے بعد منسوخ ہوگیا(ت)
عبر عن الصلٰوۃ بالقرائۃ لانھا بعض ارکانھا کما عبر عنھا بالقیام والرکوع والسجود یرید فصلواماتیسر علیکم ولم یعذر من صلٰوۃ اللیل وھذا ناسخ للاول ثم نسخا جمیعا بالصوات الخمس۱؎ ۔
یہاں نماز کو قرأت سے تعبیر فرمایا ہے کیونکہ قرأت نماز کارکن ہے جیسا کہ نماز کو قیام، رکوع اور سجود کے ساتھ تعبیر کیاہے مقصد یہ بنا کہ تم اتنی نمازپڑھتے رہو جو تم پرآسان ہو لیکن قیام شب نہیں چھوڑسکتے، اور یہ حکم ابتدائے سورۃ کے لئے ناسخ پھرپانچ نمازوں کاحکم ان سب کے لئے ناسخ قرارپایا۔(ت)
(۱؎ تفسیر الکشاف سورۃ مزمل مطبوعہ انتشارات آفتاب تہران، ایران ۴ /۱۷۹)
تفسیر کرخی و فتوحات الٰہیہ میں ہے:
ھذا ھوالاصح۲؎
(یہی اصح ہے۔ت)
(۲؎ تفسیر الفتوحات الالٰہیہ الشہیر بالجمل مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۴ /۴۳۳)
ام المومنین یقینا ناسخ اول کا ذکر فرمارہی ہیں ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اس میں حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بھی داخل، پھر اس سے انتفائے فرضیت کہاں حاصل، ناسخ ثانی میں حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کادخول کب ثابت ہوا، نہ ہرگز اس میں کوئی نص نازل، توحدیث مذکور سے انتفائے وجوب پرتمسک سرے سے زائل،
وھھنا تحقیقات اخراجل واعز اتینابھا بتوفیق اﷲ العلی الاکبر فی رسالۃ لنا صنفناھا بعد ورود ھذا السؤال فی تحقیق ھذا المقال سمیناھا ''رعایۃ المنۃ فی ان التھجد نفل ام سنۃ" ۱۳۱۲ھ فلینظر ثمہ والحمدﷲ علی کشف الغمۃ۔
یہاں دیگرنہایت اہم تحقیقات ہیں اﷲ کی توفیق سے ان کا ذکر ہم نے اس سوال کے ورود کے بعد اپنے ایک رسالے (جس کو ہم نے اسی مقال کی تحقیق میں تصنیف کیا ہے) میں کیاہے اس کانام ''رعایۃ المنۃ فی ان التہجد فضل ام سنۃ" ۱۳۱۲ھ اس کا مطالعہ کیجئے، اﷲ تعالٰی کاشکر ہے کہ اس نے عقدے کھول دئیے۔(ت)
ثم اقول وباﷲ التوفیق
فقیر کے نزدیک اسی مبحث میں حق تحقیق یہ ہے کہ یہاں دوچیزیں ہیں صلٰوۃ لیل و نماز تہجد، صلٰوۃ لیل ہروہ نمازنفل کہ بعد فرض عشاء رات میں پڑھی جائے۔ حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ماکان بعد صلٰوۃ العشاء فھو من اللیل۱؎ رواہ الطبرانی عن ایاس بن معٰویۃ المزنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند حسن۔
جونماز بعد عشاء پڑھی جائے وہ سب نماز شب ہے اسے طبرانی نے سند حسن کے ساتھ حضرت ایاس بن معاویہ المزنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے۔
یہ بیشک سنت مؤکدہ ہے کہ اس میں عشاء کی سنت بعدیہ بلکہ سنت فجر بھی داخل، صحیحین میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے ہے:
کانت صلوتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی شھر رمضان وغیرہ ثلث عشرۃ رکعۃ باللیل ومنھا رکعتا الفجر۲؎۔
آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی نمازشب رمضان وغیرہ میں تیرہ۱۳ رکعتیں تھیں، ان میں دورکعات فجر کی بھی ہیں (ت)
(۲؎ صحیح مسلم باب صلٰوۃ اللیل مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ /۲۵۵)
اس معنی پر حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے صلٰوۃ لیل کوبعد فرائض ہرنماز سے افضل بتایا،
کما المسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ یرفعہ افضل الصلٰوۃ بعد الفریضۃ صلٰوۃ اللیل۳؎۔
جیسا کہ مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ فرائض کے بعد افضل نماز رات کی نماز ہے۔ (ت)
(۳؎ صحیح مسلم باب فضل صوم المحرم مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ /۳۶۸)
ورنہ جمہور علماء کا اتفاق ہے کہ سنن راتبہ سے مسنون نمازوں سے افضل ہیں اور ہمارے ائمہ کا اجماع ہے کہ سنت فجر سنن راتبہ سے بھی اعلٰی واجل، اور نماز تہجد وہ نفل کہ بعد فرض عشاقدرے سوکرطلوع فجر سے پہلے پڑھے جائیں، طبرانی حجاج بن عمرو رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی۔
انما تھجّد المرء یصلی الصلٰوۃ بعد رقدۃ ۴
قدرےسو کر آدمی جو نماز اداکرے اسے تہجد کہاجاتاہے (ت)
یہ مستحب سے زائد نہیں ورنہ سونابھی سنت موکدہ ہوجائے اور شب بیداری گناہ ٹھہرے کہ تہجد سنت موکدہ ہوئی اور وہ بے نوم حاصل نہیں ہوسکتی اور سنت مؤکدہ کاحصول جس پرموقوف ہے وہ سنت مؤکدہ ہے
لان حکم المقدمۃ حکم ماھی مقدمۃ لہ
(کیونکہ مقدمہ کاحکم وہی ہوتاہے جو اس پرموقوف ہونے والے کاہے۔ت) اورسنت مؤکدہ کاترک مطلقاً یابعد عادت گناہ اور بعد اصرارکبیرہ شب بیداری کی غایت یہ تھی کہ مستحب ہوتی مگرجب وہ ترک سنت مؤکدہ کی موجب تو مستحب کیسی، مکروہ وممنوع ہونی لازم، کوئی مستحب کیسی ہی فضیلت والا ہو جب کسی سنت مؤکدہ کے فوت کا موجب ہو مستحب نہیں ہوسکتا مذموم ہوگا، ہمارے امام مذہب سیّدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے پینتالیس ۴۵برس عشا کے وضو سے صبح کی نماز پڑھی، کیا معاذاﷲ پینتالیس ۴۵سال کامل ترک سنت مؤکدہ پراصرارفرمایا،
فقد ظھر الحق واسفر الفلق وبقیہ الکلام فی تلک الرسالۃ والحمدﷲ رب الجلالۃ
(حق واضح ہوگیا صبح طلوع ہوگئی اور بقیہ کلام ہمارے اس مذکورہ رسالہ میں ہے، حمد ہے صاحب جلال رب کی۔ت)