Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
76 - 158
طبرانی معجم ف اوسط بیہقی سنن میں اُمّ المؤمنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا؛
ثلث ھن علیّ فرائض وھن لکم سنۃ الوتر والسواک وقیام اللیل۲؎۔ اقول والحدیث ان لم یصلح حجۃ فقد استظھر بظاھر الکتاب العزیز، وقدنص المحقق نفسہ فی الفتح القدیر مسئلۃ امرأۃ المفقود ان الحدیث الضعیف یصلح مرجحا لامثبتا بالاصالۃ قال و مؤافقۃ ابن مسعود مرجح اٰخر۳؎۔
تین چیزیں مجھ پرفرض اور تمہارے لئے سنت ہیں: وترومسواک وقیامِ شب اقول (میں کہتاہوں) اگرچہ یہ حدیث حجت نہیں بن سکتی مگر قرآن عزیز کے ظاہر سے اس کی تائید ہورہی ہے اور خود محقق نے فتح القدیر میں مسئلہ مفقود کی بیوی کے تحت لکھاہے کہ حدیث ضعیف کسی شئی کی اصل کو ثابت نہیں کرسکتی البتہ مرجح بن سکتی ہے اور کہا کہ حضرت ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی موافقت دوسرامرجح ہے(ت)
 (۲؎ تفسیر درمنثور بحوالہ معجم اوسط وسنن بیہقی    زیرآیہ ومن الیل فتہجد بہ نافلۃ لک    مطبوعہ مکتبہ آیۃ اﷲ العظیمی  قم ایران  ۴ /۱۹۶

  تفسیرخازن    سورہ بنی اسرائیل میں مذکورہے    مطبوعہ مصطفی البابی مصر            ۴ /۱۷۴

   کنزالعمال بحوالہ بیہقی   الاکمال من وقت الوتر ۱۹۵۴۰ مطبوعہ مکتبۃ التراث الاسلامی موسسۃ الرسالۃ   بیروت ۷ /۴۰۷

   مجمع الزوائد بحوالہ معجم الاوسط    باب ماجاء فی الخصائص        مطبوعہ دارالکتاب بیروت            ۷ /۴۰۷

    المعجم الاوسط            حدیث ۳۲۹۰        مکتبۃ المعارف الریاض            ۴ /۱۶۵)

(۳؎ فتح القدیر            کتاب المفقود    مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر            ۵ /۳۷۲)
اقول وھھنا موافقۃ سلطان المفسرین مرجح اٰخر
 (اور یہاں سلطان المفسرین حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما کی موافقت ایک دوسرا مرجح ہے۔ت) ابوجعفرطبری حضرت سیدنا عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی:
اُمِر صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بقیام اللیل وکتب علیہ دون امتہ۱؎
حضور سیّدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کوقیام شب کاحکم تھا حضورپرفرض تھا اُمت پرنہیں۔
 (۱؎ تفسیر ابن جریر طبری المسمی جامع البیان                    مطبوعہ مطبعۃ میمنیۃ مصر    ۱۵ /۹۰

  المواہب اللدنیۃ بحوالہ طبری الباب الثالث فی ذکر تہجدہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم    مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت    ۴ /۱۷۸)
اما م محی السنۃ بغوی معالم میں فرماتے ہیں :
کانت صلٰوۃ اللیل فریضۃ علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی الابتداء و علی الامۃ، ثم صار الوجوب منسوخا فی حق الامۃ، وبقی فی حق النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۲؎ اھ ملخصا
ابتداء  قیامِ شب سرورعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور آپ کی امت دونوں پرفرض تھا پھر امت کے حق میں وجوب منسوخ ہوگیا لیکن رسالت مآب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے حق میں وجوب باقی رہا  اھ تلخیصاً(ت)
 (۲؎ المعالم التنزیل علٰی حاشیۃ الخازن زیر آیۃ ومن الیل فتہجد بہ الخ                    ۴ /۱۷۴)
فتح القدیر میں ہے:
علیہ کلام الاصولیین من مشائخنا۳؎
 (ہمارے مشائخ اصولیین کی رائے یہی ہے۔ت)
 (۳؎ فتح القدیر        باب النوافل                 مطبوعہ مکتبۃ نوریہ رضویہ سکھر    ۱ /۳۹۱)
شرح مواہب زرقانی میں ہے:
ھو قول الاکثر ومالک۴؎
 (اکثرعلماء اور امام مالک کایہی قول ہے۔ ت)
 (۴؎ شرح الزرقانی المواہب الباب الثالث فی ذکر تہجدہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم    مطبوعہ مطبعۃ عامرہ مصر        ۷ /۴۵۵)
مواہب میں ہے:
ھذا ماصححہ الرافعی ونقلہ النووی عن الجمہور۵؎
 (رافعی نے اسی کی تصحیح کی اور نووی نے اسے جمہور سے نقل کیاہے۔ت)
 (۵؎ مواہب اللدنیہ)
شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی اشعۃ اللمعات میں فرماتے ہیں:
مختار آن ست کہ از امت منسوخ شد بر آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم باقی ماندتا آخر عمروقد حقق ذلک فی موضعہ۱؎۔
مختار یہی ہے کہ امت سے یہ منسوخ ہے اور سرورعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے حق میں یہ وجوب تمام عمرباقی رہا اور اس کی تحقیق اس کے مقام پرہوئی ہے۔(ت)
 (۱؂ اشعۃ اللمعات        باب صلٰوۃ اللیل        مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱ /۵۰۶)
تویوں بھی سنیت تہجد ثابت نہ ہوئی اور وہی مذہب واستحباب مؤید بقول جمہور ومشرب ومختار ومنصوررہا۔

اقول شک نہیں کہ تہجد ابتدائے امر میں حضوراقدس صلوات اﷲ تعالٰی وسلامہ علیہ اور حضورکی امت سب پر فرض تھا
کماشھدت بہ سورۃ المزمل''صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم''
 (جیسا کہ اس پرسورہ مزمل (صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ) گواہ ہے۔ت) تواب ان کی فرضیت ثبوت ناسخ پرموقوف، امت کے حق میں ناسخ بدلیل اجماع امت ثابت
وان لم نعلم سندالاجماع
(اگرچہ ہم اس اجماع کی سند سے آگاہ نہیں۔ت) حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے باب میں دعوٰی نسخ کوبھی کوئی ایسی ہی روشن دلیل چاہئے جو اپنے افادہ میں احتمالات سے منزہ ہوں
فان الاحتمال یقطع الاستدلال ولایقوم بامر محتمل حجۃ
(کیونکہ احتمال استدلال کوختم کردیتاہے اور امرمحتمل حجت نہیں ہوسکتا۔ت)
حدیث ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا:
ان اﷲ عزوجل افترض قیام اللیل فی اول ھذہ السورۃ فقام نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم واصحابہ حولا وامسک اﷲ خاتمتھا اثنی عشرشھرا فی السماء حتی انزل اﷲ فی اٰخر ھذہ السورۃ التخفیف فصارقیام اللیل تطوعا بعد فریضۃ۲؎ رواہ مسلم وابوداؤدوالنسائی۔
اﷲ عزوجل نے اس سورہ کی ابتداء میں قیام شب فرض فرمایا تو سرورعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین نے ایک سال تک قیام کیا اور اس سورۃ کے آخری حصہ کو اﷲ تعالٰی نے بارہ مال تک آسمان پرروکے رکھا حتی کہ اس سورۃ کے آخر میں تخفیف نازل ہوئی توفرض ہونے کے بعد اب قیام شب نفل بن گیاکو مسلم، ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا(ت)
 (۲؎ صحیح مسلم            باب صلٰوۃ اللیل            مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی    ۱ /۲۵۶

سنن نسائی            باب قیام اللیل        مطبوعہ نورمحمد کارخانہ آرام باغ کراچی    ۱ /۲۳۷)
حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے نسخ میں نص نہیں ولہٰذا علامہ زرقانی نے شرح مواہب میں فرمایا:
دلالتہ لیست بقویۃ لاحتمالہ۳؎
 (اس کی دلالت احتمال کی وجہ سے (حضور اکرم کے حق میں نسخ پر) قوی نہیں۔ت)
 (۳؎ شرح الزرقانی علی المواہب    الباب الثالث فی ذکر تہجدہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم    مطبوعہ مطبعۃ عامرہ مصر    ۷ /۴۵۷)
رسائل الارکان مولٰنا بحرالعلوم میں ہے:
ھذا لایقنع بہ القائل بالفریضۃ لانہ یقول لعل ام المؤمنین ارادت ان صلٰوۃ اللیل کانت فریضۃ علی الامۃ ثم نسخھا اﷲ تعالٰی عن الامۃ وصارت نفلا واما علیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فبقیت الفریضۃ کما کانت یظھر من خاتمۃ سورۃ المزمل۱؂اھ۔
جو حضور پرفرضیت تہجد کاقائل ہے وہ ام المؤمنین رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے اس فرمان سے قانع نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ کہہ سکتاہے آپ کامقصد یہ بیان کرناہے کہ پہلے قیام شب اُمت پرفرض تھا پھرفرض منسوخ ہوکر نفل ہوگیا، رہامعاملہ سرورعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاتووہاں یہ فرض ہی باقی رہا جیسا کہ خاتمہ سورۃ سے ظاہرہورہاہے اھ ۔
 (۱؎ رسائل الارکان    فصل فی صلوۃ اللیل    مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ    ص۱۳۵)
Flag Counter