Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
75 - 158
مسئلہ ۱۰۳۲: از سوروں ضلع ایٹہ محلہ ملک زاداں مرسلہ مرزا عابدحسین صاحب ۲۷ربیع الآخر شریف ۱۳۱۲ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ نماز تہجد واجب ہے  یاسنت؟ اگرسنت ہے توموکدہ یاغیرمؤکدہ ؟ اس کاتارک گنہگار ہے یانہیں یعنی قصداً ترک کرنے والا ؟ مفصل مع احادیث ارقام فرمائیے گا۔ بیّنواتوجروا
الجواب

تہجد سنت مستحبہ ہے تمام مستحب نمازوں سے اعظم  واہم، قرآن واحادیث حضورپرنورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اس کی ترغیب سے مالامال، عامہ کتب مذہب میں اسے مندوبات ومستحبات سے گِنا اور سنت مؤکدہ سے جدا ذکرکیا، تو اس کا تارک اگرچہ فضل کبیر وخیرکثیر سے محروم ہے گنہگارنہیں، بحرالرائق و علمگیری و درمختار و فتح اﷲ المعین السید ابوالسعود الازہری میں ہے:
المندوبات صلٰوۃ اللیل۱؎
 (رات کی نماز مندوبات میں سے ہے۔ت)
 (۱؎ فتح المعین حاشیہ علی الکنز        باب الوتر والنوافل        مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی    ۱ /۲۵۴ )
مراقی الفلاح میں ہے:
سن تحیۃ المسجد و ندب صلٰوۃ اللیل۲؎
 (تحیۃ المسجد سنت اور رات کی نمازمستحب ہے۔ت)
 (۲؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی  فصل فی بیان النوافل   مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۶۔۲۱۵)
غنیہ شرح منیہ میں ہے:
من النوافل المستحبۃ قیام اللیل۳؎
 (نوافل مستحبہ میں سے رات کی نمازہے۔ت)
 (۳؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی    فصل فی النوافل بحث قیام اللیل    مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور        ص۴۳۲)
حلیہ میں ہے :
مشی صاحب الحاوی القدسی علی انھا مندوبۃ۱؎۔
صاحب الحاوی القدسی کی رائے یہی ہے کہ رات کی نماز مستحب ہے۔(ت)
 (۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
جامع الرموز میں ہے :
الاحسن اتمام السنن المؤقتۃ بذکر صلٰوۃ الضحی والمستحبات بذکر التھجد۲؎ اھ ملخصاً۔
وقتی سنن میں چاشت کی نماز اور مستحبات میں تہجد کاذکر ان کا اچھا اتمام ہے ۱ھ ملخصاً(ت)
 (۲؎ جامع الرموز        فصل الوتر        مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران    ۱ /۲۰۷)
غرض ہمارے کتب مذہب کے احکام منصوصہ مذکورہ علی جہۃ النفل میں اس کا استحباب ہی مصرح ہے، ہاں بعض علمائے مالکیہ وشافعیہ مثل امام ابن عبدالبروامام ابوزکریانووی جانب سنیّت گئے، اور بعض ائمہ تابعین حسن بصری و عبیدہ سلمانی و محمد بن سیرین قائل وجوب ہوئے
کمایظھر بمطالعۃ عمدۃ القاری وشرح المؤطا الزرقانی وغیرھما
 (جیسا کہ عمدۃ القاری، شرح المؤطا للزرقانی وغیرہ کے مطالعہ سے پتاچلتاہے۔ت) قول وجوب کو توجمہور علمائے مذاہب اربعہ ردفرماتے اورمخالف جماعت بتاتے ہیں
کمافیھما وفی شرح مسلم للنووی و البخاری للقسطلانی والمواھب للزرقانی وغیرھما
 (جیسا کہ ان دونوں میں ہے اور شرح مسلم للنووی، شرح بخاری للقسطلانی اور مواہب للزرقانی وغیرہ میں ہے۔ت) اور ہمارے علماء وجوب وسنیت کی یکساں تضعیف فرماتے ہیں۔ شرح نقایہ قہستانی میں ہے:
ثمان رکعات بتسلمیۃ اوتسلیمتین للتہجد وقیل لہ رکعتان سنۃ وقیل فرض کمافی المحیط۳؎۔
تہجد کی ایک یادو سلاموں کے ساتھ آٹھ رکعات ہیں بعض کے نزدیک دورکعات سنت ہیں بعض کے نزدیک یہ فرض ہے جیسا کہ محیط میں ہے۔(ت)
 (۲؎ جامع الرموز        فصل الوتر        مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران    ۱ /۲۰۷)
البتہ ہمارے علماء متاخرین سے امام ابن الہام نے سنیت واستحباب میں تردد اور بالآخر جانب اول میل اور انہیں کے اتباع سے اُن کے تلمیذ علامہ حلبی نے حلیہ میں اسے اشبہ فرمایا، یہ ان امام کی اپنی بحث ہے۔ نہ مذہب منصوص باآنکہ خود اعتراف فرماتے ہیں کہ احادیث قولیہ حضورپرنورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم صرف استحباب ہی کاافادہ فرماتے ہیں۔ مستند اُن کا مواظبت فعلیہ حضوروالاصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہے مگرخود فرماتے ہیں کہ مواظبت وہی مفید سنیت جو فعل نفل پرہو، تو اس مسئلہ کی بناء حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پرتہجد فرض ہونے نہ ہونے پررہی۔ اگرحضور پرفرض نہ تھا توبوجہ مواظبت اُمت کے لئے سنت ہوگا ورنہ مستحب۔
قال قدس سرہ بقی ان صفۃ صلٰوۃ اللیل فی حقنا السنیۃ اوالاستحباب یتوقف علی صفتھا فی حقہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فان کانت فرضا فی حقہ فھی مندوبۃ فی حقنا لان الادلۃ القولیۃ فیھا انما تفید الندب والمواظبت الفعلیۃ لیست علی تطوع لتکون سنۃ فی حقنا وان کانت تطوعا فسنۃ لنا۱؎۔
امام ابن ہمام قدس سرہ، نے فرمایا کہ باقی رہا معاملہ رات کی نماز کاکہ آیا ہمارے حق میں سنت ہے یامستحب، تویہ بات اس پرموقوف ہے کہ وہ سرورعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے حق میں کیاتھی، اگروہ آپ پر فرض تھی توہمارے حق میں مستحب ہے کیونکہ ادلہ قولیہ اس کے بارے میں مستحب ہونے کافائدہ دیتی ہیں اور مواظبت فعلیہ نفل پرنہیں کہ وہ ہمارے حق میں سنت بن جائے اور اگرآپ کے لئے یہ نفل تھی تو ہمارے لئے یہ سنت ہوگی۔(ت)
 (۱؎ فتح القدیر    باب النوافل        مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۱ /۳۹۱)
اب اسی مبنٰی کودیکھئے تو اس میں بھی قول جمہور مذہب مختار ومنصور حضور پرنورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے حق میں فرضیت ہے اسی پرظاہر قرآن عظیم شاہد اور اسی طرف حدیث مرفوع وارد۔
قال اﷲ تعالٰی ٰیایھا المزمل قم الیل۲؎۔
اﷲ تعالٰی کافرمان ہے اے چادر اوڑھنے والے رات کوقیام کیاکرو۔
(۲؎ القرآن    ۷۳ /۱۔۲)
، دوسرے مقام پرفرمایا :
وقال تعالٰی ومن الیل فتھجدبہ۳؎۔
رات کوتہجد اداکیاکرو۔
 (۳؎ القرآ ن    ۱۷ /۷۹)
ان آیتوں میں خاص حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو امرالٰہی ہے اور امرالٰہی مفیدوجوب،
ولاینا فیہ قولہ تعالٰی نافلۃ فالنافلۃ الزیادۃ ای زائدۃ فی فرائضک اوفی درجاتک بتخصیص ایجابہ بک فان الفرائض اعظم درجات واکبر تفصیلا بل مؤیدہ قولہ تعالٰی لک قال الامام ابن الھمام ربما یعطی التقیید بالمجرور ذلک فانہ اذا کان النفل المتعارف یکون کذلک لہ ولغیرہ۱؎ اھ
اﷲ تعالٰی کانافلۃ فرمانا اس وجوب کے منافی نہیں کیونکہ نافلہ کا معنی زائدہ ہے اب معنی ہوگا کہ آپ کے فرائض یادرجات میں یہ اضافہ ہے کہ آپ پر یہ لازم واجب ہے کیونکہ فرائض سب سے بڑے درجے وفضیلت پرفائز کرنے کاسبب بنتے ہیں بلکہ اس کی تائید اﷲ تعالٰی کے اس ارشاد ''لک'' سے ہورہی ہے۔ امام ابن ہمام کہتے ہیں کہ بعض اوقات مجرور''ک'' کے ساتھ مقیدکرنا اسی بات کافائدہ دیتاہے (یعنی یہ فرائض میں آپ کے لئے اضافہ ہے) کیونکہ متعارف نوافل صرف آپ ہی کے لئے نہیں بلکہ اس میں آپ اور دیگر لوگ مشترک ہیں(ت)
 (۱؎ فتح القدیر        باب النوافل            مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر            ۱ /۳۹۱)
Flag Counter