Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
74 - 158
باب الوتروالنوافل

(وتراورنوافل کابیان)
مسئلہ ۱۰۲۸ : ۲۱ : ربیع الاول شریف  ۱۳۱۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص نمازظہروعشاء باجماعت پڑھ چکا خواہ امام تھا یا مقتدی اب دوسری جماعت قائم ہوئی وہ شریک جماعت ہوا تو وہ نیت نماز کی کیاکرے؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب

نفل کی نیت چاہئے،
فان الفریضۃ فی الوقت لاتکرر، وفی الحدیث لایصلی بعد صلٰوۃ مثلھا۱؎۔
کیونکہ وقتی فریضہ میں تکرارنہیں، حدیث میں ہے نماز کی مثل نماز کے بعد ادانہ کی جائے۔(ت)
 (۱؎ مصنف ابن ابی شیبہ        من کرہ ان یصلی بعد الصلٰوۃ مثلہا    مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی    ۲ /۲۰۶)
اور اگر فرض کی نیت کرے گا جب بھی نفل ہی ہوں گے
فان الفریضۃ فی الوقت لاتکرر
 (کیونکہ فریضہ ایک وقت میں متکررنہیں ہواکرتا۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۲۹: از موضع سرنیاں ضلع بریلی مرسلہ امیرعلی صاحب قادری ۲ٰیرجب ۱۳۳۱ھ

نیاکپڑااور جُوتاپہن کرنفل پڑھنا کیساہے؟
الجواب

نیاکپڑا پہن کر نفل پڑھنا بہترہے، یُونہی نیاجُوتا بھی اگر اس پنجہ اتنا کڑانہ ہوکہ پاؤں کی کسی انگی کا پیٹ زمین سے نہ لگنے دے ایساہوگا تونمازنہ ہوگی۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۳۰: ازبریلی مرسلہ نواب سلطان احمدخاںصاحب ۱۳رمضان المبارک ۱۳۱۰ھ

آج کل وتر باجماعت پڑھنا بوجہ فضل جماعت افضل یابوقت تہجد بھی بہترہے؟ بیّنواتوجروا
الجواب

وتررمضان المبارک میں ہمارے علمائے کرام قدست اسرارہم کواختلاف ہے کہ مسجد میں جماعت سے پڑھناافضل ہے یامثل نماز گھرمیں تنہا، دونوں قول باقوت ہیں اور دونوں طرف تصحیح وترجیح، اول کو یہ مزیت کہ اب عامہ مسلمین کا اس پر عمل ہے اور حدیث سے بھی اس کی تائید نکلتی ہے، ثانی کو یہ فضیلت کہ وہ ظاہرالروایۃ ہے، ردالمحتارمیں زیرِ قولِ درمختار
الجماعۃ فی وتررمضان مستحبۃ علی قول
 (ایک قول کے مطابق رمضان میں وتر کی جماعت مستحب ہے۔ت) فرمایا:
وغیرمستحبۃ علی قول اٰخر بل یصلیھا وحدہ فی بیتہ وھما قولان مصححان وسیاتی قبیل ادراک الفریضۃ ترجیح الثانی بانہ المذھب۱؎۔
ایک اور قول کے مطابق مستحب نہیں ہے بلکہ انہیں گھرمیں تنہا اداکرے، اور یہ دونوں اقوال صحیح قراردئیے گئے ہیں عنقریب ادراک فریضہ سے تھوڑا ساپہلے آئے گا کہ دوسرے قول کو ترجیح ہے کہ یہی مذہب ہے۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار        باب الوتر والنوافل    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۴۸)
درمختارمیں ہے:
ھل الافضل فی الوتر الجماعۃ ام المنزل تصحیحان لکن نقل شارح الوھبانیۃ مایقتضی ان المذھب الثانی واقرھ المصنف وغیرہ۲؎۔
کیاوتر میں جماعت افضل یاگھر میں اداکرنا دونوں کی تصحیح ہے لیکن شارح وہبانیہ نے جونقل کیا ہے اس کاتقاضا ہے کہ دوسراقول مذہب ہے اور اسے مصنف وغیرہ نے بھی ثابت رکھاہے(ت)
 (۲؎ درمختار        باب الوتر والنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت    ۱ /۹۹)
ردالمحتار میں ہے:
رجح الکمال الجماعۃ بانہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان اوتربھم ثم بین العذر فی تأخرہ مثل ماصنع فی التراویح فکما ان الجماعۃ فیھا سنۃ فکذلک الوتر بحر وفی شرح المنیۃ الصحیح ان الجماعۃ فیھا افضل الاان سنیتھا لیست کسنیۃ جماعۃ التراویح اھ قال الخیر الرملی وھذاالذی علیہ عامۃ الناس الیوم   اھ  وقواہ المحشی ایضا بانہ مقتضی مامرمن ان کل ماشرع بجماعۃ فالمسجد افضل فیہ۱؎ اھ  مافی ردالمحتار اقول فی ھذہ التقویۃ عندی نظر ظاھرفانہ لوکان المراد ان ماجاز بجماعۃ فالمسجد افضل فیہ فممنوع فان کل نفل یجوز بجماعۃ مالم یکن علی سبیل التداعی مع ان الافضل فیہ البیت وفاقا وان کان المراد ماندب فیہ الشرع الی الجماعۃ فمسلم لکن ھذا اول المسئلۃ فالاستناد بہ صریح المصادرۃ فلیتأمل۔
کمال نے اس بناپر جماعت کو ترجیح دی ہے کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے صحابہ کو وتر پڑھائے،پھرجماعت چھوڑنے پر وہی حکمت بیان کی جو نمازتراویح میں تھی تو وتر کاحکم تراویح والاہے جس طرح ان میں جماعت سنت ہے اسی طرح وتروں میں بھی، بحر، شرح المنیہ میں ہے کہ صحیح یہ ہے کہ جماعت وتروں میں افضل مگر اس سنیت تراویح کی جماعت کی طرح نہیں اھ  خیر رملی نے فرمایا اسی پر آج لوگوں کا عمل ہے اھ محشی نے بھی یہ کہتے ہوئے اس کی تائید کی گزشتہ اصول کاتقاضا بھی یہی ہے کہ ہروہ نماز جوجماعت کے ساتھ مشروع ہے وہ مسجد میں افضل ہے  اھ ردالمحتار کی عبارت ختم ہوئی اقول اس کی تائید میں میرے نزدیک نظرظاہرہے اگریہ مراد ہو کہ ہروہ نماز جو جماعت کے ساتھ جائز ہے اس میں مسجد افضل ہے تویہ ممنوع ہے کیونکہ جن نوافل کی علٰی سبیل التداعی جماعت نہ ہو ان کی جماعت جائز ہے حالانکہ ان کی ادائیگی بالاتفاق گھرمیں افضل ہے، اور اگرمراد یہ ہو کہ جس نماز کوجماعت کے ساتھ اداکرنا شریعت نے مستحب قراردیاہو تو یہ مسلم ہے لیکن یہ بعینہٖ سوال ہے اسی کے ساتھ استناد کرنا صراحۃً مصادرہ علی المطلوب ہے۔ پس غورکیجئے۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار    باب الوتر والنوافل    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۴۹)
بالجملہ اس مسئلہ میں اپنے وقت وحالت اور اپنی قوم وجماعت کی موافقت سے جسے انسب جانے اس پرعمل کا اختیار رکھتاہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۳۱: از کلکتہ دھرم تلانمبر۶ مرسلہ جناب مرزاغلام قادربیگ صاحب ۱۲یرمضان شریف ۱۳۱۱ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رمضان شریف میں عشاء کی نماز فرض جس میں مصلی تہجد گزار یاغیرتہجد گزار نے جماعت کے ساتھ اداکی ہو اس کو نماز وتر جماعت کے ساتھا داکرناضرور ہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب

کسی کو بھی ضرورنہیں بلکہ افضلیت میں اختلاف ہے، ہمارے اصل مذہب میں افضل یہی ہے کہ تنہاگھر میں پڑھے  اور ایک قول پرمسجد میں جماعت سے پڑھنا افضل ہے، اب اکثر مسلمین کاعمل اسی پر ہے
کما فی الدر  و حواشیہ وبیناہ فی فتاوٰنا
(جیسا کہ در اوراس کے حواشی میں ہے اور ہم نے اپنے فتاوٰی میں  بیان کیا ہے۔ت) بہرحال ضروری کسی کے نزدیک نہیں واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter