Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
73 - 158
مسئلہ ۱۰۲۲: ازداتاگنج ضلع بدایوں مرسلہ عاشق حسین صاحب ۱۹جمادی الاخری ۱۳۳۶ھ

جوتاپہن کریعنی فل بوٹ جوٹخنوں تک بندھا ہوتاہے خشک ہوغلاظت نہ لگی ہوخواہ نیا ہو یاپرانا، نماز جائز ہے یانہیں؟ یہ اور بات ہے کہ مسجد میں چونکہ سب لوگ رواجاً آج کل جوتا اتارکر جاتے ہیں ان میں ایک شخص انگشت نمائی کے خوف سے جوتاپہن کرنہ جائے مگر مسئلہ کیاہے آیاکوئی شخص اپنے مکان میں یاجنگل میں یا سفرمیں بوٹ پہن کرنماز پڑھ سکتاہے؟ ایک مولوی نے فرمایاتھا کہ بوٹ نیاہو یاپرانا، خشک ہو، غلاظت نہ لگی ہو پہن کر نمازجائز اور صحیح بخاری میں لکھاہوا بتایاتھا۔
الجواب

مسجد میں جوتاپہن کرجانا خلاف ادب ہے
ردالمحتارمیں ہے دخول المسجد متنعلا سوء الادب۲؎
 (مسجد میں جوتاپہن کرداخل ہونا بے ادبی ہے۔ت)
 (۲؎ ردالمحتار        باب یفسدالصلٰوۃ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۴۸۶)
اب کی بناعرف ورواج ہی پرہے اور وہ اختلاف زمانہ و ملک وقوم سے بدلتاہے، عرب میں باپ سے اَنْتَ کہہ کرخطاب کرتے ہیں یعنی تو۔ زمانہ اقدس نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں بھی یونہی خطاب ہوتاتھا، سیّدنا اسمٰعیل علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اپنے والد ماجد سیّدنا ابراہیم شیخ الانبیاء خلیل کبریا علیہ الصلٰوۃ والسلام سے عرض کی اے میرے باپ! تو کر جس بات کا تجھے حکم دیاجاتاہے اب اگرکوئی بے ادب اسے حجت بناکر اپنے باپ کوتُوتُو کہاکرے ضرور گستاخ مستحق سزاہے نماز حاضری بارگاہ بے نیاز ہے کسی نواب کے دربار میں توآدمی جوتاپہن کرجائے، یہ توادب کاحکم ہے اور آج کل لوگوں ک جوتے صحابہ کرام کے جوتوں کی طرح نہیں ہوتے۔ ردالمحتار میں ہے:
نعالھم المتنجسۃ۱؎
 (لوگوں کے جوتے ناپاک ہوتے ہیں۔ت)
 (۱؎ ردالمحتار        باب صلٰوۃ الجنائز    مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱ /۶۵۴)
پھر بوٹ غالباً ایساپھنساہواہوتا ہے کہ سجدے میں انگلیوں کا پیٹ زمین پربچھانے نہ دے گا توآداب درکنار سرے سے نمازہی نہ ہوگی۔وھو تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۲۳: از ککراالہ ضلع بدایوں مرسلہ یسین خاں ۷ذی الحجہ ۱۳۳۶ھ

ایک شخص نے پہلی رکعت میں لم یکن الذین کفروا پڑھی اور دوسری میں سورئہ دہر، اس سے کہا کہ ایک تو تم نے قرآن شریف اُلٹا پڑھا دوسرا پہلی سورہ چھوٹی پڑھی اور بعد کی بڑی، نماز میں کراہت تونہیں آئی، کہاکچھ حرج نہیں حدیث سے ثابت ہے۔فقط
الجواب

اس میں دوکراہتیں ہوئیں: ایک دوسری رکعت کی پہلی سے اس قدرتطویل، اور دوسری سخت اشد کراہت ہے۔ قرآن مجید کومعکوس پڑھا یہ گناہ وسخت ناجائزہے حدیث میں ہے ایساشخص خوف نہیں کرتا کہ اﷲ تعالٰی اس کا دل اُلٹ دے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۲۴: ازدھام پور ضلع بجنور مرسلہ حافظ سیّد بنیاد علی صاحب ۸محرم الحرام ۱۳۱۳ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد کے حجرہ میں کوئی شخص علیحدہ نمازپڑھے تو اس کی نماز ہوگی یانہیں؟ بیّنواتوجروا
الجواب

مسجد کے حجرہ میں فرضوں کے سوا اور نمازیں پڑھنابہترہے یہاں تک کہ فرائض کے قبل وبعد کے سنن مؤکدہ میں بھی بربنائے اصل حکم افضل یہی ہے کہ غیرمسجد میں ہو،

رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
افضل صلٰوۃ المرء فی بیتہ الاالمکتوبۃ۲؎۔
فرض نماز کے علاوہ آدمی کی نمازگھر میں افضل ہے(ت)
 (۲؎ صحیح مسلم        باب صلٰوۃ النافلۃ    مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی    ۱ /۲۶۶)
مگرفرائض بے عذر قوی مقبول اگرحجرہ میں پڑھے اور مسجد میں نہ آئے گنہگار ہے، چندبار ایساہو توفاسق مردود الشہادۃ ہوگا، حدیث میں ہے 

رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاصلٰوۃ لجار المسجد الافی المسجد۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسجد کے پڑوسی کی نماز صرف مسجد میں ہوتی ہے(ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ سنن الدارقطنی    باب البحث لجار المسجد علی الصلٰوۃ فیہ الخ    مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان        ۱ /۴۲۰)
مسئلہ ۱۰۲۵: 

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چوری کاکپڑا پہن کرنماز کاکیاحکم ہے؟ بیّنواتوجروا
الجواب

چوری کاکپڑا پہن کرنمازپڑھنے میں اگرچہ فرض ساقط ہوجائے گا
لان الفساد مجاور
 (کیونکہ فساد نماز سے باہرہے۔ت) مگرنماز مکروہ تحریمی ہوگی
للاشتمال علی المحرم
 (حرام چیز اٹھائے ہوئے ہونے کی وجہ سے) کہ جائز کپڑے پہن کراس کااعادہ واجب
کالصلٰوۃ فی الارض المغصوبۃ سواء بسواء
 (جس طرح مغصوبہ زمین پرنماز کاحکم اور یہ برابرہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۲۶ :کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام کے سرپردستارنہ ہو اور مقتدی کے دستار ہو توکسی کی نمازمیں کچھ خلل آتاہے یانہیں؟ اوراگرکچھ خلل آتاہے توامام کے یامقتدی کے؟ اور اگرخلل ہے تو کس قسم کا خلل ہے؟ بیّنواتوجروا
الجواب

کسی کی نماز میں کچھ خلل نہیں، عمامہ مستحبات نماز سے ہے اور ترک مستحب سے خلل درکنار کراہت بھی نہیں آتی،
وذلک لان التعمم من سنن الزوائد و سنن الزوائد حکمھا حکم المستحب۔
اس لئے کہ عمامہ باندھنا سنن زوائد میں سے ہے اور سنن زوائد کاحکم مستحب ولا ہوتاہے(ت)
درمختارمیں ہے :
لھا اٰداب ترکہ لایوجب اسائۃ والاعتابا کترک سنۃ الزوائد لکن فعلہ افضل۲؎۔
نماز کے آداب ہیں جن کاترک اساءت وعتاب لازم نہیں کرتا مثلاً سنن زوائد کاترک، لیکن بجالانا افضل ہے(ت)
 (۲؎ درمختار        آخر باب صفۃ الصلٰوۃ        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت    ۱ /۷۳)
ردالمحتارمیں ہے :
السنۃ نوعان سنۃ الھدی وترکھا یوجب اساءۃ وکراھۃ کالجماعۃ و الاذان والاقامۃ ونحوھا وسنۃ الزوائد وترکہا لایوجب ذلک کسیر النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی لباسہ والنفل و منہ المندوب یثاب فاعلہ ولایسیئ تارکہ کذا حققہ العلامۃ ابن کمال فی تغییر التنقیح وشرحہ فلافرق بین النفل و سنن الزوائد من حیث الحکم لانہ لایکرہ ترک کل منھما وقدمثلوا السنۃ الزوائد بتطویلہ علیہ الصلٰوۃ والسلام القرائۃ و الرکوع والسجود ولمالم تکن مکملات الدین وشعائرہ سمیت سنۃ الزوائد بخلاف سنۃ الھدی وھی السنن المؤکدۃ القریبۃ من الواجب التی یضلل تارکھا۱؎اھ ملخصا واﷲ تعالٰی اعلم
سنت کی دواقسام ہیں، سنت ہدٰی، اس کے ترک سے اسائت وکراہت لازم آتی ہے مثلاً جماعت اذان اور تکبیر وغیرہ، سنت زوائد اس کے ترک سے اسائت وکراہت لازم نہیں آتی مثلاً آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کالباس پہننا، نفل ومندوب کامعاملہ بھی یہی ہے اس کے کرنے والے کوثواب ہوگا مگر تارک گنہگار نہیں، علامہ ابن کمال نے تغییر التنقیح اور اس کی شرح میں اسی طرح تحقیق کی ہے پس نفل اور سنن زوائد میں حکم کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں کیونکہ کسی کابھی ترک مکروہ نہیں، فقہا نے بعض اوقات سنت زوائد کی مثال نماز میں آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاقرأت، رکوع اور سجودکولمباکرنا بھی دی ہے جب وہ دین اور شعائردین کاحصہ نہیں توانہیں سنت زوائدکہاجاتاہے بخلاف سنت ہدٰی کے، وہ سنن مؤکدہ ہوتی ہیں جو واجب کے قریب ہیں ان کا تارک گمراہ ہے  اھ تلخیصاً۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار        مطلب فی السنۃ وتعریفہا        مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۱۰۳)
مسئلہ ۱۰۲۷: مرسلہ محمدابراہیم محلہ خواجہ قطب بریلی ۲۲شوال المکرم ۱۳۲۳ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مردہ کی نمازپڑھانے کے واسطے جوجائے نمازملتی ہے اس سے کُرتایاکچھ اور کپڑابنوانا جائز ہے یانہیں؟ اور اگرجائزنہیں تو اس سے جونماز مفروضہ پڑھی گئی وہ لوٹائی جائے گی یانہیں؟ اور اُس کفن سے یہ جائے نماز کے واسطے کپڑانکالنا جائزہے یانہیں؟ بادلیل وحوالہ کتب تحریر کریں۔ بیّنواتوجروا
الجواب

اس جائے نماز سے دوغرضیں لوگوں کی ہیں، ایک یہ اکثر نمازجنازہ راستے وغیرہ بے احتیاطی کے مقامات پرہوتی ہے مسجد کہ صاف وپاکیزہ رکھی جاتی ہے اس میں نماز جنازہ منع ہے توبغرض احتیاط امام کے نیچے جائے نمازبچھادی جاتی ہے کہ سب مقتدیوں کے لئے اس کامہیاکرنا دشوارہوتاہے، اور اگرفرض کیجئے کہ وہ تمام جگہ ایسی ناپاک ہے کہ سب کی نماز نظربواقع نہ ہوسکے توجائے نماز کے سبب امام کی نماز ہوجائے گی اور اسی قدر سب مسلمانوں کی طرف سے ادائے فرض وابرائے ذمہ کے لئے کافی ہے کہ نمازجنازہ میں جماعت شرط نہیں، دوسری نفع فقیر کہ وہ جانماز بعد از نماز کسی طالب علم اور فقیر پرتصدق کردی جاتی ہے اور یہ دونوں غرضیں محمود ہیں تو اس کے جواز میں کلام نہیں اور جس فقیر پروہ تصدیق کی گئی اس کی ملک ہے کُرتا وغیرہ جوچاہے بنالے اس میں نمازمکروہ بھی نہیں نہ اصلاً حاجت اعادہ کمالایخفی (جیسا کہ مخفی نہیں۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter