مسئلہ ۱۰۱۹ : ازبھنڈی بازار مرسلہ محمد فضل الرحمن سادہ کار ۵ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو امام ازار ٹخنوں کے نیچے تک پہن کر نمازپڑھائے وہ نمازمکروہ تحریمی ہے یاتنزیہی؟ قبلہ رخ ایک قدم کونہ رکھنا یاایک قدم پرکھڑارہنا نمازمیں جائز ہے یاخلاف سنت اور مکروہ تنزیہی ؟ قبلہ رخ ایک قدم کو نہ رکھنا یا ایک قدم پرکھڑارہنا نمازمیں جائز ہے یاخلاف سنت اور مکروہ تنزیہی ہے؟ براہ ہمدردی استفتا بحوالہ عبارت کتب متداولہ معتبرہ فقیہ ارقام فرمائیں۔بیّنواتوجروا۔
الجواب
ازارکاگِٹّوں سے نیچے رکھنا اگربرائے تکبرہوحرام ہے اور اس صورت میںنماز مکروہ تحریمی ورنہ صرف مکروہ تنزیہی، اور نماز میںبھی اس کی غایت اولٰی۔صحیح بخاری شریفمیں ہے: صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے عرض کی: یارسول اﷲ! میراتہبند لٹک جاتاہے جب تک میں اس کا خاص خیال نہ رکھوں فرمایا:
لست من یصنعہ خیلاء۲؎
(تم ان میں نہیں ہو جوبراہ تکبرایساکریں،
(۲؎ صحیح بخاری باب فی جرازارہ من غیرخیلاءِ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۶۰)
فتاوٰی علمگیریہ میں ہے:
اسبال الرجل ازارہ اسفل من الکعبین ان لم یکن للخیلاء ففیہ کراھۃ تنزیہ کذا فی الغرائب۳؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
کسی آدمی کاٹخنوں سے نیچے تہبند لٹکاکرچلنا اگر تکبر کی بناپر نہ ہو تو مکروہ تنزیہی ہے۔ غرائب میں یونہی ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
(۳؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب التاسع فی اللبس مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۳۳)
دونوں باتیں خلاف سنت ومکروہ ہیں، ہاں تراویح بین القدمین یعنی تھوڑی دیرایک پاؤں پرزوررکھنا پھر تھوڑی دیردوسرے پرسنت ہے
کما حققہ فی الحلیۃ وبیناہ فی فتاوٰنا
(حلیہ میں اس کی تفصیل ہے اور ہم نے اپنے فتاوٰی میں بھی اسے بیان کیاہے۔ت)
مسئلہ ۱۰۲۰: از قادری گنج ضلع بیربھوم ملک بنگالہ مرسلہ سیّد ظہورالحسن صاحب قادری رزاقی کرمانی ۲۲جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ
آج کل دیار بنگال کے بعض بعض شہروں میں بعض لوگوں نے فرض جماعت میں سرننگا کرکے نماز پڑھنا اختیارکیاہے اگرکسی نے کہا کہ جماعت کی اہانت ہوتی ہے تو اس کے جواب میں یہ لوگ کہتے ہیں کہ عاجزی و انکساری کی وجہ سے پڑھتاہوں اسی طرح عاجزی وانکساری کے بہانے سے بعض لوگوں نے علاوہ نماز کے بھی سرپرٹوپی رکھناچھوڑدیاہے توکیاننگاسرفرض جماعت میں نماز پڑھنے سے نمازجائز ہوگی یامکروہ ہوگی اگرجائز ہوگی توکیاحضورسرورکائناب یاحضرت مولائے کائنات یاحضرات امامین متطہرین یاحضرات نے کبھی کبھی سرکوننگا رکھا ہے یانہیں؟ اور صوفیائے عظام کی کتابوں میں ننگا سررہنا تہذیب اور آداب آیاہے یانہیں اور احادیث شریفہ وفقہ سے اس کی کراہت ثابت ہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب
حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی سنت کریمہ نماز مع کلاہ وعمامہ ہے اور فقہاء کرام نے ننگے سر نمازپڑھنے کوتین قسم کیاہے اگربہ نیت تواضع وعاجزی ہوتوجائز اور بوجہ کسل ہو تومکروہ، اور معاذاﷲ نماز کو بے قدر اور ہلکا سمجھ کر ہوتوکفر، جب مسلمان اپنی نیت تواضع بتاتے ہیں تو اسے نہ ماننے کی کوئی وجہ نہیں، مسلمان پربدگمانی حرام ہے ننگے سررکھنے کااحرام میں حکم ہے اور اس حالت میں شبانہ روزبرابر سربرہنہ حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وصحابہ کرام سب سے ثابت، بغیر اس کے ننگے سر کی عادت ڈالنا کوچہ وبازار میں اسی طرح پھرنا نہ ہرگزثابت ہے نہ شرعاً محمود بلکہ وہ منجملہ اسباب شہرت ہے اور ایسی وضع جس پرانگلیاں اُٹھیں شرعاً مکروہ،
مجمع البحار وغیرہ میں ہے :
الخروج عن عادۃ البلد شھرۃ ومکروہ۱؎۔
اہل شہر کے معمول سے نکلنا شہرت اور مکروہ ہے(ت)
(۱؎ مجمع البحار)
صوفیہ کرام کا اس بارے میں کوئی قول اس وقت ذہن میں نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۲۱: ازشہرکہنہ محلہ سہسوانی ٹولہ مسئولہ حافظ رحیم اﷲصاحب ۱۱جمادی الاخری ۱۳۳۶ھ
بعد الحمدکے محمد رسول اﷲ والذین معہ رکوع پڑھاایک مقتدی کے منہ سے سہواً صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نکلااور دوسرے مقتدی نے عمداً صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کہا حضور ان دونوں مقتدیوں کی نماز ہوئی یانہیں؟ اور جوشخص یہ کہے کہ نماز کے اندر صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نہ سہواً کہناچاہئے نہ عمداً، ایسے شخص کاکیاحکم ہے؟
الجواب
اﷲ عزوجل کانام پاک سن کر حکم ہے کہ عزّوجل یاجل جلالہ، یااس کی مثل کلمات تعظیمی کہے حضوراقدسصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کانام پاک سن کرواجب ہے کہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یا علیہ افضل الصلٰوۃ والسلام یا اس کے مثل کلمات درودکہے مگریہ دونوں وجوب بیرون نماز ہیں نماز میں سوا ان کلمات کے جو شارع علیہ الصلٰوۃ والسلام نے مقررفرمادئیے ہیں اور کی اجازت نہیں، خصوصاً جہریہ نماز میں وقت قرأت امام مقتدی کاسننا اور خاموش رہنا واجب ہے یونہی امام کے خطبہ پڑھتے میں جب اﷲ عزوجل اور سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے اسمائے طیبہ آئیں سامعین دل میں کلمات تقدیس ودرود کہیں، زبان سے کہنے کی وہاں بھی اجازت نہیں، نمازمیں نام الٰہی سن کرجل وعلا یانام مبارک سن کر صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کہنا اگر بقصد جواب ہے نماز جاتی رہے گی سہواً ہو یا قصداً، اور اگربلاقصد جواب تو قصداً ممنوع اور سہواً پرمواخذہ نہیں،
درمختار میں ہے:
سمع اسم اﷲ تعالٰی فقال جل جلالہ او النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فصلی علیہ اوقراءۃ الامام فقال صدق اﷲ ورسولہ لفسد ان قصد جوابہ۱؎ اھ۔
اگراﷲ تعالٰی کانام سن کر جل جلالہ،، حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کانام سن کردرودشریف، امام کی قرأت سن کرصدق اﷲ و رسولہ، کہا تو مقصود جواب تھا تونماز فاسد ہوجائے گی اھ۔
(۱؎ ردالمحتار باب مایفسد الصلٰوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۴۵۹)
قال العلامۃ الشامی ذکر فی البحر انہ لوقال مثل ماقال المؤذن ان اراد جوابہ تفسد وکذا لولم تکن نیۃ لان الظاھرانہ اراد الاجابۃ وکذلک اذا سمع اسم النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فصلی علیہ فھذا اجابۃ اھ ویشکل علی ھذا کلمۃ مامر من التفصیل فیمن سمع العاطس فقال الحمدﷲ تأمل، استفید انہ لولم یقصد الجواب بل قصدا الثناء والتعظیم لاتفسد لان نفس تعظیم اﷲ تعالٰی و والصلٰوۃ علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاینافی الصلٰوۃ کما شرح المنیۃ۱؎اھ کلام العلامۃ ش۔
علامہ شامی نے فرمایا بحرمیں ہے کہ اگرنمازی نے اذان کاجواب دیتے ہوئے اذان کے کلمات کہے تو نمازفاسد ہوجائے گی، اسی طرح اس صورت کاحکم ہے جب کوئی نیت نہ تھی کیونکہ ظاہرجواب دیناہی ہے اسی طرح جب سرورعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا اسم گرامی سنا اور درودشریف پڑھا تو یہ بھی جواب ہی ہے اھ اور اس پر گزشتہ گفتگو کے ساتھ اعتراض ہوگا جس میں فرق کیاگیاتھا مثلاً کسی نے چھینک سن کر الحمدﷲ کہا غورکرو، جو واضح کررہاہے کہ اگر مقصود جواب نہ ہو بلکہ اﷲ کی ثنا و تعظیم ہوتو نمازفاسدنہ ہوگی کیونکہ اﷲ تعالٰی کی تعظیم اور رحمت عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت میں سلام، نماز کے منافی نہیں شرح المنیہ اھ علامہ شامی کا کلام ختم ہوا۔
اقول والذی من التفصیل ان سامع عطسۃ غیرہ، لوقال الحمد ﷲ فان عنی الجوب اختلف المشائخ اوالتعلیم فسدت اولم یرد واحدا منھما لاتفسد نھر وصحح فی شرح المنیۃ عدم الفساد مطلقا لانہ لم یتعارف جوابا قال بخلاف جواب السارّ بالحمدلۃ التعارف ۲؎اھ اھ ۔ش ورأیتنی کتبت علی قولہ عدم الفساد مطلقا مانصہ۔
اقول (میں کہتاہوں) جوتفصیل پیچھے گزری کہ اگرغیرکی چھینک سننے والے نے الحمدﷲ کہاتو اگر مقصود جواب تھا تو اس میں مشائخ کا اختلاف ہے یامقصود تعلیم تھا تونمازفاسد ہوجائے گی یادونوں میں سے کوئی بھی مقصودنہ تھا تونماز فاسد نہ ہوگی نہر، اور شرح منیہ میں اس بات کوصحیح قراردیاہے کہ کسی صورت میں بھی نمازفاسدنہ ہوگی کیونکہ یہ جواب متعارف نہیں بخلاف اس صورت کے جب خوش کن بات پر الحمدﷲ کہے تو یہ جواب متارف ہے اھ ش۔ مجھے یاد آتاہے کہ اس کے قول''عدم الفساد مطلقا'' پریہ لکھاتھا۔
(۲؎ردالمحتار باب مایفسد الصلٰوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۴۵۸)
اقول لابد من استثناء ارادۃ التعلیم کمالایخفی والتعلیل لایمسہ فان العلۃ فیہ شیئ اخر غیرکونہ جوابا وھوکونہ خطاء فھذا مامر من التفصیل وانت تعلم انہ لامساس لہ بانھا من الفروع بان الحمدﷲ لیس جوابا باللعطاس و انما ھو سنۃ العاطس فاذالم یرد بہ التعلیم لم یکن الاانشاء حمد بخلاف ماھ نا فکلہ جواب وقد عرف جوابا فقد عرف الجواب عن الاشکال۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اقول یہاں ارادہ تعلیم کو مستثنٰی کرناضروری ہے جیسا کہ واضح ہے اور تعلیل اس سے متعلق نہیںہو سکتی کیونکہ اس میں علت اور شئی ہے اور وہ جواب ہونا نہیں بلکہ وہ اس کاخطاء ہوناہے یہی گزشتہ تفصیل تھی اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس کا کوئی تعلق نہیں کہ یہ اس کی فروعات میں سے ہے کیونکہ الحمدﷲ چھینک کاجواب نہیں بلکہ وہ چھینکوالے کے لئے سنت ہے توجب اس سے مقصود تعلیم نہیں تواب حمد کرنا ہی ہوگا بخلاف مذکورہ صورتوں کے کہ یہ بہرصورت جواب ہیں کیونکہ ان کاجواب ہونا معروف ہے تو اس سے اشکال کا جواب معلوم ہوگیا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۱؎ جدالممتار علٰی ردالمحتار باب مایفسد الصلٰوۃ المجمع الاسلامی مبارکپور انڈیا ۱ /۲۸۵)