Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
71 - 158
مسئلہ ۱۰۱۰: ازریاست جاورہ مکان عبدالمجیدخاں صاحب سرشتہ دار    ۱۳۲۵ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حالت نماز میں کسی مقام پرکھجالی چلے توکھجاوے یانہیں، اور اگر کھجاوے توکتنی مرتبہ؟

الجواب

ضبط کرے، اور نہ ہوسکے یا اس کے سبب نماز میں دل پریشان ہوتوکھجالے مگر ایک رکن مثلاً قیام یا قعود یارکوع یاسجود میں تین بار نہ کھجاوے دوبارتک اجازت ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۰۱۱ تا ۱۰۱۶ :مرسلہ احمدشاہ ازموضع نگریہ سادات یکم ذی الحجہ ۱۳۲۶ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اِن مسائل میں:

(۱) اگرتہبند کے نیچے لنگوٹ بندھا ہو تو نماز جائز ہے یانہیں؟

(۲) تہبند کا پیچ کھول کرنمازکیوں پڑھتے ہیں؟

(۳) داڑھی میں ڈاٹا باندھ کر نمازپڑھنا جائز ہے یانہیں؟

(۴) کمر میں پٹکا باندھ کر نمازدرست ہے یانہیں؟

(۵) کسی چیز کی مورت (تصویر) اگرجیب میں رکھی ہو تو نماز ہوگی یانہیں؟

(۶) روپیہ پیسہ جیب میں رکھ کرنمازدرست ہے یانہیں؟
الجواب

(۱) درست ہے واﷲ تعالٰی علم۔

(۲) رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نماز میں کپڑاسمیٹنے گُھرسنے سے منع فرمایا ہے ۱؎ واﷲ تعالٰی اعلم

(۱؎ صحیح بخاری        باب لایکف شعراً    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۱۱۳)

(۳) منع ہے کہ رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نماز میں بالوں کے روکنے سے منع فرمایا ہے ۲؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔

(۲؎ صحیح بخاری        باب لایکف شعراً    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۱۱۳)

(۴) درست ہے مگردامن اس کے پیچھے نہ دَب جائے واﷲ تعالٰی اعلم

(۵) نماز درست ہوگی مگر یہ فعل مکروہ وناپسند ہے جبکہ کوئی ضرورت نہ ہو روپے اشرفی میں ضرورت ہے واﷲ تعالٰی اعلم۔

(۶) درست ہے واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۱۷:  از شہرکہنہ    ۲۸شوال ۱۳۲۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ انگرکھے کے بندیا گھنڈی بلاباندھے یالگائے یاکُرتے کے بٹن جوسامنے سینہ پر گوٹ میں لگے ہوتے ہیں بلالگائے ہوئے یاکرتہ کی وہ گھنڈی جس کے کہ گوٹ آگے سینہ پرنہیں ہوتے بلکہ دونوں کندھوں پرایک ایک گھنڈی لگی ہوتی ہے ایک گھنڈی لگاکر نمازپڑھے توکوئی حرج تونہیں ہے؟ اگر کسی شخص کی ہمیشہ یہ عادت ہے کہ وہ گھنڈی کرتے کے گلے میں جو ہیں ایک کھلی رکھے جس سے کہ کچھ گلا کھلاہوارہے تو کوئی حرج ہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب

اصل یہ ہے کہ سدل یعنی پہننے کے کپڑے کو بے پہنے لٹکانا مکروہ تحریمی ہے اور اس سے نمازواجب الاعادہ جیسے انگرکھایا کرتا کندھوں پرسے ڈال لینابغیر آستینوں میں ہاتھ ڈالے یابعض بارانیاں وغیرہ ایسی بنتی ہیں کہ اُن کی آستینوں میں مونڈھوں کے پاس ہاتھ نکال لینے کے چاک بنے ہوتے ہیں ان میں سے ہاتھ نکال کر آستینوں کو بے پہنے چھوڑدینا یارضائی یاچادر کندھے یاسر پرڈال کردونوں آنچل چھوڑدینا یاشال یا رومال ایک شانہ پراس طرح ڈالنا کہ اس کے دونوں پلّو آگے پیچھے چھوٹے رہیں اور اگررضائی یاچادر کامثلاًسیدھا آنچل بائیں شانے پرڈال لیا اور بایاں آنچل چھوڑدیا توحرج نہیں اور کسی کپڑے کو ایساخلافِ عادت پہننا جسے مہذب آدمی مجمع یابازار میں نہ کرسکے اور کرے تو بے ادب خفیف الحرکات سمجھاجائے یہ بھی مکروہ ہے جیسے انگرکھا پہننا اور گھنڈی یاباہر کے بندمنہ لگانہ یاایسا کرتا جس کے بٹن سینے پر ہیں پہننا اور بوتام اتنے لگانا کہ سینہ یاشانہ کھلارہے جبکہ اوپر سے انگرکھا نہ پہنے ہو یہ بھی مکروہ ہے اور اگراوپر سے انگرکھا پہنا ہے یااتنے بوتام لگالئے کہ سینہ یاشانہ ڈھک گئے اگرچہ اوپر کا بوتام نہ لگانے سے گلے کے پاس کا خفیف حصہ کھلارہا یاشانوں پرکے چاک بہت چھوٹے چھوٹے ہیں کہ بوتام نہ لگائیں جب بھی کرتا نیچے ڈھلکے گا شانے ڈھکے رہیں گے توحرج نہیں، اسی طرح انگرکھے پرجوصدری یاچغہ پہنتے ہیں اور عرف عام میںاُن کا کوئی بوتام بھی نہیں لگاتے اور اسے معیوب بھی نہیں سمجھتے تو اس میں بھی حرج نہیں ہوناچاہئے کہ یہ خلافِ معتاد نہیں
ھذا ماظھرلی من کلماتھم والعلم بالحق عند ربی
 (یہ وہ ہے جوعبارات فقہاء سے بھرپور واضح ہوا باقی حق کا علم میرے رب کے پاس ہے ۔ ت)
رمختار میں ہے :
کرہ تحریما سدل ثوبہ ای ارسالہ بلالبس معتاد وکذا القباء بکم الی وراء ذکرہ الحلبی کشد ومندیل یرسلہ کتفیہ فلومن احدھما لم یکرہ کحالۃ عذروخارج صلٰوۃ فی الاصح۱؎۔
کپڑے کو لٹکانا مکروہ تحریمی ہے یعنی ایسا لٹکانا جو معتاد پہننے کے خلاف ہو اسی طرح آستین والی قبا کاپیچھے کی طرف ڈالنا اسے حلبی نے ذکرکیا مثلاً پٹکا یارومال دونوں کاندھوں سے لٹکانا، اگرایک طرف سے ہو تومکروہ نہیں جیسا کہ اصح قول کے مطابق حالت عذر اور نماز سے باہرکامعاملہ ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے :
ظاھر  کلامھم انہ لافرق بین ان یکون الثوب محفوظا من الوقوع، اولافعلی ھذا لاتکرہ فی الطیلسان الذی یجعل علی الراس وقدصرح بہ فی شرح الوقایۃاھ  ای اذا لم یدرہ علی عنقہ والافلا سدل، والاقبیتۃ الرومیۃ التی تجعل لاکمامھا خروق عند العضد اذا اخرج المصلی یدہ من الخرق وارسل الکم یکرہ لصدق السدل لانہ ارخاء من غیرلابس لان لبس الکم بادخال الیدوتمامہ فی شرح المنیۃ، والشد شیئ یعتاد وضعہ علی الکتفین کما فی البحر و ذلک نحوالشال فاذا ارسل طرفا منہ علی صدرہ وطرفا علی ظھرہ یکرہ، وفی الخزائن بل ذکر ابوجعفر انہ لوادخل یدیہ فی کیسہ ولم یزر ازرارہ فھو مسیئ لانہ یشبہ السدل اھ  لکن فی الحلیہ فیہ نظر ظاھر  بعد ان یکون تحت قمیص اونحوہ مما یستر البدن ۱؎اھ  مختصرا ولنا فی ماقال فی الحلیۃ نظر قدمناہ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
ان کے کلام کے ظاہر سے پتاچلتاہے اس میں کوئی فرق نہیں کہ کپڑاگرنے سے محفوظ ہو یانہ ہو لہٰذا اس صورت میں ٹوپی والے کوٹ میں کراہت نہیں ہوگی جو سر پرہو، اس کی تصریح شرح وقایہ میں ہے اھ  یعنی جب اس نے گردن کو نہ باندھا ہو ورنہ کوئی سدل نہ ہوگا وہ رومی قبائیں جن کی آستینوں میں کندھوں کے پاس سوراخ ہوتے ہیں ، اگرنمازی اس پھٹی ہوئی جگہ سے ہاتھ نکالے اور آستین کو ویسے ہی ڈال لے تویہ مکروہ ہے اس پرسدل کاصدق ہے کیونکہ یہ بغیر پہننے کے چھوڑنا ہے اور آستین کاپہننا ہاتھ داخل کرکے ہوتاہے اس کی تفصیل شرح منیہ میں ہے بحر میں ہے شد (صافایاپَرنا) عادی شئی ہے اسے کاندھے پررکھاجاتاہے اس کی مثل شال ہے جب اس کی ایک طرف اپنے سینے پر اور ایک طرف اپنی پشت پررکھی تویہ مکروہ ہے، خزائن میں ابوجعفر نے ذکرکیا اگر کسی نے دونوں ہاتھ آستینوں میں ڈالے اور ان کے بٹن بند نہ کئے تویہ گنہ گار ہوگا کیونکہ یہ سدل کے مشابہ ہے لیکن حلیہ میں کہا کہ جب وہ قمیص یا ایسے کپڑے کے تحت ہو جو بدن کوڈھانپ رہاہوتو اس میں نظر ہے  اھ  اختصاراً جبکہ خود حلیہ کی گفتگو میں نظر ہے جیسا کہ پیچھے ہم نے بیان کردیاہے۔(ت) واﷲ تعالٰی اعلم
 (۱؎ ردالمحتار    باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۷۳۔۴۷۲)
مسئلہ ۱۰۱۸ : از کالج علی گڑھ کمرہ نمبر۶ مرسلہ محمدعبدالمجیدخاںیوسف زئی سرسیدکورٹ ۲۹صفر۱۳۳۲ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس کمرہ میں یامکان میں تصاویر مردم آویزاں ہوں اُس میں نمازپڑھنا جائز یاناجائز حرام ہے یامکروہ؟ اگرناجائز یامکروہ ہے توشارع نے جومصلحت اس میں رکھی ہے وہ برائے خوبی اور باریکی ظاہرہونے کے بیان فرمائے جائیں، دوسرے یہ کہ نماز ساتھ خیال غیراﷲ اور ہمہ تن مصروف ہوکرہوناچاہئے لہٰذا کیامضائقہ ہوسکتاہے اگرتصاویر اس جگہ ہوں یااحتیاطاً کیسا اس قدرکافی نہیں ہوسکتاہے کہ صرف سامنے یا اس حد تک کے جہان تک نظرپڑ سکے تصاویرہٹادی جائیں اور پس پشت اگر تصاویر ہوں وہ رہیں اور نمازپڑھ لی جائے تونماز ہوجائے گی یا کیانقص پیداہوجائے گا؟ فقط۔
الجواب

جاندار کی اتنی بڑی تصویر کہ اسے زمین پررکھ کر کھڑے ہوکردیکھیں تو اعضاء بالتفصیل نظرآئیں بشرطیکہ نہ سربریدہ ہو، نہ چہرہ محورکردہ، نہ پاؤں کے نیچے ،نہ فرش پااندازمیں، نہ مخفی پوشیدہ جس کمرہ میں ہو، اس میں نماز مطلقا ًمکروہ ہے خواہ آگے ہو یاپیچھے یادہنے یابائیں یا اُوپر یاسجدہ کی جگہ اور ان سب میں بدترجائے سجود یاجانب قبلہ ہونا ہے پھر اوپر، پھردہنے بائیں، پھرپیچھے اور اس میں کراہت کے متعدد وجوہ ہیں اس مکان کامعبدِ کفارسے مشابہ ہونا، تصویر کابطوراعزاز ظاہرطورپررکھا یا لگاہونا، آگے یاجائے سجود پرہو تو اس کی عبادت سے مشابہ ہو، ملائکہ رحمت کا اس مکان میں نہ آنا متواترحدیثوں میں ہے کہ حضورسیدالمرسلینصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
ان الملٰئکۃ لاتدخل بیتافیہ کلب ولاصورۃ۱؎۔
بیشک فرشتے اس گھرمیں نہیں جاتے جس میں کتا یاتصویرہو۔
 (۱؎ مسند احمد بن حنبل    مروی عن ابی طلحۃ        مطبوعہ دارالفکر بیروت    ۴ /۳۰)
یہ وجہ اُن تمام صورمذکورہ کوشامل اور وہم مذکور فی السوال کاعلاج کامل ہے واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter