Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
70 - 158
افادہ سوم :علمائے حدیث مذکورسوال کی شرح میں تصریح فرمائی کہ عام لوگوں کو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پرقیاس صحیح نہیں حضورپرنورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے برابرکون احیتاط کرسکتاہے!

اقول اور اگرنادراً کوئی شئے واقع ہو تو جبریل امین علیہ الصلٰوۃ والتسلیم حاضرہوکر عرض کردیتے ہیں جیسا کہ حدیث خلع نعال فی الصلٰوۃ سے ثابت ہے۔
مجمع بحارالانوار میں برمز''ن'' فرمایا:
یصلی فی النعلین لایوخذ منہ لغیرہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لان حفظ غیرہ لایلحق بہ۲؎۔
حضورعلیہ السلام نے نعلین میں نماز ادا کی اس سے کوئی دوسرا استدلال نہیں کرسکتا کیونکہ کوئی دوسرا آپ کی طرح حفاظت نہیں کرسکتا۔(ت)
 (۲؎ مجمع بحارالانوار        تحت لفظ نعل            مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ        ۳ /۳۷۳)
افادہ چہارم : بے جرم نجاست مثل بول وغیرہ کامطلقاً صرف زمین پررگڑدینے سے پاک ہوجانا جیسا کہ سوال میں بیان کیا حسب تصریح صریح کتب معتمدہ تمام ائمہ مذہب کے خلاف ہے، امام محمد کے نزدیک تونعل وخف بھی مطلقاً بے دھوئے پاک نہیں ہوسکتے جیسے کپڑے کاحکم ہے اور امام اعظم کے نزدیک نجاست جومردار اور خشک ہوگئی ہو ا س کے بعد اس قدررگڑیں کہ اس کااثرزائل ہوجائے اس وقت طہارت ہوگی اور ترنجاست یابے جرم جیسے پیشاب وغیرہ بے دھوئے پاک نہ ہوں گے، اور امام ابی یوسف کی روایت میں اگرچہ خشک ہوجانا شرط نہیں تر بھی ملنے ولنے اثرزائل کردینے سے پاک ہوسکتی ہے مگرجرم دار نجاست کی ضرور قید ہے، اکثر مشائخ نے قول امام ابی یوسف ہی اختیارکیا اور یہی مختار للفتوی ہے تو بے جرم نجاست کی بے دھوئے تطہیر ائمہ ثلثہ مذہب کے بھی خلاف اور جمہور مشائخ مذہب کے بھی خلاف اور قول مختارللفتوی کے بھی خلاف ہے
وقدصرحواان لاعبرۃ بالبحث علی خلاف المنقول
 (اس کی تصریح کی ہے کہ خلاف منقول بحث کااعتبارنہیں۔ت)
ہدایہ میں ہے:
اذا اصاب الخف نجاسۃ لہا جرم کالروث والعذرۃ والدم فجفت فدلکہ بالارض جاز وھذا استحسان وقال محمد رحمہ اﷲ تعالٰی لایجوز وھوالقیاس وفی الرطب لایجوز حتی یغسلہ وعن ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی انہ اذا مسحہ بالارض حتی لم یبق اثرالنجاسۃ یطھر لعموم البلوی واطلاق مایروی و علیہ مشائخنا رحمھم اﷲ تعالٰی فان اصابہ بول فیبس لم یجز حتی یغسلہ وکذا کل مالاجرم لہ کالخمر۱؎۔ (مختصراً)
جب موزے پر ایسی نجاست لگ جائے جس کا جسم ہو مثلاً لید، پاخانہ، خون اور خشک ہوجائے توزمین پررگڑ لیاجائے توجائز ہے اور یہ استحساناً ہے۔ امام محمد نے فرمایا یہ جائز نہیں قیاس کا تقاضا یہی ہے اور اگرنجاست ترہو تو دوھونے سے پہلے جائزنہیں۔ امام ابویوسف نے کہاجب زمین پررگڑا حتی کہ نجاست کا اثر باقی نہ رہا تو عمومی ضرورت کے پیش نظر یہ پاک ہوجائے گا اور مروی کا اطلاق یہی ہے اور ہمارے مشائخ رحمہم اﷲ تعالٰی اسی پر ہیں اور اگرپیشاب موزے پر لگ گیا اور خشک ہوگیا تو دھوئے بغیر جائزنہیں اور یہی حکم ہر اس نجاست کا ہے جس کا جسم نہیں مثلاً شراب۔(مختصراً)(ت)
 (۱؎ الہدایہ      باب الانجاس وتطہیرہا    مطبوعہ المکتبۃ العربیۃ کراچی        ۱ /۵۶)
فتح القدیر میں ہے :
وعلی قول ابی یوسف اکثر المشائخ وھوالمختار۲؎۔
اکثر مشائخ قول ابویوسف پر ہیں اور یہی مختار ہے(ت)
 (۲؎ فتح القدیر     باب الانجاس وتطہیرہا    مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر        ۱ /۱۷۲)
عنایہ میں ہے :
علیہ اکثر مشائخنا قال شمس الائمۃ السرخسی وھو صحیح وعلیہ الفتوی۳؎۔
ہمارے اکثرمشائخ اسی پر ہیں۔ شمس الائمہ سرخسی نے فرمایا یہی صحیح ہے اور اسی پر فتوی ہے(ت)
 (۳؎ عنایۃ شرح علی حاشیۃ فتح القدیر    باب الانجاس وتطہیرہا    مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر        ۱ /۱۷۲)
حلیہ میں ہے:
فی الخلاصۃ وعلیہ عامۃ المشائخ و ھوالصحیح ونص فی الفتاوٰی الخانیۃ والکافی والحاویعلی ان الفتوی علیہ۱؎۔
خلاصہ میں ہے اسی پر عام مشائخ ہیں اور یہی صحیح ہے اور خانیہ، کافی اور حاوی میں تصریح ہے کہ فتوٰی اسی پر ہے۔(ت)
 (۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
بحرالرائق میں ہے :
علی قولہ اکثر المشائخ وفی النھایۃ والعنایۃ والخانیۃ والخلاصۃ وعلیہ الفتوی و فی فتح القدیر وھوالمختار۲؎۔
اکثرمشائخ اسی قول پرہیں نہایہ، عنایہ، خانیہ اور خلاصہ میں ہے کہ فتوی اسی پر ہے، فتح القدیر میں ہے یہی مختار ہے ۔ (ت)
(۲؎ بحرالرائق    باب الانجاس    مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی    ۱ /۲۲۳)
تنویر الابصارمیں ہے :
یطھر خف ونحوہ تنجس بذی جرم بدلک ولافیغسل۳؎۔
اگرموزہ یا اس کی مانند کوئی شئی صاحب جسم نجاست سے ناپاک ہوجائے تو وہ رگڑنے سے پاک ہوجائے گی ورنہ دھونا ضروری ہوگا۔(ت)
(۳؎ درمختار   باب الانجاس     مطبع مجتبائی دہلی   ۱ /۵۳)
طحطاوی علی المراقی الفلاح میں ہے :
واحترز بہ عن غیر ذی الجرم فانہ یغسل اتفاقا ذکرہ العینی۴؎۔
اس سے اس نجاست سے احتراز ہے جو جسم والی نہ ہو کیونکہ اس صورت میں اسے بالاتفاق دھوناضروری ہے۔ اسے عینی نے ذکرکیا۔(ت)
 (۴؎ طحطاوی علی المرقی الفلاح        باب الانجاس        مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ص۸۷)
بحر میں ہے :
ان لم یکن لھا جرم فلابد من غسلہ واشتراط الجرم قول الکل لانہ لو اصابہ بول فیبس لم یجزہ حتی یغسلہ لان الاجزاء تتشرب فیہ فاتفق الکل علی ان المطلق مقید الخ۱؎ مختصرا۔
اگرجسم والی نجاست نہ ہو تو اس کا دھونا ضروری ہے اور جسم کاشرط ہوناتمام کاقول ہے اس لئے کہ اگر پیشاب لگ گیا اور خشک ہوگیا تودھونے کے سوا جواز نہ ہوگا کیونکہ اس کے اجزاء اس شئے میں داخل ہوچکے ہیں تو سب کااتفاق ہے اس بات پر کہ مطلق مقید ہے الخ تلخیصاً(ت)
 (۱؎ بحرالرائق       باب الانجاس   مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۱ /۲۲۳ )
منحۃ الخالق میں ہے :
الحاصل انھم اتفقوا علی التقیید بالجرم۲؎۔
خلاصہ یہ ہے کہ تمام فقہاء کا اس قید پراتفاق ہے کہ وہ نجاست جسم والی ہو۔(ت)
 (۲؎ منحۃ الخالق حاشیۃ علی البحرالرائق     باب الانجاس    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۱ /۲۲۳)
غنیہ میں ہے :
ان لم یکن لھا ای للنجاسۃ التی اصابت الخف جرم کالبول والخمر ونحوھما فلابد من الغسل بالاتفاق رطبا کان او یابسا۳؎۔
اگرنجاست کے لئے جسم نہیں جوموزے کو لگی مثلاً بول وشراب وغیرہ تووہ خشک ہوگی یاابھی ترہے اسے بالاتفاق دھونا ضروری ہے۔(ت)
 (۳؎ غنیہ المستملی     فصل فی آسار     مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور        ص۱۷۸)
ردالمحتار میں علامہ مقدسی سے ہے:
البحث لایقضی علی المذھب۴؎
 (اختلاف، مذہب پرفائق نہیں۔ت)
 (۴؎ ردالمحتار      باب نکاح الرقیق      مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۲ /۴۱۰)
اُسی میں ہے :
الفرض فی اشواط الطواف اکثر السبع لاکلھا وان قال المحقق ابن الھمام ان الذی ندین اﷲ تعالٰی بہ ان لایجزئ اقل من السبع ولایجبر بعضہ بشیئ فانہ من ابحاثہ المخالفۃ لاھل المذھب قاطبۃ کما فی البحر وقد قال تلمیذہ العلامۃ قاسم ان ابحاثہ المخالفۃ المذھب لاتعتبر۵؎۔
طواف میں فرض سات چکروں کااکثرہے نہ کہ تمام، اگرچہ محقق ابن ہمام نے فرمایا ہے کہ اﷲ تعالٰی ہمیں تب جزا دے گا جب سات سے کم نہ کریں اس کمی کا ازالہ کسی اور شئی سے نہیں کیاجاسکتا کیونکہ یہ ابحاث اہل مذھب کے مخالف ہیں جیسا کہ بحرمیں ہے ان کے شاگر علامہ قاسم نے کہا کہ مذہب کے مخالف ابحاث کاکوئی اعتبارنہیں۔(ت)
 (۵؎ ردالمحتار    باب الجنایات     مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۲ /۲۲۴)
اور شک نہیں کہ اکثرنجاست کہ عام لوگوں کے جوتوں کولگتی ہے یہی نجاست رقیقہ استنجے کے پانی اور پیشاب کی ہوتی ہے۔واﷲ اعلم
مسئلہ ۱۰۰۹: ۲۱ربیع الاول شریف ۱۳۲۳ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ا س مسئلہ میں کہ حقہ تمباکو کوپینے والے کے منہ کی بو نماز میں دوسرے نمازی کومعلوم ہوئی توکوئی قباحت تونہیں ہے؟ بیّنواتوجّروا۔
الجواب

منہ میں بدبو ہونے کی حالت میں نمازمکروہ ہے اور ایسی حالت میں مسجد میں جانا حرام ہے جب تک منہ صاف نہ کرے، اور دوسرے نمازی کوایذا پہنچنی حرام ہے، اور دوسرانمازی نہ بھی ہو تو بدبو سے ملائکہ کو ایذاپہنچتی ہے، حدیث میں ہے :
ان الملٰئکۃ تتأذی ممایتاذی منہ بنواٰدم۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم
ملائکہ کو ہر اس شے سے اذیت ہوتی ہے جس سے بنی آدم کو اذیّت پہنچتی ہے۔(ت) واﷲ تعالٰی اعلم
 (ا؎ صحیح مسلم        باب نہی من اکل ثوماً اوبصلاً اوکراثا الخ        مطبوعہ اصح المطابع کراچی    ۱ /۲۰۹)
Flag Counter