ان رجلا شکا الیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم رجلا من الانصار فقال یاخیر من یمشی بنعل فرد، والفرد ھی التی تخصف ولم تطارق وانما ھی طارق واحد والعرب یمدح برقۃ النعال ویجعلھا من لباس الملوک۱؎۔
ایک آدمی نے رسالت مآب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت میں ایک انصاری کی شکایت کرتے ہوئے کہا: اے ایک پرت والے جوتے پہننے والوں میں افضل ترین ذات۔ فرد اس نعل کوکہتے ہیں جس کاایک پرت ہو، اور عرب جوتے کی نرمی کوپسند کرتے ہیں اور یہ ملوک کالباس ہے(ت)
(۱؎ مجمع بحارالانوار لفظ فعل کے تحت مذکور ہے مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۳ /۳۷۳)
تو وہ کیسے ہی نئے ہوتے سجدہ میں فرض وواجب کیاکسی طریقہ مسنونہ کوبھی مانع نہ ہوتے اُن نعال پریہاں کی جوتیوں کاقیاس صحیح نہیں، پھر اگر اسی طرح کے جوتے ہوں کہ سنت سجدہ میںبھی خلل نہ ڈالیں تو اگر وہ نئے بالکل غیراستعمالی ہیں تو انہیں پہن کر نمازپڑھنے میں حرج نہیں بلکہ افضل ہے اگرچہ مسجد میں ہو۔
درمختارمیں ہے:
مگرعندالتحقیق استعمالی جوتے پہن کرنمازپڑھنی مکروہ ہے اور اگرمعاذاﷲ نماز کو کہ حاضری بارگاہ شہنشاہ حقیقی ملک الملوک رب العرش عزجلالہ ہے ہلکا جان کر استعمالی جوتا پہنے ہوئے نماز کوکھڑاہوگیا توصریح کفرہے پھر بے نیت استخفاف نری کراہت بھی اس حالت میں ہے کہ غیرمسجد میں ایساکرے اور مسجد میں تو استعمالی جوتے پہنے جاناہی ممنوع وناجائز ہے نہ کہ مسجد میں یہ جوتا پہنے، شرکت جماعت نمازودخول مسجد کے یہ احکام بحمداﷲ تعالٰی دلائل کثیرہ سے روشن ہیں تفصیل موجوب تطویل ہوگی لہٰذا چند کلمات نافع وسودمند باذن اﷲ تعالٰی سے القا کرے کہ بعونہ تعالٰی احکام کا ایضاح اور اوہام کا ازالہ کریں ۔ت)
فاقول و باللہ استعین
( پس میں اللہ تعالٰی سے مدد طلب کرتے ہوئے کہتا ہوں )
افادئہ اول متون وشروح وفتاوٰی تمام کتب مذہب میں بلاخلاف تصریف صاف ہے کہ ثیاب بذلت و مَہنت یعنی وہ کپڑے جن کو آدمی اپنے گھر میں کام کاج کے وقت پہنے رہتاہے جنہیں میل کچیل سے بچایا نہیں جاتا انہیں پہن کرنماز پڑھنی مکروہ ہے،
تنویرالابصار و درمختار میں ہے :
کرہ صلوتہ فی ثیاب بذلۃ (یلبسھا فی بیتہ) (ومھنۃ) ای خدمۃ ان لہ غیرھا۲؎۔
کام کے کپڑوں میں نماز مکروہ ہے(وہ کپڑے جوگھر میں پہنتاہے) (اور صنعت کے کپڑوں میں) یعنی خدمت والے اگر اس کے پاس دوسرے کپڑے ہوں (ت)
یکرہ تکمیلا لرعایۃ الادب فی الوقوف بین یدیہ تعالٰی بما امکن من تجمیل الظاھر والباطن وفی قولہ تعالٰی خذوا زینتکم عند کل مسجد اشارۃ الٰی ذلک وان کان المراد بھا سترالعورۃ علی ماذکرہ اھل التفسیر کما تقدم۱؎۔
اﷲ تعالٰی کی بارگاہ اقدس میں ظاہری وباطنی جمال کا حصول اس بارگاہ کے آداب میں سے ہے اور اﷲ تعالٰی کے ارشادِ گرامی ''تم ہرمسجد میں جانے کے وقت زینت اختیار کرو'' میں اسی طرف اشارہ ہے اگرچہ اس سے مراد سترِعورت ہے جیسا کہ مفسرین نے بیان کیا(ت)
امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے ایک شخص کو ایسے ہی کپڑوں میں نماز پڑھتے دیکھا، فرمایا: بھلا بتاؤ تو اگرمیں کسی آدمی کے پاس تجھے بھیجوں تو انہیں کپڑوں سے چلاجائے گا؟ کہانہ۔ فرمایا: تو اﷲ تعالٰی زیادہ مستحق ہے کہ اس کے دربار میں زینت وادب کے ساتھ حاضر ہو۔
حلیہ پھر بحرالرائق میں ہے :
احتج لہ فی الذخیرۃ بانہ روی ان عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ رأی رجلا فعل ذلک فقال رأیت لوارسلتک الی بعض الناس اکنت تمرفی ثیابک ھذہ فقال لافقال عمرفاﷲ احق ان یتزین لہ۲؎۔
ذخیرہ میں اس پریوں استدلال ہے کہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے ایک شخص کو ایسے کرتے ہوئے دیکھا توفرمایا کیا خیال ہے اگرتجھے میں کسی آدمی کے پاس بھیجوں توتوانہیں کپڑوں میں چلاجائے گا؟ عرض کیا: نہیں۔ فرمایا: اﷲ تعالٰی سب سے زیادہ حقدار ہے کہ اس کے ہاں حاضری کے لئے زینت اختیار کی جائے۔(ت)
(۲؎ بحرالرائق آخر مکروہات الصلٰوۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۳)
سبحان اﷲ کام خدمت کے کپڑے کہ گھر میں پہنے جاتے ہیں انہیں پہن کرنماز مکروہ ہو اور استعمالی جوتے کہ پاخانے میں پہنے جاتے ہیں انہیں پہن کرنماز مکروہ نہ ہو، معمولی کپڑے کہ میل سے محفوظ نہیں رکھے جاتے اُن سے نماز میں کراہت ہو اور مستعمل جوتے کہ نجاست سے بچائے نہیں جاتے اُن سے نماز میں کراہت نہ ہو یہ بداہت عقل کے خلاف اور صریح خون انصاف ہے
ولیس ھذا من باب القیاس بل کماتری استدلال بفحوی الخطاب لایحوم حولہ شک ولاارتیاب
(یہ مسئلہ قیاسی نہیں بلکہ انداز وخطاب سے آپ استدلال دیکھ رہے ہیں اس میں نہ کوئی شک ہے نہ ریب۔ت)
افادہ دوم: متون وشروح وفتاوٰی تمام کتب مذہب میں بلاخلاف تصریح صاف ہے کہ اندھے کے پیچھے نماز مکروہ ہے کہ اسے نجاست کامل احتیاط دشوار ہے۔ہدایہ میں ہے :
یکرہ تقدیم الاعمی لانہ لایتوقی النجاسۃ۱؎۔
نابینا کاامام بنانامکروہ ہے کیونکہ وہ نجاست سے نہیں بچ سکتا۔(ت)
(۱؎ الہدایہ باب الامامۃ مطبوعہ المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ /۱۰۱)
کافی امام نسفی میں ہے :
الاعمی لایصون ثیابہ عن النجاسات فالبصیر اولی بالامامۃ۲؎۔
نابینا اپنے کپڑوں کونجاست سے محفوظ نہیں رکھ سکتا لہٰذا امامت کے لئے بیناہونا بہترہے(ت)
نابینا کیونکہ وہ نجاست سے نہیں بچ سکتا اور یہ تقاضاکرتاہے کہ اعشی کی امامت بھی مکروہ ہو۔(ت)
(۵؎ فتح المعین حاشیہ علی شرح الکنز باب الامامۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۲۰۸)
طحطاوی علی المراقی میں اس کے بعد ہے:
وھوالذی لایبصرلیلا۱؎
(وہ شخص جسے رات کودکھائی نہ دے۔ت)
(۱؎ طحطاوی علی مراقی الفلاح فصل فی ابیان الاحق بالامامۃ مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۶۵)
محل انصاف ہے کہ نمازی پرہیزگار نابینا بلکہ ضعیف البصر کے کپڑوں یابدن پراندیشہ ومظنہ نجاست زیادہ ہے یاان استعمالی جوتوں پرجنہیں پہن کرپاخانے تک میں جانا ہوتاہے پھروہاں کراہت ہونایہاں نہ ہونا صریح عکس مدعا ہے بلکہ وہان ایک حصہ کراہت ہو تو یہاں کئی حصے ہوناہے۔