Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
68 - 158
ثمَّ النظر فی دلیل العلامۃ ابراھیم الحلبی مدفوع بما قدمنا عن الفتح والبحر والشرنبلالی ان السجود مع رفع القدمین بالتلاعب اشبہ منہ بالتعظیم ولانسلم ان کذٰلک الیدان  والرکبتان وکون توقف وضع الوجہ علی وضع ھاتین ابلغ من توقفہ علی وضع القدمین مع ظھور ضعفہ فی الیدین فلاحاجۃ فی وضعہ الی وضعھما اصلا وکذا فی الرکبتین فان الواقع ھھنا التساوی لا  الا بلغیۃ نحن لانبنی الکلام علی توقف وضع الوجہ بل علی توقف السجود المطلوب الشرعی علیہ وھوالذی یکون علی جھۃ التعظیم و الاجلال ولاتعظیم اذا وضع الوجہ ورفع القدمین کما افاد المحقق علی الاطلاق فعن ھذا کان وجع القدم ممالایتوصل الی الفرض الابہ فکان فرضا لاجرم لم یتفرد العلامۃ الحلبی بھذا التعلیل بل سبقہ الیہ امام جلیل وھوالامام ابوالبرکات النسفی قال فی شرح وافیۃ الکافی وضع القدمین فرض فی السجود لانہ لایمکن تحقیق السجود الابوضع القدمین۱؎اھ  فلم یقل لایمکن وضع الوجہ بل تحقیق السجود اما قول الغنیۃ نحو القبلۃ وقد تبعہ علیہ العلامۃ الشرنبلالی فی مراقی الفلاح والمدقق العلائی والعلامۃ نوح اٰفندی والعلامۃ ابوالسعود الازھری وقد تلونا علیک نصوصھم جمیعا۔
پھر علامہ ابراہیم حلبی کی دلیل پراعتراض اس سے ختم ہوجاتاہے جوہم نے پہلے فتح، بحر، شرنبلالی کے حوالے سے بیان کیا کہ قدم اٹھائے ہوئے سجدہ کرنا تعظیم کے بجائے مذاق کے زیادہ قریب ہے اور ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ ہاتھوں اور گھٹنوں کایہی معاملہ ہے اور چہرے کالگنا قدمین کے لگنے سے ان پرزیادہ موقوف ہے باوجود اس کے اس کاضعف ہاتھوں میں ظاہر ہے کیونکہ چہرے کے رکھنے میں ان دونوں کی ضرورت اصلاً نہیں، اسی طرح گھٹنوں کامعاملہ ہے کیونکہ یہاں مساوات ہے زیادتی نہیں اور ہم کلام کی بنیاد چہرے کے رکھنے کے موقوف پرنہیں رکھتے بلکہ سجدہ کے موقوف ہونے پررکھتے ہیں جو مطلوب شرعی ہو اور اس میں تعظیم وتوقیر ہونہ کہ اس صورت میں جب چہرہ رکھاہواور قدم اُٹھے ہوئے ہوں جیسا کہ محقق علی الاطلاق نے فرمایا تواب قدموں کارکھنا فرض کی تکمیل کے لئے ضروری ہواتو وہ لامحالہ فرض ہوگا اور علامہ حلبی اس تعلیل کے بیان کرنے میں تنہا نہیں بلکہ اس سے پہلے ایک امام جلیل جن کااسم گرامی ابوالبرکات نسفی ہے نے بیان کی ہے، شرح وافیہ الکافی میں فرمایا سجدے میں قدموں کالگانا فرض ہے کیونکہ سجدہ کا وجود ممکن نہیں۔ رہا غنیہ کا قول ''قبلہ کی طرف'' تو اس کی علامہ نوح آفندی، علامہ ابوالسعود ازہری نے اتباع کی ہے، اور ہم نے ان کی عبارات کاتذکرہ کردیاہے۔
(۱؎ کافی شرح وافی)
فاقول حملہ علی مافھمتم بعید من مرامھم کل البعد وکیف یرومونہ وھم مصرحون بانفسھم ان توجیہ الاصابع سنۃ یکرہ ترکہ فلم یحتج علیھم بالبرجندی و القھستانی لم لایحتج علیھم بھم قال الحلبی قبیل فصل النوافل یعنی کل شیئ لم یذکر انہ فرض اوواجب قدذکرنا فی صفۃ الصلٰوۃ مما سوی ماعینا ھھنا انہ سنۃ فھو آدب لکن ھذا التعمیم فیہ نظر و فان من جملۃ ذلک وضع الیدین والرکبتین فی السجود وھوسنۃ وکذا ابداء الضبعین ومجافاۃ البطن عن الفخذین وتوجیہ الاصابع نحوالقبلۃ فیہ فان کل ذلک سنۃ لما تقدم من ادلتہ ھناک۱؎ ،
فاقول ان کی عبارات کوجوتم نے سمجھا ہے وہ ان کے مقصود سے کہیں دورہے اور یہ مراد لے بھی کیسے سکتے ہیں حالانکہ خود انہوں نے تصریح کی ہے کہ انگلیوں کا قبلہ کی طرف متوجہ کرنا سنت اور اس کاترک مکروہ ہے۔ پس برجندی اور قہستانی کے حوالے سے ان کے خلاف احتجاج کیوں کیاہے، کیوں نہ ان کےخلاف خود ان کی عبارات سے احتجاج کیا۔ حلبی نے فصل النوافل سے تھوڑا پہلے فرمایا کہ نوافل سے مراد ہروہ شئی ہے جس کا فرض یاواجب ہونا مذکور نہ ہو اور جن اشیاء کو ہم نے صفۃ الصلٰوۃ میں سنت ہونامعین کیا ہے ان کے سوا تمام آداب ہیں لیکن یہ تعمیم محل نظر ہے کیونکہ ان میں حالت سجود میں ہاتھوں اور گھٹنوں کارکھنابھی ہے حالانکہ وہ سنت ہے اسی طرح پہلوؤں کارانوں کاپیٹ سے دوررکھنا، حالتِ سجدہ میں انگلیوں کو قبلہ کی طرف متوجہ کرنا بھی ہے کیونکہ یہ سابقہ دلائل کی بنا پر سنت ہیں،
 (۱؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی  سنن الصلٰوۃ    مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور        ص۳۸۳)
وقال الشرنبلالی متناوشرحا یکرہ تحویل اصابع یدیہ اورجلیہ عن القبلۃ فی السجود وغیرہ لما فیہ من ازالتھا عن الموضع المسنون۲؎ وقال العلائی یستقبل باطراف اصابع رجلیہ القبلۃ ویکرہ ان لم یفعل ذٰلک۳؎ بل انما ارادوا رحمھم اﷲ تعالٰی علی ماالھمنی الملک المنعام عزجلالہ ان یقولوا یفترض وضع بطن الاصبع ولایکفی وضع ظھرھا ولارأسھا الکائن عند ظفرھا لان علی الاول یکون وضع ظھر القدم وقداسقطوہ عن الاعتبار وعلی الثانی یکون وضعا مجردا عن الاعتماد والمقصود الاعتماد وقد بین ھذا بقولہ لیکون الاعتماد علیھا والافھو وضع ظھرالقدم وقد جعلہ غیرمعتبر انما عبر عنہ بالتوجیہ نحوالقبلۃ لان المصلی ان اراد فی سجودہ الاعتماد علی بطن اصبع قدمہ لم یمکنہ ذلک الابتوجیھھا نحو القبلۃ اعنی بالمعنی المقترض فی الاستقبال ممتدا بین الجنوب والشمال، لابالمعنی المسنون النافی للانحراف، وکذلک ان اراد توجیھھا للقبلۃ بالمعنی العام لم یتأت لہ الاباصابۃ بطنھا الارض، وھذا ظاھر جدا فبینھما تلازم فی الصلٰوۃ، وان کان یمکن خارجھا لمن سجد غلطا او عمد الغیر القبلۃ ان یعتمد علٰی بطنھا وھی علی خلاف جھۃ القلبۃ، فکان ھذا من باب اطلاق اللازم وارادۃ الملزوم ،
شرنبلالی نے متن اور شرح میں کہا حالت سجود وغیرہ میں ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوںکا قبلہ سے پھیرنا مکروہ ہے کیونکہ اس میں طریقہ سنت کی خلاف ورزی ہے۔ علائی نے کہا پاؤں کی انگلیوں کو قبلہ رخ کیاجائے اور اگرنہ کیاتوکراہت ہوگی، اﷲ تعالٰی نے مجھے جو آگاہ فرمایا ہے اس کے مطابق یہ سمجھاہوں کہ وہ تمام بزرگ رحمہم اﷲ تعالٰی یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ایک انگلی کاباطن لگانا فرض ہے اس کاظاہر اور اس کا سرجوناخن والاحصہ ہے لگالینا کافی نہیں کیونکہ پہلی صورت میں قدم کی پشت پرسجدہ ہوگا جس کاوہ اعتبار ہی نہیں کرتے، دوسری صورت میں اعتماد نہیں ہوگا حالانکہ مقصود اعتماد جسے ان الفاظ سے بیان کیاگیا ہے تاکہ ان پراعتماد ہو ورنہ سجدہ قدم کی پشت پرہوگا حالانکہ اسے معتبر تسلیم نہیں کیاگیا، یہاں فقہاء نے قبلہ کی طرف متوجہ کرناکہا ہے کیونکہ نمازی اگرحالت سجدہ میں قدم کی ایک انگلی کے باطن پراعتماد چاہے تویہ ممکن نہیں مگر اس وقت جب اسے قبلہ کی طرف متوجہ کرے میری مراد جنوباً وشمالاً استقبال قبلہ کے لئے اسے بچھانا ہے نہ کہ وہ معنی مسنون جوانحراف کے منافی ہے اور اسی طرح اگرمتوجہ ہونے کاعام معنی لیاجائے تو بھی انگلیوں کے باطن کا زمین پرلگنا ضروری ہوگا اور یہ بالکل واضح ہے پس ان دونوں کے درمیان نماز میں تلازم ہے اگرچہ نماز سے باہر یہ ممکن ہے اس شخص کے لئے جس نے غیرقبلہ کی طرف غلطی سے یاعمداً سجدہ کیا کہ وہ انگلیوں کوقبلہ روکئے بغیر ان پرٹیک لگائے تویہاں اطلاق لازم اور مراد ملزوم ہے،
 (۲؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی    فصل فی المکروہات    مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۱۹۴)

(۳؎ درمختار            فصل واذا اراد الشروع فی الصلٰوۃ     مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۷۶)
اما السنۃ فجعلھا علی مسامتۃ القبلۃ من دون انحراف، وھذا الذی لیس فی ترکہ الا الکراھۃ  والاساءۃ، ھکذا ینبغی ان یفھم ھذا المقام والحمدﷲ المللک المنعام وذلک مانقل الامام ابن امیرالحاج فی الحلیۃ عن التحقیق مقرا علیہ والمعتبر فی القدمین بطون الصابع الخ اماما نقلتم عن الفیض العبارۃ و الخلاصۃ والوجیزوالحلیۃ والغنیۃ و وغیرھا بلاخلاف بان الشرطیۃ دون او العاطفۃ  فَاَوۡ فی نسخۃ الفیض تصحیف و قد اغتربہ العلامۃ البرجندی فی شرح النقایۃ فلیتنبہ وبالجملۃ فتحرر مما تقرر ان الاعتماد فی السجود علی بطن احدی اصابع القدم العشر فریضۃ فی المذھب المعتمد المفتی بہ والاعتماد علی بطون کلھا اواکثرھا من کلتا القدمین لایبعد ان یجب لماحررہ فی الحلیۃ وتوجیھھا نحو القلبۃ من دون انحراف سنۃ اغتنم ھذا التحریر المفرد المنیر فلعلک لاتجدہ من غیرالفقیر وﷲ الحمد والمنۃ۔
رہامعاملہ سنّت ہونے کا تو وہ قبلہ کی جانب ہے بغیر کسی انحراف کے، اور وہ یہ ہے کہ جس کے ترک میں کراہت واسائت کے علاوہ کچھ نہیں اس مقام کو اس طریقہ سے سمجھنا چاہئے تمام حمداﷲ تعالٰی کے لئے جوحامد ومنعم ہے اور یہی وہ ہے جو امام ابن امیرالحاج نے حلیہ میں ثابت رکھتے ہوئے تحقیق سے نقل کیاکہ معتبر قدمین میں انگلیوں کاباطن ہے الخ اور جو تم نے فیض سے نقل کیاہے کہ خلاصہ، وجیز، حلیہ، غنیہ، ہندیہ وغیرہ میں بالاتفاق ہے ''اِن '' شرطیہ ہے ''او'' عاطفہ نہیں ہے پس ''او'' نسخہ فیض میں تحریف ہے اور اس سے علامہ برجندی نے شرح نقایہ میں دھوکاکھایا ہے اس پرمتنبہ رہناچاہئے۔ اس تمام گفتگو سے آشکار ہوگیا کہ حالت سجدہ میں قدم کی دس انگلیوں میں سے ایک کے باطن پراعتماد مذہب معتمد اور مفتی بہ میں فرض ہے اور دونوں پاؤں کی تمام یااکثر انگلیوں پراعتماد بعیدنہیں کہ واجب ہو اس بناپر جو حلیہ میں ہے اور قبلہ کی طرف متوجہ کرنا بغیرکسی انحراف کے سنت ہے اس یکتا، منفرد اور روشن گفتگو کوغنیمت جانوشاید اس فقیر کے علاوہ کسی اور کے ہاں تم کو نہ ملے، اﷲ تعالٰی کے لئے ہی حمدواحسان ہے۔(ت)
اور شک نہیں کہ ان بلاد میں اکثر جوتے سلیم شاہی پنجابی خوردنوکے منڈے گرگابی وغیرہا خصوصاً جبکہ نئے ہوں ایسے ہی ہوتے ہیں کہ انگلیوں کاپیٹ زمین پرباعتماد تمام بچھنے نہ دیں گے گو ان جوتوں کوپہن کر مذہب مفتی بہ پرنماز ہوگی ہی نہیں اور گناہ وناجوازی توضرور نقد وقت ہے عرب شریف کے جوتوں میں صرف پاؤں کے نیچے چمڑا ہوتاتھا اور اوپر بندش کے لئے تسمہ جسے شراکت کہتے تھے پھر عرب میں نعل کی تعریف یہ تھی کہ نرم ورقیق ہو یہان تک کہ صرف اکہرے پَرت کی زیادہ پسند رکھتے،
Flag Counter