Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
67 - 158
وذھب شیخ الاسلام الی ان وضعھما سنۃ واختار فی العنایۃ ھذہ الروایۃ وقال انھا الحق واقرہ فی الدرر و وجھہ ان السجود لایتوقف تحققہ علی وضع القدمین فیکون افتراض وضعھما زیادۃ علی الکتاب بخبر الواحد لکن ردہ فی شرح المنیۃ وقال ان قولہ ھو الحق بعید عن الحق وبضدہ احق اذلاروایۃ تساعدہ والدرایۃ تنفیہ لان مالایتوصل الی الفرض الابہ فھو فرض و حیث تظافرت الروایات عن ائمتنا بان وضع الیدین والرکبتین سنۃ ولم ترد روایۃ بانہ فرض، تعین وضع القدمین او احدٰھما للفرضیۃ ضرورۃ التوصل الی وضع الجبھۃ وھذا لولم ترد بہ عنھم روایۃ کیف و الروایات فیہ متوافرۃ  اھ ،
شیخ الاسلام کہتے ہیں کہ دونوں پاؤں کارکھنا سنّت ہے۔ عنایہ میں اسی روایت کومختارکہا ہے اور کہا یہی حق ہے اور درر میں اسے ہی ثابت رکھا، وجہ یہ ہے کہ سجدہ قدمین کے لگنے پرموقوف نہیں لہٰذا ان کے لگنے کو فرض قراردینے سے خبر واحد سے کتاب اﷲ پرزیادتی لازم آئے گی لیکن شرح منیہ میں اس کی تردید ہے کہ اسے حق کہنا حق سے بعید ہے بلکہ اس کا خلاف احق ہے کیونکہ کوئی روایت تائید نہیں کرتی اور درایت اس کی نفی کرتی کیونکہ جوفرض تک پہنچائے وہ بھی فرض ہوتاہے، اور اس مقام پراپنے ائمہ سے کثرت کے ساتھ روایات ہیں کہ قدمین اور ہاتھوں کازمین پرلگانا سنت ہے اور فرض کی روایت نہیں تاہم پیشانی لگانے کےلئے دویاایک قدم کا لگانا فرض متعین ہے اگرکوئی روایت نہیں ہوتی تب بھی یہ حکم تھا حالانکہ اس بارے میں روایات کثیرہیں  اھ ،
ویؤیدہ مافی شرح المجمع لمصنّفہ حیث استدل علی ان وضع الیدین والرکبتین سنۃ بان ماھیۃ السجدۃ حاصلۃ بوضع الوجہ والقدمین علی الارض الخ وکذا مافی الکفایۃ عن الزاھدی من ان ظاھر الروایۃ ماذکر فی مختصرا لکرخی وبہ جزم فی السراج و فی الفیض وبہ یفتی ھذا وقال فی الحلیۃ والاوجہ علی منوال ماسبق ھوالوجوب لما سبق من الحدیث اھ  ای علی منوال ماحققہ شیخہ من الاستدلال علی وجوب وضع الیدین والرکبتین وتقدم انہ اعدل الاقوال فلذا ھنا واختارہ فی البحر والشرنبلالیۃ قلت ویمکن حمل کل من الروایتین السابقتین علیہ بحمل عدم الجواز علی عدم الحل لاعدم الصحۃ ونفی شیخ الاسلام فرضیۃ وضعھما لاینافی الوجوب وتصریح القدوری بالفرضیۃ یمکن تاویلہ فان الفرض قدیطلق علی الواجب تامل، ومامر عن شرح المنیۃ للبحث فیہ مجال لان وضع الجبھۃ لایتوقف علی وضع القدمین بل توقفہ علی الرکبتین والیدین ابلغ فدعوی فرضیۃ وضع القدمین دون غیرھما ترجیح بلامرجح والروایات المتظافرۃ انماھی فی عدم الجواز کمایظھر من کلامھم لافی الفرضیۃ وعدم الجواز صادق بالوجوب کما ذکرنا والحاصل ان المشھور فی کتب المذھب اعتماد الفرضیۃ والارجح من حیث الدلیل والقواعد عدم الفرضیۃ (ملخصاً) و اﷲ تعالٰی اعلم۔
اس کی تائید خود ماتن کی شرح مجمع کے اس استدلال سے بھی ہوتی ہے ہاتھوں اور قدموں کازمین پرلگانا سنت ہے کیونکہ سجدہ کی ماہیت چہرہ اور قدمین زمین پررکھنے سے حاصل ہوجاتی ہے الخ اسی طرح کفایہ میں زاہدی کے حوالے سے ہے کہ ظاہرالروایۃ وہی ہے جس کا ذکر مختصر الکرخی میں ہے اور اسی پر سراج میں جزم فرمایا اور فیض میں ہے اسی پرفتوٰی ہے، حلیہ میں ہے گزشتہ طریقہ کے مطابق سا بقہ حدیث کے پیش نظر وجوب ہی مختار ہے اھ  یعنی اس طریقہ پر جو ان کے شیخ نے ہاتھوں اورقدموں کے رکھنے پر یہ استدلال کیاتھا اور یہ گزرچکا کہ یہ معتدل قول ہے پس یہاں بھی یہی معاملہ ہے اور اسے بحر اور شرنبلالیہ میں مختار کہا میں کہتاہوں کہ یہ ممکن ہے کہ سابقہ دونوں روایات میں عدم جواز کوعدمِ حلت پرمحمول کریں نہ کہ عدم صحت پر، شیخ الاسلام کی ان کے زمین پرلگنے کی فرضیت کی نفی کرنا وجوب کے منافی نہیں، قدوری کی تصریح کہ یہ فرض ہے اس کی تاویل ممکن ہے کیونکہ بعض اوقات فرض کا اطلاق وجوب پرہوتاہے، تامل۔ شرح المنیہ کے حوالے سے جوکچھ گزراہے وہ قابل بحث ہے کیونکہ پیشانی کارکھنا قدمین کے رکھنے پرموقوف نہیں بلکہ ہاتھوں اور گھٹنوں پرموقوف ہونا زیادہ واضح ہے لہٰذا قدمین کوزمین پررکھنے کوفرض قراردینا اور دوسروں کونہ قراردینا ترجیح بلامرجح ہے اور روایات کثیرہ اس کے عدم جواز میں ہیں جیسا کہ علماء کے کلام سے واضح ہے نہ کہ عدم فرضیت میں، اور عدم جواز، وجوب کی صورت میں بھی صادق آتاہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیاہے، حاصل یہ کہ مشہورکتب مذہب میں فرضیت ہے اور قواعد کے مطابق راجح وجوب ہے(ملخصاً) واﷲ تعالٰی اعلم
 (۱؎ ردالمحتار    فصل ای فی بیان تالیف الصلٰوۃ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۳۶۹)
قولہ ولو واحدۃ صرح بہ فی الفیض قولہ نحو القبلۃ اقول وفیہ نظر فقد قال فی الفیض ولووضع ظھر القدم دون الاصابع بان کان المکان ضیقا اووضع احدٰھما دون الاخری لضیقہ جاز کما لوقام علٰی قدم واحد و ان لم یکن المکان ضیقا یکرہ اھ  فھذا صریح فی اعتبار وضع ظاھر  القدم وانما الکلام فی الکراھۃ  بلاعذر لکن رأیت فی الخلاصۃ ان وضع احدٰھما بان الشرطیۃ بدل او العاطافۃ  اھ لکن ھذا لیس صریحا فی اشتراط توجیہ الاصابع بل المصرح بہ ان توجیھھا نحو القبلۃ سنۃ یکرہ ترکھا کما فی البرجندی والقھستانی۱؎۔(ملخصاً)
قولہ اگرچہ ایک انگلی ہو، فیض میں اسی کی تصریح ہے قولہ قبلہ کی طرف اقول اس میں نظر ہے فیض میں ہے اگرقدم کی پشت لگی اور انگلیان نہ لگیں مثلاً جگہ تنگ ہے یاتنگی کی وجہ سے ایک قدم لگادوسرا نہ لگ سکا توجائز ہے جیسا کہ کوئی ایک قدم پرکھڑا ہوتاہے اگرمکان تنگ نہ ہو توکراہت ہے اھ  یہ عبارت اس بات پرتصریح کہ پشتِ قدم کااعتبار ہے کلام اس میں ہے کہ بلاعذر مکروہ ہے لیکن میں نے خلاصہ میں دیکھا ہے کہ وہاں او وضع کی بجائے ان وضع احدٰھماہے (یعنی ان شرطیہ کے ساتھ) لیکن یہ بات انگلیوں کے متوجہ کرنے کو شرط قراردینے میں صریح نہیں بلکہ تصریح یہ ہے کہ قبلہ کی طرف انگلیوں کومتوجہ کرنا سنت ہے اور اس کاترک مکروہ، جیسا کہ برجندی اور قہستانی میں ہے۔(ملخصاً)
 (۱؎ ردالمحتار    فصل فی بیان تالیف الصلٰوۃ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۳۶۹)
یہ علامہ شامی کاکلام ہے کہ قدرے اختصار کے ساتھ منقول ہوا۔
انا اقول وباﷲ العون حمل عدم الجواز علی عدم الحل فی الصلاۃ بعید ولھذا اعترفتم ان المشھور فی کتب المذھب اعتماد الفرضیۃ مع قولکم ان تظافر الروایات انما ھو فی عدم الجواز فلولا ان مرادہ الشائع الذائع ھو الافتراض فمن این یکون اعتماد الفرضیۃ مشھورا فی کتب المذھب ثم للحمل مساغ حیث یقال لم یجز  و الضمیر لرفع القدمین مثلا اما اذا قیل لم تجز والضمیر للصلاۃ تعین مفید العدم الصحۃ وثبوت الفرضیۃ بالمعنی المقابل للوجوب وھو کذلک فی غیرما کتاب منہا مختصرا الکرخی کماتقدم ھذا وجہ والثانی مثلہ اضافۃ عدم الجواز للسجود کما مضی عن الجوھرۃ والثالث اظھر منہ التعبیر بعدم الاجزاء کماسلف عنھا ایضا فھو مفسرلایقبل التاویل والرابع کذا الحکم بالفساد کما سمعت عن جامع الرموز عن القنیۃ والخامس مقابلتھم عدم الجواز ھذا بحکم الجواز علی ما اذا رفع احدی القدمین کما فی الفتح والوجیز والجوھرۃ وغیرھا نص ایضا فی ارادۃ الجواز بمعنی الصحۃ الا تری انھم حکم علیہ باالکراہۃ والمراد کراھۃ  التحریم کما ھو المحمل عند الاطلاق و کما ھو قضیۃ الدلیل ھنا فالجواز بمعنی الحل منتف فیہ ایضا و السادس قد عبر فی عدۃ کتب کالخلاصۃ و البزازیۃ والغنیۃ والبحر الرائق ونورالایضاح ومراقی الفلاح وغیرھا کما سبق بعدم الصحۃ وھو صریح فی المراد والسابع مثلہ الحکم بالشرطیۃ کما فی الدر والجوھرۃ وابی السعود و نورالایضاح ومراقی الفلاح وغیرھا۔
میں اﷲ کی مدد سے کہتاہوں نماز میں عدم جواز کو عدم حلت پرمحمول کرنا بعیدہے اسی لئے تم نے اعتراف کیا کہ مشہورکتب مذہب میں فرضیت ہے باوجود اس کے کہ تمہارا قو ل ہے کہ اکثر روایات عدم جواز پرہیں اگران کی مراد مشہورومعروف فرض قرار دینانہیں توفرضیت پراعتماد کتب مشہورہ میں کیسے ہوگیا؟ پھر حمل میں گنجائش ہے کہ ''لم یجز'' کہاگیا اور ضمیرمثلاً رفع قدمین کیطرف لوٹ رہی ہو جب ''لم تجز''کہاجائے توضمیر نماز کی طرف لوٹے جس سے عدم صحت کاتعین ہوجاتااور اس فرضیت کابھی جومعنی وجوب کے مقابل ہے، اور متعدد کتب میں اسی طرح ہے ان میں سے مختصرالکرخی بھی ہے جیسا کہ پہلے گزرا، یہ ایک صورت ہے، دوسری اس کے مثل کی عدم جواز کی سجدہ کی طرف اضافت، جیسا کہ جوہرہ کے حوالے سے گزراہے، تیسری جوکہ واضح ہے کہ عدم اجزاء سے تعبیر کرنا جیسا کہ پیچھے آیا یہ بھی مفسر ہے اور یہ تاویل کوقبول نہیںکرتا، چوتھی اسی طرح حکم بالفساد جیسا کہ آپ نے جامع الرموز سے قنیہ کے حوالے سے پڑھاہے۔ پانچویں یہ کہ انہوں نے مقابلہ عدم جواز کاجواز کے ساتھ کیاہے اور جواز کاحکم اس صورت میں ہوگا جب ایک قدم اٹھاہوا ہو جیسا کہ فتح، وجیز، جوہرہ وغیرہ میں ہے اس پربھی تصریح ہے کہ جواز بمعنی صحت مراد ہے کیا آپ دیکھتے نہیں کہ انہوں نے اسے مکروہ کہاہے اور کراہت سے مراد تحریمی ہے جیسا کہ اطلاق کے وقت ہواکرتاہے اور یہاں دلیل کاتقاضا بھی یہی ہے توجواز بمعنی حلت یہاں بھی نہ ہوا، چھٹی کہ بہت سی کتب مثلاً خلاصہ، بزازیہ، غنیہ، بحرالرائق، نورالایضاح، مراقی الفلاح وغیرہ میں اسے عدم صحت کے ساتھ تعبیرکیاہے اور یہ مراد پرواضح تصریح ہے۔ ساتویں اسی کی مثل حکم بالشرطیۃ ہے جیسا کہ در، جوہرہ، ابوسعود، نورالایضاح اور مراقی الفلاح میں ہے۔
والثامن صرح فی شرح المجمع والکافی والفتح و البحر وغیرہ کما مربدخول ذلک فی حقیقۃ السجود شرعا وکل قاض بالافتراض بالمعنی الخاص غیر قابل للتاویل الذی ابد یتموہ فکیف یمکن ارجاع جمیع تلک الصرائح الٰی ماتاباہ بالاباء الواضح فانی یتأتی التوفیق و من این یسوغ ترک النصوص المذھب الی بحث ابداہ العلامۃ ابن امیرالحاج وان تبعہ البحر والشرنبلالی علی مناقضۃ منھما لانفسھا رحمھم اﷲ تعالٰی والبحر صرح ھھنا وقبلہ بان السجود مع رفع القدمین تلاعب والشرنبلالی قدجزم فی متنہ وشرحہ بافتراض وضع بعض الاصابع والمحقق علی الاطلاق اعلم وافقہ من تلمیذہ ابن امیرالحاج وقدجزم بماجزم وقد سمعت کل ذلک ۔
آٹھویں شرح مجمع، کافی، فتح، بحر وغیرہ میں ہے جیسا کہ گزرا کہ یہ ماہیت سجدہ میں شرعاً داخل ہے اور یہ تمام امور یہاں فرض بمعنی خاص کیلئے فیصلہ کن ہیں جوقابل تاویل نہیں ہیں تو یہ تصریحات جس سے واضح انکاری ہیں اس پر ان کو کیسے محمول کیاجاسکتاہے یہ توفیق کہاں ہوئی اورمذہب کی نصوص کوچھوڑ کر علامہ ابن امیرالحاج کی بحث کی گنجائش کہاں سے نکلی اگرچہ بحر اور شرنبلالی میں اس کی اتباع کی گئی ہے علاوہ ازیں ان کا خود اپنا تضاد ہے بحر نے یہاں اور اس سے پہلے تصریح کی ہے کہ قدموں کے اٹھائے ہوئے سجدہ مذاق ہے۔ شرنبلالی نے متن اور شرح میں کچھ انگلیوں کے لگانے پرجزم کیاہے، اور محقق علی الاطلاق اپنے شاگرد ابن امیرالحاج سے زیادہ صاحب علم وفقہ ہیں اور انہوں نے اسی پرجز م کیا جس پرکرناتھا اور وہ تمام آپ نے پڑھ لیاہے۔
Flag Counter