Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
66 - 158
منیہ میں ہے :
لوسجد ولم یضع قدمیہ علی الارض لایجوز ولووضع احدھما جاز۲؎۔
اگرسجدہ کیا لیکن قدم زمین پرنہ لگے تووہ جائز نہ ہوگا اور اگران سے ایک قدم لگ گیا توجائزہوگا(ت)
 (۲؎ منیۃ المصلی  باب فرائض صلٰوۃ مبحث السجود  مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور    ص۲۶۱)
غننہ میں ہے:
المراد من وضع القدم وضع اصابعھا قال الزاھ دی ووضع رؤس القدمین حالۃ السجود فرض، وفی مختصر الکرخی سجد ورفع اصابع رجلیہ عن الارض لاتجوز، وکذا فی الخلاصۃ والبزازی وضع القدم بوضع اصابعہ وان وضع اصبعا واحدۃ اووضع ظھرالقدم بلااصابع ان وجع مع ذٰلک احدی قدمیہ صح والافلا، فھم من ھذا ان المراد بوضع الاصابع توجیھھا نھو القبلۃ لیکون الاعتماد علیھا والافھووضع ظھرالقدم وقدجعلہ غیرمعتبر وھذا ممایجب التنبیہ لہ فان اکثرالناس عنہ غافلون۳؎۔
قدم رکھنے سے مراد اس کی انگلیوں کورکھنا ہے، زاہدی نے کہا حالت سجدہ میں دونوں قدموں کی انگلیوں کے سروں کازمین پررکھنا فرض ہے۔ مختصرکرخی میں ہے اگرکسی نے سجدہ کیا مگرپاؤں کی انگلیان زمین سے اٹھی رہیں تو سجدہ نہ ہوگا۔ اسی طرح خلاصہ میں ہے۔ بزازیہ میں قدم رکھنے سے مراد انگلیوں کارکھناہے اور اگرقدم کی پشت انگلیوں کے بغیر لگائی تو اگراس کے ساتھ کسی ایک قدم کوبھی لگایاتوصحیح ورنہ نہیں، اس سے یہ بھی سمجھ آرہاہے کہ انگلیوں کے رکھنے سے مراد انہیں قبلہ کی طرف کرنا ہے تاکہ ان پرٹیک ہو ورنہ قدم کی پشت پر ہوگا اور اسے توغیر معتبر قرار دیا گیا ہے اور اس پرمتنبہ ہونانہایت ضروری ہے کیونکہ اکثرلوگ اس سے غافل ہیں۔(ت)
 (۳؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی    فرائض صلٰوۃ        مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور        ص۲۸۵)
بحرالرائق و شرنبلالیہ میں ہے :
السجود فی الشریعۃ وضع بعض الوجہ ممالاسخریۃ فیہ وخرج بقولنا لاسخریۃ فیہ ما اذا رفع قدمیہ فی السجود فانہ لایصح لان السجود مع رفعھما بالتلاعب اشبہ منہ بالتعظیم والاجلال ویکفیہ وضع اصبع واحدۃ فلو لم یضع الاصابع اصلا ووضع ظاھر القدم فانہ لایجوز لان وضع القدم بوضع الاصبع  اھ  ملتقطا۱؎۔
شریعت میں سجدہ یہ ہے چہرہ کازمین پررکھنا اور اس میں سخریت نہ ہو ''لاسخریۃ فیہ'' سے وہ صورت خارج ہوجاتی ہے جس میں دونوں قدم حالت سجدہ میں زمین پر نہ ہوں کیونکہ حالت سجدہ میں ان کازمین سے اٹھاہواہونا تعظیم وعزت کے بجائے مذاق پردالالت کرتاہے اور اس میں ایک انگلی کازمین پرلگ جانا کافی ہوتاہے۔ پس اگرکسی نے انگلیاں بالکل نہیں لگائیں مگر پشت قدم کولگایا تویہ جائز نہیں کیونکہ قدم کے رکھنے سے مرادانگلی کالگانا ہے اھ  تلخیصاً(ت)
 (۱؎ بحرالرائق        باب صفۃ الصلٰوۃ     مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی     ۱ /۲۹۳)
جوہرئہ نیّرہ میں ہے :
من شرط جواز السجود ان لایرفع قدمیہ فان رفعھما فی حال سجودہ لاتجزیہ السجدۃ وان رفع احدٰھما قال فی المرتبۃ یجزیہ مع الکراھۃ  ولوصلی عن الد کان وادلی رجلیہ عن الدکان عند السجود لایجوزوکذا علی السریر اذا ادلی رجلیہ عنھا لایجوز۲؎۔
جوازسجدہ کے لئے شرط یہ ہے کہ دونوں قدم زمین سے اُٹھے ہوئے نہ ہوں اگرحالت سجدہ میں اٹھے ہوئے رہے تو سجدہ جائز نہیں ہوگا، اور اگران میں ایک رکھاہوا تھا تومرتبہ میں ہے کہ سجدہ جائز مگرمکروہ ہوگا، اگرکسی نے اونچی جگہ نمازپڑھی اور سجدہ کے وقت پاؤں نیچے لڑھکادئیے توجائزنہیں، اسی طرح چارپائی سے اگرپاؤں نیچے لڑھکادئیے توسجدہ نہ ہوگا۔(ت)
 (۲؎ جوہرنیرہ شرح قدوری    باب صفۃ الصلٰوۃ    مطبوعہ مکتبہ امدایہ، ملتان        ۱ /۶۳)
فتح القدیرمیں ہے:
اما افتراض وضع القدم فلان السجود قدم مع رفعہما بالتلاعب اشبہ منہ بالتعظیم ولاجلال ویکفیہ وضع اصبع واحدۃ وفی الوجیزوضع القدمین فرض فان رفع احدٰھما دون الاخری جازویکرہ۱؎۔
پرلگنا اس لئے ضروری ہے کہ ان کا اٹھاہوا ہونا تعظیم وعزت کے بجائے مذاق کے زیادہ قریب ہے البتہ ایک انگلی کالگ جانا بھی کافی ہوتاہے وجیز میں ہے کہ دونوں قدموں کالگانا فرض ہے اگر ایک لگارہا اور دوسرا اُٹھ گیاتوجائز مگرمکروہ ہے(ت)
(۱؎ فتح القدیر        باب صفۃ الصلٰوۃ    مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱ /۲۶۵)
شرح نقایہ قہستانی میں ہے :
الصحیح ان رفع القدمین مفسدکما فی القنیۃ۲؎۔
صحیح یہی ہے کہ قدمین کازمین سے اٹھ جانا نماز کو فاسد کردیتاہے جیسا کہ قنیہ میں ہے۔(ت)
 (۲؎ جامع الرموز    فصل فی فرائض الصلٰوۃ    مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران    ۱ /۱۴۰)
فتح اﷲ المعین میں ہے :
وضع اصبع واحدۃ من القدمین شرط۳؎۔
قدمین کی ایک انگلی کالگنا شرط ہے۔(ت)
 (۳؎ فتح اﷲ المعین    باب صفۃ الصلٰوۃ    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۱ /۱۶۹)
اُسی میں ہے :
یفترض وضع واحدۃ من اصابع القدم۴؎۔
قدم کی انگلیوں میں سے ایک کالگنا فرض ہے۔(ت)
 (۴؎ فتح اﷲ المعین    باب صفۃ الصلٰوۃ    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۱۹۱)
اُسی میں زیرقول کنز
وجہ اصابع رجلیہ نحو القبلۃ
 (پاؤں کی انگلیوں کوقبلہ کی طرف کرکے زمین پرلگایاجائے۔ت) فرمایا:
خص اصابع الرجلین بالذکر مع ان اصابع الیدین کذلک حتی یکرہ تحویلھا عن القبلۃ انما خصھا وضعھا موجھۃ کما ذکرہ نوح اٰفندی ونصہ قال الزاھدی ووضع رؤس القدمین حالۃ السجود فرض وفی مختصر الکرخی سجد ورفع اصابع رجلیہ عن الارض لایجوز قال وفھم من ھذا ان المراد بوضع الاصابع توجیھھا نحو القبلۃ لیکون الاعتماد علیھا والافھو وضع لظھر القدم وھو غیرمعتبر الخ وکذا الحلبی عن المنیۃ۱؎ الخ۔
یہاں پاؤں کی انگلیوں کاذکرہوا ہے حالانکہ دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کالگنا بھی اسی طرح ہے حتی کہ ان کاقبلہ سے پھرجانا بھی مکروہ ہے مگرمخصوص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ انہیں قبلہ کی طرف متوجہ کرنا فرض ہے جیسا کہ نوح آفندی نے ذکرکیا اور اس کے الفاظ یہ ہیں زاہدی نے کہا حالت سجدہ میں قدمین کی انگلیوں کے سروں کا لگنا فرض ہے، مختصرکرخی میں ہے کسی نے سجدہ کیا مگرپاؤں کی انگلیان زمین پرنہ لگیں تویہ جائزنہیں، اور فرمایا اس سے یہ بھی سمجھ آرہاہے کہ انگلیوں کے لگانے سے مراد انہیں قبلہ کی طرف متوجہ کرناہے تاکہ اعتماد ان پرہو ورنہ توپشت قدم پرہوگا جومعتبر نہیں الخ حلبی میں منیہ سے یہی ہے۔(ت)
 (۱؎ فتح اﷲ المعین   باب صفۃ الصلٰوۃ   مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی    ۱ /۱۹۲)
نورالایضاح و مراقی الفلاح میں ہے :
من شرط صحۃ السجود وضع شئی من اصابع الرجلین موجھا بباطنہ نحو القبلۃ ولایکفی لصحۃ السجود وضع ظاھر القدم ؎۲ ۔
صحت سجدہ کے لئے پاؤں کی انگلیوں کاقبلہ کی طرف متوجہ ہوکرزمین پرلگنا شرط ہے فقط ظاھر  قدم کازمین پرلگنا کافی نہیں۔(ت)
 (۲؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی    باب شروط الصلٰوۃ    مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ص۱۲۷)
ردالمحتار میں ہے :
وکذا قال فی الھدایۃ واما وضع القدمین فقد ذکر القدوری انہ فرض فی السجود اھ  فاذا سجد ورفع اصابع رجلیہ لایجوز کذا ذکرہ الکرخی والجصاص ولووضع احداھما جاز قال القاضی خاں و یکرہ قال فی المجتبی قلت ظاھر  مافی مختصر الکرخی والمحیط والقدوری انہ اذ رفع احدٰھما دون الاخری لایجوز وقدرأیت فی بعض النسخ فیہ روایتان  اھ  ومشی علی روایۃ الجواز برفع احدٰھما فی التفصیل والخلاصۃ وغیرھما،
ہدایہ میں اسی طرح ہے، رہا قدمین کالگنا تو قدوری نے کہا کہ یہ سجدہ میں فرض ہے پس جب سجدہ کیا مگرپاؤں کی انگلیاں نہ لگیں توسجدہ صحیح نہ ہوگا، اسی طرح کرخی اور جصاص نے کہا اور اگر ایک انگلی لگ گئی توجائز ہے، قاضی نے کہا مگرکراہت ہے۔ مجتبٰی میں ہے مختصر، کرخی، محیط اور قدوری کاظاہربتارہاہے کہ جب ایک پاؤں اٹھاہواہو تو یہ جائز نہیںاور میں نے اس کے بعض نسخوں میں دوروایتیں دیکھی ہیں اھ فیض اور خلاصہ وغیرہ میں روایتِ جواز پرعمل کیا ہے۔
Flag Counter