مسئلہ ۱۰۰۶ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی نے گلوبند سرمیں لپیٹ کرنمازپڑھائی بغیرٹوپی کے، تویہ نماز مکروہ تحریمی یاتنزیہی ہوئی یانہیں؟
الجواب
مخالف سنت ہوا، حدیث میں ہے :
الفرق بیننا وبین المشرکین العمائم علی القلانس۱؎۔
ہمارے اور مشرکین کے درمیان فرق ٹوپیوں پر عمامہ باندھنا ہے۔(ت)
(۱؎ سنن ابوداؤد باب فی العمائم مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۰۸
مشکٰوۃ المصابیح کتاب اللباس مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۷۴)
وقررالشیخ قدس سرہ فی اللمعات ان تعمیم مشرکی العرب ثابت معلوم فالمعنی انانجعل العمائم علی القلانس وھم یتعممون بدونھا۔
اور شیخ قدس سرہ، نے لمعات میں ثابت کیا ہے کہ مشرکین عرب کاعمامہ باندھنا ثابت ہے، اب معنی یہ ہوگا کہ ہم ٹوپیوں پرعمامہ باندھتے ہیں اور مشرکین ٹوپیوں کے بغیر۔(ت)
پھر اگرگلوبندچھوٹا ہو کہ ایک دوپیچ سے زائد نہ کرسکے تویہ سنت عمامہ کابھی ترک ہوگا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۰۷ : ازرام پور مرسلہ جناب مولٰنا مولوی شاہ سلامت اﷲ صاحب ۴محرالحرام ۱۳۲۳ھ
(مع رسالہ نعم الجواب فی مسئلہ المحراب )
خلاصہ سوال
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید امام مسجد کہتاہے کہ محراب ہی کے پاس نمازپڑھنا مسنون ہے باہرمسجد کے مکروہ ہے باوجودیکہ اندرمسجد کے عشاکے وقت سخت گرمی اور لوگوں کوتکلیف ہوتی ہے زید اندرہی محراب کے پاس پڑھتاہے اکثرضعفا کو اس تکلیف وگرمی سے قے بھی ہوجاتی ہے اوربیہوشی ہوتی خوف ہلاکت ہوتاہے لیکن زید نہیں مانتا۔بیّنواتوجروا۔
الجواب
تحریرفقیر پرجواب مولوی معزاﷲخاں صاحب وتائید مولٰناشاہ سلامت اﷲ صاحب
(جواب دینے والے کو اﷲ جزائے خیردے اور اس فاضل کومددقریب سے نوازے۔ت) فی الواقع زید کاقول محض باطل وجہالت اور اس پرایسااصرار اور اس کے سبب نمازیوں بلکہ خود نمازوجماعت نماز کو اس درجہ اضرار صریح ضلالت ہے، فقیرنے اپنے فتاوٰی میں اس مسئلہ کی تنقیح تام اور محراب کی حقیقی وصوری اقسام اور حدیثاً وفقہاً اُن کے احکام اور تحقیق مرام وازالہ اوہام بفضلہ تعالٰی بروجہ کافی وشافی ذکرکی یہاں اسی قدر کافی کہ ہندیہ و بزازیہ و خلاصہ و ظہیریہ و خزانۃ المفتین وغیرہاکتب معتمدہ میں ہے :
قوم جلوس فی المسجد الداخل وقوم فی المسجد الخارج اقام المؤذن فقام امام من اھل الخارج فامھم وقام امام من اھل الداخل فامھم من یسبق بالشروع فھو والمقتدون بہ لاکراھۃ فی حقہم۱؎۔
کچھ لوگ داخل مسجد اور کچھ خارج مسجدہیں مؤذن نے تکبیرکہی اہل خارج میں سے امام نے جماعت کروائی اور اسی طرح اہل داخل میں سے ایک نے جماعت کروائی تو جس نے سبقت لی وہ امام ہے اور لوگ اس کے مقتدی، ان کے حق میں کوئی کراہت نہیں۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ فصل فی بیان من ھو احق بالامامۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۸۴
خلاصہ الفتاوٰی الفصل الخامس فی الامامۃ والاقتداء مطبوعہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ /۱۴۵)
امام ابن امیرالحاج حلبی شرح منیہ میں فرماتے ہیں:
المسجد الخارج صحن المسجد۲؎
(مسجد خارج سے صحن مسجد مراد ہے۔ت)
(۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
دیکھوکیسی تصریح ہے کہ صحن مسجد میں نمازپڑھنی، جماعت کرنی، امامت کرنی اصلاً کسی طرح مکروہ نہیں۔
لان السابق بالشروع فی الصورۃ المذکورۃ ان کان امام الخارج وھوالذی ھو و مقتدہ کلھم فی الصحن کان ھو المحکوم لہ بقول الائمۃ ھو والمقتدون بہ لاکراھۃ فی حقھم ولا، ھذہ لنفی الجنس فتفید نفی کل کراھۃ عنھم وھو المقصود۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
کیونکہ صورت مذکورہ میں شروع میں سبقت کرنے والا اگرامام خارج ہے تو وہ امام اور اس کے مقتدی تمام صحن میں ہوں گے اور ائمہ کایہ بیان کردہ حکم کہ وہ امام اور لوگ اس کے مقتدی ہوں گے اور ان پرکوئی کراہت نہیں اسی پرلاگو ہوگا اور یہ ''لا'' نفی جنس کے لئے ہے جس سے کراہت کی نفی ہوجاتی ہے اوریہی مقصود ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۰۰۸: ازمارہرہ مطہرہ کمبوہ محلہ مرسلہ چودھری محمدطیب صاحب ۴محرم الحرام ۱۳۲۳ھ
جوتیوں سمیت نماز پڑھنا ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا کہاہم سے شعبہ نے کہا ہم کو ابومسلمہ سعیدبن یزید ازدی نے خبردی کہا میں نے انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے پوچھا کہ آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جوتیاں پہنے پہنے نماز پڑھتے تھے؟
حدثنا اٰدم ابن ابی ایاس قال انا ابومسلمۃ سعید بن یزید الازدی قال سألت انس بن مالک کان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یصلی فی نعلیہ قال نعم ۔
انہوں نے کہا آدم ابن ابی ایاس بیان کرتے ہیں کہ مجھے ابومسلمہ سعید بن یزید الازدی نے بتایا کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے پوچھا کیا نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نعلین میں نمازاداکی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں(ت)
ابن بطال نے کہا جب جوتے پاک ہوں تو اُن میں نمازپڑھناجائز ہے، میں کہتاہوں مستحب ہے کیونکہ ابوداؤد اور حاکم کی حدیث میں ہے کہ یہودیوں کاخلاف کرو، وہ جوتوں اور موزوں میں نمازنہیں پڑھتے۔ اورحضرت عمررضی اﷲ تعالٰی عنہ نماز میں جوتے اتارنامکروہ جانتے تھے اور ابوعمروشیبانی کوئی نماز میں جوتا اتارے تو اس کو مارتے تھے اور ابراہیم سے جو امام ابوحنیفہ کے استاذ ہیں ایسا ہی منقول ہے۔ شوکانی نے کہا صحیح اور قوی مذہب یہی ہے کہ جوتیاں پہن کرنماز پڑھنامستحب ہے اور جوتوں میں اگرنجاست ہوتووہ زمین پررگڑدینے سے پاک ہوجاتے ہیں خواہ وہ کسی قسم کی نجاست ہو، تریاخشک، جرم والا یابے جرم۔
الجواب
اللھم ھدایۃ الحق والصواب اقول وباﷲ التوفیق وبہ الحصول الی ذری التحقیق
(اے اﷲ! حق اور صواب کی ہدایت دے اقول اور اﷲ ہی توفیق دینے والا اور وہ ہے جو تحقیق کی منزل پرپہنچانے والا ہے۔ت) سخت اور تنگ پنجے کاجوتا جوسجدہ میں انگلیوں کاپیٹ زمین پربچھانے اور اس پر اعتماد کرنے زوردینے سے مانع ہو ایسا جوتا پہن کرنماز پڑھنی صرف کراہت و اساءت درکنارمذہب مشہورہ و مفتی بہ کی روسے راساً مفسد نماز ہے کہ جب پاؤں کی انگلی پراعتماد نہ ہوا سجدہ نہ ہوا اور جب سجدہ نہ ہوا نماز نہ ہوئی، امام ابوبکرجصاص و امام کرخی و امام قدوری و امام برہان الدین صاحبِ ہدایہ وغیرہم اجلہ ائمہ نے اس کی تصریح فرمائی، محیطو خلاصہ و بزازیہ و کافی و فتح القدیر و سراج و کفایہ و مجتبٰی و شرح المجمع للمصنف و منیہ و غنیہ شرح منیہ و فیض المولی الکریم و جوہرئہ نیرہ و نورالایضاح و مراقی الفلاح و درمنتقی و درمختار و علمگیریہ و فتح المعین علامہ ابوالسعود ازہری و حواشی علامہ نوح آفندی وغیرہا کتب معتمدہ میں اسی پرجزم فرمایا زاہدی نے کہا یہی ظاہرالروایۃ ہے علامہ ابراہیم کرکی نے فرمایا اسی پرفتوٰی ہے، جامع الرموز میں قنیہ سے نقل کیا یہی صحیح ہے، ردالمحتار میں لکھا کتب مذہب میں یہی مشہور ہے،
درمختارمیں ہے:
فیہ (ای فی شرح الملتقی) یفترض وضع اصابع القدم ولوواحدۃ نحوالقبلۃ والا لم تجز والناس عنہ غافلون وشرط طھارۃ المکان وان یجد حجم الارض والناس عنہ غافلون۱؎اھ ملخصاً
اس (شراح الملتقی) میں ہے قدم کی انگلیوں کا زمین پرجانب قبلہ رکھنا فرض ہے خواہ وہ ایک ہی کیوں نہ ہو ورنہ جائز نہیں اور لوگ اس سے غافل ہیں اور مکان کاپاک ہونا بھی شرط ہے اور حجم زمین کوپانا اور لوگ اس سے بھی غافل ہیں اھ تلخیصاً(ت)