سخن راندن مانداز استظہار علامہ شامی عاملہ اﷲ باللطفف النامی اقول انچہ بالاگفتہ ایم غایت توجیہ کلام آں فاضل علام بودوہنوز گل نظرے دمیدن دارد ماثور ومورث چنانکہ دانی ہما ں قیام امام درمحرا ب حقیقی ست وآں مقام اشرف موضع وصدر مسجد ست چنانکہ شنیدی پس ترک اوبے عذرشرعی عدول ازافضل وخلاف متوارث العمل، وفرع مبسوط دلالت برآں ندردکہ اینجا فی نفسہٖ اصلاً منظور نیست بلکہ غایتش آنست کہ توسط صف سنت عظیمہ مہم ترازآن ست چوں ہردودست وگریبان شود اختیار بہ سنت توسط رودپس انچہ بدل می چسپد کلمات ائمہ رابر اطلاق آنہا داشتن اگرچہ درکمال خمول باشد غیرامام جماعت ثانیہ فی مسجد المحلہ را محراب حقیقی گذاشتن ست ھذا اخرالکلام فی ھذا المقام وقداتضح بہ کل مرام وانکشف بہ جمیع الاوھام والتأمت کلمات الائمۃ الکرام وماتوفیقی الاباﷲ الملک العلام والسلام مع الکرام علی مولٰنا عبدالسلام واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم
رہامعاملہ علامہ شامی کے مختار قراردینے کاتو میں کہتاہوں کہ جوکچھ ہم نے بیان کیا اس فاضل علام کے کلام کی غایت توجیہ ہے اور جوکچھ منقول و متوارث ہے وہ امام کامحراب حقیقی میں قیام ہے اور وہ مقام سب سے اعلٰی اور صدرمسجد ہوتاہے جیسا کہ آپ پڑھ چکے لہٰذا اس کاترک بغیرکسی عذر کے افضل سے اعراض اور متوارث عمل کے خلاف ہے اور مبسوط کاجزئیہ اس پردلالت نہیں کرتا کہ یہ مقام فی نفسہٖ مقصودنہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ یہ کہ صف کے درمیان کھڑاہونا سنت عظیمہ ہے کیونکہ جب دونوں میں تعارض ہو تووسط میں کھڑا ہونا سنت اور مختارہوگا، دل لگتی بات یہ ہے کہ ائمہ کے کلام کو اپنے اطلاق پررکھیں اگرچہ یہ کمزور سی بات ہے تاہم اس سے محلہ کی مسجد میں پہلے امام کاحقیقی محراب کوچھوڑنا مراد ہے، یہ اس مقام میں آخری کلام ہے اور اس سے پورا مقصد واضح ہوگیا اور تمام ائمہ کا کلام موافق ہوگیا
مسئلہ ۱۰۰۲ :ازبنگالہ ضلع چاٹگام تھانہ راؤجان موضع پھمرا مرسلہ مولوی اسمٰعیل صاحب ۱۴شوال ۱۳۲۱ھ
چہ می فرمایند علمائے دین وفضلائے شرع متین اندریں صورت کہ شخصے مصلی ردائے خودرابدیں نوع پوشد کہ اولا وسط ردارابرپشت نہادہ و ہردوسرش راتحت بطین بیروں آوردہ بازجانب چپ رابرمنکب راست وطرف راست رابرمنکب چپ افگند حتی کہ ہردوسرش نیزبطرف پشت و سریں رسندایں صورت درحالت صلوٰۃ شرعاً جائزست یانہ؟
کیافرماتے ہیں علمائے دین اور فضلائے شرع متین اس مسئلہ میں کہ نمازی ایک چادر اس طرح پہنتاہے کہ پہلے اس کانصف حصہ اپنی پشت پرڈالتاہے اور اس کے دونوں کونوں کوبغلوں کے نیچے سے باہرلاکر اس کی جانب کودائیں کاندھے اور اس کے دائیں حصے کوبائیں کاندھے پرڈالتاہے حتی کہ اس کے دونوں کونے بھی پشت وسرین تک پہنچ رہے ہوتے ہیں اس حالت میں نمازجائز ہے یانہیں؟
الجواب
جائزست فی الصحیحین عن عمربن ابی سلمۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھما قال رأیت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یصلی فی ثوب واحد مشتملا بہ فیبیت ام سلمۃ واضعاطرفیہ علی عاتقیہ۱؎۔
جائز ہے کیونکہ بخاری ومسلم میں حضرت عمربن ابی سلمۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہماسے مروی ہے کہ میں نے بیت حضرت ام سلمہ میں حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو ایک کپڑے میں اس طرح نمازپڑھتے ہوئے دیکھا کہ اس کی دونوں اطراف آپ کے کاندھوں پرتھیں۔
(۱؎ صحیح مسلم باب الصلوٰۃ فی ثوب واحد مطبوعہ نورمحمداصح المطابع کراچی ۱ /۱۹۸)
وللبخاری عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یقول من صلی فی ثوب واحد فلیخالف بین طرفیہ۲؎
بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے کہ میں نے رسالت مآب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا جوآدمی ایک کپڑے میں نمازاداکرے اسے چاہئے کہ وہ اس کی دونوں اطراف کومخالف سمت میں ڈال لے۔
شیخ محقق دہلوی قدس سرہ راشعۃ اللمعات می فرماید صورت اشتمال آن ست کہ طرفے راست ازجامہ کہ بردوش راست است گرفتہ بردوش چپ بیندازدوطرف چپ کہ بردوش چپ است اززیردست چپ گرفتہ بردوش راست بیندازوپستر بنددہردوطرف رابرسینہ وغالباً احتیاج بہ بستن ہردوطرف برسینہ برتقدیریست کہ گوشہائے جامہ دراز نباشد وبیم واشدن بودواگردراز بسیار باشد احتیاج بربستن نباشد چنانکہ ازلباس فقرائے یمن ظاہرمیگرددولہٰذا درعبارت بعض شارحان این قیدواقع شدہ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم
کی طرف کوبائیں کے نیچے سے نکال کردائیں کاندھے پرڈال دے اس کے بعد دونوں اطراف کوسینہ پرباندھ لے، غالباً دونوں کوسینہ پرباندھنے کی وجہ یہ ہے کہ کپڑے کے کنارے طویل نہ تھے اور اس کے گرجانے کاخطرہ تھا، اوراگر اطراف لمبے ہوں توباندھنے کی ضرورت نہیں جیسا کہ فقرائے یمین کالباس ہوتاہے، یہی وجہ ہے کہ بعض شارحین کی عبارت میں اس قید کاذکرنہیں، واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ اشعۃ اللمعات باب الستر الفصل الاول مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۴۴)
مسئلہ ۱۰۰۳:ازملک بنگالہ ضلع میمن سنگھ مرسلہ عبدالحکیم ۲۸/جمادی الاول ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چبوترہ جوصحن میں ملاصق بیچ کے در میں جوکچھ بلندی ہوتی ہے اس پرنماز جماعت میں امام کاکھڑے ہوکرنماز پڑھناجائز ہے یانہیں اور اس کو اگردورکردیاجائے تونماز جائزہوگی یانہیں؟
الجواب
یہ صورت مکروہ ہے،
لمشابھۃ الیھود فانھم یجعلون لامامہم علی دکان ممتازاً عمن خلفہ والاصح ان لاتقدیر، بل کل مایقع بہ الامتیاز یکرہ کمافی الدر۲؎۔
یہ یہود کے ساتھ مشابہت ہے کیونکہ امام کے لئے اونچی جگہ بناتے ہیں اور اصح یہ ہے کہ اس کی مقدار کاتعین نہیں بلکہ اتنی اونچائی جس سے امتیاز ہوجائے مکروہ ہے جیسا کہ در میں ہے۔(ت)
اور اگراسے دُورکردیں توامام اگردرمیں کھڑا ہوتویہ بھی مکروہ ہے
لقول امامنا رضی اﷲ تعالٰی عنہ انی اکرہ للامام ان یقوم بین الساریتین۳؎ کما فی المعراج
ہمارے امام رضی اﷲ تعالٰی کاارشاد ہے کہ امام کے دوستونوں کے درمیان کھڑاہونے کو ناپسند جانتاہوں، جیسا کہ معراج میں ہے(ت)
(۳؎ ردالمحتار مطلب فی کراہۃ قیام الامام فی غیرالمحراب مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۴۲۰)
اور اگرصحن میں کھڑا ہو کر کرسی کی بلندی پرسجدہ کرے تویہ سخت ترمکروہ ہے یہاں تک کہ وہ بلندی بالشت بھرہوتونمازہی نہ ہوگی
کمافی درالمختار وغیرہ
(جیسا کہ دُرمختار وغیرہ میں ہے۔ت) توجب صحن میں صفوں کے لئے زیادہ وسعت چاہیں تو اس کاطریقہ یہ ہے کہ درکی کرسی بقدر سجدہ کھود کرطاق کے مثل بنائیں اوراتنا ٹکڑا صحن سے ہموارکردیں امام صحن میں کھڑا ہوکر اس طاق نماز میں سجدہ کرے اب کوئی کراہت نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۰۴: ازاترولی ضلع علی گڑھ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ حافظ عبدالکریم صاحب مدرس ۸/جمادی الاخری ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پہلی رکعت میں قل یاپڑھے، دوسری رکعت میں انااعطینا پڑھے ترتیب واجب میں فرق آیا اُلٹاقرآن پڑھنے سے۔بیّنواتوجروا۔
الجواب
ترتیب اُلٹنے سے نماز کااعادہ واجب ہو نہ سجدہ سہو آئے۔ ہاں یہ فعل ناجائز ہے اگرقصداً کرے گنہگارہوگا ورنہ نہیں، اور اگربعد کی سورت پڑھناچاہتاتھا زبان سے اُوپر کی سورت کاکوئی حرف نکل گیا تواب اسی کوپڑھے اگرچہ خلاف ترتیب ہوگا کہ یہ اس نے قصداً نہ کیا اور اس کا حرف نکل جانے سے اس کاحق ہوگیا کہ اب اسے چھوڑنا قصداً چھوڑنا ہوگا۔ ردالمحتار میں ہے:
ترتیب السور فی القراءۃ من واجبات التلاوۃ وانما جوز للصغار تسھیلا لضرورۃ التعلیم ط التنکیس اوالفصل بالقصیرۃ انما یکرہ اذا کان عن قصد فلو سھوا فلا، شرح المنیۃ، واذا انتفت الکراھۃ فاعرضہ عن التی شرع فیھا لاینبغی، وفی الخلاصۃ، افتتح سورۃ و قصدہ سورۃ اخری فلما قرء اٰیۃ واٰیتین اراد ان یترک تلک السورۃو یفتتح التی ارادھا یکرہ الخ وفی الفتح ولوکان ای المقرؤ حرفا واحدا۱؎الخ
قرأت میں سورتوں کے درمیان ترتیب رکھنا واجب ہے، چھوٹے بچوں کے لئے ضرورت تعلیم کے پیش نظر جائز ہے تاکہ آسانی ہو ط، خلاف ترتیب یاتھوڑا فاصلہ اس وقت مکروہ ہے جب دانستہ ہو اگربھول کر ہوتو مکروہ نہیں شرح المنیہ، اور جب کراہت ختم ہو تو مشروع سے اعراض مناسب نہیں، خلاصہ میں ہے کسی ایک نے سورت شروع کی اور دوسری کاارادہ کیاجب ایک آیت یادو آیات تلاوت کیں تو اس نے چاہا کہ یہ سورت چھوڑدے اور وہ شروع کرے جس کاارادہ تھا تو یہ مکروہ ہے الخ اور فتح میں ہے کہ اگرچہ پڑھاہوا محض ایک حرف ہو الخ
(۱؎ ردالمحتار فصل ویجہرالامام قبیل باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۴۰۴)
فی ردالمحتار انھم قالوا یجب الترتیب فی سورۃ القراٰن فلوقرأمنکوسا اثم لکن لایلزمہ سجود السھو لان ذلک من واجبات القرائۃ لامن واجبات الصلٰوۃ کمافی البحر باب السھو۲؎الخ شامی اقول وبہ یظھر مافی افتاء الشیخ الملانظام الدین والد ملک العلماء بحرالعلوم رحمہما اﷲ تعالٰی بایجاب السجود فیہ بناءً علی وجوبہ فانہ خلاف المنقول المنصوص علیہ فی کتب المذھب وقدکان یتوقف فیہ المولی بحرالعلوم قدس سرہ،، واﷲ تعالٰی اعلم۔
ردالمحتار میں ہے کہ فقہاءنے فرمایا ہے کہ قرآنی سورتوں میں ترتیب ضروری ہے اگرکسی نے خلاف ترتیب پڑھا تووہ گنہگارہوگا لیکن اس پرسجدہ سہولازم نہیں ہوتا کیونکہ یہ واجبات قرأت میں سے ہے نماز کے واجبات میں سے نہیں جیسا کہ بحرکے باب السہومیں ہے الخ شامی، اقول (میں کہتاہوں) اسی کے ساتھ یہ بھی واضح ہوگیا کہ شیخ ملانظام الدین والدگرامی ملک العلماء بحرالعلوم رحمہمااﷲ تعالٰی نے جوفتوٰی دیا کہ اس صورت میں سجدئہ سہولازم ہے کیونکہ یہ عمل واجب ہے یہ کتب مذہب میں منقول نصوص کے خلاف ہے اور اس میں بحرالعلوم قدس سرہ، نے توقف سے کام لیا ہے، واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۳۳۷)
مسئلہ ۱۰۰۵: ۲۱ذیقعد ۱۳۲۲ھ
اگرکسی شخص نے صبح کی نماز کے وقت جلدی میں غلطی سے یااندھیرے میں اُلٹی دلائی اوڑھ کرنمازپڑھی تو وہ نماز مکروہ تحریمی یاواجب الاعادہ ہوگی یافاسد وغیرہ؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب
واجب الاعادہ اورمکروہ تحریمی ایک چیزہے، کپڑا اُلٹا پہننا اوڑھنا خلاف معتاد میں داخل ہے اور خلاف معتاد جس طرح کپڑا پہن یا اوڑھ کر بازارمیں یا اکابر کے پاس نہ جاسکے ضرورمکروہ ہے کہ دربارعزت احق بادب وتعظیم ہے۔
واصلہ کراھۃ الصلٰوۃ فی ثیاب مھنۃ قال فی الدر وکرہ صلٰوتہ فی ثیاب مھنۃ۱؎ قال الشامی وفسرھا فی شرح الوقایۃ بما یلبسہ فی بیتہ ولایذھب بہ الی الاکابر ؎۲۔
اصل یہ ہے کہ کام ومشقت کے لباس میں نمازمکروہ ہے درمیں ہے نمازی کاکام کے کپڑوں میں نمازاداکرنامکروہ ہے، شامی نے فرمایا اور اس کی تفسیرشرح وقایہ میں ہے وہ کپڑ جوآدمی گھرپہنتاہے مگران کے ساتھ اکابرکے پاس نہیں جاتا (ت)
فان کراھۃ التحریم لابدلھا من نھی غیرمصروف عن الظاھر کماقال ش فی ثیاب المھنۃ والظاھر ان الکراھۃ تنزیھیۃ۳؎۔
کیونکہ کراہت تحریمی کے لئے ایسی نہی کاہونا ضروری ہے جوظاہر سے مؤول نہ ہو، جیسا کہ علامہ شامی نے کام کے کپڑوں کے بارے میں کہا کہ ظاہرکراہت تنزیہی ہے۔(ت)
اور اسے سدل میں کہ مکروہ تحریمی اور اس سے نہی وارد، دخل نہیں کہ وہ برلبس خلاف معتاد نہیں بلکہ کپڑا اوپر سے اس طرح سے ڈال لینا کہ دونوں جانبین لٹکتی رہیں مثلاً چادر سریاکندھوں پرڈال لی اور دوبالا نہ مارا یاانگرکھاکندھے پرڈال لیا اور آستین میں ہاتھ نہ ڈالا۴؎
اور اگرآستینوں میں ہاتھ ڈالے اور بندنہ باندھے تویہ بھی سدل نہ رہا اگرچہ خلاف معتادضرورہے، ہاں امام ابوجعفرہندوانی نے اس صورت کو مشابہ سدل ٹھہراکر فرمایا کہ براکیا امام ابن امیرالحاج نے حلیہ میں ایک قید اور بڑھائی کہ اگرنیچے کرتا نہ ہو ورنہ حرج نہیں، اور اقرب یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں حرج ہے
قال فی ردالمحتار قال فی الخزائن بل ذکر ابوجعفر انہ لوادخل یدیہ فی کمیہ ولم یشد وسطہ اولم یزرازراہ فھو مسیئ لانہ یشبہ السدل اھ قلت لکن قال فی الحلیہ فیہ نظر ظاھر بعد ان یکون تحتہ قمیص اونحوہ ممایستر البدن۱؎اھ
ردالمحتار میںہے کہ خزائن میں ہے بلکہ ابوجعفر نے ذکر کیا کہ اگرنمازی نے اپنے بازؤوں کوآستینوں میں داخل کردیا اور درمیان کو نہیں باندھا یا اس نے اس کے بٹن بند نہ کئے توخطاکار ہے کیونکہ سدل کی طرح ہے اھ میں کہتاہوں حلیہ میں ہے کہ اس میں واضح اعتراض ہے جبکہ اس کے نیچے قمیص یاایساکپڑا ہوجوبدن ڈھانپ دےاھ
اقول وفیہ نظر ظاہر فان انکشاف شیء من صدر الرجل و بطنہ لا اساء ۃ فیہ اذا کان عاتقاہ مستورین وانما نھی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عما اذا صلی فی ثوب واحد ولیس علی عاتقہ منہ شیئ۲؎ ولاشک ان ارسال اطراف مثل الشایہ من دون ان یزر ازارھا انما یشبہ السدل بنفس ھیأۃ ولامدخل فیہ لوجود القمیص تحتہ وعدمہ لما ان السدل سدل وان کان فوق القمیص ورأیتنی کتبت علی ھامشہ مانصہ اقول النظر ان کان ففی کراھۃ التحریم اماالتنزیھی فلاشک فی ثبوتہ۳؎۔
اقول (میں کہتاہوں) اس میں نظر ہے کیونکہ انسان کے سینے اور بطن کے کسی حصے کاظاہرہونا اس میں کوئی برائی نہیں جبکہ اس کے کاندھے مستورہوں اور رسالت مآب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اس صورت میں ایک کپڑے میں نماز سے منع فرمایا ہے جبکہ اس کے کاندھے پر کوئی شئی نہ ہو اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اطراف کاکھلاہونا بٹن باندھنے کے بغیرسدل کے مشابہ ہے اس میں نیچے قمیص اور عدم قمیص کاکوئی دخل نہیں کیونکہ سدل، سدل ہی ہوتاہے اگرچہ قمیص پر ہو اور مجھے یادآرہاہے کہ میں نے اس کے حاشیہ پرلکھا ہے اقول نظر تب ہے کہ اگرکراہت تحریمی ہو اور اگرتنزیہی ہو تو اس کے ثبوت میں کوئی شک نہیں۔(ت)
(۲؎ صحیح بخاری باب اذا صلی فی ثوب واحد الخ مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ /۵۲)
(۳؎ جدالممتار علی ردالمحتار مکروہات الصلٰوۃ المجمع الاسلامی مبارک پور انڈیا ۱ /۳۰۴)
ہاں اگرقصداً ایساکیا یوں کہ نماز کومحل بے پرواہی جانا اور اس کا ادب واجلال ہلکامانا توکراہت و حرمت درکنار معاذاﷲ اسلام ہی نہ رہے گا۔ کماقالوا فی الصلٰوۃ حاسرالرأس اذاکان للاستہانۃ (جیسا کہ علماء نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جوسستی وکاہلی کی وجہ سے ننگے سرنمازاداکرتاہے۔ت) والعیاذباﷲ واﷲ تعالٰی اعلم۔