| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ) |
درردالمحتار ست صرح محمد فی الجامع الصغیر بالکراھۃ ولم یفصل فاختلف المشائخ فی سببھا فقیل کونہ یصیر ممتازاعنھم فی المکان المحراب فی معنی بیت اٰخر وذلک صنیع اھل الکتب واقتصر علیہ فی الھدایۃ و اختارہ الامام السرخسی و قال انہ الاوجہ وقیل اشتباہ حالہ علی من فی یمینہ ویسارہ فعلی الاول یکرہ مطلقا وعلی الثانی لایکرہ عندعدم الاشتباہ وایدالثانی فی الفتح بان امتیاز الامام فی المکان مطلوب وتقدمہ واجب وغایۃ اتفاق الملتین فی ذلک وارتضاہ فی الحلیۃ وایدہ لکن نازعہ فی البحر بان مقتضی ظاھر الروایۃ الکراھۃ مطلقا بان امتیاز الامام المطلوب حاصل بتقدمہ بلاوقوف فی مکان اٰخر ولھذا قال فی الولوالجیۃ وغیرھا اذا لم یضق المسجد بمن خلف الامام لاینبغی لہ ذلک لانہ یشبہ تباین المکانین۱ھ
ردالمحتار میں ہے کہ امام محمد نے جامع صغیرمیں اس محراب میں ہونے پرکراہت کاحکم لگایا ہے اور کوئی تفصیل نہیں دی اس لئے سبب کے بیان میں مشائخ کااختلاف ہوا، ایک یہ ہے کہ امام ایسی صورت میں ممتاز ہوکریوں ہوجاتاہے جیسے وہ کسی دوسرے کمرے میں ہے اور یہ اہل کتاب کا طریقہ ہے۔ ہدایہ میں اسی پراکتفا کیاگیاہے۔ امام سرخسی نے اسے ہی پسندکیا اور کہا یہی مختار ہے۔ بعض نے کہا کہ امام اپنے دائیں بائیں مقتدیوں پرمشتبہ ہوجاتاہے، پہلی صورت میں ہرحال میں کراہت ہے اور دوسری صورت میں جب اشتباہ نہ ہوکراہت نہ ہوگی۔ فتح میں یہ کہتے ہوئے دوسری کی تائید کی اور کہا کہ امام کاممتاز مقام پر کھڑاہونا تومطلوب ہے اور اس کامقدم ہونا واجب ہے اوراس میں دونوں فریق متفق ہیں اسے حلیہ میں پسندکیاگیا اور اس کی تائید کی لیکن بحر میں یہ کہتے ہوئے اس سے اختلاف کیا کہ ظاہرروایت کاتقاضا یہی ہے کہ ہرحال میں کراہت ہو اور یہ کہ امام کامطلوبہ امتیازآگے ہونے سے حاصل ہوجاتاہے یہ اس کے دوسرے مقام پرکھڑے ہونے پرموقوف نہیں ہے اسی لئے ولوالجیہ وغیرہ میں ہے کہ جب مقتدیوں پرمسجد تنگ نہ ہو توامام کے لئے ایساکرنا جائز نہیں کیونکہ دونوں مقامات کاجداہونالازم آتاہے۱ھ
یعنی وحقیقۃ اختلاف المکان تمنع الجواز فشبھۃ الاختلاف توجب الکراھۃ والمحراب وان کان من المسجد فصورتہ ھیأتہ اقتضت شبھۃ الاختلاف۱ھ ملخصا قلت ای لان المحراب انما نبی علامۃ لمحل قیام الامام لیکون قیامہ وسط الصف کماھوالسنۃ لالان یقوم فی داخلہ فھو وان کان من بقاع المسجد لکن اشبہ مکانا اٰخر فاورث الکراھۃ ولایخفی حسن ھذا الکلام فافھم لکن تقدم ان التشبہ انما یکرہ فی المذموم وفیما قصد بہ التشبہ لامطلقا ولعل ھذا من المذموم تامل۱؎۱ھ کلام الشامی
اور حقیقۃ جگہ کااختلاف جوازنمازسے مانع ہے اور جہاں اختلاف کاشبہ ہو وہاں کراہت ہوگی اور اگرمحراب اگرچہ مسجد میں ہی ہے لیکن اس صورت و ہیئت سے شبہ اختلاف پیداہوتاہے۱ھ تلخیصاً قلت(میں(شامی) کہتاہوں) محراب کا مقصد یہ ہے کہ وہ قیام امام کی علامت ہوتاکہ اس کاقیام صف کے درمیان ہو یہ مقصد نہیں کہ امام محراب کے اندرکھڑا ہو۔ محراب اگرچہ مسجد کاہی حصہ ہے لیکن ایک دوسرے مقام کے مشابہ ہے لہٰذا اس سے کراہت ہوگی۔ اس کلام کاحسن واضح ہے اسے اچھی طرح محفوظ کرو، لیکن پیچھے گزرا کہ تشبہ بری بات میں مکروہ ہوتاہے اور اس صورت میں جب تشبہ مقصد ہوہرحال میں مکروہ نہیں اور ممکن ہے یہ مذموم میں سے ہو۔ (کلام شامی ختم ہوا)
(۱؎ ردالمحتار باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۴۷۷)
اقول ولامحل للترجی بعد ماافادنا قلاعن الولوالجیۃ وغیرھا انہ یشبہ تباین المکانین وحقیقۃ تفسد فشبھتہ تکرہ بل لوعد ھذا دلیلا براسہ لکفی وشفی کما لایخفی پیداست کہ ایں شبہہ وتشبہ و اشتباہ ہمہ ہاہمیں درمحراب صوری ست نہ حقیقی اما قیام بمحاذات محراب صوری آنچناں کہ سجدہ درطاق افتد پس فی نفسہ نہ کراہتے دارد لعدم الوجوہ المذکورۃ من الشبھۃ و التشبہ والاشتباہ فیہ نہ فضیلتے لما قدمنا انہ لم یکن فی اصل السنۃ محراب صوری ولامحاذاتہ پس نظربذات خودش نباشد جزمباح ازینجاست کہ ایں راسنت نگفتہ اند و چوں مکروہ ہم نبود دفع توہم را لاباس آورند آرے اگرقیام بمحل محرابِ حقیقی موافق آید کماھوالغالب لاجرم سنت باشد نہ ازاں روکہ محاذات محراب صوری ست بل ازاں جہت کہ موافات محراب حقیقی ست ازیں تحقیق انیق بحمداﷲ روشن شد کہ اگرامام درمسجد صیفی بمحراب حقیقی ایستد یقینا اصابت سنت یافتہ باشد وہیچ کراہتے برونبود گومحراب صوری را محاذی ہم مباش چنانکہ صیفی در عرض ازیدازشتوی باشد آنگاہ باید کہ از محاذاتِ طاق بجانب زیادت میل کند وبوسط صیفی بایستد بمحراب حقیقی قیام کردہ باشد وبدستور درشتوی نیزاگرطاق درحاق وسط نبود امام راطاق گزاشتہ بوسط شتوی عدول باید کہ محراب حقیقی بدست آید دروالایت افغانستان ازعلمائے زمان کہ قیام امام رادرمسجد صیفی مکروہ گویند دلیل برآں ازہماں مسئلہ سنیت قیام فی المحراب چون درسوالیکہ نزدفقیرازان ولایت آمدہ بودوانمود ناشی ازاشتباہ معنی محراب است عزیزان او را محراب صوری گماشتند وازحقیقی غفلت کردہ اندودانستہ شد کہ قیام درصوری سنت نیست بلکہ بمعنی حقیقتش خودمکروہ ہے ست وانکہ سنت است بہ مسجد صیفی نیزنقدوقت ست پس کراہت ازکجا امام ابن الہمام درفتح ایں معنی رارنگ ایضاح داد کہ فرمود لولم تبن (ای المحاریب) کانت السنۃ ان یتقدم فی محاذاۃ ذلک المکان لانہ یحاذی وسط الصف وھوالمطلوب اذقیامہ فی غیرمحاذاتہ مکروہ۱؎ ۱ھ
اقول (میں کہتاہوں) یہ ''شاید'' کہنے کامحل نہیں کیونکہ اس نے ولوالجیہ وغیرہ سے نقل کردیا ہے کہ یہ عمل دوجگہوں کے متخالف ہونے کے مشابہ ہے اور اگرتباین حقیقۃً ہو تو اس سے نمازفاسد ہوجاتی ہے اور اگرتباین کاتشابہ ہوتونماز میں کراہت آئے گی بلکہ اگراسےمستقل دلیل بنایاجائے تو یہ کافی وشافی ہے جیسا کہ واضح اور یہ ظاہر بات ہے کہ یہ شبہ، تشبّہ اور اشتباہ وغیرہ تمام صورتیں محراب صوری میں ہیں، نہ کہ حقیقی میں، محراب صوری کی محاذات میں اس طرح کھڑاہونا کہ سجدہ محراب میں ہوفی نفسہٖ مکروہ نہیں کیونکہ وجوہ مذکورہ یعنی شبہ، تشبّہ اور اشتباہ یہاں نہیں ہیں اور نہ اس میں کوئی فضیلت ہے کیونکہ ہم نے پہلے یہ بیان کردیاہے کہ اصل سنت میں نہ محراب صوری ہے اور نہ اس کی محاذات پس وہ اپنی ذات کے حوالے سے سوائے مباح کے کچھ نہیں، یہی وجہ ہے کہ اسے سنت نہیں کہاگیا، چونکہ مکروہ بھی نہیں تو علماء دفع توہم کے لئے لفظ ''لاباس'' لے آئے ہیں، اگر اس کی محاذات کاقیام محراب حقیقی کے موافق ہوجاتاہے جیسا کہ اکثرہوتا ہے تو اب یہ سنت ہوگا مگر اس کی وجہ محراب ِ صوری کے محاذی ہونانہیں بلکہ محراب حقیقی کے موافق ہونا ہے، بحمداﷲ اس شفاف تحقیق سے واضح ہوگیاکہ اگرامام مسجد صیفی میں محراب حقیقی میں کھڑاہوتاہے تووہ یقینا سنت کوپانے والاہے اور اس پر ہرگزکوئی کراہت نہ ہوگی اگرچہ وہ محراب صوری کے محاذی نہ ہو، کیونکہ جب مسجد صیفی عرض میں شتوی سے زیادہ ہوتو اس وقت محراب کی محاذات میں جانب زیادت کی طرف ہو کرصیفی کے درمیان میں کھڑا ہوناچاہئے تاکہ محراب حقیقی میں قیام ہوجائے اسی طرح شتوی میں بھی اگرطاق وسط میں نہیں توامام طاق چھوڑ کر شتوی کے وسط میں ہوجائے تاکہ محراب حقیقی کوپایاجاسکے، افغانستان کے علاقے میں اس وقت کے علماء مسجد صیفی میں امام کے قیام کو مکروہ قراردیتے ہوئے یہی دلیل دیتے ہیں کہ محراب میں کھڑا ہوناسنت ہے کیونکہ اس ملک سے فقیر کے پاس جوسوال آیاہے اس سے واضح ہوتاہے کہ انہیں معنی محراب میں اشتباہ ہے اور انہوں نے محراب صوری مقررکئے ہیں مگرمحراب ِ حقیقی سے غافل ہوگئے ہیں اور معلوم ہوا کہ صوری میں قیام سنت نہیں بلکہ اسے حقیقی سمجھنا بذاتِ خود مکروہ ہے اور جوسنت ہے وہ صیفی مسجد میں بھی درست ہے،پس یہاں کراہت کہاں! امام ابن الہمام نے فتح القدیر میں اسے واضح کرتے ہوئے کہا کہ اگروہ بنے ہوئے نہیں (یعنی محاریب) توسنت یہ ہے کہ اس جگہ کے محاذی کھڑاہواجائے کیونکہ وہ وسط صف کے محاذی ہے اور یہی مطلوب ہے کیونکہ محاذات کے علاوہ امام کاقیام مکروہ ہے۱ھ
(۱؎ فتح القدیر فصل یکرہ المصلی مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۶۰)
واگرچناں باشد کہ صیفی مطلقاً ازصلاحیت اقامت جماعت بدرودزیراکہ آنجا محراب صوری نتواں یافت ومجرد محاذات اگرچہ ازدوربسندہ نیست کما علمت وقداعترفوا بہ والالم یحکموا بکراھۃ قیام الامام فی الصیفی مطلقا وایں برخلاف عمل ونیت جملہ امت ست مسجد رابردودرجہ سرما وگرما ازہمیں روبخش میکنند کہ بہرموسم اقامت جماعت بہ مسجد نتوانند اگرایں پارہ از قیام امام معطل ماند لاجرم جماعت رانیز لازم باشد ہم درپارہ شتوی صفہا بستن کہ انفراد امام بدرجہ خود مکروہ ست پس ازصیفی بہرہ نیابند مگربعض قوم دربعض احیان آنگاہ کہ شتوی ہمہ آوردہ شودوایں یقینا مخالف نیت وقصد جملہ بانیان وعمل وتوارث ِ عامہ مومنان ست بازدرہندیہ وبزازیہ وخلاصہ وظہیریہ وخزانۃ المفتین وغیرہا کتب معتمدہ ست قوم جلوس فی المسجد الداخل وقوم فی المسجد الخارج اقام المؤذن فقام امام من اھل الداخل فامھم قال من سبق بالشروع فھو والمقتدون بہ لاکراھۃ فی حقھم۱؎ چرابلائے نفی جنس مطلقاً سلب مستغرق نمایندچرا نگویند کہ امام مسجد صیفی ومقتدیانش بہرحال درگردکراہت اندزیراکہ قیام فی المحراب راترک گفتند بالجملہ ایں خطائے فاحش ست کہ ولایتیان دریں جزوزمان احداث کردہ اند ازیں باخبربایدبود۔
اوراگر ایسے ہو کہ صیفی اقامت جماعت کی صلاحیت نہ رکھتی کیونکہ وہاں محراب صوری نہیں اور صرف محاذات اگرچہ دور سے ہو محراب کی نشانی نہیں ہے جیسا کہ تونے سمجھا اور جیسا کہ انہوں نے اس کا اعتراف کیاہے ورنہ وہ صیفی میں مطلقاً قیام امام کو مکروہ قرارنہ دیتے حالانکہ یہ بات تمام امت کے عمل کے خلاف ہے کیونکہ مسجد کے دودرجے موسم گرما وسرما کے لحاظ سے کئے جاتے ہیں کہ ہرموسم میں ایک جگہ جماعت نہیں کرائی جاسکتی تو اگریہ حصہ قیام امام سے معطل ہو تولازم ہوگا کہ جماعت بھی شتوی حصے میں صفیں بنائے کیونکہ امام کاتنہا ہونابذات خود مکروہ ہے تواس طرح صیفی حصہ سے فائدہ صرف بعض اوقات بعض لوگ اس وقت ہی اٹھاسکیں گے جب شتوی حصہ پُرہوجائے گا، اور یہ بات تمام بانیان مساجد کی نیت اور عمل اور توارث امت کے خلاف ہے ہندیہ، بزازیہ، خلاصہ، ظہیریہ، خزانۃ المفتین وغیرہ کتب معتمدہ میں ہے کہ کچھ لوگ مسجد کے اندر اور کچھ مسجد کے صحن میں تھے مؤذن نے اذان کہی اوراہل خارج میں سے امام نے جماعت کرائی اسی طرح اندروالوں میں سے امام نے جماعت کرائی تو جس نے پہل کردی وہ امام ہوگا اور تمام لوگ اس کے مقتدی ہوں گے ان کے حق میں کوئی کراہت نہ ہوگی کیونکہ یہاں لانفی جنس انہوں نے استعمال کیاہے جومطلق سلب کااحاطہ کرتاہے انہوں نے یہ کیوں نہ کہا کہ مسجد صیفی کاامام، اس کے مقتدی بہرحال کراہت میں مبتلا ہوں گے کیونکہ انہوں نے محراب میں قیام کوترک کیاہے، حاصل کلام یہ کہ یہ بہت بڑی غلطی ہے جو اس دور میں ان علاقوں میں پیدہوئی ہے اس سے باخبرہونا چاہئے۔
(۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الخامس فی الامامۃ والاقتداء مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ /۱۴۵)