| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ) |
این ست معظم عبارات ائمہ فن کہ ازہمان نفس موضع نشان می دہدہ ازصورت طاق وچسپاں ازونشان دہند کہ اوخودحادث ست درمساجد قدیمہ تاسال ہشتاد وہشت ہجری نامے ازاں نبود افضل المساجد مسجد الحرام ہنوزازان خالیست ودرمسجد اکرم سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نیز نہ بزمان اقدس بودنہ بعہد خلفائے راشدین نہ بعہد امیرمعاویہ وعبداﷲ ابن زبیررضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین بلکہ ولیدبن عبدالملک مروانی زمانہ امارتِ خوداحداث کردہ است و مانا کہ حامل برآں غیرزینت اعلام مقام امام بعلامتے ظاہرہ متبینہ باشد کہ درتوسط صف خاصہ بمساجد کبارحاجت بنظروآزمودن نیفتدوبشب نیزبے روشنی مدرک شودوبرائے مقتدیاں بسجدہ امام درطاق فراخی فراغے ہم نماید چوں کارمشتمل مصالح بودرواج گرفت وزاں بازدرعامہ بلاداسلام معہود شد پس اطلاق محراب برآں نام مُعَیّن برائے مُعَیِّن ست اعنی تسمیۃ الدال باسم المدلول سیدسمہودی عــــہ قدس سرہ درخلاصہ الوفا در فصل ہشتم باب چہارم فرماید یحٰیی عن عبدالمھیمن بن عباس عن ابیہ مات عثمٰن ولیس فی المسجد شرفات ولامحراب فاول من احدث المحراب والشرفات عمربن عبدالعزیز۱؎ ہمدر فصل دوم ازاں فرمودِ لم یکن للمسجد محراب فی عھدہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ولافی عھدالخلفاء بعدہ حتی اتخذعمربن عبدالعزیزفی امارۃ الولید۲؎ امام عسقلانی درفتح الباری شرح صحیح بخاری آورد قال الکرمانی من حیث انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یقوم بجنب المنبرای ولم یکن لمسجدہ محراب۳؎ امام عینی درعمدۃ القاری شرح بخاری فرمود انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یقوم بجنب المنبر لانہ لم یکن لمسجدہ محراب۱؎
محراب کے بارے میں یہ ہیں تمام ائمہ فن کی عبارات جن سے واضح ہورہاہے کہ اس سے مراد جگہ ہے طاق وغیرہ کی صورت کانام نہیں بلکہ اٹھاسی۸۸ ہجری سے پہلے مساجد قدیمہ میں اس کا وجود نہ ہوتاتھا سب سے افضل مسجد مسجدحرام اس سے اب تک خالی ہے اور نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ظاہری حیات، خلفاء راشدین، امیرمعاویہ اور عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے دور میں مسجدنبوی میں صورت محراب نہیں تھی بلکہ ولیدبن عبدالملک مروانی نے اپنے دورامارت میں محراب بنایا اور یہ تسلیم ہے کہ زینت کے علاوہ امام کی جگہ پرعلامت کے طورپر محراب کاہونا بہترہے خصوصا بڑی مساجد میں تاکہ ہردفعہ غوروفکرنہ کرناپڑے اور رات کو بغیرروشنی کے امام کو پایاجاسکے اور امام کے محراب میں سجدہ کی وجہ سے مقتدیوں کووسعت بھی مل جاتی ہے توجب محراب میں یہ مصالح تھے تو اس کارواج ہوگیا اور تمام بلاد اسلامیہ میں یہ معروف ہواتو یہ یہاں مدلول کانام دال کودیاگیاہے۔ سیّدسمہودی قدس سرہ، نےخلاصۃ الوفا کے باب چہارم کی آٹھویں فصل میں فرمایا یحیٰی نے عبدالمہیمن بن عباس انہوں نے اپنے والد سے بیان کیاکہ حضرت عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ شہید ہوئے تومسجد میں کنگرے اور محراب نہ تھے سب سے پہلے محراب اور کنگرے بنانے والے حضرت عمربن عبدالعزیز رضی اﷲ تعالٰی عنہ ہیں، اسی کی دوسری فصل میں ہے کہ رسالت مآب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ظاہری حیات اور خلفائے راشدین کے دور میں محراب نہ تھا حتی کہ امارتِ ولیدبن عبدالملک میں عمربن عبدالعزیز نے بنوایا۔ امام عسقلانی فتح الباری شرح البخاری میں فرماتے ہیں کہ امام کرمانی نے لکھا ہے کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم منبر کی ایک جانب کھڑے ہوتے یعنی اس وقت مسجد میں محراب نہ تھا۔ امام عینی نے عمدۃ القاری شرح البخاری میں فرمایا حضورسرورعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم منبر کے پہلو میں قیام فرماتے کیونکہ اس وقت مسجد میں محراب نہ تھا۔
(۱؎ وفاء الوفاء الفصل السابع عشر مطبوعہ احیاء التراث بیروت ۲ /۵۲۵) (۲؎ وفاء ا لوفاء محراب المسجد النبوی وقی صنع مطبوعہ احیاء التراث بیروت ۱ /۳۷۰) (۳؎ فتح الباری شرح بخاری قدرکم ینبغی ان یکون بین المصلی والسترۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۲ /۱۲۱) ( ۱؎ عمدۃ القاری شرح بخاری قدرکم ینبغی ان یکون بین المصلی والسترۃ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۴ /۲۸۰)
عـــہ بتصریحات ھؤلاء الکبراء رحمھم اﷲتعالٰی ظھران ماوقع فی الفتح مسألۃ القیام فی الطاق انہ نبی فی المساجد المحاریب من لدن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۴؎۱ھ سہو فلیتنبہ ۱۲منہ غفرلہ(م)
اکابررحمہم اﷲ تعالٰی کی ان تصریحات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ فتح القدیر میں امام کے محراب میں کھڑاہونے کے بیان میں جوکہاگیاکہ یہ محراب مساجد میں رسالت مآب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ظاہری حیات سے ہیں سہووبھول ہے۱ھ اس پرمتنبہ رہناچاہئے ۱۲منہ غفرلہ (ت)
(۴؎ فتح القدیر باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۶۰)
علامہ شیخ محقق محدث دہلوی قدس سرہ العزیز در جزب القلوب شریف فرماید درزمان آں سرور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علامت محراب کہ الآن درمساجد متعارف ست نبودابتدائے آں ازوقت عمربن عبدالعزیزست دروقتیکہ امیرمدینہ منورہ بودازجانب ولیدبن عبدالملک اموی۲؎۱ھ
علامہ شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ العزیز جذب القلوب میں فرماتے ہیں یہ محراب جوآج متعارف ہے رسالت مآب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ظاہری حیات میں نہ تھا اس کی ابتداء ولیدبن عبدالملک اُموی کے دور میں عمربن عبدالعزیز نے کی ،جبکہ وہ مدینہ طیبہ کے گورنر تھے۔
(۲؎ جذب القلوب الٰی دیارالمحبوب باب ششم دربیان عمارت مسجد شریف نبوی مطبوعہ مکتبہ نعیمیہ چوک دارلگراں لاہور ص۷۳)
ہمدرآن ست طول مسجد درزمان ولیددوئیست ذراع بودوعرض آں یکصدوشصت ہفت ذراع ووی درتکلف وتصنّع عمارت باقصی الغایۃ کوشیدوعلامت محراب کہ الآن درمساجد متعارف ست اوساخت وپیش ازاں نبود۳؎۱ھ مختصراً
اوراسی میں ہے کہ ولید مسجد کاطول چالیس۴۰ہاتھ اور عرض ایک ۱۶۷سوسڑسٹھ ہاتھ تھا اور عمارت بنانے میں تکلف وتصنع سے انہوں نے کام لیا اور علامت محراب جوآج کل مساجد میں متعارف ہے اس دور میں نہ تھا۱ھ المختصر
(۳؎ جذب القلوب الٰی دیار المحبوب باب ہفتم دربیان تغیرات وزیادات کہ بعد ازوصلت الخ مطبوعہ مکتبہ نعیمیہ چوک دارلگراں لاہورص۸۸)
ازیں تقریر منیر مستنیر شد کہ ہیچ مسجد شتوی خواہ صیفی تاآنکہ بقعہ سادہ موقوفہ للصلوٰۃ نیزازمحراب حقیقی تہی نتواں بودوہمون ست مقام امام متوارث اززمان امام الانام علیہ وعلٰی آلہٖ افضل الصلوٰۃ والسلام پس جائیکہ قیام امام فی المحراب راسنت گفتہ اند مراد ہمین ست ونہ قیام درمحراب صوری یابازآئے آن کہ اوخوددرزمان سنت بودوجائیکہ مکروہ گفتند مراددرمحراب صوری استادن ست بوجہیکہ پائے اندرقضائے اوباشد بدلیل و آں اشتباہ حال امام ست برقولے وتشبّہ بہ یہود وشبہ اختلاف مکان برقول اصح ووجہ اطلاق محمد ۔
اس پرنورتقریر سے یہ بات آشکارا ہوگئی کہ کوئی بھی مسجد خواہ شتوی ہو یا صیفی جب سے وہ وقف ہوئی ہے وہ محراب حقیقی سے خالی نہیں ہوتی اور یہی وہ مقام ہے جو امام الانام علیہ وعلٰی آلہٖ افضل الصلوٰۃ والسلام کی ظاہری حیات سے امام کی جگہ بنتارہالہٰذا جس جگہ بھی علماء نے امام کے محراب میں کھڑے ہونے کوسنت کہاہے وہاں یہی محراب حقیقی مرادہے نہ کہ محراب صوری میں قیام مراد ہے یا اس کے برابرجو اس وقت بھی سنت تھا، اور جہاں علماء نے محراب میں امام کے قیام کو مکروہ قراردیاہے وہاں محراب صوری میں کھڑا ہونا ہے اس طریقہ پر کہ اس کے پاؤں محراب کے اندرہوں، اس پردلیل،ایک قول کے مطابق امام کے حال کامشتبہ ہونا اور ایک قول پریہود کے ساتھ تشابہ، لیکن اصح قول کے مطابق مکان کامختلف ہوجاناہے اور ایک وجہ امام محمد کے قول کااطلاق ہے۔
اقول وفی تعلیل الاشتباہ نظرواشتباہ فانہ لایحصل غالبا الااذازداد طول الصف وھو یحصل بدون القیام فی المحراب بل مع عدم المحراب والبناء اصلا وایضا ان اریداطلاع الکل بنظرنفسہ فان النظرلہ حدلایتجاوزہ فکمایعجزعندقیام الامام فی المحراب لبعد مایعجزایضا بدونہ علی بعد اخر وان اکتفی بالاطلاع ولوبواسطۃ من معہ فی الصلٰوۃ فلامعنی للاشتباہ بالقیام فی المحراب ولاشک ان الاخیرھوالمعتبر والالم یکن لکل من بعد الصف الاول بدمن الاشتباہ ولالمن فی طرفی الاول علی بعد یمنع النظر الابالتفات عن القبلۃ
اقول مشتبہ ہونے کی علت میں نظرواشتباہ ہے کیونکہ یہ اکثرطور پرحاصل نہیں ہوتا مگر اس صورت میں جب صف زیادہ لمبی ہو اور یہ اشتباہ قیام فی المحراب کے بغیر بھی حاصل ہوجاتاہے بلکہ اس وقت بھی جب محراب اور عمارت نہ ہو اور یہ بھی معاملہ ہے کہ کیا تمام مقتدیوں کاامام کو اپنی اپنی آنکھوں سے دیکھنا ضروری ہے کیونکہ نظرکی ایک حد ہے جس سے متجاوزنہیں ہوتی، تو جس طرح محراب کے اندرکھڑے ہونے پرامام کے بُعد کی وجہ سے وہ نظر نہیں آتا اس طرح اس کے بغیر بھی بعد کی وجہ سے ممکن ہے کہ وہ نظرنہ آئے اور اگرمحض اطلاع کافی ہے خواہ وہ بالواسطہ کسی مقتدی کے ذریعے ہو تومحراب میں کھڑے ہونے سے اشتباہ کاپیداہونا کوئی معنی نہیں رکھتا، اور بلاشبہ آخری بات (وجہ) ہی معتبرہے ورنہ ہروہ شخص جوصف اول کے بعد والی صف میں ہو اسے اشتباہ کے بغیر کوئی چارہ نہیں، اسی طرح اس کوبھی جو صف اول کے اطراف میں اتنا دور کھڑا ہو کہ نظر سے دیکھ نہ پائے۔ اشتباہ کودور کرنے کے لئے ان کو اپنے قبلہ سے انحراف ضروری ہوگا۔