وتعین ایں موضع رابطاق معروف بلکہ بہ ہیچ بناہرگزنیازنیست تاآنکہ اگرمسجد ساحتے سادہ باشد ایں موضع بتعیین وتحدید اوخودمتعین می شود درزبان عرب نیز معنی محراب باصورت طاق جفت نیست عرباں ہرمکان رفیع وصدرِمجلس واشرف مواضع بیت رامحراب نامند لانہ ممایتنافس فیہ ویتنازع علیہ فربما ادی الی حرب وقتال وفی الحدیث اتقوا ھذہ المذابح یعنی المحاریب۱؎ رواہ الطبرانی فی الکبیر والبیہقی فی السنن عن عبداﷲ بن عمروبن العاص رضی اﷲ تعالٰی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ،
محراب کوطاق معروف یاکسی اور تعمیر کی حاجت نہیں بلکہ اگرمسجد سادہ میدان ہو تو بھی مسجد کی حدود خودبخود متعین ہوجاتی ہیں اور عربی زبان میں محراب کااطلاق صرف طاق پرہی نہیں ہوتابلکہ ہربلند جگہ، صدرمجلس اور گھر کی اعلٰی جگہ کو محراب کہا جاتا ہےکیونکہ اس میں ایک دوسرے پررشک کرتے اور اس حصول میں جھگڑتے ہیں بسااوقات جنگ وقتال تک نوبت جاپہنچتی ہے، اور حدیث میں ہے ان مذابح یعنی محرابوں سے بچو، اسے طبرانی نے کبیر اور بیہقی نے سنن میں حضرت عبداﷲ بن عمروبن العاص رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے انہوں نے نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا،
(۱؎ السنن الکبرٰی للبیہقی باب فی کیفیۃ بناء المسجد مطبوعہ دارصادر بیروت ۲ /۴۳۹)
قال المناوی فی التیسرای تجنبوا تحری صدور المجالس یعنی التنافس فیھا۲؎
شیخ مناوی نے تیسیر میں فرمایا یعنی صدور ِ مجالس کی تلاش سے بچویعنی اس میں تنافس سے بچو،
(۲؎ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ۱۵۲ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۱۴۴)
ومحراب مسجد حسب تصریح ائمہ لغت وتفسیر ازہمیں معنی ماخوذ ست لانہ صدرالمقام ومقدمہ واشرف موضع فیہ لکونہ مقام الامام اوسط قطعۃ تلی القبلۃ لاجرم محراب رابمطلق مقام فی المسجد تفسیرکردہ انددرمجمع بحارالانوار ست دخل محرابالھم ھو الموضع العالی المشرف وصدر المجلس ایضا ومنہ محراب المسجد وھو صدرہ واشرف موضع فیہ ومنہ۳؎ ح انس کان یکرہ المحاریب ای لم یکن یحب ان یجلس فی صدرالمجلس ویترفع علی الناس درقاموس فرمود المحراب الغرفۃ وصدر البیت واکرم مواضعہ ومقام الامام من المسجد و الموضع ینفرد بہ الملک فیتباعد عن الناس۱؎
ائمہ لغت وتفسیر کی تفسیر کے مطابق مسجد کامحراب بھی اسی معنی سے ماخوذ ہے کیونکہ یہ صدرمقام اور اعلٰی جگہ ہوتی ہے اس لئے کہ امام کی جگہ قبلہ سے متصل سب سے وسط میں ہے اسی لئے محراب کی تفسیر مسجد میں مطلق مقام سے کی ہے، مجمع بحارالانوار میں ہے وہ ان کے محراب میں داخل ہوا اور وہ محراب بلندو عالی جگہ ہے، صدرمجلس کوبھی کہاجاتاہے اسی سے محراب مسجد ہے اور یہ صدر اور اعلٰی جگہ ہے،اسی پرحدیث دال ہے کہ حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ محاریب کوپسند نہ کرتے یعنی لوگوں پربلند اور صدرمجلس کے طورپربیٹھنا پسند نہ کرتے۔ قاموس میں ہے محراب الماری، صدرگھر، گھرکااعلٰی مقام،مسجد میں امام کی جگہ، اور اس جگہ کوکہتے ہیں جہاں بادشاہ تنہا بیٹھتاہو تاکہ لوگ دُور رہیں،
(۳؎ مجمع بحارالانوار باب الحاء مع الراء مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ ۱ /۲۴۹)
(۱؎ القاموس باب الباء فصل الحاء مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۵۵)
درمختار رازی منتخب صحاح ست المحراب صدرالمجلس ومنہ محراب المسجد۲؎
درصراح ست محاریب پیشگاہ ہائے مجالس ومنہ محراب المسجد۳؎ درمصباح المنیرست المحراب صدرالمجلس ویقال ھو اشرف المجالس وھوحیث یجلس الملوک والسادات و العظماء ومنہ محراب المصلی۴؎؎درتاج العروس ست المحراب الغرفۃ وموضع العالی نقلہ الھروی فی غریبیہ عن الاصمعی وقال الزجاج المحراب ارفع بیت فی الدار وارفع مکان فی المسجد وقال ابوعبیدۃ المحراب اشرف الاماکن قال ابن الانباری سمی محراب المسجد لانفراد الامام فیہ وبعدہ من القوم۵؎
وفی لسان العرب المحاریب صدورالمجالس ومنہ محراب المسجد ومنہ محاریب غمدان بالیمن والمحراب القبلۃ ومحراب المسجد ایضا صدورہ واشرف موضع فیہ والمحراب اکرم مجالس الملوک عن ابی حنیفۃ،
مختار رازی منتخب صحاح میں ہے کہ محراب صدرمجلس کو کہاجاتاہے، اور اسی سے محراب مسجد ہے۔ صراح میں ہے محاریب مجالس کی اگلی جگہ، اسی سے محراب مسجد ہے۔ مصباح المنیر میں ہے محراب مجلس کے لئے اونچی جگہ کوکہاجاتا ہے وہ اعلٰی جگہ ہے کہ وہاں بادشاہ، سادات اور بڑے لوگ بیٹھتے ہیں، اسی سے عیدگاہ کا محراب ہے۔ تاج العروس میں ہے لفظ محراب کو ہروی نے غریب میں اصمعی سے نقل کیا، اور زجاج نے کہا کہ گھر کاسب سے بلندمقام محراب کہلاتاہے اور مسجد میں بلند جگہ۔ ابوعبیدہ نے کہا محراب بزرگ جگہ ہے۔ ابن الانباری کہتے ہیں کہ محراب کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس میں امام اکیلا کھڑاہوتاہے اور لوگوں سے دورہوتاہے۔ لسان العرب میں ہے کہ محاریب سے مراد جائے صدور ہے اسی سے محراب مسجد ہے، اسی سے محراب مسجد ہے، اسی سے یمن میں غمدان کے محراب اور محراب قبلہ ہے، مسجد کا محراب بھی اس کی اعلٰی واشرف جگہ ہوتی ہے، یہ امام ابوحنیفہ سے ہے۔
(۲ الصحا ح باب الباء فصل الحاء مطبوعہ دارالعلم للملایین بیروت ۱/۸۸ )
(۳؎ الصراح باب الباء فصل الحاء مطبوعہ مجیدی کانپور ص۲۴)
(۴؎ مصباح المنیر تحت لفظ الحرب مطبوعہ منشورات دارالہجرۃ قم ایران ۱ /۱۲۸)
(۵؎ تاج العروس فصل الحاء من باب الیاء مطبوعہ احیاء التراث بیروت ۱ /۲۰۷)
وقال ابوعبیدۃ المحراب سیّد المجالس ومقدمھا واشرفھا قال وکذلک ھو من المساجد۱؎۱ھ ملخصاً ۔
ابوعبیدۃ کہتے ہیں کہ محراب مجالس کی اعلٰی واشرف جگہ ہوتی ہے اور اسی طرح مساجد کے محراب ہیں۱ھ تلخیصاً۔
(۱؎ لسان العرب فصل الحاء المہملہ مطبوعہ دارصادربیروت ۱ /۳۰۵)
معالم التنزیل میں ہے محراب سے مراد مجالس کی اعلٰی اور مقدم جگہ ہے اور مسجد میں بھی محراب کا معاملہ ایساہی ہے۔
(۲؎ معالم التنزیل علی ہامش الخازن سورہ آل عمران مطبوعہ مصطفی البابی بیروت ۱ /۳۴۲)
درانوارالتنزیل ست (المحراب) ای الغرفۃ اوالمسجد اواشرف مواضعہ ومقدمھا سمی بہ لانہ محل محاربۃ الشیطان کانھا (ای سیدتنامریم) وضعت فی اشرف موضع من بیت المقدس۳؎
انوارالتنزیل میں ہے (محراب یعنی کمرہ یامسجد یاکمرہ ومسجد کی اعلٰی و اشرف جگہ مراد ہے یہ نام رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ شیطان سے محاربہ کی جگہ ہوتی ہے گویا (سیّدہ مریم علیہا السلام) بیت المقدس کی اعلٰی جگہ پرپیداہوئیں،
(۳؎ انوارالتنزیل (بیضاوی) سورہ آل عمران مطبوعہ مطبع مجبتائی دہلی ۲ /۸)
درشرح او عنایہ القاضی ست ذکرالمحراب معانی المشھور منہا الاخیر ولذااقتصر علیہ اخیرافی قولہ کانھا۴؎الخ
اس کی شرح عنایۃ القاضی میں ہے کہ محراب کے متعدد معانی ہیں ان میں سے مشہور آخری ہے اسی لئے ماتن نے اس آخری معنی پر ''کانھاوضعت الخ''کے الفاظ سے اقتصارکیا۔
(۴؎ حاشیۃ الشہاب المعروف عنایۃ القاضی سورہ آل عمران مطبوعہ دارصادربیروت ۳ /۳۳)
درجلالین ست (المحراب) الغرفۃ وھی اشرف المجالس۵؎
جلالین میں ہے (محراب) کمرہ، یہ مجالس کی اعلٰی جگہ ہوتی ہے۔
درتفسیر کبیر ست المحراب الموضع العالی الشریف وقیل المحراب اشرف المجالس وارفعھا۱؎ درکشاف ست غرفۃ وقیل اشرف المجالس ومقدمھا۲؎
تفسیر کبیرمیں ہے محراب سے مراد بلندواعلٰی جگہ ہے، بعض کے نزدیک مجالس کے لئے اعلٰی وارفع جگہ ہے۔ کشاف میں ہے محراب کامعنی کمرہ، بعض کے نزدیک مجالس کے لئے اعلٰی واشرف جگہ مراد ہوتی ہے۔