Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
60 - 158
وحدیث خیرالبقاع المساجد شر البقاع الاسواق۴؎ رواہ الطبرانی وابن حبان والحاکم بسند صحیح عن ابن عمر ومعناہ لمسلم عن ابی ھریرۃ ولاحمد والحاکم عن جبیربن مطعم رضی اﷲ تعالٰی عنم عن النبی صلی اﷲ تعالٰی عنھم عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وحدیث لاصلٰوۃ لجارالمسجد الافی المسجد۵؎ رواہ الدارقطنی عن جابر وابی ھریرۃ وفی الباب عن امیرالمؤمنین علی وعن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھم کلھم عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۔
آیت مبارکہ ''اﷲ کی مساجد وہی تعمیر کرتے ہیں جو اﷲ پرایمان لاتے ہیں''۔ آیت کریمہ ''جب تم مساجدمیں معتکف ہوتواپنی بیویوں سے مباشرت نہ کرو'' اور یہ حدیث کہ ''سب سے اعلٰی جگہ مساجد ہیں اور بدترجگہ بازارہیں''۔ اسے طبرانی، ابن حبان اور حاکم نے صحیح سند کے ساتھ حضرت عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہما سے اور مسلم نے اسی معنی کی روایت حضرت ابوہریرہ سے امام احمد اور حاکم نے حضرت جبیربن مطعم سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے بیان کیا ہے۔ یہ اور حدیث کہ ''مسجدکے پڑوسی کی نمازمسجد کے علاوہ نہیں''۔

اسے دارقطنی نے حضرت جابر اور حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیاہے، اس سلسلہ میں امیرالمومنین حضرت علی اور ام المومنین حضرت صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما نے نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیاہے۔
 ( ۲؎ القرآن    ۹ /۱۸)

(۳؎ القرآن    ۲ /۱۸۷)

(۴؎ مجمع الزوائدبحوالہ طبرانی عن ابن عمر    باب فضل المسجد    مطبوعہ دارالکتاب بیروت            ۲ /۶) 

(الجامع الصغیر    حدیث ۴۰۰۲        مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت            ۳ /۴۷۰)

( کنزالعمال        فضائل المسجد    مطبوعہ مکتبۃ التراث الاسلامی مؤسسۃ الرسالۃ بیروت    ۷ /۵۲۔۶۵۸)

(۵؎ سنن الدارقطنی        کتاب الصلوٰۃ        مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان            ۱ /۴۲۰ )
واکثراحادیث واحکام فقہیہ متعلقہ بمساجد نظراصلی یاکلی بہمیں حقیقت است و اوراصورتے ست کہ عبارت ازبنائے مخصوص بروجہ مخصوص درآیہ کریمہ
ولولا دفع اﷲ الناس بعضھم ببعض لھدمت صوامع وبیع وصلوات 

ومساجد یذکر فیھا اسم اﷲ کثیرا۱؎
وکریمہ
والذین اتخذوا مسجدا ضراراً۲؎
وحدیث ابنوا المساجد واتخذواھا جمّا۳؎ رواہ البیھقی عن انس وابن ابی شیبۃ عنہ و عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھم عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وحدیث ماامرت بتشیید المساجد۴؎ رواہ ابوداؤد عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما بسند صحیح عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
یہ تمام اوردیگر احادیث اور احکام فقہیہ کاتعلق بنظراصلی یاکلی مسجد کی حقیقت کے ساتھ ہے البتہ مسجد کی ایک صورت ہوتی ہے جوبنائے مخصوص بروجہ مخصوص سے عبارت ہے، درج ذیل آیات اور احادیث میں یہی صورت مراد ہے ''اگراﷲتعالٰی بعض کو بعض کے ذریعے دفع نہ کرتاتویہود ونصارٰی کی عبادت گاہیں اور مساجد گرادی جاتیں جن میں اﷲ کاذکرکثیرکیاجاتاہے'' وہ لوگ جنہوں نے مسجدضرار کوبنایا، اور حدیث ''مساجدمُنڈی بناؤ اور ان میں کِنگرے نہ رکھو''۔ اسے بیہقی نے حضرت انس اور ابن شیبہ نے ان سے اور حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے انہوں نے نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا، حدیث ''مجھے مساجد مزیّن کرنے کاحکم نہیں دیاگیا'' اسے ابوداؤد نے حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے صحیح سند کے ساتھ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے بیان کیا۔
 (۱؎ القرآن    ۲۲ /۴۰)

( ۲؎ القرآن     ۹/۱۰۷)

(۳؎ السنن الکبرٰی للبیہقی    باب کیفیۃ بناء المسجد    مطبوعہ دارصادربیروت        ۲ /۴۳۹) 

(۴؎ السنن ابوداؤد    باب فی بناء المسجد    مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۶۵)
ومسئلہ نقش ونگار مسجد بآب زروغیرہا مراد ہمیں صورتست ہمچناں محراب صورتے دارد وآں طاق معین درجدارقبلہ است وحقیقتش کہ ایں صورت برآں علم باشد موضعے ست ازمسجد برائے قیام امام ملحوظ بدولحاظ یکے آنکہ درعرض مسجد(کہ خط عموداست برخط مار ازمصلی بقبلہ چنانکہ دردیارِ ماجنوباً شمالاً) واقع دروسط بود لحدیث وسّطوا الامام وسُدّوالخلل۱؎ رواہ ابوداؤد عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
مسجد کوسونے کے پانی کے ساتھ نقش ونگار کرنے کاتعلق صورتِ مسجد کے ساتھ ہی ہے۔ اسی طرح محراب کی ایک صورت ہے کہ وہ طاق جوقبلہ کی دیوارمیں ہوتاہے اور اس کی حقیقت جس پریہ صورت علامت ہے وہ جگہ ہے جوقیام امام کے لئے دولحاظ سے ہو، اس میں ایک لحاظ یہ ہو کہ عرض مسجد میں (کہ گزرنے والے خط پرخط عمود ہوجونمازی سے قبلہ کی طرف گزرنے والے خط پر جیسا کہ ہمارے علاقے میں جنوباً شمالاً) وسط میں واقع ہے اس حدیث کی وجہ سے کہ ''امام کو درمیان میں کھڑا کرو اور صفوں کے رخنے بند کرو'' اسے ابوداؤد نے حضرت ابو ھریرۃرضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیاہے ،
 (۱؎ سنن ابوداؤد    مقام الامام فی الصف            مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۹۹)
وحکمت درآں تعدیل واعتدال درقرب وبُعد رجال وسماع قرأت واطلاع انتقال وسریان فیوض بہ یمین و شمال ازامام ست دوم آنکہ درجہت قبلہ تاحد تیسر شرعی وعادی ہرچہ تمام تراقرب بقبلہ باشد لحدیث کان بین مصلی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وبین الجدار ممرالشاۃ۲؎، رواہ الائمۃ احمد والشیخان عن سہل بن سعد رضی اﷲ تعالٰی عنہ
اوراس میں حکمت یہ ہے کہ لوگوں کے قرب وبعد میں برابری ہوتاکہ قرأت سننے، امام کے اوپرنیچے انتقال پراطلاع اور دائیں بائیں لوگوں پرفیضان میں آسانی ہوجائے، دوسرالحاظ یہ کہ جہت قبلہ میں ہوتاکہ حدشرعی وعادی تمام ترقبلہ سے اقرب ہو اس حدیث کی بناپر کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے مصلّٰی اور دیوار کے درمیان بکری کے گزرنے کی جگہ ہوتی، اسے امام احمد، بخاری ومسلم نے حضرت سہل بن سعد رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا،
 (۲؎ صحیح البخاری    باب قدرکم ان ینبغی ان یکون بین المصلی والسترہ    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ پشاور    ۱ /۷۱)
وحدیث لایزال قوم یتأخرون حتی یؤخرھم اﷲ عزوجل۱؎ رواہ مسلم وابوداؤد والنسائی وابن ماجۃ عن ابی سعید رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وحدیث ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ لایصلین احدکم وبینہ وبین القبلۃ فجوۃ۲؎ رواہ عبدالرزاق فی مصنّفہ،
اور یہ حدیث کہ ''ہمیشہ لوگ پیچھے ہوتے رہیں گے حتّٰی کہ اﷲ تعالٰی انہیں مؤخرفرمادے گا''۔ اسے مسلم، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت ابوسعید رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے انہوں نے نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا۔ حضرت ابن سعد کی یہ حدیث کہ ''تم میں ہرگزکوئی نماز اس طرح ادا نہ کرے کہ اس کے اور قبلہ کے درمیان بیکارخالی جگہ رہے'' اسے عبدالرزاق نے مصنّف میں ذکرکیاہے،
 (صحیح مسلم با ب تسویۃالصفوف واقامتہا مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۸۲)

(۲؎ المصنف لعبدالرزاق نمبر۲۳۰۶    باب کم یکون بین الرجل وبین سترتہ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ /۱۶)
پس حکمت دروے توسیع برائے مقتدیاں وپس آیندگاں و عدم تضییق برذاکراں وگزرندگاں وعدم تعطیل پارہ ازقبلہ مسجد باہمال آں وتفاؤل حسن بقرب رحمت ونزدیکی رحمان ست جل وعلی فان احدکم اذاقام فی صلوتہ فانہ یناجی ربہ وان ربہ بینہ وبین القبلۃ۳؎ کمارواہ الشیخان وغیرھما عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پیداست،
اس میں مقتدیوں اور بعد میں آنے والوں کے لئے وسعت، ذاکرین اور گزرنے والوں کے لئے عدم تنگی، مسجد کے قبلہ کی جانب کسی گوشے کامہمل نہ ہونا، اﷲ تعالٰی کے قربِ رحمت کے لئے نیک فال ہے کیونکہ جب کوئی نماز میں کھڑا ہوتاہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کررہاہوتاہے اس نمازی اور قبلہ کے درمیان اس کارب ہوتاہے جیسا کہ بخاری و مسلم وغیرہ نے حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ اور نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ذکرکیا،
 (۳؎ صحیح البخاری        حک البزاق بالید من المسجد        مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۵۸)
Flag Counter