Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
59 - 158
ایں ہمہ ہا دلیل روشن است برآنکہ اصل مقصود توسیط امام ست نہ نفس قیام فی المحراب آرے غالب آنست کہ محراب مقام تعادل طرفین ست چوں صف کامل باشد خودظاہر ست وآں گاہ بترک محراب ترک سنت مقصودہ بالفعل نقدوقت ست ورنہ درعامہ مساجد استکمال صف بہ پس آیند گاں مرجوو متوقع می باشد وزیادتش بنہجیکہ توسط موجودازہم باشد پس ترک محراب تعرض بترک سنت ومخالف عمل امت بود واحکام فقہیہ برامور غالبہ انسحاب یابدازیں امرحکم بہ سنیت قیام فی المحراب کردہ اند امااگرمسجد درجائے خامل بعیدازممرومورد باشد کہ ہمیں چندکساں دروحاضراندوآں بقدر زیادت اصلا متوقع نیست آں جااگرامام راتب درگوشہ ازمسجد میانہ صف موجودایستد ظاہرمخالف سنت نباشد زیراکہ سنت قولیہ وسطواالامام خوداداشد وسنت ِ فعلیہ مبتنی برہمیں حکمت بودواین جاازعدم توقع زیادت مذکورخودرابمعرض مخالفت افگندن لازم نیست وفعل متوارث اززمان اقدس درمسجدے ست ازابشہر واعمر مساجد بود، ہمچو مسجدے خامل رابرآں قیاس نتواں کردوکراہت حکم شرعی ست بے دلیل شرعی رنگ ثبوت نیابد پس ظاھراً ایں صورت نادرترباشد این مطمح نظر علامہ شامی و ایں جملہ مطالب راباوجزکلام دریں دولفظ ادافرمود والظاھران ھذا فی الامام الراتب لجماعۃ کثیرۃ۱؎
یہ تمام کے تمام اس بات پرروشن دلیل ہیں کہ اصل مقصود امام کادرمیان میں کھڑاہونا ہے محراب میں کھڑاہونا مقصودنہیں،ہاں اغلب یہی ہے کہ محراب ایسی جگہ ہوتاہے جہاں دونوں جانبوں میں برابری ہوتی ہے۔ جب صف مکمل ہو توخود ظاہر ہے کہ اس وقت محراب کوچھوڑنا موقعہ پر سنت مقصودہ کوترک کرنا یعنی وسط کاترک لازم آئے گا، ورنہ عام مساجد میں بعد میں آنے والے حضرات سے صف کامکمل ہونا متوقع ہوتاہے اور صف سے زائد بھی ہوسکتے ہیں لیکن توسط موجود ہونے پرکوئی حرج نہیں پس ا س صورت میں محراب کوترک کرنا سنت کاترک اور امت کی مخالفت ہوگی۔ اور احکام فقہیہ اکثرطورپر امورغالبہ پرجاری کئے جاتے ہیں اسی وجہ سے امام کے محراب میں کھڑے ہونے کوسنت قراردیاگیاہے، اب اگر بے آباد مسجد ایسی جگہ پرہے جوگزرگاہ اور جائے وَرود سے دور ہے اس میں چندلوگ اکٹھے ہیں اب اس سے زیادہ افراد کی توقع بھی نہیں توامام اس مسجد کے کسی کونے میں موجود صف کے درمیان کھڑاہوسکتاہے اورظاہریہی ہے کہ یہ سنت کے خلاف نہیں کیونکہ سنت قولیہ ''امام کودرمیان میں کھڑا کرو'' پرعمل ہورہاہے اور سنت ِ فعلیہ بھی اسی حکمت پر مبنی ہے اور اس جگہ زیادہ کی عدم توقع سے مخالفت میں ڈالنا لازم نہیں آتا، اور آپ کی ظاہری حیات سے جومعمول چلاآرہاہے وہ مشہور اور آباد مسجد میں ہے اس طرح کی گمنام مسجد کو اس پرقیاس نہیں کیاجاسکتا، کراہت حکم شرعی ہے جوکسی شرعی دلیل کے بغیر ثابت نہیں ہوسکتی تو ایسی صورت کا ظہورنادرترہے، علامہ شامی کامطمح نظریہی ہے اور ان تمام مطالب کو انہوں نے نہایت ہی اختصارکے ساتھ ان دوالفاظ میں بیان کردیا ہے''اورظاہر یہی ہے کہ یہ مقرر امام اور جماعت کثیرہ کے لئے ہے''
 (۱؎ ردالمحتار        باب الامامۃ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۴۲۰)
فمعنی قولہ الامام الراتب ای امام الجماعۃ الاولٰی دون الثانیۃ وھوفی مسجد المحلۃ ظاھر وفی غیرہ کل امام لان جمیع جماعاتہ اولی فالکل فی حکم الراتب فی مسجد المحلۃ ومعنی قولہ لجماعۃ کثیرۃ ای واقعۃ اومتوقعۃ وکذا قولہ لئلا یلزم ای حالااوماٰلاظناواحتمالا ھذا مایعطیہ الفقہ فی تفسیر کلامہ وتبیین مرامہ واﷲ تعالٰی اعلم باحکامہ لکن ازانجا کہ برخلاف تخصیص اول اینجا نصے کہ مفید اوباشد بدست نبود باستظہارخودش بودن اوتصریح نمودودرآخرامرتبائل فرمود زیراکہ می تواند کہ شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام رادرنفس قیام امام راتب فی المحراب حکمتے باشد پس جزم بحکم نتواں نمود کماھو داب العلماء فی ابحاثھم ایں راتنافی نتواں گفت کہ جائے برمنصوص ومفاد پرنصوص اقتصار ورزیدہ وجائے بہ رائے خود استظہار خصوصے وگرنمودہ نظائر ایں ترک و اظہارواقتصار واستظہار درکلام شراح ومحشین وخود علامہ شامی بوفوریافتہ می شود فانھم اذا لم یجزموا بمااستظھر والم یتات لھم المشی علیہ وانما یمشون علی المنصوص وینقطعون الیہ ویقفون لدیہ۔
امام راتب سے مراد پہلی جماعت کاامام ہے دوسری کانہیں اور یہ بات مسجدمحلہ میں ظاہر ہے، اس کے علاوہ مسجد میں ہرامام مراد ہے کیونکہ وہاں کی تمام جماعتیں اولٰی ہیں لہٰذا وہاں کاہرامام مسجد محلہ کے امام مقرر کے حکم میں ہوگا، جماعت کثیرہ سے مراد نفس الامر میں لوگ کثیرموجود ہوں یا ان کی توقع ہو اس طرح کاقول ''تاکہ لازم نہ آئے'' حالاً یامآلاً، ظناً اور احتمالاً مراد ہے جوشامی کے کلام کی تفسیرومقصد کی تفصیل کے بارے میں عطا ہوا، اﷲ تعالٰی اپنے احکام کاسب سے زیادہ عالم ہے لیکن اس وجہ سے کہ تخصیص اول کے خلاف اس جگہ کوئی ایسی نص جو انہیں مفید ہوتی ان کے ہاتھ میں نہ تھی تاکہ اپنے اظہار کی صورت میں اس کی تصریح کرتے اور آخر میں ''غورکرو'' فرمایا کیونکہ ہوسکتاہے کہ شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاں محراب میں امام راتب کے نفس قیام میں کوئی حکمت ہو، لہٰذا اس پرجزماً حکم جاری نہیں کیا، علماء کا ایسے مقامات میں بحث کایہی طریقہ رہاہے۔ تواسے منافات نہیں کہہ سکتے ایک جگہ پرحکم منصوص اور نصوص سے مستفاد پرمنحصراً ہے اور دوسری جگہ خود اپنی رائے کااظہار ہے اس ترک واظہاراور اقتصار واستظہار کے متعدد نظائر شارحین ومحشین اور خود علامہ شامی کے ہاں کثرت کے ساتھ موجود ہیں کیونکہ جب تک فقہاء کو اپنی رائے پرجزم نہ ہو وہ اس پرعمل نہیں کرسکتے وہ احکام منصوصہ پرچلتے ہیں انہیں کی طرف انقطاع اوررجوع کرتے ہیں اور انہیں پرگامزن ہوجاتے ہیں۔
اماتحقیق کلام درتفسیر واحکام محراب وقیام فاقول وباﷲ التوفیق وبہ الاعتصام حضرت عزہ منزہ ازصورت جلت آلاہٖ وتوالت نعماؤہ دریں عالم ہرشئے را صورتے دادہ است وہرصورت راحقیقتے شہادت شرع مطہر درغالب احکام مطمح نظرحقیقت شئی راداشت و صورت رانیز مہمل نگزاشت اے بسا احکام کہ تنہا برصورت میرودوگاہے مجموع حقیقت وصورت بہیات اجتماعیہ ملحوظ می شود وکل ذلک جلی عند فضلکم لایخفی علی مثلکم پس چنانکہ مسجدرا حقیقتے ست وآں بقعہ مخصوصہ موقوفہ للصلوٰۃ مفرزۃ فی جمیع الجہات عن حقوق العباد ست کہ ہیچ بنائے عمارت رادرسنخ ماہیتش مدخلے نیست فی الخانیۃ وفی الھندیۃ عن الذخیرۃ عن الواقعات للامام الصدر الشھید رجل لہ ساحۃ لابناء فیہا امر قوما ان یصلوافیھا ابداوامرھم بالصلٰوۃ مطلقا ونوی الابد صارت الساحۃ مسجدا لومات لایورث عنہ۱؎۱ھ مختصرا
اب رہ گیا معاملہ محراب وقیام کے احکام وتفسیر کا تو اﷲ کی توفیق اور اس کے سہارے سے میں کہتاہوں اس ذات اقدس نے جوصورت سے منزہ ہے اس کی قدرتیں اور نعمتیں مسلسل ہیں اس کائنات میں ہرشی کو اس نے صورت بخشی ہے اور ہرصورت کوایک حقیقت دے رکھی ہے شریعت مطہر کے احکام میں مطمح نظر اغلب طور پرشے کی حقیقت ہے لیکن صورتِ شئے کوبھی بے فائدہ نہیں چھوڑا، بہت دفعہ احکام صورت پرجاری ہوتے ہیں اور بعض اوقات حقیقت وصورت دونوں کے مجموعہ پربحیثیت اجتماعی احکام لاگو ہوتے ہیں، فاضل لوگوں کے ہاں یہ نہایت ہی واضح اور آپ جیسے لوگوں سے مخفی نہیں جیسا کہ مسجد کی حقیقت ہے جس سے مراد وہ بقعہ ہے جونماز کے لئے مخصوص ووقف شدہ ہو اور ہرلحاظ سے بندوں کے حقوق سے علیحدہ کیاگیاہو اس کی حقیقت میں عمارت کاکوئی دخل نہیں، خانیہ اور ہندیہ میں ذخیرہ سے وہاں امام صدرالشہید کے واقعات کے حوالے سے ہے کہ ایک آدمی کی کھلی جگہ تھی جس میں کوئی تعمیر نہ تھی اس نے لوگوں سے کہا یہاں تم ہمیشہ نماز پڑھاکرویاصرف مطلق نماز کاحکم کیا اور ہمیشگی کی نیت کی تویہ جگہ مسجد قرارپائے گی اب وہ شخص اگرفوت ہوجاتاہے تو اس کے ورثا اس زمین کے مالک نہ ہوں گے۱ھ
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ        باب المسجد ومایتعلی بہ        مطبوعنہ نوارنی کتب خانہ پشاور        ۲ /۴۵۵)
درآیہ کریمہ
انما یعمر مسٰجداﷲ من اٰمن باﷲ۲؎
وکریمہ
ولاتباشروھن وانتم عاکفون فی المسٰجد۳؎
Flag Counter