Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
58 - 158
وقد حملہ علی الجماعۃ الثانیۃ الامامان الجلیلان فخرالاسلام وفخرالدین قاضی خاں قال فی البحر فالحاصل ان تکرار الصلٰوۃ ان کان مع الجماعۃ فی المسجد علی ھیأتہ الاولٰی فمکروہ۲؎الخ
دوبزرگ امام فخرالاسلام اور فخرالدین قاضی خاں نے اسے دوسری جماعت پرمحمول کیاہے۔ بحر میں ہے حاصل یہ ہے کہ اگرتکرار جماعت محلہ کی مسجد میں پہلی حالت پرہے تومکروہ ہے الخ
(۲؎ بحرالرائق            باب الوتروالنوافل        مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۶۲)
وفی ردالمحتار عن الغنیۃ عن البزازیۃ عن ابی یوسف اذالم تکن علی الھیأۃ الاولٰی لاتکرہ والاتکرہ قال وھوالصحیح وبالعدول عن المحراب تختلف الھیأۃ وفیہ عن التتارخانیۃ عن الولوالجیۃ وبہ ناخذ۳؎
ردالمحتار میں غنیہ وہاں بزازیہ سے امام ابویوسف کے حوالے سے ہے کہ جب پہلی حالت کے مطابق نہ ہو تو کراہت نہیں ورنہ کراہت ہوگی، فرمایا یہی صحیح ہے اور محراب سے عدول کرلینے سے حالت بدل جاتی ہے اور اس میں تاتارخانیہ وہاں والوالجیہ سے ہے کہ ہماراعمل اسی پرہے
(۳؎ ردالمحتار            مطلب فی کراہیۃ تکرار الجماعۃ فی المسجد    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۲۹۱)
ایں تخصیص چوں مبنی برتنصیص بودہردوجا اورابیان نمود، ودرمکروہات خودسخنے درآں نفرمود بلکہ درآخرش بجملہ فاغتنم ھذہ الفائدۃ لب کشود دوم آنکہ ازحکمت وعلتش استنباط خواست وتحقیقش علی مااقول چنانست کہ معہود ومتوارث اززمان برکت توامان حضورسیدالانس والجان وعلٰی آلہٖ افضل الصلوٰۃ والسلام قیام امام درمحراب است فاماظاہراین سنت مقصود لعینہا نیست بلکہ لغیرہا واصل سنت توسط امام درصفت است لحکم بالغۃ سیأتیک بیان بعضھا ان شاء اﷲ تعالٰی ولہٰذا جائیکہ قیام درمحراب باتوسط صف برطرف افتد اعنی جمع میان ہردو نتواں کردآنجا توسط صف اختیار کنند وقیام محراب راترک دہند مثلاً مسجد صیفی درجنب شتوی باشد ومردماں بکثرت گرد آمدند کہ ہردومسجد بصفوف صلوٰۃ یکے شدآں گاہ راامام راحکم ست کہ محراب گزاشتہ بکناردیوارایستد تامیانہ صفہا باشد فی ردالمحتار عن معراج الدرایۃ عن مبسوط الامام بکرخواھرزادہ السنۃ ان یقوم فی المحراب لیعتدل الطرفان ولوقام فی احدجانبی الصف یکرہ ولوکان المسجد الصیفی بجنب الشتوی وامتلأ المسجد یقوم الامام فی جانب الحائط لیستوی القوم من جانبیہ و الاصح ماروی عن ابی حنیفۃ الٰی قومہ قال علیہ الصلٰوۃ والسلام توسطواالامام۱۔ پس ایں استدلال بحدیث وآں فرع نفیس خاصہ بعدازاں مقال کہ السنۃ ان یقوم فی المحراب وتعلیلش بآں کہ لیعتدل الطرفان و تعقیبش بقول اوولوقام فی احد جانبی الصف یکرہ۲؎
یہ تخصیص چونکہ دونوں جگہ پرنصوص فقہاء پرمبنی تھی اس لئے اس کی تصریح کردی اور مکروہات میں اس پرخود کچھ نہ فرمایا بلکہ اس کے آخر میں یہ جملہ کہہ دیا ''اس فائدہ کوغنیمت جان لو،'' دوسری (تخصیص) اس کی حکمت اور علت سے مستنبط ہوتی ہے اس کی تفصیل میرے نزدیک یہ ہے کہ حضورسیدالانس والجن صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلٰی آلہٖ افضل الصلوٰۃ والسلام کی ظاہری حیات سے امام کامحراب میں کھڑا ہوناآرہاہے لیکن ظاہریہی ہے کہ یہ سنت بذاتہٖ مقصود نہیں بلکہ غیر کی وجہ سے مقصود ہے بلکہ اصل سنت امام کاصف کے درمیان کھڑا ہوناہے ان عظیم حکمتوں کی وجہ سے جن میں سے بعض کاتذکرہ آرہاہے ان شاء اﷲ تعالٰی، لہٰذا وہ جگہ جہاں محراب میں کھڑا ہونا اور وسط صف دونوں جمع نہ ہوسکتے ہوں تووہاں امام وسط صف کو اختیار کرے اور محراب میں قیام کوترک کردے مثلاً مسجدصیفی شتوی کے پہلو میں ہو اور لوگ کثیر ہوں اور دونوں مساجد کی دوصفیں ایک ہوجائیں توامام کے لئے حکم ہے کہ وہ محراب کوچھوڑ کر دیوار کے پاس کھڑاہوتاکہ صفوں کے درمیان ہوجائے، ردالمحتار میں معراج الدرایہ وہاں مبسوط امام بکرخواہرزادہ سے ہے کہ امام کے لئے محراب میں کھڑا ہونا سنت ہے تاکہ دونوں اطراف میں برابری ہوجائے، اگرصف کی ایک جا نب کھڑا ہواتویہ مکروہ ہے اور اگرمسجد صیفی، شتوی کے پہلو میں ہو، مسجد بھرجائے توامام دیوار کی جانب کھڑاہوتاکہ لوگ دونوں طرف برابرہوجائیں اور اصح طورپر امام ابوحنیفہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا امام کودرمیان میں کھڑا کرو، پس اس حدیث سے استدلال اور اس پر اس فرع کا ذکرکہ محراب میں کھڑا ہونا سنت ہے، اس کی علت یہ تاکہ دونوں اطراف برابرہوجائیں اور اس کے بعد یہ قول ذکرکرنا کہ اگرامام کسی صف کی ایک جانب کھڑا ہوا تو یہ مکروہ ہوگا،
(۱؎ ردالمحتار        باب الامامۃ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۲ /۴۲۰) 

(۲؎ ردالمحتار        باب الامامۃ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۲ /۴۲۰)
Flag Counter