| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ) |
فقیرگوید یغفراﷲ لہ اما دفع تدافع میاں حکم سنیت وتعبیر بلاباس بہ بنظر ظاہرخود آسان ست کلمہ لاباس گاہے برائے دفع توہم باس آیدگوآں کارخودسنت بلکہ واجب باش قال اﷲ تعالٰی
ان الصفا والمروہ من شعائر اﷲ فمن حج البیت اواعتمر فلاجناح علیہ ان یطوف بھما۱؎
فقیر (اﷲ تعالٰی اسے معاف کرے) کہتاہے کہ اسے سنت قراردینا اور ''اس میں کوئی حرج نہیں''کہنا، اس پرمنافات کادورکرنا نہایت ہی آسان ہے کیونکہ ''لاباس بہ'' کے کلمات میں دفع وہم کے لئے بھی آجاتے ہیں اگرچہ وہ کام سنت بلکہ واجب بھی ہو۔ اﷲ تعالٰی کاارشادگرامی ہے: ''صفاومروہ اﷲ تعالٰی کی نشانیوں میں سے ہیں پس جوبیت اﷲ کاحج کرے یاعمرہ کرے اس پرکوئی گناہ نہیں کہ ان دونوں کاطواف کرے۔''
(۱؎ القرآن ۱۵۸ /۲)
عروہ بن الزبیر رضی اﷲ تعالٰی عنہما خالہ اش ام المومنین محبوبہ محبوب رب العٰلمین عائشہ صدیقہ بنت الصدیق صلی اﷲ تعالٰی علٰی بعلہا الکریم و ابیہاوعلیہا وسلم الکریم راازیں آیت پرسید وگفت فواﷲ ماعلی احد جناح ان لایطوف بالصفا والمروۃ ام المؤمنین فرمود بئس ماقلت یابن اخی ان ھذہ لوکانت کما اولتھا علیہ کانت لاجناح علیہ ان لایطوف بھما ولکنھا انزلت فی الانصار کانواقبل ان یسلموا یھلون لمناۃ الطاغیۃ التی کانوا یعبدونھا عندالمشلل فکان من اھل یتحرج ان یطوف بالصفاوالمروۃ فلما اسلمواسئلوارسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن ذلک قالوا یارسول اﷲ اناکنا نتحرج ان نطوف بین الصفا والمروۃ فانزل اﷲ تعالٰی ان الصفا والمروۃ من شعائراﷲ الاٰیۃ وقدسن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الطواف بینھما فلیس لاحد ان یترک الطواف بینھما۱؎
حضرت عروہ بن زبیر رضی اﷲ تعالٰی عنہما نے اپنی خالہ ام المومنین محبوبہ محبوب رب العٰلمین حضرت عائشہ صدیقہ بنت صدیق(اﷲ تعالٰی ان کے مبارک خاوند، ان کے والدگرامی، خود ان کی ذات پررحمت وسلام نازل فرمائے) سے اس آیت مبارکہ کے بارے میں پوچھتے ہوئے کہا اﷲ کی قسم صفاومروہ کاطواف نہ کرنے میں کوئی گناہ نہیں تو ام المومنین نے فرمایا اے بھتیجے! تونے بہترقول نہیں کیااگر اس کامعنی یہی ہوتا جوتونے کیاہے تو اس کے الفاظ یوں ہوتے''نہیں گناہ اس پراگروہ ان کا طواف نہ کرے'' لیکن یہ توانصار کے بارے میں نازل ہوئی جواسلام سے پہلے مقام مشلّل میں ''مناۃ'' کی عبادت کیاکرتے تھے تو ان میں سے جوشخص حج کے لئے آتاوہ صفا ومروہ کے طواف میں حرج محسوس کرتاجب انصار اسلام لائے توانہوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے اس کے بارے میں سوال کرتے ہوئے عرض کیا کہ ہم صفاومروہ کے طواف میں حرج محسوس کرتے ہیں، تو اﷲ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ''صفاومروہ اﷲ کی نشانیاں ہیں'' (الآیۃ) تورسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی نے صفاومروہ کے درمیان طواف کوسنت قراردیا، تواب کوئی ان کے طواف کوترک نہیں کرسکتا۔
(۱؎ صحیح البخاری باب وجوب الصفا والمروۃ وجعل من شعائر اﷲ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۲۲)
نظر کردنی ست ام المومنین چساں نفی حرج رابردفع توہم حرج فرودآورد وہم عروہ رایک دم دلیل ساطع ردکرد کہ اگرچناں بودے لاجناح علیہ ان لایطوف بودے نہ ان یطوف یعنی منافی وجوب نفی حرج از ترک است نہ ازفعل کہ اوخودلازم وجوب است زیرا کہ واجب رادرترک حرج باشد و ثبوت حرج دراں مستلزم انتفائے آں ازفعل است واثبات لازم منافی ثبوت ملزوم نباشد بلکہ مؤکد ومقرر آن است این معنی شریف رابالطف واخصر لفظے ادافرمود ولہٰذا چوں عروہ ایں حکایت پیش ابوبکر بن عبدالرحمان بن حارث بن ہشام برو ابوبکر گفت ان ھذا لعلم وآیت راسببے دیگرازاہل علم آوردکہ ذکر اﷲ تعالٰی الطواف بالبیت ولم یذکر الصفا والمروۃ فی القراٰن قالوا یارسول اﷲ کنا نطوف بالصفا والمروۃ وان اﷲ تعالٰی انزل الطواف بالبیت فلم یذکر الصفا فھل علینا من حرج ان نطوف بالصفا والمروۃ فانزل اﷲ تعالٰی ان الصفا و المروۃ من شعائر اﷲ الاٰیۃ قال ابوبکر فاسمع ھذہ الاٰیۃ نزلت فی الفریقین۱؎ الخ رواہ الشیخان
دیکھا ام المومنین نے نفی حرج کودفع توہم پرچسپاں کرتے ہوئے حضرت عروہ کے وہم کو واضح دلیل سے رَد کردیا اور کہا اگرمعاملہ ایسے ہوتا توالفاظ یہ ہوتے ''نہیں گناہ اس پرکہ ان دونوں کاطواف نہ کرے'' ''ان کاطواف کرے'' کے الفاظ نہ ہوتے یعنی وجوب کے منافی، ترک سے حرج کی نفی ہے، فعل سے حرج کی نفی منافی نہیں ، فعل توخود لازم واجب ہے کیونکہ ترکِ واجب میں حرج ہے اور اس میں ثبوت حرج اس بات کو مستلزم ہے کہ اس فعل کی نفی ہو اور کسی لازم کا اثبات لازم کے ثبوت کے منافی نہیں ہو تا کے منافی نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے مؤکد اور ثابت کرنے والا ہوتاہے، اس مبارک معنی کو انہوں نے کتنے احسن اختصار کے ساتھ بیان فرمادیا، یہی وجہ ہے کہ جب یہ بات حضرت عروہ نے ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام کے سامنے رکھی تو انہوں نے کہا علم یہی ہوتاہے، اس آیت کے نزول کاسبب اہل علم نے ایک اور بھی ذکرکیاہے کہ اﷲ تعالٰی نے قرآن میں بیت اﷲ کے طواف کاذکرکیا مگرصفا ومروہ کے طواف کاذکرنہ کیا توصحابہ نے عرض کیا یارسول اﷲ ہم صفا ومروہ کاطواف کرتے ہیں حالانکہ اﷲ تعالٰی نے بیت اﷲ کے طواف کاذکر فرمایا اور صفا ومروہ کاذکرنہیں کیا توکیا ہمارا صفا ومروہ کاطواف کرنا صحیح نہیں؟ تو اﷲ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی: ''بلاشبہ صفاومروہ اﷲ کی نشانیاں ہیں'' ابوبکر نے کہا اس آیت کو سنو جو دونوں فریقوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے الخ (بخاری و مسلم)
(۱؎ صحیح البخاری باب وجوب الصفاوالمروۃ وجعل من شعائر اﷲ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۲۳)
ایں دگر نیز از ھماں دادی ست کما لایخفی در ردالمحتار باب ما یکرہ فی الصلوۃ قبیل احکام المسجد است، قدیقال ان لاباس ھنا لدفع مایتوھم ان علیہ باسا فی عدم الاجابۃ۱؎ نیزدراوائل ادراک الفریضۃ گوید لیس کلمۃ لاباس ھنالخلاف الاولٰی لان ذلک غیرمطردفیھا بل قدتاتی بمعنی یجب۲؎ ہم درباب العیدین فرمود کلمۃ لاباس قدتستعمل فی المندوب کما فی البحر من الجنائز والجھاد ومنہ ھذا الموضع۳؎ اینجانیز زآنرد کہ قیام فی الطاق را مکروہ فرمودہ بودند توہم می شود کہ شایدایں چناں قیام کہ سجدہ درطاق افتدنیز مکروہ باشد دفع ایں التباس رالاباس آوردند۔ اما نفی تنافی ازدوکلام شامی فاقول محقق سامی علامہ شامی رحمہ اﷲ تعالٰی درہر دوباب کلام امام امام الکلام وکلمات علمائے رام از مبسوط ودرایہ وتاتارخانیہ آوردہ مقتضایش وانمود کہ قضیہ ایں سخن کراہت ترک محراب است مرامام رامطلقاً اگرچہ میانہ صف ایستد ایں اطلاق رابنظراو دوتخصیص بود، یکے مستفاد ازحکم وآں تخصیص امام غیرراتب ست اے درمسجد محلہ زیراکہ فرق احکام راتب وغیرا وہما نجاست منصوص امامساجدالقوارع والجوامع العامۃ وامثالھا فلاراتب لھا وان کان فلافضل لہ علی غیرہ بل الکل فیھا سواء ولذاکانت کل جماعۃ فیھا جماعۃ اولٰی وکان الافضل فی کل جماعۃ ان تقام باذان واقامۃ جدیدین۱؎ کما نص علیہ فی الخانیۃ وغیرھا وبیناہ فی فتاوٰنا علماء تصریح فرمودہ اند کہ بعد امام راتب اعنی بعد جماعت اولٰی درمسجد محلہ امام دیگر راباید کہ ازمحراب عدول نماید اقول ولعل ذلک ابانۃ لشرف الاولٰی وتنبیھا علی ان من تاخر اُخر عن اشرف المقامات وایضا قدتأدی حق المسجد فلایکرر فی صلوۃ مرتین لحدیث لایصلی بعد صلٰوۃ مثلھا۲؎
یہ دوسرا بھی اس (دفع وہم) معاملہ سے تعلق رکھتاہے جیسا کہ واضح ہے۔ ردالمحتار میں احکام مسجد سے تھوڑا سا پہلے
''باب مایکرہ فی الصلٰوۃ''
میں ہے، یہ کہا گیا گیا ہے لکہ اس مقام پر'' لا باس '' کا ذکر اس وہم کے ازالے کے لئے ، کہ یہاں حرج ہے ادراک الفریضہ کی ابتداء میں ہے لاباس کاکلمہ یہاں خلاف اولٰی کے لئے نہیں ہے کیونکہ اس کایہ معنی غیریقینی ہے بلکہ وہ توبعض اوقات وجوب کامعنی دیتاہے اور باب العیدین میں بھی فرمایا لاباس کاکلمہ مندوب کے لئے بھی استعمال ہوتاہے جیسا کہ بحر کے باب الجنائز اور باب الجہاد میں ہے اور مذکورہ مقام اس کے باب الجہاد سے ہے یہاں بھی فقہاء نے جوطاق میں قیام کرمکروہ فرمایا تو اس سے وہم پیداہوا شاید اس طرح کھڑا ہوکہ سجدہ طاق میں کرنابھی مکروہ ہے لہٰذا اس کو لاباس کے ساتھ دفع کردیا۔ رہا معاملہ امام شامی کی دوعبارات میں منافات ہونے کافاقول (تومیں کہتاہوں) محقق سامی علامہ شامی نے دونوں مقامات پرامام کی گفتگو جوکلام کی امام ہے اور دیگرفقہاء کرام کی مبسوط، درایہ اور تاتارخانیہ کے حوالے سے جوعبارات نقل کی ہیں ان کامقتضی یہ ہے کہ امام کے لئے محراب کاترک ہرحال میں مکروہ ہے خواہ صف کے درمیان ہی میں کھڑا ہو، اس کے اطلاق کے لئے ان کی نظر میں دوتخصیصیں
ہیں، ایک توحکم منصوص سے مستفاد ہے اور وہ تخصیص غیرمقررہ امام جب محلہ کی مسجد میںہو، کے اعتبار سے ہے، کیونکہ مقرر اور غیرمقرر کے درمیان فرق مسجد محلہ ہی کے اعتبار سے ہے، رہامعاملہ مساجد شوارع یاعام جامع مسجد کاتووہاں امام مقرر نہیں ہوتا اور اگرہوبھی تواسے دوسرے پرفضیلت نہیں بلکہ اس میں تمام برابرہیں اسی لئے وہاں کی ہرجماعت، جماعت اولٰی ہوتی ہے اور ہرجماعت میں افضل یہی ہے کہ وہ نئی اذان وتکبیر کے ساتھ ہو،اس پرخانیہ وغیرہ میں تصریح ہے کہ مقررامام یعنی جماعت اولٰی کے بعد مسجد محلہ میں دوسرے امام کومحراب سے عدول کرناچاہئے اقول شاید اس میں پہلی کے شرف کااظہار ہے اور اس پرتنبیہ ہے کہ ہروہ شخص جوجماعت اولٰی سے مؤخر ہوجاتاہے وہ اعلٰی مقامات سے بھی مؤخررہ جاتاہے ، اور یہ بھی ہے کہ مسجد کاحق اداہوگیاتھا لہٰذا نماز میں دودفعہ تکرار اس حدیث کی بناپر''مناسب نہیں کہ نماز کے بعد اس کی مثل نہ پڑھی جائے''،
(۱؎ ردالمحتار باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۴۸۴) ( ۲؎ ردالمحتار باب ادراک الفریضہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۵۲۶) (۳؎ ردالمحتار باب العیدین مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۶۲۱) (۱؎ فتاوٰی قاضی خان فصل فی المسجد مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ ۱ /۳۲) (۲؎ مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ ادارۃ القرآن الخ کراچی ۲ /۳۰۲)
رواہ ابن ابی شیبۃ عن امیرالمؤمنین الفاروق الاعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ من قولہ و ظاھر کلام الامام محمد انہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال المحقق علی الاطلاق فی الفتح ومحمد اعلم بذلک منا۱؎۱ھ
ابن ابی شیبہ نے اسے امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے قول کے طورپر نقل کیاہے، اور امام محمد کی عبارت سے واضح ہوتاہے کہ یہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاارشاد عالی ہے، محقق علی الاطلاق نے فتح میں فرمایاامام محمد ہم سے زیادہ جاننے والے ہیں،
(۱؎ ردالمحتاربحوالہ فتح القدیر باب الوتروالنوافل مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۵۱۶)