Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
56 - 158
تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب(۱۳۲۰ھ)

(محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج)

(محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
مسئلہ ۱۰۰۰:  ازجبل پور قریب مسجد کوتوالی مرسلہ مولٰنا مولوی شاہ محمد عبدالسلام صاحب قادری برکاتی ۶جمادی الاخری ۱۳۲۰ھ
اما بعد مایقول سیدنا وسندنا ومولٰنا ومرشدنا والذخرلیومنا وغدنا و وسیلتنا وبرکتنا فی الدنیا والدین، اٰیۃ من اٰیات اﷲ رب العٰلمین، نعمۃ اﷲ علی المسلمین، اعلم العلماء المتبحرین افضل الفضلاء المتصدرین، تاج المحققین سراج المدققین، مالک ازمۃ الفتاوی و المفتین، ذوالمقامات الفاخرۃ والکمالات الزاھرہ الباھرۃ، صاحب الحجۃ القاھرۃ، مجدد المائۃ الحاضرۃ، العلامۃ الاجل الابجل، حلال عقدۃ مالاینحل، بحرالعلوم، کاشف السر المکتوم، صدرالشریعۃ، محی السنۃ، المحدّث الفقیہ العدیم النظیر النحریر لازالت لوامع افکارہ توضح غوامض المشکلات وانواراسرارہ تحل المعضلات فی ھذالمرام۔

حمدوصلوٰۃ
کے بعد، کیافرماتے ہیں ہمارے سربراہ وآقا، مرشد، ہمارے آج اور کل کے لئے ذخیرہ، دنیاوآخرت میں ہمارے وسیلہ، اﷲ رب العالمین کی نشانیوں میں سے ایک نشانی، مسلمانوں پر اﷲ کی نعمت، متبحرعلماء سے زیادہ صاحب علم فضلاء سے افضل، تاج المحققین، سراج المدققین، فتاوٰی اور اصحاب فتاوٰی کے شیخ، صاحب مقامات کاملہ اور کمالات زاہرہ وباہرہ، صاحب حجت قاہرہ، مجددمائۃ حاضرہ، علامہ اجل وابجل، نہ کھلنے والے عقدوں کوکھولنے والے، علوم کے سمندر، مخفی رازوں کے واضح کرنے والے، صدرالشریعۃ، سنت کوزندہ کرنے والے، عظیم محدث و فقیہ، جن کی مثالیں نہیں، آپ کے افکار عالیہ ہمیشہ نہایت ہی مشکل پیچیدگیوں کوواضح کرتے رہیں، اور آپ کے اسرار کے نور اس مقصد کی مشکلات روشن کرتے رہیں۔
سوال اوّل: امام راتب اگرمحراب راگزاشتہ درمسجد یادرصحن بأزائے وسط قیام نماید آیا ایں ترک مقام معین ومقام درغیرمحراب مکروہ باشد یانہ برتقدیراول انچہ درکتاب مستطاب ردالمحتار درباب الامامۃ مذکورست والظاھر ان ھذا فی الامام الراتب لجماعۃ کثیرۃ لئلا یلزم عدم قیامہ فی الوسط فلولم یلزم ذلک لایکرہ۱؎ فما لمراد منہ وبرتقدیر ثانی آنچہ درہماں کتاب درمکروہات الصلوٰۃ مسطوراست ومقتضاہ ان الامام لوترک المحراب وقام فی غیرہ یکرہ ولوکان قیامہ وسط الصف لانہ خلاف عمل الامۃ وھوظاھر فی الامام الراتب دون غیرہ والمنفرد ۲؎الخ فمالمستفاد عنہ ازعبارت اولٰی مفہوم می شود کہ ترک محراب سبب کراہت نیست بلکہ لزوم عدم قیام فی الوسط باعث کراہت است پس اگرامام راتب ہم ترک محراب نمودہ درغیرمحراب بمحاذات وسط صف قیام نماید درمسجد باشد یادرصحن مسجد باجماعت قلیل کہ ازوعدم محاذات وسط صف لازم نیاید مکروہ نباشد وازعبارت اخری مستفاد می شود کہ امام راتب را ترک محراب و قیام در غیرمحراب مطلقاً اگرچہ بأزائے وسط صف باشد وبہرکجاکہ بود اندرون مسجد یابیرون مسجد درصحن وغیرہ مکروہ باشد لانہ خلاف عمل الامۃ وظاھرھما یدل علی التضارب و التنافی بینھما فکیف التطبیق۔
سوال اول: مقررہ امام اگرمحراب چھوڑکرمسجد یاصحن مسجد محراب کے مقابل درمیان میں کھڑاہوا توکیامقام مقررہ کاچھوڑنامکروہ ہے یانہیں؟ اگرمکروہ ہے توردالمحتارکے باب الامامت کی اس عبارت کہ ''ظاہریہ ہے کہ یہ اس امام مقرر کے لئے ہے جوجماعت کثیرہ کاہو، تاکہ اس کاوسط میں کھڑانہ ہونالازم آئے، اور اگر ایسی صورت نہیں توکراہت نہیں'' کاکیامعنی ہوگا؟ اور مکروہ نہیں تو اس کتاب کے باب مکروہات نمازمیں تحریرہے''اور اس کاتقاضایہ ہے کہ اگرامام نے محراب چھوڑدیا اور دوسری جگہ کھڑاہوگیا تومکروہ ہے اگرچہ اس کاقیام صف کے درمیان میں ہی کیوں نہ ہو کیونکہ اس کایہ عمل امت کے عمل کے خلاف ہے اور یہ بات مقررہ امام میں واضح ہے مگرغیرمقرر امام اور منفرد میں نہیں'' تواس کامفہوم کیاہوگا؟ پہلی عبارت سے یہ سمجھ آرہاہے کہ ترک محراب کراہت کاسبب نہیں بلکہ وسط میں کھڑانہ ہونا سبب کراہت ہے لہٰذا اگرمقررامام بھی محراب ترک کردے اور کسی اورمقام پر اس کے محاذات میں صف کے درمیان کھڑا ہوخواہ مسجد کے اندر ہویاصحن مسجد میں یاجماعت قلیل ہوتاکہ وسط صف کی عدم محاذات لازم نہ آئے تویہاں کراہت نہ ہوگی اور دوسری عبارت سے پتاچلتاہے کہ مقررامام کامحراب کوترک کرکے غیرمحراب میں کھڑاہونا خواہ صف کے وسط میں ہو اندرون مسجد یاصحن مسجد میں ہرجگہ مکروہ ہے کیونکہ یہ عمل امت کے خلاف ہے اور ان دونوں عبارات میں بظاہر تعارض ومنافات ہے ان میں تطبیق کیسے ہوگی؟
 (۱؎ ردالمحتار        مطلب فی کراہۃ قیام الامام فی غیرالمحراب    مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی    ۱ /۵۶۸)

(۲؎ ردالمحتار    مطلب اذاتردد الحکم بین سنۃ وبدعت        مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی    ۱ /۶۴۶)
سوال دوم: قیام امام درمحراب بطوریکہ مصرح فقہائے کرام رحمہ اﷲ تعالٰی است یعنی قیامہ خارجہ وسجودہ فیہ چہ حکم دارد مباح یا سنت، امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی درجامع صغیر می فرمایند عن یعقوب عن ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی لاباس ان یکون مقام الامام فی المسجد وسجودہ فی الطاق ویکرہ ان یقوم فی الطاق۱؎۱ھ وھکذا فی الھدایۃ و در کتاب الآثار می نویسند و اما نحن فلانری باسا ان یقوم بحیال الطاق مالم یدخل فیہ اذاکان مقامہ خارجا منہ و سجودہ فیہ وھو قول ابی حنیفۃ رحمۃ اﷲ علیہ ۲؎ فیفھم من ھذہ العبارات الاذن والرخصۃ فیہ،
سوال دوم: امام کامحراب میں اس طرح کھڑا ہ ہونا جو فقہاء کرام رحمہم اﷲ تعالٰی نے بیان کیاہے یعنی خود خارج میں کھڑا ہو اور سجدہ محراب میں کرے کیاحکم رکھتاہے مباح یاسنت؟ امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی نے جامع صغیر میں فرمایا کہ امام یعقوب نے امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالٰی سے نقل کیاہے کہ امام کامسجد میں کھڑا ہوکر محراب میں سجدہ کرنے میں کوئی حرج نہیں، البتہ محراب میں کھڑا ہونا مکروہ ہے ۱ھ اور ہدایہ میں بھی اسی طرح ہے اور کتاب الآثار میں امام محمد لکھتے ہیں کہ رہا معاملہ ہمارا تواگرامام محراب کے گوشے میں کھڑا ہوبشرطیکہ اس میں داخل نہ ہو اور اس کی قیام گاہ اس سے باہر ہو اور سجدہ اس کے اندرہو توہمارے نزدیک کوئی حرج نہیں، اور امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالٰی کابھی ے ہی موقف ہے، ان تمام عبارات سےیہی محسوس ہوتاہے کہ اس میں اجازت ورخصت ہے،
 (۱؎ الجامع الصغیر    باب فی الامام این یستحب لہ ان یقوم الخ    مطبوعہ مطبع یوسفی لکھنؤ        ص۱۱)

(۲؎ کتاب الآثار    باب الصلوٰۃ فی الطاق            مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی    ص۲۱)
وازاکثر کتب معتمدہ فقہیہ ہم جوازمطلق مفہوم می شود کہ عبارات متون و شروح معتبرہ مشہورہ یکرہ قیام الامام فی الطاق ولایکرہ سجودہ فی الطاق اذاکان قائما خارجا المحراب۱؎۱ھ ملخصا عینی کنز، لاسجود فیہ وقدماہ خارج۲؎ الخ مختصرا درمختار، لایکرہ ان قام الامام فی المسجد وسجد فی الطاق الخ مختصرا قھستانی وغیرھا من العبارات المتقاربۃ لھا مشعرہمیں معنٰی خواہند شد ازا یں تصریحات معلوم می شودکہ قیام امام در محراب بطور مذکور مباح وجائز ست نہ کہ سنت ومندوب پس ازطرف محراب وقیام در غیر آؓں ہیچ کراہتے لازم نا نیاید اما علامہ محقق شامی رحمۃ اللہ علیہ در ردالمحتار از معراج الداریہ و مبسوط نقل می فرمایند : السنۃ ان یقوم فی المحراب لیعتدل الطرفان ولو قام فی احد جانبی الصف یکرہ الخ   ایضا السنۃ ان یقوم الامام ازاء وسط الصف الاتری ان المحاریب مانصبت الاوسط المساجد وھی عینت لمقام الامام۱؎ ایضا والاصح ماروی عن ابی حنیفۃ انہ قال اکرہ ان یقوم بین الساریتین اوفی زاویۃ اوفی ناحیۃ المسجد اوالی ساریۃ لانہ خلاف عمل الامۃ قال علیہ الصلٰوۃ و السلام توسطوا الامام۲؎ الخ واز تاتارخانیہ می آرند ویکرہ ان یقوم فی غیرالمحراب الابضرورۃ۳؎ ونیز می فرمایند یفھم من قولہ او الی ساریۃ کراھۃ قیام الامام فی غیرالمحراب ویؤیدہ قولہ قبلہ السنۃ ان یقوم فی المحراب وکذا قولہ فی موضع اٰخر والسنۃ ان یقوم الامام ازاء وسط الصف۴؎ الٰی اٰخر ماھو المنقول والمذکور فیہ کل ذلک یدل علی ان السنۃ للامام ان یقوم فی المحراب ویکرہ ان یقوم فی غیرہ فما صورۃ التطبیق بین ھذہ الاقوال المختلفۃ او الترجیح لواحد علی وجہ یتبین بہ الصواب والحکم الصحیح آیا امام راتب راقیام درصحن مسجد بمحاذاۃ محراب درصف کماھو المتعاد فی دیارنا براعتبار فرق مسجد صیفی و شتوی جائز داشتہ شدہ یابوجہے دیگر فالمسؤل من الحضرۃ العلیۃ البھیۃ السنیۃ الرضیۃ المطھرۃ القدسیۃ ان نستفیض بتحقیق المقام وتوضیح المرام بحیث ینکشف بہ المشکل و ینحل بہ المعضل فتطمئن بہ الاوھام۔ بیّنواتوجروا۔ فقیر حقیر مستہام غلام تراب الاقدام اذل خدام الحضور عالی مقام احقرالطلبہ محمدعبدالسلام سنی حنفی قادری جبلپوری عفی عنہ۔
اور اکثر کتب فقہ جومعتمد ہیں ان سے بھی مطلق جوازمفہوم ہوتاہے کیونکہ مشہورمتون اور شروحات میں درج ہے کہ امام کامحراب میں کھڑا ہونا مکروہ ہے مگرمحراب میں سجدہ کرنا مکروہ نہیں جبکہ وہ خارج محراب کھڑاہو۱ھ تلخیصا عینی کنز، محراب میں اس کاسجدہ مکروہ نہیں جبکہ اس کے قدم محراب سے خارج ہوں الخ اختصاراً، درمختار میں ہے اگرامام مسجد میں کھڑا ہو اور سجدہ محراب میں ہو توکراہت نہیں الخ اختصاراً، قہستانی اور دیگرکتب میں ایسی ہی قریب المعنی عبارات ہیں جن سے یہی معنی مترشح ہوتاہے، ان تمام تصریحات سے معلوم ہورہاہے کہ امام کامحراب میں مذکورہ طریقہ پرکھڑا ہونا جائزومباح ہے سنت ومندوب نہیں لہٰذا محراب کاترک اور دوسری جگہ کھڑے ہونے سے کراہت لازم نہیں آتی۔ لیکن علامہ محقق شامی رحمۃ اﷲ علیہ نے ردالمحتار میں معراج الدرایہ اور مبسوط سے نقل کیا کہ امام کا محراب میں کھڑا ہونا سنت ہے تاکہ دونوں اطراف میں اعتدال ہوجائے، اگر کسی ایک جانب کھڑا ہواتو کراہت ہوگی الخ
وہاں یہ بھی ہے امام کا وسط صف کے مقابل کھڑاہونا سنت ہے کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ محرابیں مساجد کے درمیان بنائی جاتی ہیں جوامام کے مقام کابھی تعین کردیتی ہیں اور اصح قول جو امام ابوحنیفہ سے مروی ہے کہ میں امام کادو ستونوں کے درمیان یازاویہ یامسجد کے گوشے یا ستون کی طرف کھڑا ہونے کوناپسند کرتاہوں کیونکہ یہ عمل امت کے خلاف ہے۔ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: امام کودرمیان میں کھڑا کرو۔ تاتارخانیہ میں ہے کہ امام کاضرورت کے بغیر محراب میں کھڑاہونا مکروہ ہے۔ یہ بھی فرمایا کہ امام صاحب کے ''یاستون کی طرف'' سے معلوم ہوتاہے کہ غیرمحراب میں امام کاقیام مکروہ ہے اس کی تائید اس پہلے قول سے ہوتی ہے کہ محراب میں کھڑا ہونا سنت ہے، اسی طرح دوسرے مقام پرہے کہ سنت یہ ہے کہ امام وسط صف کے مقابل کھڑاہو، اس بارے میں جوکچھ منقول ومذکور ہے وہ تمام اس پردال ہے کہ امام کامحراب میں کھڑا ہوناسنت ہے اور غیرمحراب میں قیام مکروہ ہے، تو اب ان مختلف اقوال میں تطبیق کیسے ہوگی یا ان میں سے کسی ایک کوترجیح کیسے دی جائے تاکہ درست رائے اور حکم صحیح واضح ومتعین ہوجائے، کیاامام کا محراب کے محاذی صحن مسجد میں قیام جیسا کہ ہمارے علاقے میں متعارف ہے بنابراعتبار مسجد صیفی و شتوی جائز ہے یاکوئی اور صورت ہے، اس بارگاہ میں سوال ہے جوبلند، اعلٰی، محبوب، پاکیزہ ومقدسہ ہے کہ ہمیں اس مقام کی ایسی تحقیق اور مقصد کی وضاحت عطافرمائے جس سے مشکل حل ہوجائے اور ذہن مطمئن ہوجائیں۔(ت)
 (۱؎ عینی علی الکنز    باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا        مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر            ۱ /۴۳)

(۲؎ درمختار        باب مایفسدفی الصلوٰۃ الخ        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی            ۱ /۹۲)

(۳؎ جامع الرموز للقہستانی     فصل مایفسدفی الصلوٰۃ الخ    مطبوعہ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبدقاموس ایران     ۱ /۱۹۴)

(۱؎ ردالمحتار        باب الامامۃ                مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۵۶۸)

( ۲؎ ردالمحتار    باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا        مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۶۴۶)

(۳؎ ردالمحتار    مطلب فی کراہۃ قیام الامام فی غیرالمحراب    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۵۶۸)

(۴؎ ردالمحتار        مطلب فی کراہۃ قیام الامام فی غیرالمحراب        مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۵۶۸)
الجواب

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم، نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔ امابعد برضمیر منیرہدی تخمیر مولٰنا الفاضل الکامل العالم العامل التقی النقی الحفی الوفی الصفی الزکی الذکی السنی السنی الجمیل الجلیل المولوی الشاہ محمدعبدالسلام القادری البرکاتی السنی الحنفی سلمہ اﷲ تعالٰی بالعز والاکرام و السلامۃ والسلام وحمایۃ الاسلام وجعلناہ و ایاہ دارالسلام آمین آمین یاذالجلال والاکرام، مستترنیست کہ مسئلہ مرسلہ سامی برچارسوال اشتمال دارد، یکے نفی تنافی ازدوعبارت علامہ شامی کہ جائے مبنائے کراہت درحق امام عدم توسط صف راداشتہ است نہ ترک محراب راتاآنکہ اگر میانہ صف ایستد کراہت نبود اگرچہ ترک محراب گوید، ودگرجانفس ترکش راتاآنکہ اگردرغیرمحراب ایستد کراہت باشد گومیانہ صف باش دوم دفع تدافع ازتنصیصات متون وغیرہا کہ قیام درنفس محراب رامکروہ فرمودہ اندوبازائے اُواستادن راچنانکہ سجدہ درمحراب افتد بہ لفظ لابا س بہ کہ مفید مجرد اباحت عاری ازفضیلت بلکہ درغالب اطلاق مشعر بکراہت است تعبیرنمودہ، وتصریحات مبسوط امام خواہرزادہ ومعراج الدرایہ وتاتارخانیہ وغیرہا کہ قیام امام درمحراب سنت است وترکش موجب کراہت واسائت، سوم آنکہ امام راتب راترک محراب باوصف توسط صف درمسجد صیفی خواہ شتوی مکروہ باشد یاخیر، چہارم آنکہ امام رابازائے محراب ایستادن چنانکہ سجدہ درون طاق باشد سنت ووجہ فضیلت ست یامحض مباح،دوسوال پیشیں متشابہ و متماثل ست عبارت اول شامی کہ ترک محراب را وجہ ایراث کراہت نداشت بانصوص متون موافق می آید کہ قیام بازائے محراب را لاباس بہ گفتند پیداست کہ ترک مباح کراہتے ندارد وعبارت دومش باقوال مبسوط ومامعہ مشایعت نماید کہ قیام فی المحراب چوں مسنون ست نفس ترکش ہرآئینہ مکروہ و زبون ست و سوال سوم نیزاز ہمیں مناشی ناشی آمدہ کہ اونیزاز کراہت وعدم کراہت ترک محراب مستحسن می راند واگرنیکوبنگرند سوال چہارم نیزاز ہمیں گریبان سربرزدہ زیراکہ چونکہ بتصریحات ائمہ مذہب قیام درنفس طاق مکروہ است لاجرم آنجاکہ حکم فضیلت ۔ یاسلب کراہت کنند مرادنباشد مگرقیام بازائے اوقریباً پس سوال ازدوشق فضیلت و اباحت محضہ راجح شود بتخالف مافی المتون والمبسوط پس گرہے کہ ایں جاباید کشود ہمین ست کہ معنی قیام فی المحراب و حکمش درحق امام ازکراہت واباحت واستحباب چیست وہرچہ منقح شود درکلمات کرام ایں چہ تنافی ست۔
    بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم
ہم اس کی حمد بجالاتے ہیں اور اس کے رسول کریم کی خدمت میں صلوٰۃ وسلام عرض کرتے ہیں، حمدوصلوٰۃ کے بعد، اے روشن ضمیر، سراپاہدایت، مولٰنا الفاضل الکامل العالم العامل تقی نقی، لائق، تام، پاکیزہ، ستھرا، سنی، قیمتی، جمیل، بزرگ، اﷲ تعالٰی ان کوعزت واکرام سے زندہ رکھے، ہمیں اور ان کو جنت میں داخل کرے، یاذالجلال والاکرام آمین! ارسال کردہ مبارک مسئلہ چارسوالات پرمشتمل ہے ایک یہ ہے کہ علامہ شامی کی دوعبارات میں منافات کی نفی مقصود ہے کہ ایک جگہ امام کے صف میں عدم توسط کو علت کراہت قراردیاہے نہ کہ ترک محراب کو، حتی کہ اگرامام صف کے درمیان کھڑاہوجاتاہے اگرچہ محراب میں نہیں تواب کراہت نہ ہوگی،دوسرے مقام پر ترک محراب کومکروہ کہاہے حتی کہ اگرامام محراب چھوڑ کردوسری جگہ کھڑا ہوا تو یہ مکروہ ہے خواہ وہ درمیان صف ہی کھڑا ہوا ہو، دوم متون وغیرہ کی نصوص کے درمیان اختلاف کاتدافع ہے کہ بعض میں ہے کہ محراب میں قیام مکروہ ہے اور اس کے سامنے کھڑاہونا اور سجدہ محراب میں کرنے کی صورت کو ''اس میں کوئی حرج نہیں'' کے الفاظ سے تعبیر کیاہے جو اس بات پردال ہے کہ یہ مباح ہے اور فضیلت سے عاری ہے بلکہ اغلب طورپر ان کااطلاق کراہت پرہوتاہے، دوسرے متون مثلاً مبسوط امام خواہرزادہ، معراج الدرایہ اور تاتارخانیہ وغیرہ میں ہے کہ امام کامحراب میں کھڑاہونا سنت ہے اور اس کاترک کراہت واسائت کاموجب ہے۔ تیسرے یہ کہ امام مقررہ کا محراب کوچھوڑنا خواہ مسجد صیفی ہو یاشتوی، اگرچہ وہ صف کے درمیان ہی کھڑا ہو مکروہ ہے یانہیں، چہارم یہ کہ امام کامحراب کے سامنے اس طرح کھڑاہونا کہ سجدہ محراب کے اندر ہو، سنت اور سب فضیلت ہے یاصرف مباح، پہلے دونوں سوالات ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ امام شامی کی پہلی عبارت کہ امام کاترکِ محراب مکروہ نہیں ان نصوص متون کے موافق ہے کہ امام کامقابل محراب کھڑاہونے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ ترکِ مباح میں کراہت نہیں ہوتی، دوسری عبارت شامی کی مبسوط وغیرہ کتب کے مناسب وموافق ہے کہ جب امام کامحراب میں کھڑا ہونا مستون ہے تو اس کاترک بہرطور مکروہ ہوگا۔ تیسراسوال بھی اسی تشابہ کی بناپر پیداہوا کہ ترک محراب کی کراہت وعدم کراہت ہے یانہیں، اگراسے مستحسن جانتے ہیں توچوتھا سوال اسی سے جنم لے گاکیونکہ جب ائمہ مذہب کی تصریحات ہیں کہ محراب میں کھڑاہونا مکروہ ہے تواب ہرصورت فضیلت یا عدم کراہت کاحکم نہیں ہوسکتا مگراس صورت میں جب قیام محراب کے مقابل ہو پس ان دوشقوں کی وجہ سے، فضیلت واباحت محضہ کاسوال متون اور مبسوط میں تخالف وتضاد کی طرف راجح ہوگیا، یہاں اس بات کاجانناضروری ہے کہ امام کامحراب میں کھڑے ہونے کامعنی ومفہوم کیاہے، امام کے حق میں اس کاکیاحکم ہے مکروہ، مباح یامستحب ہے، جب ان بزرگوں کے کلمات سے یہ واضح ہوجائے گا تو(پھردیکھنا ہے کہ) منافات کیاہے!
Flag Counter