Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
55 - 158
مسئلہ ۹۹۷:  ۴ربیع الآخر۱۳۲۰ھ

کیافرماتے ہیں علمائے احناف، رحم کرے اﷲ آپ لوگوں پر، اور برکت دے علم میں کہ فیض پہنچاتے رہیں علم سے اپنے خلائق کو اس قول میں کہ وردی جو کہ سپاہی پولیس کے پہنتے ہیں اور دھوتی جو کہ کفارپہنتے ہیں اس کو پہن کر نماز مکروہ ہے یاکہ مکروہ تحریمی،حکمش چیست؟
الجواب

وہ وردی پہن کرنماز مکروہ ہے خصوصاً جبکہ سجدہ بردرجہ مسنون سے مانع ہو۔ فتاوٰی امام قاضی خاں میں ہے:
اوالخیاط اذااستوجر علی خیاطۃ شیئ من زی الفساق ویعطی لہ فی ذلک کثیر اجرلایستحب لہ ان یعمل لانہ اعانۃ علی المعصیۃ۱؎۔
جب کسی درزی کوفاسقوں کے لباس سینے پر اُجرت دی جائے اور اسے اس پراجرکثیردیاجائے تویہ عمل اس کے لئے بہتر نہیں کیونکہ یہ گناہ پرمعاونت ہے۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خاں    کتاب الحظر والاباحۃ    مطبوعہ نولکشورلکھنؤ    ۴ /۷۸۰)
اور دھوتی باندھنا بھی مکروہ ہے کہ اگرلباس ہنود و غیرہ نہ ہو توکپڑے کاپیچھے گھرسنا ہی نماز کومکروہ کرنے کے لئے بس ہے
لنھیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن کف ثوب اوشعر
(کیونکہ رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے کپڑے یا بال مجتمع کرنے سے منع فرمایا ہے۔ت) ہاں پیچھے نہ گھرسیں تووہ دھوتی نہیں تہ بند ہے اور اس میں کچھ کراہت نہیں بلکہ سنت ہے
واﷲ تعالٰی سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۹۸: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص عینک لگاکر نمازپڑھاتاہے تومقتدیوں کی نماز میں کچھ قصورتونہیں ؟ بیّنواتوجروا

الجواب

اگرعینک کا حلقہ یاقیمیں چاندی یاسونے کی ہیں توایسی عینک ناجائز ہے اور نماز اس کی اور مقتدیوں سب کی سخت مکروہ ہوتی ہے ورنہ تانبے یااوردھات کی ہوں توبہتر یہ کہ نماز پڑھتے میں اُتارلے ورنہ یہ خلاف اولٰی اور کراہت سے خالی نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۹۹ :کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسجد کے در و محراب میں نماز پڑھنا وپڑھانا جائز ہے یانہیں؟ اوراکثر آگے در کے چبوترہ یالکڑی کی مثل چوکی کے بناکر اس پرنمازپڑھتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ہم در کے باہرنمازپڑھتے ہیں، اور بعض در ایسے ہیں کہ کچھ دروازہ اُن کاعمارت میں نکال دیاگیاہے اور کہتے ہیں کہ یہ در بیچ کاآگے کو ان دونوں دروں سے نکال دیاگیاہے تب ان صورتوں میں کیاحکم ہے؟
الجواب

اصل حکم یہ ہے کہ تنہا ایک شخص کہ نہ امام ہے نہ مقتدی بلکہ اپنی نمازجداپڑھ رہاہے اسے درمیں کھڑے

ہوکراپنی نمازپرھنے میں حرج نہیں ہے اور مقتدی کودرمیں کھڑاہونا ممنوع ہے مگربضرورت کہ جگہ نہیں ہے یامثلاً مینہ برس رہاہے، صحیح حدیث میں ہے:
کمانتقی ھذا علی عھد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۱؎۔
ہم اس عمل سے حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ظاہری حیات میں بچاکرتے تھے(ت)
 (۱؎ سنن ابوداؤد    باب الصفوف بین السواری        مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۹۸)
کما بیّناہ فی فتاوینا
(جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اسے بیان کیاہے۔ت) یہ حکم منفرد مقتدی کے لئے تھا، رہا امام اس کے لئے ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا ہے کہ در میں کھڑے ہونامکروہ ہے، تاتارخانیہ و ردالمحتار میں امام سے ہے:
انی اکرہ للامام ان یقوم بین الساریتین۲؎۔
میں امام کے ستونوں کے درمیان کھڑاہونے کومکروہ سمجھتاہوں۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار        باب مکروہات الصلوٰۃ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱ /۴۷۸)
اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عمل خلاف امت ہے
کما فی المعراج وغیرہ
 (جیسا کہ معراج وغیرہ میں ہے۔ت) اور دوسرے یہ کہ امام ومقتدی کادرجہ بدل گیا اگرامام ایک درجہ میں تنہا ہے اور مقتدی دوسرے درجے میں ہے تویہ مکروہ ہے
کمانص علیہ القھستانی فی شرح النقایۃ
 (جیسا کہ قہستانی نے شرح نقایہ میں اس پرنص وارد کی ہے۔ت) در کاآس پاس کے دروں سے آگے نکلاہونا اس سے کراہت کادفع نہیں ہوسکتا البتہ امام درکے باہرکھڑا ہو اورسجدہ درکے اندرکرے تووہ کراہت جاتی رہے گی کہ اب امام ومقتدی ایک ہی درجہ میں ہیں
لان العبرۃ للقدم ۳؎ کما نصواعلیہ
 (کیونکہ اعتبار قدم کاہے جیسا کہ اس پرفقہا نے تصریح کی ہے۔ت) مگر اب غالب مساجد میں ایک اور کراہت پیش آئے گی وہ یہ ہے کہ اگلے درجے کی کرسی صحن سے بلند ہوتی ہے توکھڑا ہوانیچے اور سجدہ بلندی پرکیایہ بلندی اگردوخشت بخارا یعنی ۱۲ انگل یعنی پاؤگز کی قدرہوئی جب تونماز ہی نہ ہوگی
کما نص علیہ فی الدر المختار
(جیسا کہ درمختارمیں اس پرنص وارد کی گئی ہے۔ت)
 (۳؎ درمختار        باب مایفسد الصلوٰۃ الخ        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱ /۹۲)
اور اگر اس سے کم ہوئی جب بھی کراہت سے خالی نہیں، لہٰذا اس کاعلاج یہ ہے کہ در کی کرسی اس قدر جس میں امام سجدہ کرسکے زمین کاٹ کر صحن کے برابر کردی جائے اب امام در کے باہر کھڑا ہو اور اس کٹی ہوئی زمین میں سجدہ کرے سب کراہتیں جاتی رہیں اور وہ جو چوکی رکھ دیتے ہیں یالکڑی وغیرہ کاچبوترہ بنادیتے ہیں اس سے اگرچہ دوکراہتیں جاتی رہیں کہ اب نہ امام درمیں ہے نہ اس کاسجدہ پاؤں کی جگہ سے بلند ہے مگرتیسری کراہت اور عارض ہوئی کہ امام کومقتدیوں سے بلندجگہ بقدرامتیاز کھڑاہونا بھی مکروہ ہے
کما فی الدرالمختار وھو الاصح المختار
 (جیسا کہ درمختار میں ہے اور یہ اصح و مختارہے۔ت) اور مشابہت یہود ہے، اور حدیث میں فرمایا:
لاتشبھوا بالیھود ۱؎ وقد قالوا انھم یقیمون امامھم علٰی دکان ممتازا عمن خلفہ۔
یہودکے ساتھ مشابہت نہ کرو، اور منقول  ہےکہ یہود اپنے ائمہ کو بلند جگہ کھڑاکرتے تھے تاکہ وہ مقتدیوں سے ممتازہوجائے۔(ت)

توچارہ کاروہی ہے جواُوپربتایاگیا۔واﷲ تعالٰی اعلم
 (۱؎ جامع الترمذی    باب ماجاء فی کراہیۃ اشارۃ الید فی السلام        مطبوعہ امین کمپنی دہلی    ۲ /۹۴)
Flag Counter