مسئلہ ۹۹۶ : ۲۸جمادی الاولٰی ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وقت نماز اپنی جوتیاں سجدہ کے روبرو رکھ کر نماز اداکرے تونماز میں کیا شرعاً کراہت آتی ہے اور دہنے یا بائیں طرف رکھنے سے کیانفع نقصان ہے، اگرسجدہ کے برابررکھ کرکپڑے وغیرہ سے چھپادی جائیں توعلیحدہ ہونے کے مرتبہ میں ہوئیں یانہیں؟ اور کس حدیث سے جوتیوں کوسجدہ کے روبرو رکھنا منع آیاہے؟ اور ایسے وقت میں نزول رحمت کابند ہونا کیوں ہے؟ معمولی جوتیاں جوہرشخص پہنے پھرتاہے پہنے ہوئے مسجد میں چلاآئے اور پہنے ہوئے نماز اداکرے جائز ہے یانہیں؟ کن بزرگان دین نے ایسافعل کیاتھا؟ بیّنواتوجروا
الجواب
سنن ابی داؤدمیں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا اصلی احدکم فلایضع نعلیہ عن یمینہ ولاعن یسارہ فتکون عن یمین غیرہ الاان لایکون احد ولیضعھما بین رجلیہ۱؎۔ رواہ الحاکم ایضا والبیھقی۔
جب تم میں کوئی نماز پڑھے توجوتی اپنے دائیں طرف نہ رکھے نہ اپنے بائیں طرف رکھے کہ دوسراجواس کے بائیں ہاتھ کو ہے اس کے دہنی طرف ہوں گی ہاں اگربائیں طرف کو کوئی نہ ہو تو بائیں جانب رکھے ورنہ اپنے پاؤں کے بیچ میں رکھے، اسے بھی حاکم اور بیہقی نے روایت کیا۔
(۱؎ سنن ابوداؤد باب المصلی اذاخلع نعلیہ این یضعہما مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۹۶)
کسی کو ایذانہ دے۔ مذکورہ تینوں محدثین اور ابن حبان نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے۔
(۲؎ المستدرک علی الصحیحین کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ دارالفکربیروت ۱ /۲۵۹)
ایک حدیث میں اس ایذا کی یوں تصریح آئی:
لاتضعھما عن یمینک ولا عن یسارک فتؤذی الملٰئکۃ والناس۳؎۔ رواہ الخطیب عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
دہنے ہاتھ کورکھے گا توملائکہ کو ایذا ہوگی، بائیں کورکھے گا توجولوگ بائیں طرف ہیں انہیں ایذا ہوگی۔ اسے خطیب نے حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے حوالے سے رسالت مآب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے بیان کیاہے۔
(۳؎ تاریخ بغداد ترجمہ عبداﷲ بن حمویہ نمبر۱۵۰۷۸ مطبوعہ دارالکتاب العربیۃ بیروت ۹ /۴۴۹)
علماء نے اس ایذا کی وجہ فرمائی یعنی
وفیہ نوع اھنانۃ لہ۴؎
(جس کی طرف جوتارکھاجائے اس کی اہانت ہوتی ہے
قالہ الطیبی ونقلہ فی المرقاۃ
(یہ علامہ طیبی نے فرمایا اور مرقات میں نقل ہوا۔ت)
(۴؎ مرقات المفاتیح حدیث ۷۶۷ کے تحت مذکورہے مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۲ /۴۷۵)
اعلٰی درجہ کی حدیث صحیح ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا کان احدکم یصلی فلایبصق قبل وجھہ فان اﷲ تعالٰی قبل وجھہ اذا صلی ۱؎۔ رواہ مالک فی الموطا عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما وطریقہ الشیخان فی الصحیحین۔
جب تم میں کوئی نمازمیں ہو تو سامنے کو نہ تھوکے کہ نمازی کے سامنے اﷲ عزوجل کافضل وجلال ورحمت ہوتے ہیں۔ اسے امام مالک نے مؤطا میں امام نافع سے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے اور اسی سند سے بخاری و مسلم نے اپنی اپنی صحیح میں روایت کیاہے۔
یجب علی المصلی اکرام قبلتہ بما یکرم بہ من یناجیہ من المخلوقین عند استقبالھم بوجھہ۲؎۔ ذکرہ ابن بطال ونقلہ فی ارشاد الساری۔
یعنی نمازی پرواجب ہے کہ معظمین کے سامنے کھڑے ہونے میں جس بات میں ان کی تعظیم جانتاہے وہی ادب اپنی جانب قبلہ میں ملحوظ رکھے کہ اﷲعزوجل سب سے زیادہ احق بالتعظیم ہے۔ اسے شیخ ابن بطال نے ذکرکیااور ارشادالساری میں مذکورہے۔
(۲؎ ارشاد الساری شرح البخاری باب حک البزاق بالید من المسجد مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ۱ /۴۱۹)
ان احادیث میں دہنے بائیں کاحکم صاف مصرح ہے اور سامنے کاحکم اس حدیث صحیح کہ دلالۃ النص اور اسی ارشاد علما کے عموم اور نیز اس قاعدہ مسلمہ مرعیہ عقلیہ شرعیہ سے معلوم کہ توہین وتعظیم کامدار عرف و عادت ناس وبلاد پرہے۔
اس کی تحقیق علامہ خاتمۃ المحققین سیدنا والدگرامی قدس سرہ الماجد نے اصول الرشاد میں فرمائی ہے۔(ت)
اور شک نہیں کہ اب عرف عام تمام بلادیہی ہے کہ دربار شاہی میں بحضور سلطانی باتیں کرنے کھڑاہو اور جوتا سامنے رکھے بے ادب گناجائے گا فقیر نے بچشم خود دیکھاہے کہ کعبہ معظمہ پرپھوہاربرسی تھی میزاب رحمت سے بُوندیں ٹپک رہی تھیں مسلمان حاضرتھے اُن بوندوں کولیتے اور چشم و دل سے ملتے، ان میں کوئی ہندی شخص جوتاہاتھ میں لئے تھا ترکی خادم دوڑا اور اس کی گردن دبادی تناجی ربک ونعلاک بیدک جوتیاں ہاتھ میں لئے ہوئے اﷲ تعالٰی سے مناجات کرتاہے، بلکہ سنن ابن ماجہ میں حدیث ابی ہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ میں یوں ہے:
فاجعلھما بین رجلیک ولاتجعلھما عن یمینک ولاعن یمین صاحبک ولاورائک فتوذی من خلفک۱؎۔
یعنی جوتے اپنے پیچھے بھی نہ رکھ جو پیچھے ہے اس کے آگے ہوں گے اسے ایذا ہوگی۔
(۱؎ سنن ابن ماجہ باب ماجاء این توضع النعل اذاخلعت فی الصلوٰۃ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۱۰۵)
جب توان کو اپنے پیچھے رکھے گا تووہ پچھلی صف میں کھڑے ہونے والے نمازی کے سامنے ہوں گی تو اسے اذیت ہوگی حالانکہ ان پراﷲ تعالٰی کی رحمت نازل ہورہی ہوگی۔ لہٰذایہ عمل براہے۔(ت)
(۲؎ انجاح الحاجہ حاشیہ سنن ابن ماجہ باب ماجاء این توضع النعل اذاخلعت فی الصلوٰۃ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۱۰۵)
ولہٰذا ائمہ دین نے تصریح فرمائی کہ استعمال جوتیاں پہنے ہوئے مسجد جانا بے ادبی ومکروہ ہے، امام برہان الدین صاحب ہدایہ کتاب التجنیس والمزید پھر علامہ بحر بحرالرائق میں فرماتے ہیں:
قدقیل دخول المسجد متنعلا من سوء الادب۳؎۔
مسجد میں جوتے پہنے ہوئے داخل ہونا بے ادبی ہے۔(ت)
(۳؎ بحرالرائق باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۳۴)
(۵؎ فتاوٰی سراجیہ باب المسجد مطبوعہ نولکشورلکھنؤ ص۷۱ )
مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ دوجوڑے رکھتے تھے استعمالی جوتاپہن کردروازہ مسجد تک تشریف لاتے پھر دوسراجوڑا پہن کرمسجد میں جاتے۱؎
(۱؎ بحرالرائق باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۳۴)
ذکرہ ایضا فی البحر عن التجنیس واذالامر دار علی العرف فالحکم الحظر الاٰن مع ثبوتہ عن سیدالمتادبین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وذٰلک کترک الکلاب تدور فی المسجد ووضع السریر وادخال البعیر وضرب الخیمۃ للمرضی وغیرھم فیہ ولنا رسالۃ فی الباب سمیناھا''جمال الاجمال لتوقیف حکم الصلاۃ فی النعال'' واخری ''نفیسۃ حافلۃ فیماتصان عنہ المساجد''۔
اسے بحرمیں تجنیس کے حوالے سے ذکرکیا اور مسئلہ کا مدار عرف پرہوتاہے اس دور میں یہ ممنوع ہے باوجودیکہ اس کاثبوت سیدالمتادبین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ہے وہ اسی طرح ہے جیسے کتوں کامسجد میں آناجانا، چارپائی کابچھانا، اونٹوں کاداخل ہونا، بیمارلوگوں اور دیگر ضروریات کے لئے خیمہ نصب کرنے کاحکم متروک ہے، ہم نے اس موضوع پرایک رسالہ
ہاں اگربائیں جانب یاپیچھے رکھنے میں چوری کاخوف ہو اور یہاں جوتی پاؤوں کے بیچ میں جو فرجہ نماز میں ہوتاہے یعنی چارانگلی اس قدرمیں آنے کے قابل نہیں ہوتے توکپڑے سے چھپاناکافی ہے
ھذا کلہ ماظھر لی تفقھا وبما قررت ظھر ان لاورود لبقیۃ حدیث الخطیب المذکور وان سُلِّم ان سلمَ من الضعف لان الاحکام ھھنا بالعرف۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
یہ تمام وہ جومجھے ازراہ تفقہ حاصل ہوا، جو ہم نے گفتگو کی اس سے یہ بھی واضح ہوجاتاہے کہ خطیب کی ذکرکردہ حدیث کایہ محل نہیں اگرچہ تسلیم بھی کرلیاجائے کہ یہ روایت ضعف سے خالی ہے کیونکہ ان احکام کا مدارعرف پرہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)