مسئلہ ۹۹۳ :ازمیرٹھ مرسلہ مولوی محمدحسین ۲ صفر۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آستین کہنی تک چڑھی ہوئی نماز پڑھنی مکروہ ہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا
الجواب
ضرور مکروہ ہے اور سخت وشدیدمکروہ ہے، صحاح ستّہ میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
امرت ان اسجد علی سبعۃ اعضاء وان لااکف شعرا ولاثوبا۱؎۔
مجھے سات اعضا پرسجدہ کاحکم ہے اور اس بات کاکہ میں بال اکٹھے نہ کروں اور نہ کپڑا اٹھاؤں، (ت)
( ۱؎ صحیح مسلم باب اعضاء السجود مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ /۱۹۳)
صحیحین میں رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
امرت ان لااکف الشعروالثیاب۲؎۔
مجھے حکم دیاگیاہے کہ میں بالوں اور کپڑوں کواکٹھا نہ کروں۔(ت)
(۲؎صحیح مسلم باب اعضاء السجود مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ /۱۹۳)
تمام متون مذہب میں ہے:
کرہ کف ثوبہ
(کپڑوں کواٹھانا مکروہ ہے۔ت) فتح القدیر وبحرالرائق میں ہے:
یدخل ایضا فی کف الثوب نشمیر کمیہ۳؎۔
کپڑا اٹھانے میں آستینوں کاچڑھانا بھی داخل ہے۔(ت)
(۳؎ بحرالرائق باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۲۴)
درمختارمیں ہے:
کرہ کف ای رفعہ ولو لتراب کمشمرکم اوذیل۴؎۔
کپڑے کا اٹھانا اگرچہ مٹی کی وجہ سے ہو مکروہ ہے جیسا کہ آستین اور دامن کاچڑھانا۔(ت)
یکرہ ان یکف ثوبہ وھو فی الصلاۃ بعمل قلیل بان یرفعہ من بین یدیہ او من خلفہ عندالسجود اویدخل فیھاوھو مکفوف کما اذا دخل وھومشمرا لکم اوالذیل۱؎۔
عمل قلیل کے ساتھ نمازمیں کپڑا چڑھانا مکروہ ہے بایں طور کہ پیچھے یاآگے سے سجدہ کے وقت اٹھائے یانماز میں کپڑا اٹھائے ہوئے داخل ہوناجیسا کہ نماز میں داخل ہوتے وقت اس نے آستین یادامن چڑھایا ہواتھا۔(ت)
علامتین محققین جلیلین شارحین منیہ تحقیق فرماتے ہیں کہ اکثرکلائی پر سے آستین چڑھی ہونا ہی کراہت کو کافی ہے اگرچہ کہنی تک نہ ہو۔ غنیہ میں ہے:
(و) یکرہ ایضا (ان یرفع کمہ) ای یشمرہ (الی المرفقین) وھذا قید اتفاقی فانہ لو شمر الی مادون المرفق یکرہ ایضا لانہ کف للثوب وھو منھی عنہ فی الصلاۃ لما مر وھذا اذاشمرہ خارج الصلٰوۃ وشرع فی الصلٰوۃ وھوکذٰلک اما لوشمرہ فی الصلاۃ تفسد لانہ عمل کثیر۲؎۔
اور یہ بھی مکروہ ہے (کہ آستین اٹھائی) یعنی چڑھائی ہو(کہنیوں تک) اور یہ قید اتفاقی ہے کیونکہ کہنیوں کے نیچے تک بھی چڑھائی ہوں تب بھی کراہت ہے کیونکہ یہ کپڑے کااٹھانا ہے حالانکہ وہ نمازمیں ممنوع ہے جیسا کہ اس پراحادیث گزری ہیں اور یہ اس وقت ہے جب اس نے نماز سے باہر آستین کوچڑھایاتھا اور اسی حال میں نماز شروع کردی اور اگردوران نمازآستین چڑھاتاہے تونماز فاسد ہوجائے گی کیونکہ یہ عمل کثیرہے۔ (ت)
ینبغی ان یکرہ تشمیرھما الٰی مافوق نصف الساعد لصدق کف الثوب علی ھذا۳؎۔
آستینوں کانصف کلائی کے اوپرتک اٹھانا بھی مکروہ ہوناچاہئے کیونکہ اس پربھی کپڑا اٹھانا صادق آرہاہے(ت)
(۳؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
تولازم ہے کہ آستینیں اتار کرنماز میں داخل ہو اگرچہ رکعت جاتی رہے اور اگرآستین چڑھی نمازپڑھے تو اعادہ کی جائے
کما ھو حکم صلاۃ ادیت مع الکراھۃ کمافی الدر وغیرہ
(جیسا کہ ہراس نماز کاحکم ہے جوکراہت کے ساتھ اداکی گئی ہو جیسا کہ دروغیرہ میں ہے۔ت) واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۹۴ غرہ جمادی الاولٰی ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید سنی المذہب ہے اور اس نے کسی وجہ سے نمازدست کشا پڑھی تو وہ اس کی نمازصحیح ہوگئی یانہیں یا اس کا اعادہ کرناچاہئے یاکیا؟
الجواب
نماز ہوجائے گی مگر
بکراہت لترک السنۃ
(ترک سنت کی بنا پر۔ت) اعادہ چاہئے
علٰی وجہ الاستحباب۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۹۵ :ازمارہرہ مطہرہ ضلع ایٹہ محلہ کمبوہان مرسلہ تاج الدین حسین خاں صاحب ۵جمادی الاخری ۱۳۱۷ھ
موسم گرما میں مَیں ساری بہت نیچی باندھتاہوں اکثرنماز مولوی صاحبوں کے ہمراہ پڑھی کسی نے اعتراض نہ کیا ایک سیدصاحب سے دریافت کیا توفرمایا جواونچی دھوتی باندھتے ہیں ان کو کانچھ کھولنی ضرور ہے کہ سترپوشی ہو اور تم بہت نیچی باندھتے ہو اس میں ضرورنہیں کہ سترچھپارہتاہے، میں نماز بیٹھ کرپڑھتاہوں کھڑے ہوکرنہیں پڑھ سکتا اس پرچند آدمیوں نے اعتراض کیا کہ کھول دیا کرو ورنہ نماز میں خلل پڑتاہے، پس آں مخدوم کوتکلیف دیتاہوں حکم شرح بیان فرمائیے، اور اگرباندھنا ساری کاداخل پوشاک مشرکین ہو تو میں موقوف کروں کیونکہ میرا اعتقاد آپ کے قول پر ہے بمقابلہ آپ کے میں کسی کے قول کو ترجیح نہیں دیتاہوں بقول مخدوم میناصاحب قدس سرہ العزیز ؎
(تمہارا شہرخوبصورت حضرات سے بھراہے، میراذوق اپناہے، میں کیاکروں کہ بدخو آنکھ کسی پربھی ایک نگاہ نہیں ڈالتی) زیادہ نیاز
الجواب
مکرمی سلمکم اﷲ تعالٰی! جواب مسئلہ اُنہی لفظوں میں ہے جو آپ نے تحریر فرمائے کہ اس عقدے کو حل فرمائیے واقعی ساری پیچھے سے نہ کھولنا کراہت نماز کاموجب ہے۔ رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
امرت ان لااکف شعرا و لاثوبا۱؎
(مجھے اس بات کاحکم دیاگیاہے کہ میں بال اکٹھے نہ کروں اور نہ کپڑا اٹھاؤں۔ت)
(۱؎ صحیح مسلم باب اعضاء السجود والنہی عن کف الثوب مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ /۱۹۳)
غنیہ شرح منیہ میں ہے:
یکرہ ان یکف ثوبہ وھوفی الصلاۃ بعمل قلیل بان یرفعہ من بین یدیہ او من خلفہ عن السجود او یدخل فیھا وھو مکفوف کما اذا دخل وھومشمرا لکم او الذیل۔۱؎۔
نماز میں عمل قلیل کے ساتھ کپڑا اٹھانا مکروہ ہے یوں کہ آگے یاپیچھے سے اپنا کپڑا اٹھائے یا نماز میں کپڑا چڑھائے ہوئے داخل ہونا اور یہی حکم ہے جبکہ نمازی آستین یادامن چڑھائے ہوئے ہو۔(ت)
اور ساری یادھوتی باندھنا جہاں کے شرفا میں اس کا رواج نہ ہو جیسے ہمارے بلاد وہاں شرفا کے لئے خود بھی کراہت سے خالی نہیں
کماحققناہ فی کتاب الحظر من فتاوٰنا
(ہم نے اس کی تحقیق اپنے فتاوٰی کی کتاب الحظر میں کی ہے۔ت) اور اگروہاں کے مسلمان اسے لباس کفار سمجھتے ہوں تواحترازمؤکد ہے حرج پیچھے گُھرسنے میں ہے ورنہ تہبند توعین سنت ہے اور گِٹّوں سے اُوپر تک ہوناچاہئے اس سے زیادہ نیچی مکروہ ہے واﷲ تعالٰی اعلم یہ تو آپ کے سوال کاجواب تھا اور ان سب باتوں سے زیادہ ضروری مسئلہ قیام نماز ہے فرض و وتر وسنت فجر بیٹھ کرپڑھنے کی اجازت صرف اس حالت میں ہے کہ کھڑے ہونے پراصلاً قدرت نہ ہو نہ دیوار کی ٹیک نہ کسی آدمی یالکڑی کے سہارے سے ، اور عجزبھی ایسا ہو کہ ایک بار اﷲ اکبر کہنے کی دیر تک بھی کھڑانہ ہوسکے اگر اتنی ہی دیر قیام کی طاقت ہو اگرچہ کسی سہارے سے، توفرض ہے کہ تکبیر تحریمہ کھڑے ہوکر کہے پھرطاقت نہ رہے توبیٹھ جائے، آج کل اکثر لوگ اس کاخلاف کرتے ہیں ذراتکلیف ہوئی اور نماز بیٹھ کر پڑھ لی اور سیدھے کھڑے ہوکرگھرکو راہی ہوئے، یوں نمازیں قطعاً باطل ہوتی ہیں بلکہ جتنی دیر جس قدر اور جس طرح کھڑے ہونے کی قدرت ہو اتناقیام ہررکعت میں فرض ہے، یہ مسئلہ خوب یادرکھنے کاہے