مسئلہ ۹۸۷ تا ۹۸۹ :ازموضع سرنیاں ضلع بریلی مرسلہ امیرعلی صاحب قادری ۲ رجب ۱۳۳۱ھ
(۱) وضو،نماز، غسل، جماعت، لباس، نمازجنازہ، کفن، دفن، نکاح وغیرہ میں کتنے کتنے اور کون کون سے فرض، سنت، مستحب، واجب ہیں جس کے ترک سے نمازفاسد یامکروہ تنزیہی یاتحریمی یا کہ بطوردہرانے کے یاسجدہ سہو کے قابل ہوجاتی ہے یاکیاچیز ترک ہو جس سے امام نے دوبارہ جماعت شروع کی اب اور نئے آدمی شامل نہیں ہوسکتے ہیں اور کس ترک کے سبب سے اب نئے آدمی شامل ہوسکتے ہیں، اسی طرح غسل، جماعت، لباس، کفن، دفن، نکاح سب کاحال علیحدہ علیحدہ ترتیب وار تحریرفرمایاجائے۔
(۲) زیدتمباکو کھانے پینے کی اکثراشیاء باندھ کر نمازپڑھتاہے نماز ہوگی؟
(۳) زیداکثر رزائی ، کمبل، چادر کی گھوکی ڈال کرنمازپڑھتاہے ہوگی یانہیں؟ بیّنواتوجروا
الجواب
(۱) اس سوال کاجواب اگرمفصل لکھاجائے توکم ازکم دوہزارورق ہوں گے سائل کوچاہے علم سیکھے
یہ باتیں آجائیں گی، فرض کے ترک سے نمازفاسد ہوتی ہے اور واجب کے ترک سے مکروہ تحریمی، اور سنت مؤکدہ کاترک بہت براہے اورغیرمؤکدہ کے ترک سے مکروہ تنزیہی، اور مستحب کے ترک سے غیراولٰی، فرض کے ترک میں پڑھنا فرض ہے کہ پہلی نمازاصلاً نہ ہوئی اور اسی صورت میں نئے آدمی شامل ہوسکتے ہیں، اور واجب بھول کر چھوٹا توسجدہ سہو کاحکم ہے اور قصداً چھوڑا یابھول کرچھوٹا تھا مگر سجدہ سہو نہ کیا تو اعادہ واجب ہے اور سنت کے ترک میں سنت اور مستحب کے ترک میں مستحب، اور ان سب صورتوں میں نئے آدمی شامل نہیں ہوسکتے۔
(۲) ہاں نمازہوجائے گی مگربدبوآئے تو کراہت ہے۔
(۳) نمازمکروہ ہوگی جب تک ایک پلہ اس کادوسرے کندھے پرنہ ڈالاجائے، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۹۰ :ازکلکتہ دھرم تلانمبر۶ مرسلہ جناب مرزاغلام قادربیگ صاحب ۱۲ رمضان المبارک ۱۳۱۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مرد کو ریشمیں کپڑا پہن کرنماز کیسی ہے؟ اور جب امام باوصف معلوم ہوجانے حرمت کے لباس ریشمیں پہن کرامامت کیاکرے توساری جماعت کی نماز میں کراہت تحریمی کاوبال امام پرہوگایانہیں؟
الجواب
فی الواقع ریشمیں کپڑاپہن کرنمازمرد کے لئے مکروہ تحریمی ہے کہ اسے اتار کرپھرپڑھنا واجب
کما ھو معلوم من الفقہ فی غیر ما موضع
(جیسا کہ فقہ میں متعدد مقامات پرموجود ہے۔ت) شرح مقدمہ غزنویہ پھر فتاوٰی انقرویہ میں ہے:
تکرہ الصلٰوۃ فی ثوب الحریر وعلیہ ایضا لانہ محرم علیہ لبسہ فی غیرالصلٰوۃ ففیہا اولی فان صلی فیھا صحت صلاتہ لان النھی لایختص بالصلٰوۃ ۱؎ انتھی
ریشمی کپڑے میں اور اس کے اوپرنماز مکروہ ہے کیونکہ جب نماز کے علاوہ اسے پہننا حرام ہے تو نماز میں بطریق اولٰی حرام ہوگا، اگران میں نماز ادا کی توصحیح ہوگی کیونکہ نہی نماز کے ساتھ ہی مخصوص نہیں انتہی
اقول وقولہ وعلیہ ایضا مبتن علی قولھما من حرمۃ افتراش الحریر والا فھو جائز عندالامام الاعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ لان المحرم لبسہ لاسائر وجوہ الانتفاع۱؎ کما فی ردالمحتار وغیرہ نعم تکرہ الصلاۃ علیہ وان جاز افتراشہ لان الصلٰوۃ لیست موضع الترفہ وھذہ الکراھۃ تنزیھیا۔
اقول اس کاقول ''ریشمی کپڑے پربھی'' صاحبین کے اس قول پرمبنی ہے کہ ریشم کابچھونا بنانا بھی حرام ہے ورنہ امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نزدیک جائزہے کیونکہ ریشم کاپہننا حرام ہے باقی نفع کی صورتیں منع نہیں جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ میں ہے، ہاں اگرچہ اس کابچھونا بنانا جائز ہے مگر اس پرنماز مکروہ ہوگی کیونکہ نمازتعیش کامقام نہیں اور یہ کراہت تنزیہی ہوگی۔(ت)
جبکہ اﷲ عزوجل نے مرد کو ریشمیں کپڑاگھر میں پہننا حرام کیا تو خود اس کے دربار میں اسے پہن کرحاضر ہونا کس درجہ گستاخی وبے ادبی ہوگا، جوبات گھربیٹھ کرتنہائی میں کرناتو قانون سلطانی میں جرم ہو وہ خود بارگاہ سلطانی میں اس کے حضور کھڑے ہوکر کرنا کیسی صریح بیباکی اور بادشاہ کاموجب ِ ناراضی ہوگا والعیاذ باﷲ تعالٰی اور پُرظاہر کہ نماز امام کی یہ کراہت نماز مقتدیان کی طرف بھی سرایت کرے گی تو اُن سب کی نمازیں خراب وناقص ہونے کا یہی شخص باعث ہوا اور معاذاﷲ ارشاد حضرت مولوی قدس سرہ المعنوی کامصداق ٹھہر۱ ؎
بے ادب تنہا نہ خود را داشت بد
بلکہ آتش درھمہ آفاق زد
(بے ادب تنہا اپنے آپ کوہی تباہ نہیں کرتا بلکہ اس ایک کی بے ادبی تمام عالم کو برباد کردیتی ہے)
بعینہٖ یہی حکم ان سب چیزوں کاہے جن کاپہننا ناجائز ہے جیسے ریشمیں کمربندیامغرق ٹوپی یاوہ کپڑا جس پرریشم یا چاندی یا سونے کے کام کاکوئی بیل بُوٹا چارانگل سے زیادہ عرض کا ہو یا ہاتھ خواہ پاؤں میں تانبے سونے چاندی پیتل لوہے کے چھلّے یاکان میں بالی یابُندا یاسونے خواہ تانبے پیتل لوہے کی انگوٹھی اگرچہ ایک تارکی ہو یاساڑھے چارماشے چاندی یا کئی نگ کی انگوٹھی یاکئی انگوٹھیاں اگرچہ سب مل کر ایک ہی ماشہ کی ہوں کہ یہ سب چیزیں مردوں کوحرام وناجائز ہیں اور اُن سے نمازمکروہ تحریمی اور تانبے پیتل لوہے کے زیور توعورتوں کو بھی حرام ہیں انہیں پہن کر اُن کی نماز بھی مکروہ تحریمی، ان مسائل کی تفصیل ہمارے فتاوٰی میں ہے اﷲ عزوجل مسلمانوں کوہدایت فرمائے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۹۱ :ازبدایوں کچہری منصفی مرسلہ شیخ حامدحسین وکیل ۱۷ جمادی الاخری ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ انگریزی وضع کے کپڑے پہنناکیسا؟ اور ان کپڑوں سے نماز
ہوتی ہے یانہیں؟ اورہوتی ہے توبکراہت تحریمی یاتنزیہی یابلاکسی فساد کے؟ بیّنواتوجروا
الجواب
انگریزی وضع کے کپڑے پہننا حرام سخت حرام اشد حرام، اورانہیں پہن کرنمازمکروہ تحریمی قریب بحرام واجب الاعادہ کہ جائز کپڑے پہن کر نہ پھیرے توگنہگارمستحق عذاب والعیاذباﷲ العزیزالغفار سیدی علامہ اسمعیل نابلسی شرح درر و غرر پھرعلامہ عارف باﷲ عبدالغنی نابلسی قدس سرہما القدسی حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں فرماتے ہیں:
مافعلہ بعضعــہ۱ ارباب الحرف بدمشق لما زینت البلدۃ بسبب اخذ بلد من الافرنج من لبسھم زی الافرنج فی رؤسھم وسائر بدنھم وجعلھم اساری فی القیود وعرض ذلک فی البلدۃ علی زعم انہ حسن وھو والعیاذباﷲ کفرعلی الصحیح وخطأ عظیم علی القول المرجوع عـــہ۲ اعاذنااﷲ من الجھل المورد موارد السوء ۱؎۔
دمشق شہر کی خوبصورتی کے وقت بعض ارباب صنعت نے فرنگیوں سے شہر کی قبضہ میں لیتے وقت جشن مناتے ہوئے مذاق کے طور پر فرنگیوں کالباس سر اور جسم پر پہناکر (کچھ لوگوں کو) قید میں ڈالا اور شہر میں پھرا یا اور اس سے خوش ہوئے (اﷲ کی پناہ) یہ صحیح قول کے مطابق کفراور قول مرجوع پرخطأ عظیم ہے اﷲ تعالٰی جہالت کے ایسے برے مواقع سے محفوظ رکھے۔(ت)
(۱؎ الحدیقۃ الندیہ النوع الثامن من الانواع الستیں الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ /۲۳۰)
عــہ۱ ذکرہ فی النوع الثامن من المبحث الاول من القسم الثانی من الصنف الثانی اٰفات اللسان وھو نوع السخریہ۱۲منہ (م)
اسے نابلسی نے مبحث اول کی قسم ثانی کی نوع ثامن میں آفات زباں کی صنف ثانی کے تحت ذکرکیاہے اور یہ مذاق کی قسم ہے۱۲منہ(ت)
عــہ۲ ھکذا ھو بالعین فی نسختی الحدیقۃ ۱۲منہ (م)
میرے پاس جوحدیقہ کانسخہ ہے اس میں یہ لفظ ع کے ساتھ ہے۱۲منہ (ت)
مسئلہ ۹۹۲: از ملک اپربرہما چھاؤنی مٹکینہ مرسلہ حاجی ہادی یارخاں ۶صفر۱۳۱۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے حامیان دین اس مسئلہ میں کہ ایک آدمی ہے اس کے کپڑا بہت ہے لیکن آستینیں چڑھاکر کُہنی سے اوپر نمازپڑھتاہے، کچھ کراہت نماز میں آتی ہے یانہیں؟ اس کاجواب بمع حدیث شریف تحریرفرمائیے۔
الجواب
مکروہ ہے نمازپھیرنے کاحکم ہے، درمختارمیں ہے:
کرہ سدل ثوبہ وکرہ کفہ ای رفعہ ولولتراب کمشمرکم اوذیل۱؎۔
کپڑے کالٹکانا اسی طرح کپڑے کااٹھانا بھی مکروہ ہے اگرچہ کیچڑ کی وجہ سے ہو جیسے کوئی آدمی آستین اور دامن اٹھالے۔(ت)
حدیث صحیح میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
امرت ان اسجد علی سبعۃ اعضاء وان لااکف شعرا ولا ثوبارواہ الستۃ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما۳؎۔
مجھے سات اعضا پرسجدہ کاحکم دیاگیاہے اور اس بات کاحکم ہے کہ بال اکٹھے نہ کروں اور نہ کپڑا اٹھاؤں، اس روایت کو صحاح ستّہ نے حضرت عبداﷲبن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا(ت) واﷲ تعالٰی اعلم
(۳؎ صحیح مسلم باب اعضاء السجود مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ /۱۹۳)