مسئلہ ۹۷۳ تا ۹۷۴ :ازشہرکہنہ بریلی مسؤلہ محمدظہورمحمدصاحب ۱۲ شوال ۱۳۲۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱) بعض شخص نماز میں رکوع کے بعد سجدہ کوجاتے وقت دونوں ہاتھوں سے دونوں پائچوں کوگھٹنوں سے اوپرکوچھڑالیاکرتے ہیں یعنی ہرکعت میں ایساہی کرتے ہیں اس کی نسبت کیاحکم ہے؟
(۲) ہاتھوں کی کہنی کھول کو آستین اوپرکوچھڑھاکر نمازپڑھنے میں کس قدرنقصان ہے؟ کس درجہ کی وہ نماز ہوگی؟ زید کاخیال ہے وہ نماز مکروہ ہوئی مگر عمروکاخیال ہے کہ مکروہ نہیں ہوئی اور عمرو کاسوال ہے کہ اگرمکروہ ہوئی توصحت کے ساتھ بتلادیاجائے۔
مسئلہ ۹۷۵ تا ۹۷۶: ازبریلی مدرسہ منظرالاسلام مسؤلہ احسان علی مظفرپوری طالب علم بتاریخ ۱۳ شوال ۱۳۲۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱) نماز کے اندر اگرٹوپی گرجائے تو اٹھاناچاہئے یانہیں؟
(۲) امام قراء ت یارکوع کوکسی مقتدی کے واسطے درازکرسکتاہے یانہیں جبکہ مقتدی وضوکررہاہو یامسجد میں آگیاہو اور یہ امام کومعلوم ہوگیا کہ کوئی شخص ہے کہ عنقریب شریک ہوناچاہتاہے بایں صورت رکوع میں کچھ دیر کردے توجائز یانہیں؟
الجواب
(۱) اٹھالیناافضل ہے جبکہ باربارنہ گرے اور اگرتذلل وانکسار کی نیت سے سربرہنہ رہناچاہے تونہ اٹھانا افضل۔
درمختارمیں ہے:
سقط قلنسوتہ فاعادتھا افضل الا اذا احتاجت لتکویر او عمل کثیر۱؎
نمازی کی ٹوپی گرجائے تو اس کا اٹھانا افضل ہے مگر اس صورت میں کہ باندھنے کی حاجت ہو یاعمل کثیرلازم آرہاہو۔(ت)
الظاھر ان افضلیۃ اعادتھا حیث لم یقصد بترکھا التذلیل۲؎۔
ظاہریہی ہے کہ اس کا اٹھانا تب افضل ہے جب اس کے ترک میں تذلل کاارادہ نہ ہو۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب مکروہات الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۴۷۴)
(۲) اگر کسی خاص شخص کی خاطر اپنے کسی علاقہ خاصہ یاخوشامد کے لئے منظور تو ایک بار تسبیح کی قدر بھی بڑھانے کی ہرگزاجازت نہیں بلکہ ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا کہ
یخشی علیہ امرعظیم
یعنی اس پرشرک کا اندیشہ ہے کہ نماز میں اتنا عمل اس نے غیرخدا کے لئے کیا اور اگرخاطر خوشامد منظورنہیں بلکہ عمل حسن پر مسلمان کی اعانت( اور یہ اس صورت میں واضح ہے کہ یہ اس آنے والے کو نہ پہچانے یاپہچانے اور اس کا کوئی تعلق خاص اس سے نہ ہو نہ کوئی غرض اس سے اٹکی ہو) تورکوع میں دوایک تسبیح کی قدربڑھادینا جائز بلکہ اگرحالت یہ ہے کہ یہ ابھی سراٹھائے لیتاہے تووہ رکوع میں شامل ہونے نہ ہونے میں شک میں پڑجائے گا تو بڑھادینا مطلوب اور جوابھی نمازمیں نہ ملے گا مسجد میں آیا ہے وضو وغیرہ کرے گا یاوضوکرتا رہے اس کے لئے قدرمسنون پرنہ بڑھائے بلکہ اگر بڑھائے موجب ثقل حاضرین نماز ہوگا توسخت ممنوع وناجائز،
(یہ مسئلہ کتب فقہ میں تحریر ہے، شامی نے اسے صفت صلوٰۃ میں تفصیلاً بیان کیا اور جوکچھ میں نے بیان کریاہے یہ تحقیق کاعطرونچوڑ ہے۔(ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۷۷: یکم ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ زید نے منع کرنے پر کہ آستین چڑھے ہوئے سے نمازنہ پڑھاکرو آستین اُتارلیاکرو، جواب دیا کہ کس کاقول ہے، کس حدیث میں ہے اور اس کا راوی کون ہے؟
الجواب
رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاارشاد ہے، صحیحین کی حدیث ہے، عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما راوی ہیں، اور جاہل کو ایسے سوالات نازیبا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۷۸ :ازبریلی محلہ ذخیرہ مسؤلہ مسعود حسین ۲۹صفر۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر دھوبی کپڑابدل کرلائے تو اس کو پہن کرعورتوں کونماز پڑھنا جائز ہے یانہیں؟ اور جوڑا باندھ کرنمازپڑھنا جائز ہے یانہیں؟
الجواب
بدلاہواکپڑا پہننا مردوعورت سب کو حرام ہے اور اس سے نمازمکروہ تحریمی، جوڑا باندھنے کی کراہت مرد کے لئے ضرور ہے، حدیث میں صاف نھی الرجل۱؎ہے،عورت کے بال عورت ہیں پریشان ہوں گے توانکشاف کاخوف ہے اور چوٹی کھولنے کااسے غسل میں بھی حکم نہ ہوا کہ نماز میں کف شعر گندھی چوٹی میں ہے جب اس میں حرج نہیں جوڑے میں کیا حرج ہے، مرد کے لئے ممانعت میں حکمت یہ ہے کہ سجدے میں وہ بھی زمین پر گریں اور اس کے ساتھ سجدہ کریں
کما فی المرقاۃ وغیرہ
(جیسا کہ مرقات وغیرہ میں ہے۔ت) اور عورت ہرگز اس کے مامور نہیں، لاجرم امام زین الدین عراقی نے فرمایا:
ھو مختص بالرجال دون النساء
(یہ مردوں کے ساتھ مخصوص ہے نہ کہ عورتوں کے لئے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
( ۱؎ المعجم الکبیر حدیث۵۱۳ مروی عن ام سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۲۳ /۲۵۲)
مسند احمد بن حنبل حدیث ابی رافع رضی اﷲ عنہ مطبو عہ دارالفکر بیروت ۶ /۸)
ف: حدیث کے الفاظ یوں ہیں:
نھی النبی صلی اﷲ علیہ وسلم ان یصلی الرجل ورأسہ معقوصٌ۔نذیراحمد
مسئلہ ۹۷۹: از موضع مانیاوالہ ڈاکخانہ قاسم پورگڈھی ضلع بجنور پرگنہ افضل گڑھ مرسلہ سید کفایت علی ولد حمایت علی ۳ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
حضورکی مسجدمیں ایک مرتبہ نماز عشاء کی پڑھ رہاتھا سرپرچادراوڑھے ہوئے تھا اور چادربدن پرقائم رہی مگر سرپراترکرکندھے پرگرگئی تھی، میں نے یہ مسئلہ سنا بھی نہیں تھا آپ کے خلیفہ مولوی امجدعلی صاحب نے یہ فرمایا اگرچادر رکوع میں یاکھڑے ہونے سے گرجائے توہاتھ سے اشارہ کرکے سرپررکھ لینی چاہئے اگرنہیں رکھے گا تو نماز مکروہ ہوگی اور بھیتر چادراوڑھنے کے ٹوپی کے دوپٹہ بندھا ہواتھا جیسا کہ انہوں نے بتایا تھا ویساخاکسار عمل میں لایاتھا مگرغریب خانہ آکرجونمازیوں کودیکھا تو وہ چادر یارضائی سرکے اوپر سے نہیں اوڑھتے بلکہ کاندھے پر اوڑھتے ہیں میں نے اُن سے کہا کہ چادر نماز پڑھتے میں سرپرسے اوڑھنی چاہئے اگرسرپر گرجائے توہاتھ سے سر پررکھ لینی چاہئے انہوں نے کہا نماز پڑھتے میں چادر سرپر رکھے گا نماز نہیں ہوگی، اب اس مسئلہ کاخواستگارہوں تحریرکیجئے۔ بینوا توجروا۔
الجواب
ابونعیم نے عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاینظر اﷲ الٰی قوم لایجعلون عمائمھم تحت ردائھم یعنی فی الصلٰوۃ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اﷲ تعالٰی اُس قوم کی طرف نظررحمت نہیں فرماتا جونماز میں اپنے عمامے اپنی چادروں کے نیچے نہیں کرتے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ الفردوس بمأثور الخطاب حدیث۷۷۷۳ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ۵ /۱۴۶)
مسئلہ ۹۸۰ :از سرولی کلاں ڈاکخانہ کچھا ضلع نینی تال مرسلہ محمد حسین خورد ۱۵ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرسرپررومال باندھ کرنماز پڑھی جائے تو ہوسکتی ہے یا نہیں؟ اور بغیر ٹوپی کے رومال بندھاجائے تونماز ہوسکتی ہے یانہیں؟ بیّنوا توجروا
الجواب
رومال اگربڑا ہو کہ اتنے پیچ آسکیں جوسرکوچھپالیں تووہ عمامہ ہی ہوگیا، اور چھوٹا رومال جس سے صرف دوایک پیچ آسکیں لپیٹنا مکروہ ہے، اور بغیر ٹوپی کے عمامہ بھی نہ چاہئے نہ کہ رومال، حدیث میں ہے:
فرق مابیننا وبین المشرکین العمائم علی القلانس۱؎۔
ہم میں اور مشرکوں میں ایک فرق یہ ہے کہ ہمارے عمامے ٹوپیوں پرہوتے ہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
( ۱؎ سنن ابواداؤد باب فی العمائم مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۰۸)