Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
49 - 158
باب مکروہات الصّلٰوۃ

(مکروہات نماز کا بیان)
مسئلہ ۹۷۲ :ازکلکتہ فوجداری بالاخانہ دکان ۳۶    مرسلہ جناب مرزاغلام قادربیگ صاحب ۲۸/ذیقعد ۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام کا دوستونوں کے بیچ میں اور مقتدیوں سے تین گرہ اونچی جگہ پرکھڑاہونا کیساہے؟ بیّنواتوجروا
الجواب

امام کا دوستونوں کے بیچ میں کھڑا ہونامکروہ ہے۔

ردالمحتارمیں ہے:
فی معراج الدرایۃ من باب الامامۃ الاصح ماروی عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال اکرہ للامام ان یقوم بین الساریتین اوزاویۃ اوناحیۃ المسجد اوالی ساریۃ لانہ بخلاف عمل الامۃ۱؎۔
معراج الدرایۃ کے باب الامامت میں ہے کہ اصح روایت کے مطابق امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے یہی منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: میں امام کادوستونوں کے درمیان یازاویہ یامسجد کی ایک جانب یا ستون کی طرف کھڑاہونا مکروہ جانتاہوں کیونکہ یہ اُمتِ محمدیہ کے عمل کے خلاف ہے۔(ت)
 ( ۱؎ ردالمحتار        باب مکروہات الصلوٰۃ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۴۷۸)
اسی طرح امام کاتمام مقتدیوں سے بلندجگہ میں ہونا بھی مکروہ۔ سنن ابی داؤدمیں حضرت حذیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
اذا ام الرجل القوم فلایقم فی مکان ارفع من مقامھم اونحوذٰلک۱؎۔
یعنی جب کوئی شخص نمازیوں کی امامت کرے تو اُن کے مقام سے اُونچی جگہ میں نہ کھڑاہو۔
 (۱؎ سنن ابوداؤد    باب الامام یقوم مکانا ارفع من مکان القوم        مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱ /۸۸)
ابوداؤد وابن حبان وحاکم حضرت ابومسعودرضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی:
وھذا لفظ الحاکم فی مستدرکہ ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نھی ان یقوم الامام فوق و یبقی الناس خلفہ۲؎۔
حاکم کی مستدرک میں یہ الفاظ ہیں کہ حضور پرنورسیّدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ امام اونچا کھڑاہو اور مقتدی نیچے رہیں،
 (۲؎ المستدرک علی الصحیحین    نہی النبی صلی اﷲ علیہ وسلم ان یقوم الامام الخ    مطبوعہ المطبوعات الاسلامیہ بیروت    ۱ /۲۱۰)
پھر ہمارے ائمہ مذہب رضی ا ﷲ تعالٰی عنہم نے ظاہرالروایہ میں اس کراہت بلندی وپستی کو کسی مقدار معین مثلاً ایک ذراع شرعی وغیرہ پرموقوف نہ مانا بلکہ جس قدرسے امام وقوم کامقام میں امتیاز واقع ہو مطلقاً باعث کراہت جانا اور اسی کوامام مالک العلماء ابوبکرمسعودکاشانی قدس سرہ الربانی نے بدائع میں صحیح اور امام محقق علی الاطلاق کمال الدین محمد بن الہمام صاحب فتح القدیر وغیرہ محققین نے اوجہ وارجح فرمایا اوریہی اطلاق احادیث کا مفاد، تو اسی پرفتوٰی اور اسی پر اعتماد، ولہٰذا منیہ و نقایہ و جامع الرموز وغیرہا میں حکم کراہت کو مطلق رکھا،
درمختارمیں ہے:
کرہ انفراد الامام علی الدکان للنھی و قدر الارتفاع بذراع ولاباس بما دونہ وقیل مایقع بہ الامتیاز وھو الاوجہ ذکرہ الکمال وغیرہ۳؎۔
امام کااونچی جگہ تنہا کھڑاہونا مکروہ ہے کیونکہ اس پرنہی وارد ہے اور اونچائی کی مقدار ایک ذراع ہے اس سے کم ہو تو کوئی حرج نہیں، بعض کی رائے میں اتنی اونچائی مکروہ ہے جس سے امتیاز پیداہو، یہی مختار ہے کمال وغیرہ نے اسے ذکرکیا۔(ت)
 (۳؎ درمختار        باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا        مطبوعہ مجتبائی دہلی بھارت        ۱ /۹۲)
ردالمحتارمیں ہے:
قولہ وقیل الخ ھو ظاھرالروایۃ کما فی البدائع قال فی البحر والحاصل ان التصحیح  قد اختلف والاولی العمل بظاھر الروایۃ واطلاق الحدیث۱؎۱ھ و کذا رجحہ فی الحلیۃ۔
قولہ وقیل الخ یہی ظاہر روایت ہے جیسا کہ بدائع میں ہے، بحرمیں کہاہے الغرض تصحیح میں اختلاف ہے لیکن ظاھر روایت اور اطلاق حدیث پرعمل بہترہے ۱ھ حلیہ میں اسی کو ترجیح ہے۔
 ( ۱؎ ردالمحتار        باب مایفسد الصلوٰۃ الخ        مصطفی البابی مصر        ۱ /۴۷۸)
امام ملک العلماء ابوبکربدائع میں فرماتے ہیں:
الصحیح جواب ظاھر الروایۃ لماروی ان حذیفۃ بن الیمان رضی اﷲ تعالٰی عنھما قام بالمدائن یصلی بالناس علی دکان فجذبہ سلمان الفارسی رضی اﷲ تعالٰی عنہ ثم قال ما الذی اصابک اطال العھد ان نسیت اما سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یقول لایقوم الامام علی مکان انشر مما علیہ اصحابہ وفی روایۃ اماعلمت ان اصحابک یکرھون ذلک فقال تذکرت حین جذبتنی۲؎۔
ظاہرالروایہ کاجواب صحیح ہے کیونکہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے بارے میں مروی ہے کہ وہ مدائن میں نمازپڑھانے کے لئے اونچی جگہ کھڑے ہوتے تو حضرت سلمان فارسی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے انہیں نیچے کھینچا اور فرمایا کیاہوگیا کیاوقت زیادہ گزرگیا ہے یاآپ بھول گئے؟ کیا آپ نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ امام ایسی جگہ کھڑانہ ہو جہاں وہ اپنے ساتھیوں سے جُداہوجائے۔ دوسری روایت کے الفاظ میں ہے کہ کیا آپ نہیں جانتے کہ تمہارے ساتھی اس بات کو پسند نہیں کرے، حضرت حذیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے کہا مجھے اس وقت یہ بات یاد آگئی جب تم نے مجھے کھینچا۔(ت)
 (۲؎ بدائع الصنائع    فصل وامابیان مایستحب فیہا ومایکرہ    مصطفی البابی مصر     ۱ /۲۱۶)
منیہ میں ہے:
یکرہ ان یقوم ینفرد فی مکان اعلی من مکان القوم اذا لم یکن بعض القوم معہ ۱؎۔
یہ مکروہ ہے کہ امام اکیلا ایسی جگہ کھڑا ہو کہ قوم سے بلند ہوجبکہ اس کے ساتھ کچھ لوگ بھی نہ ہوں۔(ت)
 ( ۱؎ منیۃ المصلی    بحث یکرہ ان یصلی علی بساط فیہ تصاویر    مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور    ص۳۶۶)
نقایہ کے مکروہات الصلاۃ میں ہے:
وتخصیص الامام بمکان
 (امام کا جگہ مخصوص کرنا۔ت)
شرح علامہ شمس الدین محمدمیں ہے:
 (تخصیص الامام) ای انفرادہ (بمکان) امابان یکون مقامہ اعلی اواسفل من مکان القوم۲؎ الخ ویأتی تمامہ۔
 (تخصیص امام سے مراد) اس کا الگ ہونا ہے (بمکان) یاتو اس کامقام قوم سے اوپر ہوگا یانیچے ہوگا الخ اس کی تفصیل آرہی ہے(ت)
 (۲؎ جامع الرموز         فصل مایفسد الصلوٰۃ        مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران    ۱ /۱۹۴)
ہمارے مذہب کے قواعد مقررہ سے ہے کہ
عند اختلاف الفتیا
(جب فتوٰی میں اختلاف ہو۔ت) ظاہرالروایۃ پرعمل واجب ہے، بحرالرائق میں ہے:
اذا اختلف التصحیح وجب الفحص عن ظاھرالروایۃ والرجوع الیھا۳؎۔
جب تصحیح اقوال میں اختلاف ہو توظاہرالروایۃ کی تلاش اور اس کی طرف رجوع واجب ہوتاہے (ت)
 (۳؎ بحرالرائق            باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا     مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۲ /۲۶)
اور علماء فرماتے ہیں جب روایت ودرایت متطابق ہوں توعدول کی گنجائش نہیں۔

علامہ حلبی نے غنیہ میں فرمایا:
لایعدل عن الدرایۃ ماواقفتھا روایۃ۴؎۔
اس درایت سے اعراض نہیں کیاجائے گا جو روایت کے موافق ہو۔(ت)
 (۴؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی     واجبات الصلوٰۃ    مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور        ص۲۹۵)
یہاں جبکہ یہی ظاہرالروایۃ اور اسی کے مطابق دلیل وروایت تولاجرم قول یہی ہے کہ
ادنی مابہ الامتیاز
(جس سے کم ازکم امتیاز پیداہوجائے۔ت) بلندی بھی مکروہ ہے ہاں ایسا قلیل تفاوت جس سے امتیاز ظاہرنہ ہو عفو ہے
فان فی اعتبارہ حرجاوالحرج مدفوع بالنص
 (کیونکہ اس کے اعتبار کرنے میں حرج وتنگی ہے اور تنگی نصوص کی وجہ سے مدفوع ہے۔ت) یونہی اگرپہلی صف امام کے سات ہوباقی صفیں نیچی توبھی مذہب اصح میں کچھ حرج نہیں
کماقدمنا عن المنیۃ وغیرھا وقال فی الدر المختار لم یکرہ لوکان معہ بعض القوم فی الاصح۱؎۱ھ۔
جیسا کہ ہم نے منیہ وغیرہ کے حوالے سے ذکرکیاہے اور درمختارمیں فرمایا ہے کہ اصح قول کے مطابق اگرامام کے ساتھ کچھ لوگ ہوں توکراہت نہ ہوگی۱ھ
 ( ۱؎ درمختار            باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت    ۱ /۹۲)
اقول وربما یشیرالیہ مافی حدیث الحاکم ویبقی الناس خلفہ فافھم۔
اقول اس کی طرف حدیث حاکم کے یہ الفاظ اشارہ کرتے ہیں''اور لوگ اس کے پیچھے ہوں'' اس کوسمجھ ۔ (ت)

اورشک نہیں کہ تین گرہ بلندی قطعاً ممتاز وباعث امتیاز ہے کہ ہرشخص بنگاہِ اولیں فوراً تفاوت بین جان لے گا تومذہب معتمد پر اس کی کراہت میں شبہہ نہیں بلکہ علما تصریح فرماتے ہیں کہ امام کے لئے تخصیص مکانی کراہت میں یہ صورت بھی داخل کہ مثلاً وہ مکان مسقف میں ہو اور مقتدی صحن میں، شرح نقایہ میں بعد عبارت مذکورہ ہے:
وامابان یکون فی صُفّۃ، وھم فی وسط الدار مثلا کما فی الجوھر وامابان یقوموا فی المسجد والامام فی طاق یتخذ فی المحراب۲؎۔
امام چھت میں ہو اور لوگ صحن کے درمیان، جیسا کہ جواہرمیں ہے یالوگ مسجد میں ہوں اور امام طاق میں ہوجومحراب میں بنایاگیاہو۔(ت)
 ( ۲؎ جامع الرموز        فصل مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران    ۱ /۱۹۴)
یہاں تک کہ امام مقتدیوں سے تقدیم کوفرماتے ہیں یہ بھی تخصیص مکانی ہے اگرشریعت مطہرہ میں اس کاحکم نہ آتا مکروہ ہوتا، علامہ برجندی نے شرح نقایہ میں فرمایا:
یدخل فی تخصیص الامام بمکان قیامہ فی الطاق ای المحراب بحیث یکون قدماہ فیہ والتقدم علی القوم وان کان تخصیصالہ بمکان لکنہ مستثنی شرعا۳؎۔
امام کے لئے تخصیص مکان میں یہ صورت بھی شامل ہے جب وہ طاق یعنی محراب میں اس طرح کھڑا ہو کہ اس کے قدم محراب کے اندرہوں، امام کاقوم سے مقدم ہونابھی اگرچہ تخصیص مکان میں شامل ہے مگر اس کی شریعت نے اجازت دی ہے۔(ت)
 (۳؎ البرجندی شرح مختصر الوقایۃ    فصل مایکرہ فی الصلوٰۃ          مطبوعہ مکتبہ مطبع منشی نولکشور لکھنؤ، بھارت    ۱ /۱۳۰)
جب ایسے فرق کوبھی تخصیص مکانی ٹھہراتے ہیں حالانکہ مکان واحد اور زمین ہموار ہے جس میں فی نفسہٖ اصلاًکوئی فرق وامتیازنہیں تو مثلاً کرسی، مکان یا چبوترہ کی بلندی اگرچہ دوتین ہی گرہ ہو بدرجہ اولٰی تخصیص مکانی باعث کراہت ہوگی کہ یہاں نفس مکان میں تفرقہ وتفاوت موجود اور دالان وصحن کے فرق میں توسرے سے درجہ ہی بدل گیا تویہ سب صورتیں،
ارشاد امام علام صدرالشریعۃ قدس سرہ وتخصیص الامام بمکان
 (امام کاجگہ مخصوص کرنا۔ت) میں داخل ہیں
جزاہ اﷲ خیر جزاء
 (کیادولفظوں میں تمام صور کااحاطہ فرمالیا اور بہت نزاعوں کاتصفیہ کردیا فالحمد ﷲ رب العٰلمین پس ثابت ہوا کہ جہاں دالان ِ مسجد کی کرسی صحن مسجد سے بلندی ممتاز رکھتی ہو جیسا کہ اکثرمساجد میں ہے وہاں امام کا دوستونوں کے درمیان کھڑاہونا جیسا کہ عوام ہند میں مشاہد ہے نہ صرف ایک کراہت بلکہ تین کراہتوں کاجامع ہوگا:
اوّلاً :یہی بین الساریتین قیام امام،

ثانیاً: مقتدیوں پربلندی ممتاز،

ثالثاً:اس کا زیرسقف اور مقتدیوں کاصحن پرہونا۔
ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالٰی ولی التوفیق وھو سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ، اتم واحکم۔
یہی تحقیق مناسب ہے اور اﷲ تعالٰی توفیق کامالک ہے وہ پاک وبلند زیادہ جاننے والا اور اس کا علم اجل واعلٰی ہے۔(ت)
Flag Counter