مسئلہ ۹۶۹ :از میرٹھ لال کرتی بازار مرسلہ حاجی شیخ علاء الدین صاحب رئیس ۲۵/ربیع الآخر شریف ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس بارہ میں کہ ایک امام مسجد میں تراویح پڑھاتاہے اور ایک سامع حافظ بھی اس کی تصحیح کے واسطے مقرر ہے امام اس کی تصحیح سے فائدہ اٹھاتاہے اب کوئی حافظ بھی امام کو اپنے خیال کے موافق لقمہ دیتاہے جوکبھی غلط اور کبھی صحیح ثابت ہوتاہے اور ایسا بھی ہوتاہے کہ سامع اپنی یادداشت کے موافق اس دوسرے بتانے والے کی تردید بھی کرتاہے اور امام اس شش وپنج میں پڑجاتاہے کہ کس کاقول ماناجائے غرض کہ امام کوکئی شخصوں کے لقمہ دینے سے اور زیادہ شکوک پیداہوتے ہیں اور پریشان ہوکرمعمول سے زیادہ غلطی کرنے لگتاہے، چنانچہ یہ بات بارہاتجربہ سے ثابت ہوچکی ہے، علاوہ ازیں اکثرنوجوان ایسے ہوتے ہیں جومحض اپنی یادجتانے کے واسطے ذراذرا شبہے پرلقمہ دیتے ہیں اور قاری کوپریشان کرتے ہیں اور بعض اوقات امام اور نئے بتانے والے میں غلط بتانے پر جھگڑا بھی ہوتاہے اور قاری ملامت کرتاہے کہ کیوں غلط بتایا جس کے باعث نماز میں بے لطفی پیدا ہوتی ہے، ان امور پر لحاظ فرماکر علمائے کرام اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ اور حفّاظ بعد سلام اپنے شکوک کااظہارفرمائیں اگرفی الواقع وہ غلطی نکلے گی اور اس کی وجہ سے نماز میں نقصان کچھ واقع ہوگا تونماز دہرالی جائے گی اور یہ بھی ممکن ہے کہ فقط کراہت کی وجہ سے نماز دہرائی جائے؟ ایسی صورتوں میں ان حفاظ کو باوجود اپنے شک کے کہ قاری غلط پڑھتاہے سکوت کرنے میں کچھ گناہ تولازم نہیں آتا خصوصاً ایسی صورت میں کہ جب ان کو ایسے شبہات کے موقع پر جس سے نماز میں قطعاً فسادپیداہوتاہو، بولنے کی اجازت بھی دے دی جائے کیونکہ اگرحافظ عالم بھی ہو تو ایسے فساد معنی پراس کوکماحقہ آگاہی ہوجائے گی اور ایسے مواقع میں شبہۃً نہیں بلکہ یقینا اس کو معلوم ہوتاہے کہ یہ موقع فسادنماز کاہے بیّنواتوجروا
الجواب
یہاں چندامور ہیں جن کے علم سے حکم واضح ہوجائے گا:
(۱) امام کوفوراً بتانامکروہ ہے، ردالمحتارمیں ہے:
ہاں اگر وہ غلطی کرکے رواں ہوجائے تو اب نظر کریں اگر غلطی مفسد معنی ہے جس سے نماز فاسد ہوتو بتانا لازم ہے اگرسامع کے خیال میں نہ آئی ہرمسلمان کاحق ہے کہ بتائے کہ اس کے باقی رہنے میں نماز کافساد ہے اور دفع فسادلازم اور اگرمفسدِمعنی نہیں توبتاناکچھ ضرورنہیں بلکہ نہ بتاناضرور ہے جبکہ اس کے سبب امام کو وحشت پیدا ہو
فان الامر بالمعروف یسقط بالایحاش کما فی الفتاوی العلمگیریۃ وغیرھا
(وحشت پیدا کرنے والا امربالمعروف ساقط ہوجاتاہے جیسا کہ فتاوٰی عالمگیری وغیرہ میں ہے۔ت) بلکہ بعض قاریوں کی عادت ہوتی ہے کہ غیرشخص کے بتانے سے اور زیادہ اُلجھ جاتے اور کچھ حروف اس گھبراہٹ میں اُن سے ایسے صادر ہوجاتے ہیں جس سے نماز فاسد ہوتی ہے اس صورت میں اوروں کاسکوت لازم ہے کہ اُن کا بولنا باعث فساد نماز ہوگا۔
(۲) قاری کوپریشان کرنے کی نیت حرام ہے، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
بشرواولاتنفروا ویسروا ولاتعسروا ۱؎۔
لوگوں کو خوشخبریاں سناؤ نفرت نہ دلاؤ، آسانی پیداکرو تنگی نہ کرو۔(ت)
( ۱؎ صحیح البخاری باب ماکان علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم یتخولہم بالموعظۃ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۶)
اور بیشک آج کل بہت حفاظ کایہ شیوہ ہے یہ بتانا نہیں بلکہ حقیقۃً یہود کے اس فعل میں داخل ہے
لاتسمعوا لھذا القراٰن والغوافیہ۲؎
(اس قرآن کونہ سنو اس میں شور ڈالو۔ت)
( ۲؎ القرآن ۴۱ /۲۶ )
(۳) اپنا حفظ جتانے کے لئے ذراذرا شبہ پرروکنا ریاء ہے اور ریاء حرام ہے خصوصاً نمازمیں۔
(۴) جبکہ غلطی مفسد نماز نہ ہو تومحض شبہ پر بتاناہرگزجائزنہیں بلکہ صبر واجب، بعد سلام تحقیق کرلیاجائے، اگرقاری کی یادصحیح نکلے فبہا اور ان کی یادٹھیک ثابت ہوئی توتکمیل ختم کے لئے حافظ اتنے الفاظ کااور کسی رکعت میں اعادہ کرلے گا حرمت کی وجہ ظاہر ہے کہ فتح حقیقۃً کلام ہے اور نماز میں کلام حرام ومفسدنماز، مگر بضرورت اجازت ہوئی جب اسے غلطی ہونے پرخودیقین نہیں تو مبیح میں شک واقع ہوا اور محرم موجود ہے لہٰذا حرام ہو ا جب اسے شبہ ہے توممکن کہ اسی کی غلطی ہو اور غلط بتانے سے اس کی نمازجاتی رہے گی اور امام اخذ کرے گا تو اس کی اور سب کی نمازفاسد ہوگی۔ توایسے امرپراقدام جائزنہیں ہوسکتا۔
(۵) غلطی کامفسدمعنی ہونامبنائے افسادنماز ہے ایسی چیز نہیں جسے سہل جان لیاجائے، ہندوستان میں جو علماء گنے جاتے ہیں ان میں چند ہی ایسے ہوسکیں کہ نماز پڑھتے میں اس پرمطلع ہوجائیں ہزارجگہ ہوگا کہ وہ افساد گمان کریں گے اور حقیقۃً فساد نہ ہوگا جیسا کہ ہمارے فتاوٰی کی مراجعت سے ظاہرہوتاہے۔ ان امور سے حکم مسئلہ واضح ہوگیا، صورت فساد میں یقینا بتایاجائے ورنہ تشویش قاری ہو تونہ بتائیں اور خود شبہ ہو تو بتانا سخت ناجائز، اور جو ریاء وتشویش چاہیں اُن کو روکاجائے نہ مانیں تو اُن کومسجد میں نہ آنے دیاجائے کہ موذی ہیں اور موذی کادفع واجب۔
درمختارمیں ہے:
ویمنع کل موذ ولوبلسنانہ ۱؎
(ہر ایذادینے والے کومسجد سے منع کیاجائے گا اگرچہ وہ زبان سے ایزادے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۷۰ :ازجلال پور ڈاک خانہ خداگنج ضلع شاہجہاں پور مرسلہ سید مشتاق علی صاحب ۱۶جمادی الاولٰی ۱۳۳۰ھ
ذات فیض سمات قبلہ ارباب علم وکعبہ اصحاب حلم کی ہمیشہ فدویوں کے سروں پرسایہ انداز رہے، بعد سلام نیاز وشوق قدم بوسی کے عرض پرداز ہوں کہ ایک مسئلہ میں ضرورت جناب کے حکم کی بموجب شرع شریف وحدیث نبوی کے ہے کہ اس میں ہم لوگوں کوکیاکرناچاہئے، ذیل کے سوال کا جواب بواپسی ڈاک، ہم لوگوں کو مکروہیت اور گناہ سے بچائیے، وہ یہ ہے کہ ایک صاحب نے نمازجمعہ پڑھاتے وقت مقتدی کالقمہ درمیان قرأت کے لیا اور پھر سجدہ سہو کیا تو اس حالت میں نماز ہوئی یانہیں؟ وجہ شک کے پیدا ہونے کی یہ ہوئی ہے کہ ایک دوسرے صاحب بمقام لکھنؤمیں نمازجمعہ پڑھانے کے لئے کھڑے ہوئے جو کہ کسی اسلامیہ اسکول کے غالباً منتہی طالب علم تھے اتفاق سے قرأت میں بھول گئے لہٰذا میں نے فوراً لقمہ دیا معاً انہوں نے نماز سلام کے ساتھ ترک کرکے دوبارہ نمازپڑھائی اور یہ کہا کہ فرضوں میں لقمہ دینا ناجائزہے فرضوں میں لقمہ دینے سے سجدہ سہو کیاجائے توبھی نماز نہیں ہوتی ہے، میری غلطی یہ ہوئی کہ میں نے اُن صاحب سے بالتشریح نہ دریافت کیا کہ اس کا کیاثبوت۔ علاوہ اس کے اُن صاحب نے یہ بھی کہا کہ بجزتراویح کے دوسری نماز فرض یا واجب کسی میں لقمہ دینابھی جائزنہیں لہٰذا اس کی بابت بواپسی جواب جلدسرفرازفرمائیے۔
الجواب
امام جب نماز یا قرأت میں غلطی کرے تو اسے بتانا لقمہ دینا مطلقاً جائزہے خواہ نماز فرض ہو یا واجب یاتراویح یانفل، اور اس میں سجدہ سہو کی بھی کچھ حاجت نہیں، ہاں اگربھولا اور تین بار سبحٰن اﷲ کہنے کی دیر چپکاکھڑا رہا توسجدہ سہو آئے گا جس نے لقمہ دینے کے سبب نیت توڑدی اس نے محض جہالت برتی اور مبتلائے حرام ہوا کہ بے سبب نیت توڑدینا حرام ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۷۱ : ازبنگلور ڈاکخانہ گجادھر گنج لائن مین اسٹیشن بکسر مسؤلہ حاجی عبداﷲخاں ۲۳/محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جمعہ کی نماز امام پڑھاتا ہو اور درمیان میں رک گیا لقمہ دیناچاہئے یانہیں؟ اور اگرلقمہ دیاگیا تو سجدہ سہو جائز ہے یانہیں؟ بیّنوا توجروا
الجواب
امام کو لقمہ دینا ہرنماز میں جائز ہے جمعہ ہو یا کوئی نماز، بلکہ اگر اس نے ایسی غلطی کی جس سے نماز فاسد ہوگی تولقمہ دینافرض ہے، نہ دے گا اور اس کی تصحیح نہ ہوگی تو سب کی نماز جاتی رہے گی اور لقمہ دینے سے سجدہ سہو نہیں آتا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔