اذ غلط فی القراء ۃ فی التراویح فترک سورۃ او اٰیۃ وقرأما بعدھا فالمستحب لہ ان یقرء المتروکۃ ثم المقروأۃ لیکون علی الترتیب۱؎۔
جب تراویح میں قرأت میں غلطی ہوجائے سورت یا آیت چھوڑدی اور اس کے بعد والی پڑھ لی تومستحب یہ ہے کہ پہلے متروکہ پڑھے پھرتلاوت کردہ، تاکہ ترتیب درست ہوجائے(ت)
اور ان تمام احکام میں جملہ مقتدی یکساں ہیں امام کو بتاناکسی خاص مقتدی کا حق نہیں، ارشادات حدیث و فقہ سب مطلق ہیں ابن عساکرنے سمرہ بن جندب رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی:
قال امرنا النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان نرد علی الامام۲؎۔
ہم کو نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے حکم دیا کہ امام پر اس کی غلطی رد کریں۔
(۲؎ المستدرک علی الصحیحین کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ /۲۷۰)
ابن منیع نے مسند اورحاکم نے مستدرک میں ابوعبدالرحمن سے روایت کی:
قال قال علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ من السنۃ ان تفتح علی الامام اذاستطعمک قیل لابی عبدالرحمٰن مااستطعام الامام قال اذا سکت۳؎۔
فرمایا: امیرالمومنین علی کرم اﷲ وجہہ، نے فرمایا سنت ہے کہ جب امام تم سے لقمہ مانگے تو اسے لقمہ دو، ابوعبدالرحمان سے کہاگیا امام کامانگنا کیا، کہا جب وہ پڑھتے پڑھتے چپ ہوجائے۔
(۳؎ المستدرک علی الصحیحین کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۲۷۰)
کتب مذہب میں
عموماً یجوز فتحہ علی امامہ
فرمایا جس میں ضمیر مطلق مقتدی کی طرف ہے کہ اسے امام کو بتانے کی اجازت ہے مسئلہ کی دلیل جوعلماء نے فرمائی وہ بھی تمام مقتدی کو شامل ہے۔بحرالرائق وغیرہ میں ہے:
لانہ تعلق بہ اصلاح صلاتہ لانہ لولم یفتح ربما یجری علی لسانہ مایکون مفسد اولاطلاق ماروی عن علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ اذاستطعمکم الامام فاطعموہ واستطعامہ سکوتہ ولھذا لوفتح علی امامہ بعد ماانتقل الی اٰیۃ اخری لاتفسد صلاتہ وھو قول عامۃ المشایخ لاطلاق المرخص۱؎۱ھ مختصرا۔
کیونکہ اس کے ساتھ اصلاح نماز کاتعلق ہے کیونکہ اگرلقمہ نہ دیا توبعض اوقات امام کی زبان پر ایسے کلمات جاری ہوجاتے ہیں جومفسدنماز ہیں، اور حضرت علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی کا اطلاق بھی یہی تقاضا کرتاہے جب امام تم سے لقمہ مانگے تواسے لقمہ دو، امام کا قرأت سے سکوت کرنا لقمہ طلب کرنا ہے اوریہی وجہ ہے کہ اگرامام نے دوسری آیت کی طرف انتقال کرلیا پھر لقمہ دیاگیاتونماز فاسد نہ ہوگی، اور یہی اکثرمشایخ کاقول ہے کیونکہ اجازت مرحمت فرمانے والی نصوص میں اطلاق ہے۱ھ اختصاراً (ت)
(۱؎ بحرالرائق باب مایفسدالصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۶)
حتی کہ بالغ مقتدیوں کی طرح تمیز داربچہ کابھی اس میں حق ہے کہ اپنی نماز کی اصلاح کی سب کو حاجت ہے قنیہ پھر بحرپھر ہندیہ میں ہے:
وفتح المراھق کالبالغ۲؎
(تمیزداربچے کالقمہ دینا بالغ کے لقمہ کے حکم میں ہے۔ت)
( ۲؎ فتاوٰی ہندیہ باب فیما ما یفسدالصلوٰۃ ومایکرہ فیہا نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۹۹)
قوم کا کسی کو سامع مقرر کرنے کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ اس کے غیر کو بتا نے کی اجازت نہیں اور اگر کوئی اپنے جاہلانہ خیال سے یہ قصد کرے بھی تو اس کی ممانعت سے وہ حق کہ شرع مطہر نے عام مقتدیوں کودیا کیونکر سلب ہوسکتاہے اور اس کے سبب کسی مسلمان پرتشدد یامسجد میں آنے سے ممانعت یامعاذاﷲ مسجد سے نکلوادینا سخت حرام ہے۔ اﷲ عزوجل فرماتاہے:
ولاتعدوا ان اﷲ لایحب المعتدین۳؎۔
زیادتی نہ کرو اﷲ دوست نہیں رکھتا زیادتی کرنے والوں کو۔
(۳؎ القرآن ۲ /۱۹۰)
اور فرماتاہے:
ومن اظلم ممن منع مسٰجد اﷲ ان یذکر فیہا اسمہ۴؎۔
اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اﷲ کی مسجدوں کوان میں نام خدا لینے سے روکے۔
(۴؎ القرآن ۲ /۱۱۴)
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اذٰی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ۵؎۔ رواہ الطبرانی فی المعجم الاوسط عن عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند حسن۔
جس نے کسی مسلمان کو ناحق ایذادی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی بیشک اس نے اﷲ عزوجل کوایذادی۔ اسے طبرانی نے معجم اوسط میں حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے بسند حسن روایت کیا۔(ت)
( ۵؎ الترغیب والترہیب من تخطی الرقاب یوم الجمعۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۵۰۴)
(مجمع الزوائد بحوالہ معجم اوسط باب فیمن یتخطی رقاب الناس الخ مطبوعہ دارالکتاب بیروت ۲ /۱۷۹)
اور دوسرے کو منع کرنا اور خود مرتکب ہونا دوسرا الزام ہے، اﷲ عزوجل فرماتاہے:
یاایھا الذین اٰمنوا لم تقولون مالا تفعلون ۵کبر مقتاعنداﷲ ان تقولوا مالاتفعلون۱؎o
اے ایمان والو! کیوں کہتے ہو جوخود نہیں کرتے اﷲ کوسخت ناپسند ہے یہ کہ کہو اور نہ کرو۔
(۱؎ القرآن ۶۱ /۳)
اس بیان سے جملہ مدارج سوال کاجواب منکشف ہوگیا بیشک محمود کو سب صورتوں میں عین نماز میں بتانے کا حق حاصل ہے کہیں وجوباً کہیں اختیاراً، جس کی تفصیل اوپرگزری اور بحال وجوب عینی خاموشی میں گناہ ہوگا خصوصاً اس حالت میں کہ عمرو غلط بتائے کہ اب تو بہت جلد فوراً فوراً صحیح بتانے کی طرف مبادرت واجب ہے کہ بتانا تعلیم و کلام تھا اور بضرورت اصلاح نماز جائز رکھاگیا اور غلط بتانے میں نہ اصلاح نہ ضرورت۔ تواصل پررہنا چاہئے تو عمرونے اگر قصداً مغالطہ دیا جب تویقینا اس کی نماز جاتی رہی اور اگرامام اس کے مغالطے کولے گا عام ازیں کہ امام نے غلط پڑھا ہو یاصحیح، تو ایک شخص خارج ازنماز کاامتثال یا اس سے تعلّم ہوگا اور یہ خود مفسد نماز ہے توامام کی نماز جائے گی اور اس کے ساتھ سب کی باطل ہوگی، لہٰذا اس فسادکاانسداد فوراً واجب ہے،
بحرالرائق میں ہے:
القیاس فسادھا بہ وانما ترک للحاجۃ فعند عدمھا یبقی الامر علی اصل القیاس۲؎۱ھ مختصرا۔
قیاس کے مطابق نماز اس کے ساتھ فاسد ہوجائے گی البتہ حاجت کی بناپر قیاس متروک ہے جب حاجت نہیں تومعاملہ اصل قیاس کے مطابق ہی ہوگا۱ھ اختصاراً(ت)
(۲؎ بحرالرائق باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۷)
اور اگرسہواً غلط بتایا توبظاہر حکم کتاب وقضیہ دلیل مذکوراب بھی وہی ہے
اقول مگرفقیر امیدکرتاہے کہ شرع مطہر ختم قرآن مجید فی التراویح میں اس باب میں تیسیر فرمائے کہ سامع کاخود غلطی کرنا بھی نادر نہیں اور غالباً قاری اسے لے لیتا یا اس کے امتثال کے لئے اوپر سے پھر عودکرتاہے تواگر ہرباربحال سہو فساد نماز کاحکم دیں اورقرآن مجید کااعادہ کرائیں حرج ہوگا والحرج مدفوع بالنص (دین میں تنگی کا مدفوع ہونا نص سے ثابت ہے۔ت) بہرحال یہ حکم قابل غورومحتاج تحریر تام ہے تواندیشہ فساد سے تحفظ کے لئے عمرو کے غلط بتانے کی حالت میں مطلقاً دوسروں کوصحیح بتانے کی طرف فوراً فوراً مبادرت چاہئے ۔ واﷲ سبحٰنہ تعالٰی اعلم۔