مسئلہ ۹۶۶ :از بریلی مدرسہ منظرالاسلام مسؤلہ مولانا حشمت علی صاحب طالب علم قادری رضوی ۲۹/محرم الحرام ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام نے
یایھا الذین اٰمنوا صلوا علیہ وسلّموا تسلیما
پڑھی مقتدی کے منہ سے عادۃً صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نکل گیا نماز فاسد ہوئی یانہیں؟
الجواب
اس میں جواب امام مقصودنہیں ہوتا بلکہ امتثال امرالٰہی، لہٰذا فساد نماز نہیں۔
مسئلہ ۹۶۷ :از میرٹھ لال کرتی کوٹھی حافظ عبدالکریم صاحب مرسلہ مولوی محمداحسان الحق صاحب ۲۷/رمضان ۱۳۲۹ھ۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں:
(۱) زید ایک مسجد کا امام تراویح میں قرآن مجید سناتاہے عمرو اسی مسجد کا مؤذن۔ مہتممان مسجد کی طرف سے زیدکاسامع مقررکیاگیاہے، محمودایک تیسراشخص ہے جو ہمیشہ یاکبھی کبھی اسی مسجد میں زیدکے پیچھے تراویح پڑھاکرتاہے اگرمحمود کے خیال میں زید(امام) نے کچھ غلط پڑھا اورعمرومقررکیا ہوا سامع سہواً یاعمداً خاموش رہا یا یہ کہ زیدنے صحیح پڑھا اور عمرونے سہواً یا عمداً غلط بتایا یا یہ کہ زید نے غلط پڑھا اور عمرونے بھی سہواً یاعمداً غلط بتایا تو ان تینوں صورتوں میں محمود شخص ثالث کوغلطی کی تصحیح کا اگرچہ وہ غلطی مفسدنماز نہ ہو حق حاصل ہے یا نہیں اور ایسی تصحیح اس کو حالت قرأت میں کرنی چاہئے یا بعد اختتام نماز کے وجوباً کرنی چاہئے یااختیاراً۔ قرآن مجید کے غلط پڑھے جانے کے غالب گمان ہونے کی حالت میں محمودکی خاموشی اس کے لئے گنہگار ہ ہونے کا باعث ہوگی یانہیں؟
(۲) شرع شریف میں امامت اور مؤذن کی طرح سماعت قرآن مجید کابھی کوئی منصب مقرر ہے یانہیں یعنی آیا یہ بات شرعاً جائز ہے کہ کوئی شخص قرآن مجید سننے کے لئے کسی طرف سے ایسا سامع مقررکیاجائے جس کی بلااجازت واذن دوسراشخص امام کو فتح نہ کرسکے۔ کسی مہتمم مسجد کا ایک ایسی بات کو جوشرعاً مستحسن واولٰی یاواجب ہواپنے ذاتی رسوخ اور تمکنت اور اعلٰی شخصیت کی وجہ سے حکماً بند کردینا یعنی درصورت خلاف ورزی حکم کے خلاف کرنے والے کو مسجد سے نکلوادینا یا آئندہ اس مسجدمیں نماز نہ پڑھنے کی ہدایت کرنا یا اور تشدد کرناشرعاً واخلاقاً کیسا ہے خصوصاً اس حالت میں کہ جس فعل کے ارتکاب سے دوسروں کو تشدد کے ساتھ روکاجاتاہو خود مانع اس کو انہیں تغیر کے ساتھ متعدد بارکرچکاہو۔ بیّنواتوجروا۔
الجواب
امام جب ایسی غلطی کرے جوموجب فسادنماز ہو تو اس کا بتانا اور اصلاح کرانا ہرمقتدی پرفرض کفایہ ہے ان میں سے جوبتادے گا سب پر سے فرض اُترجائے گا اور کوئی نہ بتائے گا توجتنے جاننے والے تھے سب مرتکب حرام ہوں گے اور نماز سب کی باطل ہوجائے گی،
وذٰلک لان الغلط لما کان مفسدا کان السکوت عن اصلاحہ ابطالا للصلاۃ وھو حرام بقولہ تعالٰی ولاتبطلوا اعمالکم ۱؎ ۔
وجہ یہ کہ غلطی جب مفسد ہو تو اس کی اصلاح کرنے پرخاموشی، نماز کے بطلان کا سبب ہے اور اﷲ تعالٰی کے اس ارشاد مبارک کی وجہ سے حرام ہے کہ ''تم اپنے اعمال کو باطل نہ کرو''۔ (ت)
( ۱؎ القرآن ۴۷ /۳۳)
اور ایک کابتانا سب پر سے فرض اس وقت ساقط کرے گا کہ امام مان لے اور کام چل جائے ورنہ اوروں پربھی بتانا فرض ہوگا یہاں تک کہ حاجت پوری اور امام کو وثوق حاصل ہو، بعض دفعہ ایسا ہوتاہے کہ ایک کے بتائے سے امام کا اپنی غلط یاد پر اعتماد نہیں جاتااور وہ اس کی تصحیح کو نہیں مانتا اور اس کامحتاج ہوتا ہے کہ متعدد شہادتیں اس کی غلطی پر گزریں تو یہاں فرض ہوگا کہ دوسرا بھی بتائے اور اب بھی امام رجوع نہ کرے تو تیسرا بھی تائید کرے یہاں تک کہ امام صحیح کی طرف واپس آئے،
وذٰلک لان الاصلاح ھھنا فرض و مالایتم الفرض الابہ فھو فرض اقول ونظیرہ ان الشھادۃ فرض کفایۃ فان علم الشاھد انہ اسرع قبولا عند القاضی وجب علیہ الا داء عینا و ان کان ھناک من تقبل شھادتہ ۲؎ کما فی الخانیۃ والفتح والوھبانیۃ و البحر والدر وغیرھا۔
اس لئے کہ یہاں اصلاح فرض ہے اور ہروہ چیز جس کے بغیر فرض مکمل نہ ہو وہ فرض ہوتی ہے اقول اس کی نظیر گواہی ہے جو فرض کفایہ ہے اگرکوئی گواہ جانتا ہے کہ اس کی گواہی قاضی کے ہاں زیادہ مقبول ہے تو اس پر ادائیگی شہادت لازم ہے اگرچہ وہاں ایسے گواہ ہوں جن کی گواہی قبول کی جاسکتی ہو خانیہ، فتح، وہبانیہ، بحر اور در وغیرہ۔(ت)
اورا گر غلطی ایسی ہے جس سے واجب ترک ہو کر نماز مکروہ تحریمی ہو تو اس کا بتانا ہرمقتدی پر واجب کفایہ ہے اگر ایک بتادے اور اس کے بتانے سے کاروائی ہوجائے سب پر سے واجب اترجائے ورنہ سب گنہگار رہیں گے،
فان قیل لہ مصلح اٰخر وھو سجود السہو فلایجب الفتح عینا قلت بلی فان ترک الواجب معصیۃ وان لم یاثم بالسھو و دفع المعصیۃ واجب ولایجوز التقریر علیہا بناء علی جابر یجرھا کمالایخفی۔
اگریہ کہاجائے کہ یہاں اصلاح کی دوسری صورت، بصورتِ سجدہ سہو موجود ہے تویہاں لقمہ دینا واجب نہ ہوگا، قلت کیوں نہیں، کیونکہ ترک واجب گناہ ہے اگرچہ امام سہو سے گناہگار نہیں ہوتا، اور گناہ سے بچناضروری ہے تومعصیت پراثبات اس لئے کہ کسی دوسرے سے اس کا ازالہ کرلیاجائے گا جائزنہیں جیسا کہ ظاہر ہے۔(ت)
اور اگر اس غلطی میں نہ فساد نماز ہے نہ ترک واجب، جب بھی ہرمقتدی کومطلقاً بتانے کی اجازت ہے ۱؎ ھو الصحیح کما نص علیہ فی الدر وغیرہ من الاسفار الغر (یہی صحح ہے جیسا کہ اس پر دروغیرہ میں تصریح ہے۔ت)
مگریہاں وجوب کسی پرنہیں لعدم الموجب اقول مگر دو صورتوں میں ایک یہ کہ امام غلطی کرکے خود متنبہ ہوا اور یاد نہیں آتا یادکرنے کے لئے رکا اگرتین بار سبحان اﷲ کہنے کی قدر رُکے گا نماز میں کراہتِ تحریم آئے گی اور سجدہ سہو واجب ہوگا،
فی الدر المختار اذا شغلہ الشک فتفکر قدر اداء رکن ولم یشتغل حالۃ الشک بقراء ۃ، وجب علیہ سجود السہو۲؎۔
درمختارمیں ہے جب کوئی شک میں پڑجائے اور وہ ایک رکن کی ادائیگی کے مقدار غورکرتارہے اور حالتِ شک میں قرأت میں مشغول نہ ہوا تو اس پرسجدہ سہو لازم ہوگا(ت)
تو اس صورت میں جب اُسے رُکا دیکھیں مقتدیوں پربتانا واجب ہوگا کہ سکوت قدرناجائزتک نہ پہنچے، دوسرے یہ کہ بعض ناواقفوں کی عادت ہوتی ہے جب غلطی کرتے ہیں اور یادنہیں آتا تواضطراراً اُن سے بعض کلمات بے معنی صادر ہوتے ہیں کوئی اُوں اُوں کہتاہے کوئی کچھ اور، اس سے نماز باطل ہوجاتی ہے تو جس کی یہ عادت معلوم ہے وہ جب رکنے پرآئے مقتدیوں پرواجب ہے کہ فوراً بتائیں قبل اس کے کہ وہ اپنی عادت کے حروف نکال کر نماز تباہ کرے،
وذٰلک لانہ اذن یکون صیانتہ عن البطلان وھی فریضۃ غیر ان وقوعہ مظنون للعادۃ لامقطوع بہ فینزل فیما یظھر الی الوجوب۔
وجہ یہ ہے کہ اس وقت اس کا بطلان سے بچانا ہے جوکہ فریضہ ہے لیکن عادت کی بنا پر اس کا وقوع صرف ظنی ہے قطعی نہیں ہے توموجودہ صورت میں یہ فرض سے مرتبہ وجوب پرآجائے گا۔(ت)
حلیہ میں ہے:
نص القاضی فی شرح الجامع الصغیر علی انہ الاصح وعللہ ھو وغیرہ بانہ لولم یفتح ربما یجری لسانہ مایکون مفسدا۱؎۱ھ
قاضی نے شرح جامع صغیرمیں اس کے اصح ہونے کی تصریح کی انہوں نے اور دیگرعلمانے علت یہ بیان کی ہے کہ اگر وہ لقمہ نہیں دیتا تو بعض اوقات امام کے زبان پر ایسے الفاظ جاری ہوجاتے ہیں جو نماز کے لئے مفسد ہوتے ہیں
( ۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
اقول ولایرد علیہ مافی الحلیۃ انہ کما یکرہ للامام الجاء القوم الی الفتح علیہ، یکرہ للمقتدی ان یفتح علیہ من ساعتہ، قال فی الذخیرۃ لانہ ربما یتذکر الامام من ساعتہ فتکون قراء تہ خلفہ قراء ۃ من غیرحاجۃ۲؎۱ھ فان ھذا حیث لم یخش الفساد اما اذا خشی کما ذکرنا فحاجۃ وای حاجۃ۔
اقول (میں کہتاہوں) یہاں وہ اعتراض واردنہیں ہوسکتا جو حلیہ میں ہے کہ جس طرح امام کا قوم کو لقمہ پرمجبورکرنا مکروہ ہے اسی طرح مقتدی کافی الفور امام کو لقمہ دینا بھی مکروہ ہے۔ ذخیرہ میں ہے اس لئے کہ بعض اوقات امام کو اسی وقت یاد پڑتاہے تو امام کے پیچھے مقتدی کی قرأت بغیر حاجت کے ہوگی۱ھ لیکن یہ وہاں ہے کہ جہاں فساد کاخوف نہ ہو، اگروہاں فساد کاخوف ہو جیسا کہ ہم نے ذکرکیاہے تو اب لقمہ کی حاجت ہوگی اور وہ کوئی بھی ہوسکتی ہے۔(ت)
( ۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
اقول اور ان دونوں صورتوں کے سوا جب تراویح میں ختم قرآن عظیم ہو تو ویسے بھی مقتدیوں کوبتانا چاہئے جبکہ امام سے نہ نکلے یا وہ آگے رواں ہوجائے اگرچہ اس غلطی سے نماز میں کچھ خرابی نہ ہو کہ مقصود ختم کتاب عزیز ہے اور وہ کسی غلطی کے ساتھ پورانہ ہوگا، یہاں اگرچہ یہ بھی ممکن ہے کہ اس وقت نہ بتائے بعد سلام اطلاع کردے امام دوسری تراویح میں اُتنے الفاظ کریمہ کاصحیح طورپر اعادہ کرلے مگر اولٰی بھی بتانا ہے کہ حتی الامکان نظم قرآن اپنی ترتیب کریم پرادا ہو۔