| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ) |
مسئلہ ۹۶۵ :ازکلکتہ فوجداری نمبر۳۶ مرسلہ جناب مرزاغلام قادربیگ صاحب ۳۰/رجب ۱۳۰۸ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرمقتدی نے رکوع یاسجدہ امام کے ساتھ نہ کیا بلکہ امام کے فارغ ہونے کے بعد کیا تو نماز اس کی ہوئی یانہیں؟ بیّنوا تؤجروا
الجواب ہوگئی اگرچہ بلاضرورت ایسی تاخیر سے گنہگار ہوا اور بوجہ ترک واجب اعادہ نماز کاحکم دیاجائے تحقیق مقام یہ ہے کہ متابعت امام جو مقتدی پرفرض میں فرض ہے تین صورتوں کو شامل، ایک یہ کہ اس کا ہرفعل فعل امام کے ساتھ کمال مقارنت پرمحض بلافصل واقع ہوتارہے یہ عین طریقہ مسنونہ ہے اور ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نزدیک مقتدی کو اسی کا حکم۔دوسرے یہ کہ اس کا فعل فعل امام کے بعد بدیر واقع ہو اگرچہ بعد فراغ امام، فرض یوں بھی ادا ہوجائے گا پھر یہ فصل بضرورت ہوا تو کچھ حرج نہیں، ضرورت کی یہ صورت کہ مثلاً مقتدی قعدہ اولٰی میں آکر ملا اس کے شریک ہوتے ہی امام کھڑا ہوگیا اب اسے چاہئے کہ التحیات پوری پڑھ کر کھڑا ہو اور کوشش کرے کہ جلد جاملے، فرض کیجئے کہ اتنی دیر میں امام رکوع میں آگیا تو اس کا قیام قیام امام کے بعد اختتام واقع ہوگا مگرحرج نہیں کہ یہ تاخیر بضرورت شرعیہ تھی اور اگربلاضرورت فصل کیا تو قلیل فصل میں جس کے سبب امام سے جاملنا فوت نہ ہو ترک سنت اور کثیر میں جس طرح صورت سوال ہے کہ فعل امام ختم ہونے کے بعد اس نے فعل کیا ترک واجب جس کا حکم اس نماز کو پورا کرکے اعادہ کرنا۔
تیسرے یہ کہ اس کا فعل فعل امام سے پہلے واقع ہو مگر امام اسی فعل میں اس سے آملے مثلاً اس نے رکوع امام سے پہلے رکوع کردیا لیکن یہ ابھی رکوع ہی میں تھا کہ امام رکوع میں آگیا اور دونوں کی شرکت ہوگئی یہ صورت اگرچہ سخت ناجائز وممنوع ہے اور حدیث میں اس پر وعید شدید وارد، مگرنماز یوں بھی صحیح ہوجائے گی جبکہ امام سے مشارکت ہولے اور اگرابھی امام مثلاً رکوع یاسجود میں نہ آنے پایا کہ اس نے سراٹھالیا اور پھرامام کے ساتھ یہ بعد اس فعل کااعادہ نہ کیا تو نماز اصلاًنہ ہوگی کہ اب فرض متابعت کی کوئی ضرورت نہ پائی گئی توفرض ترک ہوا اور نماز باطل۔ ردالمحتارمیں ہے:
وتکون المتابعۃ فرضا بمعنی ان یأتی بالفرض مع امامہ اوبعدہ کما لو رکع امامہ فرکع معہ مقارنا اومعاقبا وشارکہ فیہ اوبعد مارفع منہ فلولم یرکع اصلا اورکع و رفع قبل ان یرکع امامہ ولم یعدہ معہ اوبعدہ بطلت صلاتہ والحاصل ان المتابعۃ فی ذاتھا ثلثۃ انواع مقارنۃ لفعل الامام مثل ان یقارن احرامہ لاحرام امامہ ورکوعہ لرکوعہ وسلامہ لسلامہ ویدخل فیھا مالورکع قبل امامہ ودام حتی ادرکہ امام فیہ، ومعاقبۃ لابتداء فعل امامہ مع المشارکۃ فی باقیہ، ومتراخیۃ عنہ فمطلق المتابعۃ الشامل لھذہ الانواع الثلثۃ یکون فرضا فی الفرض و واجبا فی الواجب وسنۃ فی السنۃ عند عدم المعارض اوعدم لزوم المخالفۃ کما قدمناہ والمتابعۃ المقیدۃ بعدم التاخیروالتراخی الشاملۃ للمقارنۃ والمعاقبۃ لاتکون فرضا بل تکون واجبۃ فی الواجب وسنۃ فی السنہ عند عدم المعارض وعدم لزوم المخالفۃ ایضا والمتابعۃ المقارنۃ بلاتعقیب ولاتراخ سنۃ عندہ لاعندھا ۱؎ الی اٰخرما افادواجاد علیہ رحمۃ الملک الجواد۔
اورمتابعتِ امام اس معنی میں فرض ہے کہ مقتدی فرض کو بجالائے خواہ امام کے ساتھ یا اس کے بعد مثلاً امام نے رکوع کیا تومقتدی اس کے ساتھ ہی رکوع کرے یابعد میں کرے مگر اس کے ساتھ شریک ہوجائے اور یا اس کے سراٹھانے کے بعد کرے، پس اگرمقتدی نے بالکل رکوع ہی نہ کیا یارکوع کیا مگر امام کے رکوع جانے سے پہلے سراٹھالیا اور امام کے ساتھ دوبارہ شامل نہ ہوا یا اس نے امام کے بعد رکوع نہ کیا تو اس کی نماز باطل ہوجائے گی۔ الحاصل متابعتِ امام تین طرح کی ہے فعل امام سے مقارنت، مثلاً امام کی تکبیر تحریمہ کے ساتھ تکبیر تحریمہ، اس کے رکوع کے ساتھ رکوع اور سلام کے ساتھ سلام، اس میں یہ صورت بھی شامل ہوجائے گی کہ جب امام سے پہلے رکوع کیا مگر طویل کیاحتی کہ امام نے اس کو رکوع میں پالیا اورفعل امام کی ابتداء سے معاقبت ہو اور آخر تک شرکت رہے اور امام سے متاخر ہو، عدم معارض اور عدم لزوم مخالفت کے وقت مطلق متابعت جو ان تینوں اقسام کوشامل ہے، فرض میں فرض، واجب میں واجب اور سنت میں سنت ہوگی جبکہ معارض نہ ہو اور لزوم مخالفت بھی نہ ہو اور متابعت بمعنی مقارنت بلاتعقیب و تراخی امام کے نزدیک سنت ہے صاحبین کے نزدیک نہیں، آخر کلام تک جو نہایت ہی مفید اور عمدہ ہے۔
( ۱؎ ردالمحتار باب صفۃ الصلاۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۳۴۸)
اقول وفی التقسیم الذی ذکرا المولی المحقق الفاضل والذی ابداہ ھذا العبد الظلوم الجاھل نوع تفنن ومآل الاقسام واحد فھو رحمہ اﷲ تعالٰی جعلہا ثلثا مقارنۃ ومعاقبۃ ومتراخیۃ وادخل المتقدمۃ التی اٰلت الی المشارکۃ فی المقارنۃ والعبد الضعیف قسم ھکذا متصلۃ ومنفصلۃ ومتقدمۃ وادخل المتراخیۃ والمعاقبۃ فی المنفصلۃ وجعل المتقدمۃ قسما بحیالھا وذلک لانی رأیت المتقدمۃ تباین المقارنۃ لانھا فاعلۃ من الطرفین فکما ان تاخر المقتدی یخرجہ عن القِران حتی جعل المعاقبۃ قسیما للمقارنۃ فکذلک تقدمہ وایضا رأیت احکام المتابعۃ المجزئۃ ثلثۃ سنّۃ وکراھۃ الالضرورۃ وکراھۃ شدیدہ مطلقا فاجبت ان تنفرزالاقسام بحسب الاحکام بخلاف ماصنع ھو رحمہ اﷲ تعالٰی فان المقارنۃ علی ما افاد تشتمل اکمل مطلوب واشنع مھروب اعنی المتصلۃ و المتقدمۃ کما سمعت وعلی کل فالحاصل واحد والحمدﷲ۔
اقول (میں کہتاہوں) فاضل محقق کی تقسیم اور اس عبدضعیف اور ظلوم وجہول کی تقسیم میں صرف تفنن ہے کہ تمام اقسام کا مآل واحد ہے، فاضل رحمہ اﷲ تعالٰی نے متابعت کی تین اقسام مقارنت، معاقبت اور متراخی کرکے متقدمہ کوجومشارکت کی طرف راجح تھی مقارنت میں داخل کردیا۔ عبدضعیف نے تقسیم یوں کی ہے متصلہ، منفصلہ، متقدمہ، اور متراخیہ اور معاقبہ کومنفصلہ میں داخل کیا، اور متقدمہ کو ایک مستقل قسم بنادیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے متقدمہ کومقارنۃ کے متبائن پایا کیونکہ یہ جانبین سے ہے، پس جیسا کہ مقتدی کا موخر ہونا اسے مقارنت سے خارج کردیتاہے نیز جب متابعت کی قسموں کے کل احکام میں نے تین پائے، سنّت، کراہت(جب بلاضرورت ہو) مطلق کراہت شدیدہ، تومیں نے احکام کی تعداد کے مطابق اقسام کی تعداد کو پسند کیا۔ اور فاضل محقق کی تقسیم میں ایسانہیں ہے کیونکہ ان کی مقارنت والی قسم (دومتضاد صورتوں) جن میں سے ایک انتہائی کامل مطلوب ہے اوردوسری انتہائی ناپسندیدہ، یعنی متصلہ اور متقدمہ پرمشتمل ہے جیسا کہ تومعلوم کرچکاہے بہرصورت حاصل ایک ہے، الحمدﷲ۔
اسی میں ہے:
قال فی شرح المنیۃ متابعۃ الامام من غیرتاخیر واجبۃ فان عارضھا واجب یأتی بہ ثم یتابع کمالوقام الامام قبل ان یتم المقتدی التشھد فانہ یتمہ ثم یقوم ۱؎۱ھ ملخصا۔
شرح المنیہ میں فرمایا ہے متابعت امام بغیر کسی تاخیر کے واجب ہے اگرکسی واجب کامتابعت کے ساتھ تعارض ہوجائے تو اسے بجالائے پھر متابعت کرے مثلاً مقتدی کے تشہد مکمل کرنے سے پہلے امام نے قیام کرلیا تومقتدی تشہد مکمل کرکے قیام کرے ۱ھ تلخیصاً(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۳۴۷)
درمختارمیں ہے:
لورفع الامام رأسہ من الرکوع اوالسجود قبل ان یتم الماموم التسبیحات الثلث وجب متابعتہ بخلاف سلامہ او قیامہ لثالثۃ قبل تمام الموتم التشھد فانہ لایتابعہ بل یتمہ لوجوبہ۱؎۔
اگرامام نے رکوع یاسجود سے سراٹھالیا حالانکہ مقتدی نے تین تین تسبیحات نہیں کہی تھیں تومقتدی پرامام کی متابعت لازم ہے بخلاف مقتدی کے تشہد مکمل نہ کرنے کی صورت میں جب امام سلام پھیرے یاتیسری رکعت کی طرف کھڑا ہوجائے تواب مقتدی متابعت نہ کرے کیونکہ تشہد واجب ہے(ت)
( ۱؎ الدرالمختار فصل اذا اراد الشروع فی الصلوٰۃ کبر مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۷۵)
ردالمحتارمیں ہے:
قولہ فانہ لایتابعہ الخ ای ولوخاف ان تفوتہ الرکعۃ الثالثۃ مع الامام کما صرح بہ فی الظھیریۃ۲؎۔ قولہ فانہ لایتابعہ الخ
یعنی اگرچہ اسے یہ خوف ہو کہ امام کے ساتھ تیسری رکعت فوت ہوجائے گی، جیسا کہ ظہیریہ میں اس پرتصریح ہے۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۳۶۶)
درمختارمیں ہے:
سجود السھو یجب علی مقتد بسھو امامہ لابسھوہ اصلا۳؎ (ملخصاً)
امام کے بھول جانے کی وجہ سے مقتدی پرسجدہ سہو لازم ہوتاہے مگرمقتدی کے بھولنے کی وجہ سے سجدہ لازم نہیں ہوتا نہ مقتدی پرنہ امام پر(ملخصاً(ت)
(۳؎ الدرالمختار باب سجود السہو مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۰۲)
ردالمحتارمیں ہے:
قال فی النھر ثم مقتضی کلامھم انہ یعیدھا لثبوت الکراھۃ مع تعذر الجابر۴؎۱ھ قلت فاذا کان ھذا فی السھو فالعمد اولی بالاعادۃ مع تصریحھم بانھا ھی سبیل کل صلاۃ ادیت مع کراھۃ التحریم واﷲ تعالٰی اعلم۔
نہرمیں ہے کہ کلام فقہا کاتقاضا ہے کہ مقتدی نماز کو ثبوت کراہت کی وجہ سے لوٹائے، اس کی وجہ یہ ہے کہ (امام کی متابعت کی وجہ سے) نقصان پورانہیں ہوسکتا۱ھ قلت جب یہ صورت سہو میں ہے توعمد میں بطریق اولٰی اعادہ ہوگا اور اس پر توفقہاء کی تصریح ہے کہ ہروہ نماز جوکراہت تحریمی سے ادا کی جائے اس کا اعادہ واجب ہے، واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۴؎ ردالمحتار باب سجود السہو مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۵۴۹)