مسئلہ ۹۶۴: ازکلکتہ نل موتی گلی نمبر۱۸ جناب مرزاغلام قادربیگ صاحب۲۱ جمادی الاخری ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہاں اکثرلوگ بے پڑھے نمازظہروعصرومغرب وعشاکے فرض تنہا پـڑھنے کی حالت میں تکبیرات انتقالیہ بجہر اس غرض سے کہتے ہیں کہ دوسرے نمازی معلوم کرلیں کہ یہ شخص فرض پڑھتاہے اور شریک ہوجائیں اس صورت میں جہر کے ساتھ تکبیرکہنے سے نمازمیں فساد ہوتاہے یانہیں؟ دوسری صورت یہ ہے کہ ایک شخص نمازپڑھ رہاہے دوسراشخص آیا اورمنتظراس امرکاہے کہ یہ نمازی بجہرتکبیر کہے تو میں شریک ہوجاؤں، چنانچہ اس نے اس کی اطلاع کی غرض سے تکبیرجہر کے ساتھ کہ اس صورت نماز فاسد ہوگی یاصحیح؟ بینواتوجروا۔
الجواب
دونوں صورتوں میں اگرنمازیوں نے اصل تکبیرات انتقال بہ نیت ادائے سنت وذکرالٰہی عزوجل ہی کہیں اور صرف جہربہ نیت اطلاع کیا تونماز میں کچھ فسادنہ آیا، ردالمحتارمیں ہے:
وقال فی البحر ومما الحق بالجواب مافی المجتبی لوسبح اوھلل یرید زنجرا عن فعل اوامرابہ فسدت عندھما ۱ھ قلت والظاھر انہ لولم یسبح ولکن جھر بالقراء ۃ لاتفسد لانہ قاصد للقرائۃ وانما قصد الزجر اوالامربمجرد رفع الصوت تأمل ۱؎۱ھ۔
بحرمیں ہے کہ ان چیزوں میں سے جن کا جواب سے تعلق ہے وہ ہیں جو مجتبٰی میں ہیں اگرمقتدی نے سبحان اﷲ کہا یا ؎ لاالٰہ الااﷲ کہا اور اس سے مقصد کسی عمل پر زجریاکسی عمل کا حکم تھا توان دونوں (طرفین) کے نزدیک نمازفاسد ہوجائے گی۱ھ میں کہتاہوں ظاہریہی ہے کہ اگر اس نے سبحان اﷲ نہیں کہا لیکن قرأت بلندآواز سے کی تو نماز فاسد نہ ہوگی کیونکہ اس سے مقصد قرأت ہے اور آواز کی بلندی کے ذریعے توصرف زجریا حکم مقصود ہے تأمل ۱ھ(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۴۵۹)
اور شک نہیں کہ واقعایسا ہی ہوتاہے نہ یہ کہ نفس تکبیرہی سے ذکروغیرہ کچھ مقصودنہ ہو صرف بغرض اطلاع بہ نیت مذکورہ کہی جاتی ہو، ہاں اگرکوئی جاہل اجہل ایساقصد کرے تو اس کی نمازضرور فاسد ہوجائے گی
علی قول الامام والامام محمد خلافا للامام ابی یوسف رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔
(یہ امام اعظم اور امام محمدکے قول کے مطابق ہے بخلاف امام ابویوسف رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے۔ت)
اقول وباﷲ التوفیق
(میں اﷲ تعالٰی کی توفیق سے کہتاہوں۔ت) تحقیق مقام یہ ہے کہ ان مسائل میں حضرات طرفین رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے نزدیک اصل یہ ہے کہ نمازی جس لفظ سے کسی ایسے معنی کا افادہ کرے جو اعمال نماز سے نہیں وہ کلام ہوجاتا اور مفسد نماز قرارپاتا ہے اگرچہ لفظہ فی نفسہٖ ذکر الٰہی یا قرآن ہی ہو اگرچہ اپنے محل ہی میں ہو، مثلاً کسی موسٰی نامی شخص سے نمازی نے کہا:
ماتلک بیمینک یاموسٰی
(اے موسٰی!تیرے تھ میں کیاہے؟ نماز جاتی رہی، اگرچہ یہ الفاظِ آیہ کریمہ ہیں۔ یا التحیات پڑھ رہاتھا جب کلمہ تشہد کے قریب پہنچا مؤذن نے اذان میں شہادتیں کہیں اس نے نہ بہ نیت قرأت تشہد بلکہ بہ نیت اجابت مؤذن
اشھد ان لاالٰہ الا اﷲ واشھد ان محمداً عبدہ، ورسولہ،
کہا نمازجاتی رہی، اگرچہ یہ ذکر اپنے محل ہی میں تھا۔ بحرالرائق میں ہے:
اذا ذکر فی التشھد الشھادتین عند ذکر المؤذن الشھادتین تفسد ان قصد الاجابۃ ۱؎۱ھ
جب دورانِ تشہد شہادتین کاذکر مؤذن کے ذکرِ شہادتین کے موقع پرکرتاہے تو نماز فاسد ہوجائے گی۔ اگراذان کاجواب مقصود ہو۱ھ(ت)
(۱؎ بحرالرائق باب ما یفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ ایچ اہم سعید کمپنی کراچی ۲ /۶)
مگرجبکہ ایسا قصد بضرورت اصلاح نماز ہو جیسے مقتدیوں کاامام کوبتانا یا اس کے جواز میں خاص نص آگیا ہو جیسے کوئی دروازے پر آواز دے یہ نماز پڑھتاہو اس کو مطلع کرنے کے لئے
سبحان اﷲ یا لاالٰہ الااﷲ یا اﷲ اکبر
کہے توصرف ان صورتوں میں نماز نہ جائے گی اور ان کے ماوراء میں مطلقاً اسی اصل کلی پر عمل ہو کر فساد نماز کاحکم دیاجائے گا۔ فتح القدیرمیں ہے:
قلنا خرج قصد اعلام الصلاۃ بقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذنابت احدکم نائبۃ وھو فی الصلاۃ فلیسبح الحدیث اخرجہ الستۃ لالانہ لم یتغیر بعزیمتہ کما لم یتغیر عند قصد اعلامہ فان مناط کونہ من کلام الناس کونہ لفظا افید بہ معنی لیس من عمال الصلاۃ لاکونہ وضع لافادۃ ذٰلک فیبقی ماوراء ہ علی المنع۲؎ الخ قلت وقد اوضحنا المسألۃ بنقولھا فیما تقدم من فتاوٰنا۔
ہم کہتے ہیں کہ نماز میں اصلاح کاقصد، حضورعلیہ السلام کے ارشاد مبارک کہ ''جب کسی کو نماز میں کوئی واقعہ پیش آجائے تو وہ تسبیح کہے'' کے تحت اس حکم سے خارج ہے۔ اس حدیث کو صحاح ستّہ نے بیان کیاہے اس لئے نہیں کہ اس میں تبدیلی بالارادہ نہیں کیونکہ لوگوں کے کلام میں سے ہونے کامدار اس پر ہے کہ وہ الفاظ ہوں جو ایسے معانی کا فائدہ دیں جو اعمال نماز میں سے نہیں، نہ کہ وہ الفاظ ان معانی کے افادہ کے لئے موضوع ہوں لہٰذا اس کے علاوہ ممنوع ہی رہیں گے الخ قلت ہم نے اس مسئلہ کو سابقہ گفتگو میں خوب واضح کیاہے۔(ت)
(۲؎ فتح القدیر باب ما یفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۴۹)
اور شک نہیں کہ جب نمازی نے
اﷲ اکبر یا سمع اﷲ لمن حمدہ
صرف اس اطلاع کی نیت سے کہا کہ میں پڑھ رہاہوں میرے شریک ہوجاؤ، تو یہ ایک لفظ ہے جس سے ایسے معنی کا افادہ چاہا جو اعمال نماز سے نہیں کہ اعمال نماز اس کے افعال مخصوصہ معلومہ ہیں نہ کسی سے یہ کہنا کہ نماز میں مل جاؤ اور اس خصوص میں نہ نص وارد ہے نہ یہ کسی نہ جاننے والے کو اس کا بتانا ہے کہ میں نماز میں مشغول بلکہ ا س سے اپنے فرض میں ہونے کا اعلام اور اپنی نماز کی طرف بلانا مقصود ہے، یہ دونوں باتیں مجرد قصداعلام صلوٰۃ سے زائد ہیں کہ اس قدر تو وہ آنے والے خودہی جانتے ہیں کہ یہ نماز پڑھ رہاہے تو یہ صورت اُن صور استثناء میں داخل نہیں اور حکم فساد نماز ہے مگر اگر اصل لفظ سے کوئی امر بیرونی مقصود نہیں بلکہ صرف رفع صوت بقصد دیگرہے تو یہاں کوئی لفظ ایسانہ پایا گیا جس سے کسی خارج بات کا قصد کیاگیا ہو اور تنہا رفع صوت کلام نہیں تو مناط فساد متحقق نہ ہو اولہٰذا امام محقق علی الاطلاق کمال الدین محمد بن الہمام قدس سرہ، نے جبکہ اُن مکبّروں کی نسبت جو تکبیرات انتقالات میں گانے کے طور پر اپنی آواز بنانے کے لئے گھٹاتے بڑھاتے اور سامعین کو اپنی خوش الحانی جتانے کا قصد کرتے ہیں فساد نماز کاحکم دیا اسے دوامر پرمبنی فرمایا ایک یہ کہ ان تکبیرات سے ان کا قصد اقامت عبادت نہیں ہوتا بلکہ اپنی صناعت موسیقی کااظہار مقصود ہوتاہے تو اب یہ تکبیریں خود ہی وہ الفاظ ہیں جن سے معنی خارج کا افادہ مراد ہوا، دوسرے یہ کہ اس جزرومد سے حروف زائد پیدا ہوجاتے ہیں جواصل کلمات تکبیر میں نہیں تو اگرچہ نفس تکبیر سے اُن کا قصد وہ نہ ہو مگریہ حروف توضرور اسی قصد سے بڑھائے گئے اور اب یہ وہ الفاظ بقصدافادہ معنی خارج ہوئے بہرصورت فساد نماز چاہئے۔ فتح القدیرمیں درایہ سے مکبرین کے لئے رفع صورت کا جواز نقل کرکے اشارہ فرمایا:
مقصودہ اصل الرفع لابلاغ الانتقالات اما خصوص ھذا الذی تعارفوہ فی ھذا البلاد فلایبعد انہ مفسد فلانھم یبالغون فی الصیاح زیادۃ علی حاجۃ الابلاغ والاشتغال بتحریرات النغم اظھارا للصناعۃ النغمیۃ لااقامۃ للعبادۃ والصیاح ملحق بالکلام وھنا معلوم ان قصدہ اعجاب الناس بہ ولوقال اعجبوا من حسن صوتی وتحریری فیہ افسد و حصول الحروف لازم من التلحین ۱؎ ۱ھ مختصرا وقد اقرہ فی النھر و استحسنہ فی الحلیۃ فقال وقد اجاد فیما اوضح وافاد۔
تکبیرات میں آوازبلند کرنے کا اصل مقصد انتقالات کی اطلاع ہے، رہا وہ مخصوص انداز جو ان شہروں میں معروف ہے اس کا مفسد نماز ہونا بعید نہیں کیونکہ یہ مکبرین حاجت ابلاغ سے بڑھ کر چیخنے میں مبالغہ کرتے ہے اور نغمہ کو سجانے کے لئے مشغول ہونا نغمہ سرائی ہے عبادت کاقیام نہیں اور چیخنا بھی کلام کے ساتھ ملحق ہے اور یہاں تو واضح ہے کہ مکبر کا مقصد لوگوں کوتعجب میں ڈالنا ہے، اگر وہ یہ کہتاکہ لوگو! میری اچھی آواز اور سرپرخوش ہوجاؤ، تو اس نے نمازفاسد کردی ہوتی اور اظہارلحن سے حروف کا حاصل ہونا لازمی ہے۱ھ اختصاراً۔ اسے نہرنے ثا بت رکھا اور حلیہ میں اسے ان الفاظ سے سراہاگیا کہ وضاحت میں یہ نہایت ہی عمدہ اور مفید ہے۔(ت)
( ۱؎ فتح القدیر باب الامامۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۲۲)
علامہ شامی تنبیہ ذوی الافہام علی احکام التبلیغ خلف الامام میں فرماتے ہیں:
ان المحقق لم یجعل مبنی الفساد مجرد الرفع بل زیادۃ الرفع ملحق بالکلام بالصیاح المشتمل علی النغم مع قصد اظھارہ لذلک والاعراج عن اقامۃ العبادۃ فقول المحقق والصیاح ملحق بالکلام ای الصیاح المشتمل علی ماذکر بدلیل سوابق الکلام ولو احقہ الخ
محقق نے محض بلندی آواز کو فساد کی علت قرارنہیں دیا بلکہ بلندی میں ایسی زیادتی کو جو نغمہ پرمشتمل چیخ سے مل جائے اور اس کے اظہار کا اور اقامتِ عبادت سے اعراض کاقصد بھی ہو لہٰذا محقق کا قول کہ ''الصیاح ملحق بالکلام'' سے وہی چیخنا مراد ہے جو مذکورہ امور پر مشتمل ہو اس پر سابق ولاحق کلام شاہد عادل ہے الخ(ت)
اُسی میں ہے:
فحاصل کلام المحقق ان الاشتغال بتحریر النغم والتلحین والصیاح الزائد علی قدر الحاجۃ لالقصد القربۃ بل لیعجب الناس من حسن صوتہ ونغمہ مفسد من وجہین الاول مایلزم من التلحین من حصول الحرف بالمفسد غالبا و الثانی عدم قصد اقامۃ العبادۃ ۲ ؎ الخ اقول وللعبد الضعیف فی بعض کلام العلامۃ الشامی ھنا کلام بینتہ علی ھامشہ ولکن المرمی۔
کلام محقق کاحاصل یہ ہے کہ نغمہ، الحان اور ایسا چیخنا جوقدرحاجت سے زائدہو، میں مشغول ہونا جس کا مقصد قربت وعبادت نہ ہو بلکہ لوگوں کو حسن آواز کی وجہ سے مسحور کرنا ہو تو یہ عمل دو وجہ سے مفسد نماز ہ اول یہ کہ الحان سے ایسے حروف کاحصول ہوجاتاہے جوغالباً نماز کے لئے مفسد ہوتے ہیں، ثانی یہ کہ یہاں مقصود عبارت نہیں الخ(ت) اقول (میں کہتاہوں) اس عبدضعیف کو علامہ شامی کے اس مقام پربعض کلام میں اعتراض ہے جسے میں نے ردالمحتارکے حاشیہ میں ذکرکیاہے(ت)
(۲؎ رسائل ابن عابدین رسالہ تنبیہ ذوی الافہام علی احکام التبلیغ خلف الامام مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ۱ /۱۴۶)
بالجملۃ جبکہ لفظ بقصد مفسد نہ ہو تو مجرور رفع صورت سے کسی معنی زائد کاارادہ مفسد نہیں ولہٰذا علامہ حموی نے رسالہ القول البلیغ فی حکم التبلیغ میں فرمایا:
فی کون الصیاح بما ھوذکر ملحقا بالکلام نظرلان المفسد للصلاۃ الملفوظ لاعزیمۃ القلب ۱؎۱ھ ملخصا۔
مذکورہ چیخنے کو کلام کہنامحل نظرہے کیونکہ مفسدنماز وہ ہوگا جو ملفوظ ہو ارادہ قلب مفسدِ نماز نہیں ۱ھ ملخصاً (ت)
( ۱؎ رسالہ القول البلیغ فی حکم التبلیغ)
ردالمحتارسنن الصّلاۃ میں حاشیہ ابوالسعود ازہری سے ہے:
مانقل عن الطحطاوی اذا بلغ القوم صوت الامام فبلغ المؤذن فسدت صلاتہ لعدم الاحتیاج الیہ فلاوجہ لہ اذغایتہ انہ رفع صوتہ بما ھو ذکر بصیغتہ وقال الحموی وأظن ان ھذا النقل مکذوب علی الطحاوی فانہ مخالف للقواعد۲؎۱ھ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم و۷احکم۔
طحاوی سے جوکچھ منقول ہے کہ لوگوں تک امام کی آواز پہنچ رہی ہو اس کے باوجود موذن بھی پہنچارہا ہو تو اس کی نماز فاسد ہوجائے گی کیونکہ یہاں احتیاجی ہی نہ تھی۔ اس (منقول) پرکوئی دلیل نہیں، زیادہ سے زیادہ یہ رفع صوت جوذکر کے الفاظ پرمشتمل ہے اور شیخ حموی کہتے ہیں کہ میں یہ محسوس کرتاہوں کہ یہ قول امام طحاوی کی طرف غلط طورپرمنسوب ہے کیونکہ یہ قواعد کے مخالف ہے۱ھ واﷲ تعالٰی اعلم اسی کا علم کامل واتم ہے(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب صفۃ الصلاۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۳۵۱)