Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
43 - 158
بحرالرائق میں ہے:
لوعرض للامام شیئ فسبح الماموم لاباس بہ لان المقصود بہ اصلاح الصلٰوۃ فسقط حکم الکلام عند الحاجۃ الی الاصلاح ولایسبح للامام اذا قام الی الاخریین لانہ لایجوز لہ الرجوع اذا کان الی القیام اقرب فلم یکن التسبیح مفید اکذا فی البدائع وینبغی فساد الصلوۃ بہ لان القیاس فسادھا بہ عند قصد الاعلام وانما ترک للحدیث الصحیح من نابہ شیئ فی صلاتہ فلیسبح فللحاجۃ لم یعمل بالقیاس فعند عدمھا یبقی الامر علی اصل القیاس ثم رایتہ فی المجتبی قال ولوقام الی الثالثۃ فی الظھر قبل ان یقعد فقال المقتدی سبحٰن اﷲ قیل لاتفسد و عن الکرخی تفسد عندھما۱؎۱ھ وبہ انتھٰی مانقلناہ عن البحر،
اگر امام کوعارضہ پیش آگیا مقتدی نے لقمہ دیا تو کوئی حرج نہیں کیونکہ اس سے مقصود نماز کی اصلاح ہے لہٰذا حاجت اصلاح کی وجہ سے اس سے حکم کلام ساقط ہوگیا، اگرامام آخری دورکعات کی طرف اٹھ جائے تو اسے لقمہ نہ دیاجائے کیونکہ اگروہ قیام کے زیادہ قریب ہے تو اب اس کے لئے لوٹناجائز نہیں لہٰذا لقمہ اس کے لئے مفیدنہیں۔ البدائع میں ایسے ہے، اور اس سے نماز فاسد ہوجانی چاہئے کیونکہ یہ قیاس کاتقاضا ہے کہ جب مقصود امام کواطلاع ہو تونماز فاسد ہوجائے البتہ اس حدیث صحیح کی بناپر اس قیاس کو ترک کردیں گے کہ جس کونماز میں کوئی واقعہ درپیش ہو تو وہ تسبیح کہے، توحاجت کے پیش نظر قیاس پرعمل نہ ہوگا اور جب حاجت نہ ہوگی تو معاملہ اصل قیاس پرہی رہے گا پھر میں نے مجتبٰی میں دیکھا اگرنمازظہر میں امام قعدہ کئے بغیرتیسری رکعت کی طرف اٹھا اور مقتدی نے سبحان اﷲ کہا تو بعض کے نزدیک نماز فاسد نہ ہوگی۔ امام کرخی سے منقول ہے کہ طرفین کے نزدیک نماز فاسد ہوجائے گی۔ اور یہاں بحرسے منقول عبارت ختم ہوگئی ۔
 ( ۱؎ بحرالرائق        باب مایفسد الصلاۃ ومایکرہ فیہا    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۷)
قلت وقولہ عندھمایرید بہ الطرفین فان مذھبھما تغیر الذکر  بتغیر العزیمۃ خلافا لابی یوسف فعندہ ماکان ذکرا بصیغتہ لاتعمل فیہ النیۃ وکذا قولہ اعنی المجتبی لوسبح اوھلل یرید زجراعن فعل اوامرابہ فسدت عندھما۲؎۱ھ فانما ارادالطرفین رضی اﷲ تعالٰی عنھما
قلت اس کا قول ''عندھما'' سے مراد طرفین ہیں کیونکہ انہی کا قول ہے کہ تبدیلی عزم سے ذکر تبدیل ہوجاتاہے بخلاف امام ابویوسف کے، ان کے نزدیک الفاظ ذکر میں نیت کادخل نہیں ہوتا، اسی طرح اس یعنی المجتبٰی کاقول اگر اس نے سبحان اﷲ کہا یا لاالٰہ الا اﷲ، اور اس سے مقصد کسی عمل پر زجریاکسی عمل کا حکم ہوتو ان دونوں کے نزدیک نماز فاسد ہوجائے گی۱ھ اس سے مراد طرفین رضی اﷲ تعالٰی عنہما ہیں
 (۲؎ بحرالرائق    باب مایفسد الصلاۃ ومایکرہ فیہا    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۷)
ثم اقول وباﷲ التوفیق لایبعد ان یکون قام فی القیل للارادۃ کقولہ تعالٰی یاایھا الذین اٰمنوا اذا قمتم الی الصلٰوۃ۱؎
ثم اقول وباﷲ التوفیق (پھر میں اﷲ تعالٰی کی توفیق سے کہتاہوں ۔ت) یہ بھی ممکن ہے کہ مجتبٰی کی عبارت میں قام کامعنی ارادہ ہو، جیسا کہ اﷲ تعالٰی کے اس ارشاد گرامی میں ہے''اے اہل ایمان! جب تم نماز کا ارادہ کرو''
 ( ۱؎ القرآن    ۵ /۶)
وفی روایۃ الکرخی للحقیقۃ کقولہ تعالٰی وانہ لما قام عبداﷲ یدعوہ۲؎ الاٰیۃ
اورروایتِ کرخی میں حقیقی معنی ہے جیسا کہ اﷲ تعالٰی کا فرمان ہے ''جب اﷲ کا بندہ کھڑا ہوکر اپنے رب کوپکارتاہے''۔
 (۲؎ القرآن    ۷۲ /۱۹)
وھذا جمع کماتری حسن ان شاء اﷲ تعالٰی والافلاشک ان الدلیل مع الکرخی وانہ ھوقضیۃ مذھب الامام والامام محمد رضی اﷲ تعالٰی عنھما فعلیہ فلیکن التعویل فان قیل فی القیل لواراد الارادۃ فما الوجہ لتخصیص المسئلۃ بالذکر فانھا معلومۃ من اطلاق قولھم لوعرض للامام شیئ الخ اقول بلی کان لمتوھم ان یتوھم عدم الجواز ھھنا مطلقا کمایتوھم من ظاھر لفظ البدائع لایسبح للامام اذاقام الی الاٰخریین۱؎ حیث لم یفصل والحاوی علی الوھم ان المقتدی لایطلع علی قیام الامام بفورہ بل یتاخر ذلک عن افاضتہ فی القیام ولولحظات کما ھو معلوم مشاھد فعند ذلک یسبح ثم الامام لاینبہ بفور مابدأ المقتدی بحرف التسبیح بل یتاخرولو لحظۃ ثم ھو ربما لایتذکر بمجرد السماع والتنبہ علی تنبیھہ بل قدیحتاج الی شیئ من التامل فھذہ ثلث وقفات و الامام اذا نھض نھض ولم یکن فیہ تدرج یقتضی مکثا معتدا بہ فربما لایتنبہ بتسبیحہ الابعد مافات وقت العود لاسیما علی قول من قال بفواتہ اذ اقرب الی القیام کما ھو مختار صاحب البدائع و الھدایۃ والوقایۃ والکنز وغیرھم من الجلۃ الکرام وان کان الاصح العبرۃ بتمام القیام کما اعتمدہ فی مواھب الرحمٰن ونورالایضاح والتنویر والفتح والدر المختار وغیرھا وجعلہ فی الدر ظاھر المذھب۔
(۱؎ بدائع الصنائع    فصل فی بیان حکم الاستخلاف        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۲۳۵)
آپ نے دیکھا یہ نہایت ہی اچھاتطا بق ہے ان شاء اﷲ تعالٰی، ورنہ اس میں کوئی شک نہیں کہ دلیل کرخی کاساتھ دیتی ہے اور یہی ضابطہ ہے امام اعظم اور امام محمدرضی اﷲ تعالٰی عنہما کے مذہب کا، اس بناپر اس پر اعتماد کرناچاہئے، اگرسوال ہو کہ عبارت میں اگرارادہ مراد ہے تواس مسئلہ کاخصوصاً کیوں ذکرہوا؟ کیونکہ اس کا علم تو فقہا کے اس قول ''اگرامام کوکوئی عارضہ لاحق ہو'' کے اطلاق سے ہی ہورہاہے اقول(میں کہتاہوں) کیوں نہیں گویا کوئی وہم کرنے والا یہ تصورکرسکتاتھا کہ یہاں مطلقاً لقمہ ناجائز ہے جیسا کہ بدائع کے ان الفاظ کے ظاہر سے وہم کیاجاسکتاہے کہ ''امام جب آخری رکعتوں کی طرف کھڑا ہوجائے تو سبحان اﷲ نہ کہاجائے''تویہاں انہوں نے کوئی فرق نہیں کیا اور یہاں منشاء وہم یہ بات ہے کہ مقتدی فی الفور امام کے قیام پرمطلع نہیں ہوتا بلکہ قیام کی طرف مائل ہونے کے بعد مطلع ہوتاہے اگرچہ کچھ لمحات ہی ہوں جیسا کہ معلوم ومشاہد ہے تو اس وقت مقتدی سبحان اﷲ کہے گا، پھر امام بھی مقتدی کے لقمہ پرفی الفورمتوجہ نہیں ہوتا بلکہ معاملہ متاخرہوتاہے خواہ ایک لمحہ بعد ہی ہو، پھر بعض اوقات اسے صرف سماع اور توجہ دلانے سے یادنہیں آجاتا بلکہ کچھ نہ کچھ غوروفکر کا محتاج ہوتاہے، تویہ تین وقفے ہوئے، توامام جب کھڑاہوتاہے، توکھڑاہوجاتاہے اس میں ایسی تدریج نہیں جو قابل ذکر ٹھہرنے کاتقاضاکرے، بعض اوقات مقتدی کی تسبیح سے بھی متوجہ نہیں ہوپاتا مگراس وقت جب لوٹنے کاوقت ختم ہوچکا ہو خصوصاً اس قول کے مطابق جوکہتے ہیں کہ جب قیام کے زیادہ قریب ہو تو رجوع فوت ہوجاتاہے جیسا کہ صاحب بدائع، ہدایہ، وقایہ، کنزاور دیگر جلیل القدرفقہاء نے اختیارکیاہے، اگرچہ اصح یہ ہے کہ اعتبار کامل قیام کاہے جیسا کہ اس پرمواہب الرحمن، نورالایضاح، تنویر، فتح،درمختاروغیرہ میں اعتماد کیاگیاہے اور درمیں اسے ظاہرمذہب قراردیاہے،
واذا کان الامر علی ماوصفنا لک فعسی ان یتوھم کونہ عبثا مطلقا فیحکم بفساد الصلٰوۃ بہ علی الاطلاق فمست الحاجۃ الی التصریح بذلک فان المسموع ھوکونہ مفید احین وقوعہ وھوکذٰلک فی فورالقیام ولربما یرجی العود بہ بل ربما یقع وھذا حسبہ ولایضرہ ان تعجل الامام ولم یلتفت کما اذا فتح ولم یاخذ فانقلت یحتمل ان الامام لماظن ان صلاتہ تمت لعلہ یتعمد الکلام اوالذھاب اوالضحک قبل ان یسلم۔
اور جب معاملہ اس طرح ہے جو ہم نے آپ کے سامنے بیان کیاہے توقریب ہے اس کے مطلقاً عبث ہونے کے وہم پرمطلقاً فسادنماز کاحکم کردیاجائے لہٰذا اس کی تصریح کی حاجت وضرورت پیش آئی کیونکہ اس کے وقوع کے وقت لقمہ کامفید ہونا قابل اعتبار ہے اور علی الفور قیام کے وقت لقمہ میں یہ صورت ہے اور بسااوقات لوٹنے کی امید کی جاتی بلکہ بعض دفعہ لوٹنے کا وقوع ہوتاہے اور مفید ہونے کے لئے یہی کافی ہے اور امام کا جلدی کرنا اور متوجہ نہ ہونا نقصان دہ نہیں جیسا کہ اس صورت میں جب لقمہ دیا مگرامام نے نہ لیا۔ اگر آپ سوال کریں(قعدہ لمباہونے پرسلام سے پہلے لقمہ دینے میں فائدہ ہے) کیونکہ ممکن ہے امام نے گمان کیا ہو کہ نماز مکمل ہوگئی ہے پھر وہ دانستہ طور پر قبل از سلام کلام کرنے یاچلے جانے یاہنسنے کا ارادہ کرلے۔
قلت ھذا فی غایۃ البعد ولا یتوقع من المسلم بل ھو اسائۃ ظن بہ والفقہ لایبنی علی نادر فضلا عما عساہ لم یقع قط بل ھواحتمال علی احتمال لان ظن الامام تمام الصلٰوۃ ایضا غیرمعلوم کما قدمنا فکان شبھۃ الشبھۃ ولاعبرۃ بھا اصلا، ھذا ماوقع فی الحلیۃ نقلا عن المحیط الرضوی اذا فتح علی امامہ یجوز مطلقا لان الفتح وان کان تعلیما ولکن التعلیم لیس بعمل کثیر وانہ تلاوۃ حقیقۃ فلایکون مفسدا وان لم یکن محتاجا الیہ۱؎۱ھ فاقول یجب ان یحمل فیہ لام ''التعلیم'' علی العھد ای ھذا التعلیم من المقتدی للامام کمثل لام ''الفتح'' فلیس المراد الاھذا الفتح' لامطلقا ولومن غیر مقتدعلی امامہ وذٰلک لان کون مطلق التعلیم من العمل القلیل باطل بداھۃ وتشھد بہ فروع فی المذھب متواترات بل قدنص فی الفتح فی نفس مسئلۃ الفتح ان التکرار لم یشترط فی الجامع ای ان الجامع الصغیر لم یشترط للافساد تکرار الفتح بل حکم بہ مطلقا قال وھوالصحیح وکذا صححہ فی الخانیۃ وقد علم ھذا من مذھب الامام فانہ اذا جعل کلاما فقلیلہ و کثیرہ سواء فاعرف وتثبت وباﷲ التوفیق ھذا ماعندی واﷲ سبحٰنہ و تعالٰی اعلم۔
( ۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
قلت (میں کہتاہوں) یہ نہایت ہی بعید ہے اور اس بات کی کسی مسلمان سے توقع نہیں بلکہ کسی مسلمان کے بارے میں ایساگمان کرنا بھی گناہ ہے اور کسی نادرمعاملہ پرفتوٰی نہیں ہواکرتا چہ جائیکہ جس کا امکان کبھی واقع نہ ہو بلکہ یہ احتمال دراحتمال ہے کیونکہ امام کااتمام نماز کاگمان کرنابھی معلوم نہیں جیسا کہ پہلے بیان ہوا، گویا یہ اتمام کے گمان کے بعد کلام وغیرہ کاگمان شبہ کا شبہ ہے لہٰذا اس کاکوئی اعتبارنہیں، یہ وہ ہے جو حلیہ میں محیط رضوی کے حوالے سے مذکور ہے کہ امام کولقمہ دینا ہرحال میں جائز ہے کیونکہ لقمہ دینا اگرچہ تعلیم ہے لیکن تعلیم عمل کثیرنہیں ہے اور یہ توحقیقت میں تلاوت ہے لہٰذایہ مفسدنمازنہیں، اگرچہ اس کی احتیاجی نہ ہو۔ اقول : یہان پرلفظ تعلیم کے الف لام کو عہدِ خارجی مانناضروری ہے کیونکہ اس سے مراد وہی تعلیم ہے جو مقتدی کی امام کے لئے ہو جیسا کہ الفتح کے الف لام کامعاملہ ہے کیونکہ یہاں لقمہ سے بھی خصوصی لقمہ مراد ہوگا ہرلقمہ نہیں کہ اگرچہ وہ غیرمقتدی کاامام کے لئے ہو، وہ اس لئے کہ ہرتعلیم کاعمل قلیل ہونا بداہۃً باطل ہے اور اس پرمذہب کی فروعات بڑی تواترکے ساتھ گواہ ہیں بلکہ فتح میں اس مسئلہ لقمہ میں تصریح ہے کہ جامع میں تکرار کوشرط نہیں کیا یعنی جامع صغیرنے نمازفاسد ہونے کے لئے تکرارلقمہ کو شرط قرارنہیں دیابلکہ مطلقاً حکم جاری کیااور کہایہی صحیح ہے، اسی طرح اسے خانیہ نے بھی صحیح قراردیا اور مذہب امام کے حوالے سے یہ معلوم ہے کہ جب انہوں نے اسے کلام قراردیا ہے تو اب کلام کے قلیل اور کثیر کاایک ہی حکم ہوگا، اسے اچھی طرح جان لو اور ثابت رہو، اور توفیق اﷲ ہی سے ہے یہ ہے جو کچھ میرے پاس تھا اور اﷲ سبحانہ، وتعالٰی ہی زیادہ جاننے والا ہے(ت)
Flag Counter