Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
42 - 158
مسئلہ ۹۶۳ : ازکلکتہ فوجداری بالاخانہ ۳۶ مرسلہ جناب مرزاغلام قادربیگ صاحب آخرربیع الاخری ۱۳۰۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرامام کو قعدہ اولٰی میں اپنی عادت سے دیرلگی اور مقتدی نے بخیال اس امر کے کہ امام کوسہو ہواہوگا تکبیربآواز بلندبنابر اطلاع امام کہی تونماز مقتدی کی فاسد ہوئی یا نہیں؟ بیّنوا تؤجّروا (بیان کرواور اجرپاؤ۔ت)
الجواب

ہمارے امام رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نزدیک اصل ان مسائل میں یہ ہے کہ بتانا اگرچہ لفظاً قرأت یاذکر مثلاً تسبیح وتکبیر ہے اور یہ سب اجزا واذکار نماز سے ہیں مگر معنیً کلام ہے کہ اس کا حاصل امام سے خطاب کرنا اور اسے سکھانا ہوتاہے یعنی توبھولا، اس کے بعد تجھے یہ کرناچاہئے، پرظاہر کہ اس سے یہی غرض مراد ہوتی ہے اور سامع کوبھی یہی معنی مفہوم، تو اس کے کلام ہونے میں کیاشک رہا اگرچہ صورۃً قرآن یاذکر، و لہٰذا اگرنماز میں کسی یحٰیی نامی کو خطاب کی نیت سے یہ آیہ کریمہ
ٰییَحْٰیی خُذِالْکِتٰبَ بِقُوَّۃٍ ۱؎
( ۱؎ القرآن ۱۹ /۱۲)
پڑھی بالاتفاق نماز جاتی رہی حالانکہ وہ حقیقۃً قرآن ہے، اس بنا پرقیاس یہ تھا کہ مطلقاً بتانا اگرچہ برمحل ہو مفسد نماز ہو کہ جب وہ بلحاظ معنی کلام ٹھہرا تو بہرحال افساد نماز کرے گا مگرحاجت اصلاح نماز کے وقت یا جہاں خاص نص وارد ہے ہمارے ائمہ نے اس قیاس کوترک فرمایا اور بحکم استحسان جس کے اعلٰی وجوہ سے نص وضرورت ہے جواز کاحکم دیا، ولہٰذا صحیح یہ ہے کہ جب امام قرأت میں بھولے مقتدی کومطلقاً بتانا روااگرچہ قدرواجب پڑھ چکا ہو اگرچہ ایک سے دوسرے کی طرف انتقال ہی کیا ہو کہ صورت اولٰی میں گوواجب اداہوچکا مگر احتمال ہے کہ رکنے اور الجھنے کے سبب کوئی لفظ اس کی زبان سے ایسا نکل جائے جو مفسد نماز ہو، لہٰذا مقتدی کو اپنی نماز درست رکھنے کے لئے بتانے کی حاجت ہے، بعض عوام حفاظ کو مشاہدہ کیاگیا کہ جب تراویح میں بھولے اور یاد نہ آیا تو ایں آں یااور اسی کی قسم الفاظ بے معنی ان کی زبان سے نکلے اور فساد نماز کاباعث ہوئے، اور صورت ثانیہ میں اگرچہ جب قرأت رواں ہے تو صرف آیت چھوٹ جانے سے فسادنماز کااندیشہ نہ ہو مگر اس بات میں شارع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے نص وارد:

وھو حدیث سورۃ المومنین الذی ذکرہ المحقق فی الفتح وغیرہ فی غیرہ مع اطلاقات احادیث اخر واردۃ فی الباب کما بینہ فی الحلیۃ من المفسدات، اقول والاحسن من کل ذٰلک التمسک بمااخرج ابوداؤد و عبداﷲ ابن الامام فی زوائد المسند عن مسور بن یزید المالکی قال صلی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فترک اٰیۃ فقال لہ رجل یارسول اﷲ اٰیۃ کذا وکذا فقال فھلا اذکرتنیھا ۱؎
اور وہ سورہ مومنین کے بارے میں حدیث وارد ہے محقق نے فتح میں اور دیگر فقہا نے مختلف کتب میں اسے ذکر کیا باوجودیکہ دیگراحادیث اس باب میں مطلق ہیں جیسا کہ حلیہ میں مفسدات صلوٰۃ کے باب میں بیان ہواہے اقول (میں کہتاہوں) سب سے احسن تمسک کے لحاظ سے وہ حدیث ہے جسے ابوداؤداور عبداﷲ بن امام احمدنے زوائد مسندمیں حضرت مِسوَربن یزیدمالکی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیاکہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نماز پڑھائی تو آپ نے ایک آیت چھوڑدی ایک آدمی نے عرض کیا: یارسول اﷲ ! آیت تو ایسے ہے، تو آپ نے فرمایا : تونے مجھے یاد کیوں نہ کرائی،
 (۱؎ سنن ابوداؤد    باب الفتح علی الامام فی الصلاۃ    مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۱۳۱)
وذٰلک لان حدیث الفتح فی ترک کلمۃ وھوانہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قرأ فی الصلاۃ سورۃ المومنین فترک کلمۃ فلما فرغ قال الم یکن فیکم أبی قال بلی قال ھلا فتحت علی ۱؎ فظاھر ان حکم ترک کلمۃ اضیق من حکم الانتقال من اٰیۃ الی اٰیۃ۔
اور وہ اس لئے کہ حدیث جو ایک کلمہ کے ترک پرلقمہ دینےکے بارے میں ہے یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نماز میں سورہ مومنون کی تلاوت فرمائی اور ایک کلمہ چھوڑدیا جب آپ فارغ ہوئے توفرمایا: کیا تم میں اُبی نہیں؟ عرض کیا: یارسول اﷲ ! موجودہوں، فرمایا: مجھے لقمہ کیوں نہ دیا۔ اور یہ واضح ہے کہ کلمہ کاترک کرنا ایک آیت سے دوسری آیت کی طرف منتقل ہونے سے زیادہ تنگ ہے
 (۱؎ فتح القدیر         باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا    مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱ /۳۴۸)
واثر علی کرم اﷲ تعالٰی وجھہ اذا ستطعمکم الامام فاطعموہ۲؎ رواہ سعید بن منصور فی سننہ وذکرہ فی الحلیۃ والفتح، فیما اذا سکت الامام ینتظر الفتح،
اور حضرت علی کرّم اﷲ وجہہ،کاکہنا ہے کہ جب امام تم سے لقمہ چاہے تولقمہ دو، اسے سعید بن منصور نے اپنی سنن میں روایت کیاہے، حلیہ اور فتح میں اسے اس صورت کے بارے میں کہ، جب امام خاموش ہوجائے اور لقمہ کاانتظار کرے، ذکرکیاگیا ہے۔
 (۲؎ فتح القدیر     باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا    مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱ /۳۴۸)
وحدیث انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ کنا نفتح علی عھد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علی الائمۃ۳؎ رواہ الدارقطنی والحاکم وصححہ مجمل بخلاف ماذکرناففیہ تصریح ترک اٰیۃ وان کان قد یقال علی ھذا و علی ماتمسک بہ فی الفتح من حدیث الکلمۃ انھما من وقائع العین لیس فیھما ان ذٰلک کان بعد ثلاث اوقبلھا۔
حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی حدیث کہ ہم رسالت مآب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ظاہری حیات میں اپنے ائمہ کو لقمہ دیاکرتے تھے اسے دارقطنی اور حاکم نے روایت کیا اور صحیح کہا، یہ حدیث مجمل ہے بخلاف اس حدیث کے جوہم نے ذکرکی، اس میں ترک آیت کی تصریح ہے اگرچہ اس آیت کے ترک والی اور وہ حدیث جس میں کلمہ کاترک مذکور ہے جس سے فتح القدیرمیں استدلال کیاگیاہے، پراعتراض کیاگیاہے، یہ خاص واقعات ہیں اس میں اس بات کاتذکرہ نہیں کہ یہ تین آیات پڑھنے کے بعد ہوا یاپہلے ہو۔(ت)
 (۳؎ سنن الدارقطنی     باب تلقین المأ موم لامامہ الخ     مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان۱ /۳۹۹)
ولہٰذا اگرکوئی مکان میں آنے کااذن چاہے اور یہ اس غرض سے کہ اسے نماز میں ہونا معلوم ہوجائے تسبیح یاتکبیر یاتہلیل کہے نماز فاسد نہ ہوگی کہ اس بارے میں بھی حدیث وارد،
وھو علی ماذکر علمائنا فی الھدایۃ و الکافی والتبیین والفتح والحلیۃ والغنیۃ والبحر وغیرھا حدیث سھل بن سعد عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من نابہ شیئ فی صلاتہ فلیسبح ۱؎ اخرجہ الشیخان وغیرھما۔
یہ اس حدیث کے مطابق ہے جو ہمارے علماء نے ہدایہ، کافی، تبیین، فتح، حلیہ، غنیہ اور بحروغیرہ میں حضرت سہل بن سعد رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیاکہ جس شخص کونماز میں کوئی واقعہ درپیش ہو وہ تسبیح کہے، اسے بخاری و مسلم وغیرہ نے روایت کیاہے۔
 (۱؎ صحیح البخاری    کتاب الاذان باب من دخل لیؤم الناس    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۹۴)
اقول والاقرب مااخرج احمد فی المسند عن علی کرم اﷲ تعالٰی وجھہ قال کان لہ ساعۃ من السحر ادخل فیھا علی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فان کان قائما یصلی سبح ۲؎ لی الحدیث۔
اقول (میں کہتاہوں) سب سے اقرب وہ حدیث ہے جسے امام احمدنے مسندمیں سیّدنا علی کرم اﷲ وجہہ، سے روایت کیاہے کہ میرے لئے سحری کے وقت میں ایک خاص وقت تھا جس میں میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتا تو اگرآپ نمازپڑھ رہے ہوتے تو تسبیح پڑھ کر مجھے اندر آنے کی اجازت دیتے الخ الحدیث(ت)
 ( ۲؎ مسند احمد بن حنبل    مسند علی ابن ابی طالب دارالفکر بیروت    ۱ /۷۷)
بس جوبتانا حاجت ونص کے مواضع سے جدا ہو وہ بیشک اصل قیاس پرجاری رہے گا کہ وہاں اس کے حکم کاکوئی معارض نہیں اس لئے اگر غیرنمازی یادوسرے نمازی کو جو اس کی نماز میں شریک نہیں یا ایک مقتدی دوسرے مقتدی یا امام کسی مقتدی کو بتائے قطعاً نمازقطع ہوجائے گی کہ اس کی غلطی سے اس کی نماز میں کچھ خلل نہ آتاتھا جو اسے حاجت اصلاح ہوتی تو بے ضرورت واقع ہوا اور نماز گئی بخلاف امام کہ اس کی نماز کاخلل بعینہ مقتدی کی نماز کاخلل ہے تو اس کابتانا اپنی نماز کابنانا ہے، تبیین الحقائق میں ہے:
قولہ وفتحہ علی غیر امامہ لانہ تعلیم وتعلم من غیر ضرورۃ فکان من کلام الناس وقولہ علی غیر امامہ یشمل فتح المقتدی علی المقتدی وعلی غیر المصلی وعلی المصلی وحدہ وفتح الامام المنفرد علی ای شخص کان وکل ذٰلک مفسد الا اذا قصدبہ التلاوۃ دون الفتح ۱؎ ۱ھ ملخصا
ماتن کاقول (نمازی کا اپنے امام کے غیر کولقمہ دینا) کیونکہ یہ بغیرضرورت تعلیم وتعلم ہونے کی وجہ سے لوگوں کے کلام کی طرح ہوگا۔ اس کا قول''اپنے امام کے علاوہ'' کے الفاظ، مقتدی کامقتدی کو، غیرنمازی تنہانمازی کے لقمہ کو اور امام اور منفرد کا کسی بھی دوسرے شخص کو لقمہ دینے کو شامل ہیں اور ان تمام صورتوں میں نماز فاسد ہوجاتی ہے لیکن اس صورت میں نماز فاسد نہ ہوگی جب تلاوت مقصود ہو، لقمہ دینا مقصود نہ ہو۱ھ تلخیصاً(ت)
 ( ۱؎ تبیین الحقائق    باب مایفسد الصلاۃ ومایکرہ فیہا    مطبوعہ امیریہ کبرٰی بولاق مصر    ۱ /۱۵۶)
درمختارمیں ہے:
یفسدھا کل ماقصد بہ الجواب اوالخطاب کقولہ لمن اسمہ یحٰیی، یایحٰیی خذ الکتٰب بقوۃ ۲؎۱ھ ملخصا۔
ہروہ شے نماز کو فاسد کردے گی جس سے جواب یاخطاب مقصود ہو جیسا کہ یحٰیی نامی شخص کو یہ کہنا یایحٰیی خذالکتاب بقوۃ (اے یحٰیی! کتاب کو مضبوطی سے پکڑ)۱ھ ملخصاً(ت)
 (۲؎ الدرالمختار        باب مایفسد الصلاۃ ومایکرہ فیہا    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۸۹)
ردالمحتارمیں ہے:
قولہ اوالخطاب الخ ھذا مفسد بالاتفاق وھو ممااورد نقضا علی اصل ابی یوسف فانہ قراٰن لم یوضع خطا بالمن خاطبہ المصلی وقد اخرجہ بقصد الخطاب عن کونہ قراٰنا وجعلہ من کلام الناس۳؎ ۔
اس کا قول ''اوالخطاب'' بالاتفاق مفسد نماز ہے اور یہ ان امور میں سے ہے جن سے امام ابویوسف کے قاعدے پرنقض وارد ہوتاہے کہ یہ قرآن ہے اس کی وضع اس لئے نہیں کہ کوئی شخص اس سے نمازی کومخاطب کرے، حالانکہ (وجہ یہ ہے) کہ اس نے اسے قصد خطاب کے طور پر، قرآن ہونے سے خارج کیااور اسے کلام الناس میں شامل کردیا ہے۔(ت)
 (۳؎ ردالمحتار    باب مایفسد الصلاۃ ومایکرہ فیہا    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۴۵۹)
علامہ ابن امیرالحاج حلبی حلیہ میں فرماتے ہیں:
الذی یفتح کانہ یقول خذ منی کذا والتعلیم لیس من الصلاۃ فی شیئ وادخال مالیس منھا فیھا یوجب فسادھا وکان قضیۃ ھذا المعنی ان تفسد صلاتہ اذا فتح علی امامہ لکن سقط اعتبار التعلیم للاحادیث و للحاجۃ الی اصلاح صلاۃ نفسہ فماعدا ذلک یعمل فیہ بقضیۃ القیاس ۱؎ ۱ھ ملخصا بالمعنی۔
لقمہ دینے والا گویا کہہ رہاہوتاہے کہ ''مجھ سے یہ لے لو'' اور سکھانا نماز کاحصہ نہیں اور ایسی شیئ کانماز میں داخل کرنا جو نماز میں سے نہیں نماز کے فساد کاسبب ہے۔ اس بات کے پیش نظر ہونایہی چاہئے کہ جب امام کو لقمہ دیاجائے تو بھی نماز فاسد ہوجائے لیکن اس صورت میں نماز کے فساد کا حکم اس لئے جاری نہیں کیاجاتا کہ احادیث میں اس کی اجازت ہے اور نماز کی اصلاح کی بھی حاجت ہے البتہ اس کے علاوہ دیگر صورتوں میں قیاس پر عمل کیاجائے گا(یعنی نماز فاسد ہوجائے گی) ملخصاً بالمعنٰی۔(ت)
 ( ۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
اُسی میں ہے:
ھذا قد استعمل فی موضع الجواب وقد ارید ذٰلک منہ وفھم فیصیر من ھذا الوجہ کلام الناس فیفسد و ان لم یکن من حیث الصیغۃ فی الاصل من کلامھم فالقیاس فساد الصلٰوۃ الا انا ترکناہ بالنص والمعدول بہ عن القیاس لایقاس علیہ۲؎۱ھ ملخصا۔
یہ جواب میں مستعمل ہے اور یہاں وہی مراد اور مفہوم ہے لہٰذا یہ لوگوں کے کلام میں سے ہونے کی وجہ سے مفسد نماز ہے اگرچہ الفاظ کے لحاظ سے لوگوں کے کلام میں سے نہیں۔ تو قیاس کاتقاضا ہے کہ نماز فاسد ہوجائے مگر نص کی بنا پر قیاس ترک کردیااور جوخود خلافِ قیاس ہوں اس پر قیاس نہیں کیاجاسکتا ۱ھ ملخصاً(ت)
 (۲؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
اُسی میں ہے:
 (م) ان فتح بعد ماقرأ قدرماتجوز بہ الصلاۃ تفسد (ش) لانہ لیس فیہ اصلاح صلاتہ فیبقی تعلیما وجوابالہ وان اخذ الامام بفتحہ تفسد صلاۃ الکل(م)
 (متن) اگریہ لقمہ اتنی قرأت کے بعد دیا جس سے نماز ہوجاتی ہے تونماز فاسد ہوجائے گی(شرح) کیونکہ اس میں اس کی نماز کی اصلاح نہیں ہے لہٰذا یہ تعلیم وجواب ہوگا اور اگرامام نے لقمہ لے لیاتو تمام کی نمازفاسد ہوجائے گی۔
الصحیح لا(ش) کذا فی الخانیۃ والخلاصۃ ونص القاضی فی شرح الجامع الصغیر انہ الاصح وعللہ ھو وغیرہ بانہ لولم یفتح ربما جری علی لسانہ مایکون مفسدا فکان بمنزلۃ الفتح والاولی فی التعلیل حدیث المسوربن یزید واطلاق ماروی عن علی و عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ (م) وان انتقل الامام الی اٰیۃ اخری ففتح علیہ بعد الانتقال تفسد(ش) لوجود التلقین من غیرضرورہ کذا فی الھدایۃ وغیرھا وجعل صاحب الذخیرۃ ھذا محکیا عن القاضی الامام ابی بکر الزر نجری وان غیرہ من المشائخ قالوا لاتفسد کذا نقلوہ عن المحیط واخذ من ھذا صاحب النھایۃ ان عدم الفساد قول عامۃ المشائخ ووافقہ شیخنا رحمہ اﷲ تعالٰی علی ذلک وھو الاوفق لاطلاق الرخص الذی رویناہ۱؎۱ھ ملخصا۔
 (متن) صحیح یہ ہے کہ نماز فاسد نہیں ہوتی(شرح) اسی طرح خانیہ اور خلاصہ میں ہے اور قاضی نے شرح جامع الصغیرمیں کہاہے کہ یہی اصح ہے اور انہوں نے اور دیگر لوگوں نے علت یہ بیان کی ہے کہ اگر وہ لقمہ نہیں دے گا تو بعض اوقات امام کی زبان پر ایسی چیز جاری ہوجاتی ہے جونماز کے لئے مفسد ہوتی اس لئے وہ لقمہ ہی ہوگا، حضرت مِسْوَر بن یزیدسے مروی اور وہ جو حضرت علی اور حضرت انس رضی اﷲ عنہما سے مروی روایات کا اطلاق علت کے بیان کے لئے بہترہے(متن) اور اگرامام کسی دوسری آیت کی طرف منتقل ہوگیا اور اسے انتقال کے بعد لقمہ دیاتو نماز فاسد ہوجائے گی (شرح) کیونکہ یہ بغیر ضرورت کے تلقین ہے، ہدایہ وغیرہ میں اسی طرح ہے، اور صاحب ذخیرہ نے اسے قاضی امام ابوبکر الزرنجری نے نقل کیاہے اگرچہ ان کے علاوہ دیگرمشائخ کہتے ہیں کہ نماز فاسد نہں ہوتی، محیط سے اسی طرح منقول ہے، اسی سے صاحب نہایہ نے لیا اور کہا کہ اکثرمشائخ کاقول عدم فساد ہے اور ہمارے شیخ رحمہ اﷲنے اسی کی موافقت کی ہے اور یہ ان رخصتوں کے اطلاق کے بھی زیادہ موافق ہے جن کا ہم نے ذکر کیاہے۱ھ تلخیصاً(ت)
 ( ۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
فتح القدیرمیں ہے:
خرج قصد اعلام الصلاۃ بالحدیث لالانہ لم یتغیر بعزیمتہ فیبقی ماورواء ہ علی المنع۱؎۱ھ ملخصا
نماز میں ہونے کی قصداً اطلاع کرنا، حدیث کی وجہ سے مفسدات سے خارج ہے، نہ اس لئے کہ اس کے عزم وارادہ سے تغیّر نہیں ہوا لہٰذا اس کے علاوہ صورتیں منع ہی رہیں گی ۱ھ ملخصاً(ت)
 ( ۱؎ فتح القدیر        باب مایفسد الصلاۃ ومایکرہ فیہا    مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱ /۳۴۹)
جب یہ اصل ممہد ہولی، حکم صورت مسؤلہ واضح ہوگیا ظاہر ہے کہ جب امام کوقعدہ اولٰی میں دیرہوئی اور مقتدی نے اس گمان سے کہ یہ قعدہ اخیرہ سمجھا ہے تنبیہ کی تودوحال سے خالی نہیں یا تو واقع میں اس کاگمان غلط ہوگا یعنی امام قعدہ اولٰی ہی سمجھا ہے اور دیر اس وجہ سے ہوئی کہ اس نے اس بار التحیات زیادہ ترتیل سے ادا کی جب توظاہر ہے کہ مقتدی کابتانا نہ صرف بے ضرورت بلکہ محض غلط واقع ہواتویقینا کلام ٹھہرا اور مفسد نماز ہوا
لقول الحلیۃ ان ماوراء ذلک یعمل فیہ بقضیۃ القیاس ولقول المعدول بہ عن القیاس لایقاس علیہ ولقول الفتح یبقی ماوراء ہ علی المنع ولقول التبیین لایقاس علیہ غیرہ وھذا واضح جدا۔
حلیہ کے ان الفاظ کی وجہ سے کہ ''ان کے علاوہ میں قیاس پرعمل ہوگا'' اور اس کے اس قول کے پیش نظر کہ ''خلاف قیاس پرقیاس نہیں ہوسکتا'' اورفتح کے قول کہ '' اس کے علاوہ ممنوع ہوں گے'' اور تبیین کے قول کہ ''اس پر غیر کو قیاس نہیں کیاجاسکتا'' اور یہ نہایت ہی واضح ہے(ت)
یا اس کا گمان صحیح تھا، غورکیجئے تو اس صورت میں بھی اس بتانے کامحض لغو وبے حاجت واقع ہونا اور اصلاح نماز سے اصلاً تعلق نہ رکھنا ثابت کہ جب امام قدہ اولٰی میں اتنی تاخیر کرچکا جس سے مقتدی اس کے سہو پر مطلع ہوا تولاجرم یہ تاخیر بقدرکثیر ہوئی اور جوکچھ ہوناتھا یعنی ترک واجب ولزوم سجدہ سہو وہ ہوچکا اب اس کے بتانے سے مرتفع نہیں ہوسکتا اور اس سے زیادہ کسی دوسرے خلل کا اندیشہ نہیں جس سے بچنے کو یہ فعل کیاجائے کہ غایت درجہ وہ بھول کر سلام پھیردے گا پھر اس سے نماز تو نہیں جاتی وہی سہو کاسہورہے گا، ہاں جس وقت سلام شروع کرتا اس وقت حاجت متحقق ہوتی اور مقتدی کوبتاناچاہئے تھا کہ اب نہ بتانے میں خلل وفسادنماز کااندیشہ ہے کہ یہ تواپنے گمان میں نماز تمام کرچکا،عجب نہیں کہ کلام وغیرہ کوئی قاطع نماز اس سے واقع ہوجائے، اس سے پہلے نہ خلل واقع کاازالہ تھا نہ خلل آئندہ کااندیشہ، تو سوافضول وبے فائدہ کے کیاباقی رہا، لہٰذا مقتضائے نظر فقہی پر اس صورت میں بھی فسادنماز ہے، نظیر اس کی یہ ہے کہ جب امام قعدہ اولٰی چھوڑ کر پوراکھڑا ہوجائے تواب مقتدی بیٹھنے کااشارہ نہ کرے، ورنہ ہمارے امام کے مذہب پر مقتدی کی نماز جاتی رہے گی کہ پوراکھڑے ہونے کے بعد امام کوقعدہ اولٰی کی طرف عودناجائز تھا تو اس کابتانامحض بے فائدہ رہا اور اپنے اصلی حکم کی رو سےکلام ٹھہر کر مفسدنماز ہوا،
Flag Counter