Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
41 - 158
مسئلہ ۹۶۲ :مسؤلہ شوکت علی ۲۳ربیع الاخری شریف ۱۳۲۰ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نمازی کے آگے سے نکلنے والا گنہگار ہوتاہے او ر اس کی نماز میں توکوئی خلل نہیں ہوتا ہے اور نمازی کے آگے سے کس قدر دور تک گزر، نہ کرناچاہئے؟
الجواب

نماز میں کوئی خلل نہیں آتا نکلنے والا گنہگار ہوتاہے، نماز اگرمکان یاچھوٹی مسجد میں پڑھتا ہو تو دیوارقبلہ تک نکلنا جائز نہیں جب تک بیچ میں آڑ نہ ہو اور صحرایا بڑی مسجد میں پڑھتاہو توصرف موضع سجود تک نکلنے کی اجازت نہیں اس سے باہرنکل سکتاہے۔ موضع سجود کے یہ معنی ہیں کہ آدمی جب قیام میں اہل خشوع وخضوع کی طرح اپنی نگاہ خاص جائے سجودپرجمائے یعنی جہاں سجدے میں اس کی پیشانی ہوگی تونگاہ کاقاعدہ ہے کہ جب سامنے روک نہ ہو تو جہاں جمائے وہاں سے کچھ آگے بڑھتی ہے جہاں تک آگے بڑھ کر جائے وہ سب موضع میں ہے اس کے اندرنکلنا حرام ہے اور اس سے باہرجائز۔درمختار میں ہے:
مرور مارٍّ فی الصحراء اوفی مسجد کبیر بموضع سجودہ فی الاصح اومرورہ بین یدیہ الٰی حائط القبلۃ فی بیت ومسجد صغیر فانہ کبقعۃ واحدۃ۱؎۔
نمازی کے آگے سے صحرااور بڑی مسجد میں گزرنا اصح قول کے مطابق اس کی سجدہ کی جگہ سے گزرنا ہے یاگھر یاچھوٹی مسجد میں دیوارقبلہ تک گزرناہے کیونکہ یہ ایک ہی جگہ کے حکم میں ہوتاہے۔(ت)
 (۱؎ درمختار        باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی، بھارت    ۱ /۹۱)
ردالمحتارمیں ہے:
قولہ بموضع سجودہ کما فی الدرر وھذا مع القیود التی بعدہ انما ھو للاثم والافالفساد منتف مطلقا، قولہ فی الاصح صححہ التمرتاشی وصاحب البدائع واختارہ فخرالاسلام ورجحہ فی النھایۃ والفتح انہ قدرمایقع بصرہ علی المار لوصلی بخشوع ای رامیا ببصرہ الی موضع سجودہ۲؎۱ھ مختصرا۔
ماتن کاقول ''نمازی کے سجدہ کی جگہ'' جیسا کہ دررمیں ہے یہ بات ان قیودات کے ساتھ جو بعد میں ذکر کی گئی ہیں فقط گناہ کاسبب ہے ورنہ ہرحال میں نماز فاسدنہیں ہوتی، اس کا قول ''اصح قول کے مطابق ہے'' اسے تمرتاشی اور صاحب بدائع نے صحیح کہا اور اس کو فخرالاسلام نے اختیارکیا اور اس کو ترجیح دی۔ نہایہ اور فتح میں ہے کہ اس کی مقدار یہ ہے کہ خشوع سے نماز پڑھتے ہوئے نمازی کی نظر گزرنے والے پرپڑے، اور خشوع سے مراد یہ ہے کہ وہ سجدہ کی جگہ دیکھنے کاارادہ کئے ہوئے ہو۱ھ تلخیصاً(ت)
 (۲؎ ردالمحتار     باب ما یفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا     مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱ /۴۶۹)
منحۃ الخالق میں تجنیس سے ہے:
الصحیح مقدار منتھی بصرہ وھو موضع سجودہ وقال ابونصر رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ مقدار مابین الصف الاول وبین مقام الامام وھذا عین الاول ولکن بعبارۃ اخری قال رضی اﷲ تعالٰی عنہ وفیما قرأنا علی شیخنا منھاج الائمۃ رحمہ اﷲ تعالٰی ان  یمر بحیث یقع بصرہ وھو یصلی صلاۃ الخاشعین وھذہ العبارۃ اوضح ۱؎۔
صحیح یہ ہے کہ اس کی مقدار نمازی کی انتہانگاہ ہے اور وہ ا س کے سجدہ کی جگہ ہے۔ ابونصر نے فرمایا کہ اس کی مقدار صف اول اور امام کے درمیانی جگہ ہے اور یہ پہلے کے عین مطابق ہے البتہ دوسرے الفاظ میں ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم نے اپنے شیخ منہاج الائمہ رحمہ اﷲ تعالٰی سے جوپڑھا وہ یہ ہے کہ نمازی خشوع والوں کی نماز اداکررہاہے اس کی نگاہ گزرنے والے پرپڑسکتی ہے، اور یہ عبارت نہایت ہی واضح ہے۔(ت)
 (۱؎ منحۃ الخالق حاشیۃ البحرالرائق    باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲/۱۵)
علامہ شامی فرماتے ہیں:
فانظر کیف جعل الکل قولا واحد وانما الاختلاف فی العبارۃ لافی المعنی ۲؎۔
آپ نے دیکھا کہ انہوں نے تمام اقوال کو ایک قول قراردیا اور اختلاف فقط عبارت میں ہے معنی میں نہیں۔(ت)
 (۲؎ تقریرات الرافعی علی ردالمحتار    مطلب اذا قرأ تعالٰی جدک الخ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱ /۴۶۹)
نیزردالمحتارمیں ہے:
 (قولہ فی بیت) ظاھرہ ولوکبیرا وفی القھستانی وینبغی ان یدخل فیہ ای فی حکم المسجد الصغیرالدار والبیت۳؎۔
ماتن کا قول '' فی بیت'' ا س کے ظاہر سے پتاچلتاہے کہ خواہ وہ گھربڑاہو، قہستانی میں ہے مناسب یہ ہے کہ دار اور بیت کو مسجد صغیر کے حکم میں داخل کیاجائے۔(ت)
 (۳؎ ردالمحتار        مطلب اذا قرأ تعالٰی جدک الخ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱ /۴۶۹)
رہا یہ کہ مسجد صغیروکبیر میں کیافرق ہے، فاضلِ قہستانی نے لکھا، چھوٹی مسجد وہ کہ چالیس۴۰گز مکسر سے کم ہو
ففی ردالمحتار (قولہ ومسجد صغیر) ھواقل من ستین ذراعا وقیل من اربعین وھو المختار کما اشار الیہ فی الجواھر۴؎۔
ردالمحتارمیں قہستانی سے ہے کہ چھوٹی مسجد سے مراد وہ ہے جوساٹھ ہاتھ سے کم ہو، بعض نے چالیس ہاتھ کہا اور مختاریہی ہے جیسا کہ اس کی طرف جواہرمیں اشارہ ہے۔(ت)
 (۴؎ ردالمحتار            مطلب اذا قرأ تعالٰی جدک الخ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱ /۴۶۹)
اقول یہاں گزسے گزِ مساحت مراد ہوناچاہئے
لانہ الالیق بالممسوحات کماقالہ الامام قاضی خاں فی الماء فھھنا ھوالمتعین بالاولٰی۔
کیونکہ ممسوحات کے یہی زیادہ مناسب ہے جیسا کہ قاضی خاں نے پانی کے بارے میں کہا، پس یہاں بطریق اولٰی یہی متعین ہوگا۔(ت)

اور گزمساحت ہمارے اس گز سے کہ اڑتالیس انگل یعنی تین فٹ کاہے ایک گزدوگرہ اور دوتہائی گرہ ہے
کما بیناہ فی بعض فتاوٰنا
(جیسا کہ ہم نے اپنے بعض فتاوٰی میں اسے بیان کیا ہے۔ت) تو اس گز سے چالیس گز مکسر ہمارے سے چون۵۴ گزسات گرہ کانواں حصہ ہوا
کما لایخفی علی المحاسب
 (جیسا کہ حساب دان پرمخفی نہیں ہے۔ت) تو اس زعمِ علامہ پرہمارے گز سے چون ۵۴ گزسات گرہ مکسر مسجد صغیر ہوئی اور ساڑھے چون(۲/۵۴۱ )گزمسجد کبیر، یہ ہے وہ کہ انہوں نے لکھا اور علامہ شامی نے اس میں ان کا اتباع کیا۔

اقول مگریہ شبہہ ہے کہ فاضل مذکور کو عبارت جواہر سے گزرا، عبارتِ جواہرالفتاوٰی دربارہ دار ہے نہ کہ دربارہ مسجد، مسجد کبیر صرف وہ ہے جس میں مثل صحرااتصال صفوف شرط ہے جیسے مسجد خوارزم کہ سولہ ہزارستون پرہے، باقی عام مساجد اگرچہ دس ہزار گزمکسر ہوں مسجد صغیر ہیں اور ان میں دیوار قبلہ تک بلاحائل مرورناجائز،
کمابیّناہ فی فتاوٰنا
(جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تفصیل بیان کی ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter