مسئلہ ۹۵۸ :ازکیمپ بریلی ۱۱/ ربیع الاول ۱۳۰۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرنماز پڑھاتے میں امام کاوضو جاتارہے تومقتدی کیا کریں اور ان کی نماز کیونکر درست رہے؟ بینواتوجروا
الجواب
یہ صورت استخلاف کی ہے کہ امام قبل اس کے کہ وضو کرنے کو مسجد سے باہرنکلے مقتدیوں میں سے کسی صالح امامت کو اپنا خلیفہ کردے اور وہ خلیفہ نہ کرے تومقتدی اپنے میں سے ایک کوامام کردیں یا ان میں سے کوئی خود ہی آگے بڑھ جائے بشرطیکہ امام ابھی مسجد سے خارج نہ ہوا ہو کہ خلیفہ اس کی جگہ جاکھڑاہو ان صورتوں میں بعد لحاظ شرئط کثیرہ نماز قائم رہے گی اور اگرپانی مسجد ہی میں مل سکے کہ وضو کے لئے باہرجانانہ پڑے تو ان باتوں کی حاجت نہیں بلکہ مقتدی اپنی حالت پرباقی رہیں اور امام وضو کرکے آجائے اور نمازجہاں سے چھوڑی تھی شروع کردے مگریہ مسئلہ استخلاف ایک سخت دشوار وکثیر الشقوق مسئلہ ہے جس میں بہت سے شرائط اور بکثرت اختلاف صور سے اختلاف احکام ہے جن کی پوری مراعات عام لوگوں سے کم متوقع، لہٰذا وہ ان امور کے خیال میں نہ پڑیں بلکہ جوبات احسن وافضل واعلٰی واکمل ہے اسی پرکاربند رہیں یعنی اس نیت کو توڑکر ازسرنونمازپڑھنا کہ جولوگ علم کافی رکھتے اور مراعات جمیع احکام پرقادر ہیں ان کے لئے بھی افضل یہی ہے توعام لوگ ایک خلاف افضل بات کے حاصل کرنے کوایسے راہ دشوارگزار میں کیوں پڑیں،
فی الدر المختار اعلم ان لجواز البناء ثلثۃ عشرشرطا الخ ثم قال سبق الامام حدث غیرمانع للبناء استخلف ای جازلہ ذٰلک مالم یجاوز الصفوف لوفی الصحراء ومالم یخرج من المسجد لوفیہ ولوکان الماء فی المسجد لم یحتج للاستخلاف واستینافہ افضل تحرزاعن الخلاف۱؎۱ھ ملتقطا۔
درمختارمیں ہے آگاہ رہناچاہئے کہ جوازبناء کی تیرہ شرائط ہیں، پھرفرمایا: امام کو ایسا حدث لاحق ہوگیا جوبناسے مانع نہیں تو وہ کسی کو خلیفہ بنائے یعنی اس کے لئے یہ جائز ہے جب تک اس نے صفوں سے تجاوز نہیں کیا بشرطیکہ وہ صحرا میں ہو اور اگرمسجد میں ہو ہوتو جب تک مسجد سے خارج نہیں ہواخلیفہ بناسکتاہے، اور اگرمسجد میں پانی ہو تو خلیفہ بنانے کی ضرورت نہیں البتہ اختلاف سے بچنے کے لئے نئے سرے سے نماز اداکرنا افضل ہے ۱ھ تلخیصاً(ت)
(۱؎ درمختار باب الاستخلاف مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۸۷)
ردالمحتارمیں ہے:
ان قدم القوم واحد اوتقدم بنفسہ لعدم استخلاف الامام جاز ان قام مقام الاول قبل ان یخرج من المسجد ولوخرج منہ فسدت صلاۃ الکل دون الامام کذا فی الخانیۃ۲؎ انتھی۔واﷲ تعالٰی اعلم
امام کے خلیفہ بنانے کی وجہ سے اگرقوم نے کسی ایک کوآگے کردیا یاکوئی خود آگے ہوگیاتویہ جائز ہے بشرطیکہ وہ امام کے مسجد سے خارج ہونے سے پہلے پہلے قائم مقام بن جائے اور اگرامام مسجد سے خارج ہوگیا تو امام کے علاوہ باقی تمام کی نمازفاسد ہوجائے گی جیسا کہ خانیہ میں ہے انتہی۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب الاستخلاف مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۴۴۴)
مسئلہ ۹۵۹: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام کو حدث ہوا اس نے ایک اُمّی مقتدی کوخلیفہ کیا، اس خلیفہ نے دوسرے کو خلیفہ کردیا، آیا یہ نماز صحیح ہوئی یافاسد؟ بینواتوجروا
الجواب
اگریہ خلیفہ فی الحقیقۃ امی ہے کہ ایک آیت بھی قرآن کی اسے یاد نہیں اور اس نے قبل اس کے کہ امام مسجد سے باہر جائے اور آپ امام کی جگہ پہنچے دوسرے شخص صالح امامت کوخلیفہ کردیا اور وہ امام کے نکلنے سے پہلے اس کی جگہ پرپہنچ گیا تونماز صحیح ہوگئی کہ ہرچند اُمّی صلاحیت خلافت نہیں رکھتا لیکن اس حالت میں خلیفہ دوسراشخص ہے نہ وہ،
فی الھندیۃ وشرط جواز صلاۃ الخلیفۃ والقوم ان یصل الخلیفۃ الی المحراب قبل ان یخرج الامام عن المسجد کذا فی البحر الرائق ولواستخلف فاستخلف الخلیفۃ غیرہ قال الفضلی ان لم یخرج الاول ولم یأخذ الخلیفۃ مکانہ حتی استخلف جاز یصیرکان الثانی تقدم بنفسہ اوقدمہ الاول والا لم یجز ھکذا فی الخلاصۃ۱؎۔
ہندیہ میں ہے خلیفہ اور قوم کی نماز کے جواز کے لئے شرط ہے کہ امام کے مسجد سے خارج ہونے سے پہلے پہلے خلیفہ محراب میں پہنچ جائے جیسا کہ بحرالرائق میں ہے اور اگرخلیفہ نے اپنی جگہ اور خلیفہ بنالیا تو فضلی کہتے ہیں کہ اگراول نہیں نکلا اور خلیفہ نے امام کی جگہ لینے سے پہلے کوئی اورخلیفہ بنالیا توجائز ہے گویادوسراخود بنایا پہلے نے اسے بنایا ورنہ جائز نہ ہوگا جیسا کہ خلاصہ میں ہے۔(ت)
اور جوامام نے اسے تشہد میں یا اس سے پہلے خلیفہ کیا اور اس نے امام کی جگہ پرپہنچنے کے بعد دوسرے شخص کوخلیفہ کیا تونمازفاسد ہوئی اب اصلاح اس کے دوسرے کوخلیفہ کرنے سے متصورنہیں،
فی الدرالمختار واستخلف الامام امیا فی الاخریین ولوفی التشھد اما بعدہ فتصح لخروجہ بصنعہ تفسد صلاتھم۲؎۔
درمختارمیں ہے اگر امی کو آخری دورکعات حتی کہ تشہد میں خلیفہ بنایا(توامام کی نماز فاسد ہوگی) لیکن اس کے بعد صحیح ہے کیونکہ اس کا خروج بالارادہ ہے، لوگوں کی نماز فاسد ہوجائے گی۔ (ت)
(۲؎ درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۸۶)
اسی طرح دوسراشخص امام کی جگہ پربعد اس کے کہ امام مسجد سے خارج ہوپہنچا تونماز فاسد ہوگئی اور جوخلیفہ اول کو ایک آیت قرآن کی یاد ہے تو وہ صالح خلافت تھا ایسی صورت میں دوسرے کوخلیفہ کرنے سے نماز اس کی فاسد ہوگئی کہ استخلاف بدون ضرورت کے نماز کوفاسد کرتاہے
کما فی الھدیۃ فی مسئلۃ من الحدث
(جیسا کہ ہدایہ میں مسئلہ حدث میں ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۶۰: ازشہر بازار شہامت گنج نثاراحمدصاحب ۹/صفر۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام کانماز میں وضو ٹوٹ گیا اور امام رکوع ان ابراھیم کان پڑھ رہاتھا اور جوخلیفہ امام نے بنایا اس کو رکوع مذکور یادنہیں تھا اب وہ خلیفہ کوئی سورت یعنی اخلاص یااور کوئی سورت پڑھے تونماز ہوجائے گی یانہیں؟ اور وضو کے بعد امام اپنی جگہ پرآسکتاہے یانہیں؟ بینواتوجروا
الجواب
نماز ہوجائے گی اور امام کے خلیفہ نے جتنی پڑھی اُتنی پڑھ کر اگرخلیفہ نماز میں ملے اس کا شریک ہوجائے، یہ نہیں ہوسکتا کہ باقی نماز میں اسے ہٹاکر خو د امام ہوجائے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
باب مفسدات الصّلٰوۃ
(مفسداتِ نماز کابیان)
مسئلہ ۹۶۱ :ازبمبئی مسجد قصاباں کرافٹ مارکیٹ مرسلہ مولوی عمرالدین صاحب ۲۹/شعبان ۱۳۳۱ھ
مولٰنا المعظم ذی الفضل الاعظم دامت برکاتکم العالیہ بعد تسلیمات بصد تعظیمات کے واضح رائے عالی ہو کہ زمانہ طالب علمی میں کسی کتاب میں دیکھاتھا کہ مصلی کو غیرمصلی پنکھاکرے تومصلّی کواگر اس پر رضامندی ہے تونماز اس کی فاسد ہوجائے گی، اب اس مسئلہ کو بہت تلاش کیاہوں نہیں ملتا البتہ مولوی عبدالحی کے رسالہ نفع المفتی والسائل میں ہے:
قلت فما فی مجمع البرکات من فساد صلوٰۃ من روحہ غیرالمصلی بمروحۃ معللابانہ رضی بفعل الغیر غیر معتمد علیہ فانہ مخالف للدرایۃ و الروایۃ وقد کان الوالد العلام افتی بہ مرۃ ثم رجع عنہ وحکم بکونہ غلطا وقد اغتربہ بعض معاصریہ فاصرعلی الافتاء بہ واعتمد علیہ عملا وافتا ءً ولم یدرکونہ لغوا۱؎۔
میں نے کہا پس جو مجمع البرکات میں ہے کہ غیرنمازی اگر نمازی کو پنکھے سے ہوادے تونمازی کی نماز فاسد ہوگی کیونکہ وہ نمازی غیر کے فعل پر راضی ہے یہ فسادِ نماز کاحکم فہم اور روایت کے مخالف ہے، میرے والدگرامی نے ایک دفعہ یہ فتوٰی دیاتھا، پھر اس سے انہوں نے رجوع فرمالیا اور فرمایا کہ یہ فتوٰی غلط ہے اور والد صاحب کو معاصرین میں سے ایک صاحب نے دھوکادے کر اصرارکرتے ہوئے یہ فتوٰی ان سے حاصل کیا، والد صاحب نے ان پراعتماد کرتے ہوئے عملاً فتوٰی دے دیا اور انہوں نے یہ سمجھا کہ یہ لغو بات ہے۔(ت)
مجمع البرکات کس کی تصنیف ہے اور حضور کی رائے عالی ا س مسئلہ میں اس کے موافق ہے یامخالف، برتقدیر موافقت برقی پنکھا جوآدمی کی صنعت ہے اس حکم میں داخل ہے یانہیں؟ چارچھ سطر اس کے متعلق اگرجوابی کارڈ پر تحریرفرمائی جائے توعین بند نوازی ہوگی۔
الجواب
مولٰناالمبجل المکرم المفخم المولٰی سبحٰنہ وتعالٰی کاسمہ عمرالدین آمین! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،، مجمع البرکات مولٰنا شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ،کی تصنیف ہے اگر یہ عبارت اس کے کسی نسخہ صحیحہ میں ہو تو اس سے مراد نماز قلبی کافساد ہوگا، نہ نماز فقہی کاکہ ادائے فرض ودفع کبیرہ ترک کے لئے باذنہٖ تعالٰی کافی ہے ظاہر ہے کہ فعل غیرپررضاعمل قلیل بھی نہیں کثیردرکنار، توفساد نمازفقہی ناممکن ہے ہاں نمازقلبی تذلل وتضرع وتخشع ہے کما فی الحدیث (جیسا کہ حدیث میں ہے۔ت) اور یہ امر نوع تجبر پردال ہے لہٰذا اس میں مخل ہوسکتاہے اگر اس کی نیت خود استخدام اور نماز میں اپنا اعظام ہو تو یقینا مفسدِ نماز قلب ہے ورنہ مفسد کی صورت ہے لہٰذا احتراز درکارہے پنکھا کہ کل کے ذریعہ سے چلے اگر اس کے مسالے میں مٹی کاتیل وغیرہ بدبودارچیزیں ہو توایسی اشیاء کا مسجد میں لے جانا حرام ہے ورنہ کم ازکم ناپسند وخلاف مصالح ہے پنکھے کامسئلہ فتاوٰی فقیرمیں بہت مفصّل ہے فلیراجع (اس کی طرف رجوع کیاجائے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔