مسئلہ۹۵۶ :ازپیلی بھیت وموضع بھنڈورہ علاقہ آنولہ یکم شوال ۱۳۰۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس امام کے ساتھ چاررکعت کی نماز میں ایک رکعت ملی، وہ باقی نماز کیونکر اداکرے؟ بینواتوجروا
الجواب
امام کے سلام کے بعد اٹھ کرایک رکعت فاتحہ وسورت کے ساتھ پڑھے اور اس پرالتحیات کے لئے بیٹھے پھر کھڑا ہو کر ایک رکعت فاتحہ وسورت کے ساتھ پڑھے اور اس پر نہ بیٹھے پھر ایک رکعت صرف فاتحہ کے ساتھ پڑھے اور قعدہ اخیرہ کرکے سلام پھیردے۔
یہ وہ ہے جس پراکابرائمہ نے اعتماد کیا خلاصہ، شرح طحطاوی، اسبیجابی، فتح القدیر، بحرالرائق، درر، درمختار،ہندیہ اور دیگر معتبرکتب مذہب میں اسی پراکتفا کیاہے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
یقضی اول صلاتہ فی حق قراء ۃ واٰخرھا فی حق تشھد فمدرک رکعۃ من غیر فجر یأتی برکعتین وفاتحۃ وسورۃ و تشھد بینھما وبرابعۃ الرباعی بفاتحۃ فقط ولایقعد قبلھا ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اور مسبوق قرأت کے حق میں اپنی نماز کو اول اور تشہد کے حق میں آخر نماز کرکے نماز اداکرے، فجر کے علاوہ ایک رکعت پانے والا دورکعتوں کوفاتحہ اور سورت کے ساتھ اداکرے اور ان کے درمیان قعدہ بھی کرے ، چاررکعتی نماز میں چوتھی میں صرف فاتحہ پڑھے اور اس سے پہلے قعدہ نہ کرے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۸۶)
مسئلہ ۹۵۷ :ازقصبہ میترانوالی ڈاک خانہ گھکرریلوی ضلع گوجرانوالہ مرسلہ حافظ شاہ ولی اﷲصاحب ۷محرم الحرام ۱۳۰۹ھ
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم۔
بخدمت عالی جناب قدسی القاب مولوی احمدرضاخاں صاحب دام برکاتہ،، از فقیر حافظ ولی اﷲ شاہ بعد از تسلیمات وآداب ماوجب معروض آنکہ عرصہ ایک سال کا گزراہے کہ بندہ حضور کی قدم بوسی سے مشرف ہواتھا اور ایک مسئلہ حضور سے دریافت کیاتھا درباب اقتداء مقیم کامسافر کے ساتھ نماز رباعی میں اس حالت میں جومسافر ایک رکعت اداکرچکا ہو اور مقیم آکرملا توایک رکعت مقیم نے امام مسافر کے ساتھ پائی پھر وہ تین کس طرح پراداکرے، میں نے آپ سے یہ مسئلہ دریافت کیاتھا تو آپ نے فرمایاتھا کہ اول دورکعت جوخالی قرأت سے ہیں وہ ادا اس طرح پر کرے کہ بقدر الحمد کے قیام کرے اور اس میں قرأت نہ پڑھے بعدہ، ایک رکعت جو مسبوقانہ ہے اداکرے اور اس میں ثناء و فاتحہ وسورۃ پڑھے۔ اور یہی مسئلہ مسافر والے کا اس جگہ تنازع دومولوی صاحبوں کا آپس میں پڑاہواہے بلکہ بہت عالموں سے یہ مسئلہ دریافت کیاگیا ہے سب کے سب آپ کے برخلاف بیان کرتے ہیں اور یہی کہتے ہیں سوا سند کتاب کے ہم نہیں مانتے اور دوسری جگہ ہمیشہ جب امام سے علیحدہ ہوکرمسبوقانہ اداکرتاہے توپہلے ابتداء سے شروع کرتاہے یعنی ثناء وفاتحہ وسورۃ شروع کرتاہے کیاوجہ ہے کہ مقیم نماز رباعی میں امام مسافر کے ساتھ مسبوق ہوجائے تو اول خالی دورکعت اداکرے برخلاف ترتیب معمولہ کے، لہٰذا مہربانی فرماکر محض واسطے ثواب کے یہ مسئلہ مسافروالا مفصل معہ حوالہ کتب معتبرہ کے تحریر فرمائیں تاکہ تنازع رفع ہوجائے مگربجز حوالہ کتاب کے تسلی نہ ہوگی کیونکہ ہم نے اس جگہ بہت کتب سے معلوم کیاہے کچھ تسکین نہ ہوئی، اور اگرپہلی خالی دورکعت کواداکرے تو اس میں قعدہ ایک پرکرے یانہ؟ اور قرأت وسجدہ سہو بھی اداکرے یانہ؟ ازجانب نیازمند امیر احمد اگرچہ ظاہرآپ سے ملاقات حاصل نہیں مگرزبانی حافظ ولی اﷲ شاہ صاحب سے آپ کی تعریف سن کرشائق ہوں کہ آپ جیسا شاید ہندوستان میں کوئی عالم حنفی مذہب موجودنہیں، جو مسئلہ حافظ ولی اﷲ شاہ صاحب نے اوپرلکھاہے آپ پوراپورا بعینہٖ حوالہ کتب معتبرہ تحریرفرمائیں تاکہ اطمینان کلی حاصل ہو اور کوئی شک وشبہ باقی نہ رہے اور دوسرا صرف نیازمند کو یہ شبہہ واقع ہوا ہے کہ مسافر کے ساتھ مقیم نے نماز چہارگانہ میں دوسری رکعت میں آکراقتداء کیا تواب پہلی رکعت جو بعد فراغ امام اٹھ کر پڑھے گا کس طرح پڑھے گا؟ کیونکہ اس کی تین رکعت باقی ہیں اور یہ جورکعت امام کے ساتھ اس نے پائی ہے مقتدی کی کونسی رکعت ہوگی؟ آیا بعموم قاعدہ کے جو رکعت امام کی وہی رکعت مقتدی کی، اس نماز میں تو یہ رکعت امام کی بلحاظ مسافر ہونے کے آخر کی ہے اور مقیم کی دوسری، اب وہ دوسری رکعت میں الحمدوقل پڑھے گایانہیں؟ ہرسہ رکعت میں جیسے قرأت پڑھنی کتب سے ثابت ہو تحریرفرمائیں مکلف اوقات گرامی امیراحمدعفی عنہ مکرر عرض یہ ہے کہ قیاس یہ چاہتاہے کہ جو رکعت امام کی قرأت والی ہے اس کی بھی قرأت والی رکعت اس کے ساتھ ملحق ہوجائے یا کہ پہلی دورکعت وہ اداکرے جوخالی سورۃ والی ہیں فقط بینواتوجروا
الجواب
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم، نحمدہ، ونصلی علی رسولہ الکریم۔
(شاہ صاحب کرم فرمااکرمکم اﷲ تعالٰی السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،، حکم مسئلہ جو کہ فقیرغفراﷲ تعالٰی لہ نے بیان کیا صحیح ومطابق کتاب تھا منشا اشتباہ ناظرین یہ ہے کہ صورت مذکورہ میں یہ مقیم بھی مسبوق ہے اور ہم مسبوق کو دیکھتے ہیں کہ حق قرأت میں اول نماز سے ابتداء کرتاہے، درمختارمیں ہے:
المسبوق یقضی اول صلاتہ فی حق قرأۃ۱؎۔
مسبوق قرأت کے حق میں اپنی پہلی رکعت تصور کرکے اداکرے گا۔(ت)
(۱؎ درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۸۶)
توچاہئے تھا کہ یہ بھی بعد سلام امام رکعت اولٰی ہی اداکرتاجس میں اس کو حکم قرأت ہے مگرانہوں نے یہ خیال نہ فرمایا کہ صورت مسطورہ میں مقیم تنہامسبوق نہیں لاحق بھی ہے دورکعت اخیرہ کی نظر سے لاحق اور اولٰی کے اعتبار سے مسبوق، درمختارمیں ہے:
اللاحق من فاتتہ الرکعات کلہا اوبعضھا بعد اقتدائہ کمقیم ائتم بمسافر ۱ ؎۔
لاحق وہ ہوگا جس کی اقتداء کے بعد تمام یابعض رکعات(امام سے ) رہ گئی ہوں جیسا کہ وہ مقیم جس نے مسافر کی اقتداء کی۔(ت)
(۱؎ درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ /۸۶)
ردالمحتارمیں ہے:
ای فھولاحق بالنظر للاخیرتین وقد یکون مسبوقا کما اذا فاتہ اول صلاۃ امامہ المسافر ۲؎ط۔
یعنی وہ آخری رکعتوں کے لحاظ سے لاحق ہے اور کبھی مسبوق بھی ہوسکتاہے جب مسافر امام کے ساتھ اس کی پہلی رکعت رہ گئی ہوط۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۴۴۰)
اور مسبوق لاحق کو یہی حکم ہے کہ پہلے دورکعت بے قرأت اداکرے جن میں لاحق ہے ان سے فارغ ہوکر رکعت مسبوق بہاکی قضاء باقرأت کرے۔درمختارمیں ہے:
اللاحق یبدأ بقضاء مافاتہ بلاقرأۃ ثم ماسبق بہ بھا ان کان مسبوقا ایضا۳؎۔ (ملخصا)
لاحق پہلے بغیر قرأت کے فوت شدہ اداکرے اور اگرمسبوق بھی ہوتو اس کے بعد وہ پڑھے جس میں مسبوق ہوا(یعنی اول رکعت جوباقی تھی اس کو قرأت کے ساتھ پڑھے)۔(ت)
توعلماء کافرمانا کہ مسبوق قضائے رکعات میں اول نماز سے آغاز کرے اس کے یہ معنی نہیں کہ سب سے پہلے رکعات مسبوق بہا کی قضاکرے، یہ تونہ لفظوں کامفاد نہ ان کی مراد نہ واقع میں صحیح ومتصف بسداد تمام کتب فقہ جن میں خود انہیں علماء کی صاف وصریح تصریح ہے کہ مقتدی جس نماز میں لاحق ہو اسے مسبوق بہا سے پہلے اداکرے اس کے بطلان پر شاہد عدل بلکہ علماء اس حکم سے صرف رکعات مسبوق بہاکی باہمی ترتیب ارشاد فرماتے ہیں یعنی چندرکعتوں میں مسبوق ہوا وہ ان کی قضا کے وقت الاول فالاول اداکرے مثلاً تین میں مسبوق ہو تو پہلی میں ثناء وتعوذوفاتحہ سب کچھ پڑھے دوسری میں صرف فاتحہ وسورۃ، تیسری میں فقط فاتحہ، غرض حکم منکشف ہے اور شبٍہہ منکسف، یونہی دوسراشبہہ کہ قیاس چاہتاہے کہ رکعت قرأت رکعت قرأت سے ملحق ہو،اوّلاً نصوص صریحہ کے مقابل ہمارے خیالات کوکیادخل!ثانیاً جسے چاررکعتی نماز میں صرف اخیرہ ملی بعد سلام امام دورکعت قرأت پڑھے گا توجیسے خالی سے خالی کااتصال ضرورنہیں یونہی بھری سے بھری کا۔ثالثاً یہ دیکھناتھا کہ وہ رکعت قرأت کون سی ہے جس سے رکعت قرأت ملحق ہوتی ہے اور وہ کون سی ہے جو اسے امام کے ساتھ ملی ہے وہ رکعت قرأت رکعت اولٰی ہے جس کے بعد رکعات قرأت ہوتی ہے اور اس نے ہمراہ امام رکعت ثانیہ پائی اس سے رکعت بے قرأت ہی ملتی ہے غرض یونہی دیکھئے تودوسری کے بعد تیسری کامحل ہے نہ وہ پہلی کابخلاف مسبوق کہ چوتھی تک اداکرچکا لاجرم اب پہلی سے شروع کرے گا، رہا حکم قعود وسجود جب سلام امام مسافر کے بعد مقیم قائم ہو ایک رکعت پڑھ کر اسے قعود چاہئے کہ اگر اصل میں یہ تیسری رکعت ہے مگر اس کی ادا میں دوسری ہے تو اس پر ایک شفعہ تمام ہوگا اور ہرشفعہ پرقعدہ مطلقاً چاہئے، امام، منفرد، مقتدی، مدرک، لاحق، مسبوق اس قدرحکم میں سب شریک ہیں، مسبوق کے لئے درمختار و خلاصہ و ہندیہ میں ہے:
واللفظ لھاتین لوادرک رکعۃ من المغرب قضٰی رکعتین وفصل بقعدۃ فتکون بثلث قعدات ولوادرک رکعۃ من الرباعیۃ یقضی رکعۃ ویتشہد۱؎الخ
الفاظ ہندیہ و خلاصہ کے ہیں اگرمغرب کی ایک رکعت پائی تو دو اور پڑھے اور ان کے درمیان قعدہ کرے تو اب تین قعدے ہوجائیں گے، او ر اگرچار میں سے ایک رکعت پائی تو ایک رکعت پڑھ کر تشہد بیٹھے الخ(ت)
لوسبق برکعۃ من ذوات الاربع ونام فی رکعتین یصلی اولامانام فیہ ثم ماادرکہ مع الامام ثم ماسبق بہ فیصلی رکعۃ ممانام فیہ مع الامام ویقعد متابعۃ لہ لانھا ثانیۃ امامہ ثم یصلی اخری ممانام فیہ ویقعد لانھا ثانیتہ ۱؎ الخ
اگرچار میں سے ایک رکعت (امام سے) گزرگئی اور دورکعتوں میں وہ سوگیا توپہلے سونے والی رکعتیں اداکرے پھر وہ جوامام کے ساتھ پائی اور پھر فوت شدہ اداکرے تووہ ایک رکعت جو سوتے میں امام کے ساتھ ہوئی، پڑھے گا اور اتباعاً قعدہ کرے کیونکہ امام کی دوسری تھی، پھرایک اور رکعت سونے والی پڑھے اور قعدہ کرے کیونکہ وہ اس کی دوسری ہے الخ(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصظفی البابی مصر ۱ /۴۴۰)
دیکھو ان کی ادا میں جو رکعت دوسری تھی اس پرقعدہ کاحکم دیا اگرچہ واقع میں وہ مسبوق کی پہلی اور لاحق کی تیسری تھی کمالایخفی (جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔ت) یہ عبارت بھی نص صریح ہے کہ لاحق مسبوق جس رکعت میں لاحق ہو اسےرکعت مسبوق بہا سے پہلے ادا کرے گا اور مقیم مذکور کوبعد فراغ امام جو سہو ہوا اگروہ سہورکعت مسبوق بہا میں ہے تو بالاجماع سجدہ سہو لازم
لانہ فیہا مسبوق وعلی المسبوق السجود بسھوہ
(کیونکہ ا س میں وہ مسبوق ہے اور مسبوق پرسہو کی وجہ سجدہ سہو لازم ہوتاہے۔ت) اور اگران دورکعت میں ہے جن میں اسے حکم لاحق دیاگیا تولزوم سجدہ میں علماء مختلف ہیں اور اصح لزوم ہے، بحرالرائق ہے:
المقیم اذا اقتدٰی بالمسافر ثم قام لاتمام صلاتہ وسھا ذکر فی الاصل انہ یلزم سجود السھو و صححہ فی البدائع ۲؎۱ھ ملخصاً۔
وہ مقیم جس نے مسافر کی اقتدا کی جب وہ اتمام نماز کے لئے کھڑا ہو ااوربھول گیا تو اصل میں ہے کہ اس پرسجدہ سہولازم ہے، بدائع میں اس کی تصحیح کی ۱ھ تلخیصاً(ت)
(۲؎بحرالرائق باب سجودالسہو مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۱۰۰)