مسئلہ ۹۵۲ :ازگونڈل مرسلہ سیدغلام محی الدین صاحب راندھیری ۱۱/صفر۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسبوق بروقت اختتام نماز، امام قعدہ اخیرہ میں تمامیت تشہد کے بعد گویا فقہی اقوال کے بموجب شہادتین کو مسبوق دہرایاکرے تاسلام امام، بجائے شہادتین کے اگرالسلام علیک ایہاالنبی سے دہرایاکرے توکچھ حرج ہے؟
الجواب
فقہانے تکرارتشہد ہی کو لکھاہے اور اگر السلام سے تکرار کرے جب بھی کوئی ممانعت نہیں، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۵۳ : ازبریلی مرسلہ مولوی عبدالرشید صاحب مدرس ۲۲/شوال ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسبوق امام کی متابعت سجدہ وسلام دونوں میں کرے گا یافقط سجدہ میں؟ اور اگر بالفرض والتقدیر سلام میں متابعت کرے تونماز مسبوق کی باقی رہے گی یافاسد؟ بینواتوجروا جزاکم اﷲ تعالٰی۔
الجواب
مسبوق صرف سجدہ میں متابعت کرے، نہ سلام میں، اگر سلام میں قصداً متابعت کرے گا اگرچہ اپنے جہل سے یہ ہی سمجھ کر کہ مجھے شرعاً سلام میں بھی اتباع امام چاہئے تونماز اس کی فاسد ہوجائے گی، ہاں اگرسہواً سلام کیا تونمازمطلق نہ جائے گی اور سجدہ سہو بھی اپنی نمازکے آخر میں کرنانہ ہوگا اگریہ سلام سہواً سلامِ امام سے پہلے یامعاً اس کے ساتھ ساتھ بغیرتاخیر کے تھا اور اگرسلام امام کے بعد بھول کر سلام پھیرا تو اس سجدہ سہو میں توامام کی متابعت کرے ہی، پھر جب اپنی باقی نماز کو کھڑا ہو تو اس کے ختم پر اس کے سہو سلام کے لئے سجدہ سہو کرے، ردالمحتارمیں ہے:
المسبوق لیسجد مع امامہ، قید بالسجود لانہ لایتابعہ فی السلام بل یسجد معہ ویتشھد فاذا سلّم الامام قام الی القضاء فان سلم فان کان عامداً فسدت والالاولاسجود علیہ ان سلم سہواً قبل الامام اومعہ وان سلم بعدہ لزمہ لکونہ منفرداً حینئذ، بحر واراد بالمعیۃ المقارنۃ وھو نادرالوقوع کما فی شرح المنیۃ وفیہ لوسلم علی ظن ان علیہ ان یسلم فھو سلام عمد یمنع البناء ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسبوق اپنے امام کے ساتھ سجدہ کرے، سجدہ کی قید اس لئے کہ سلام میں امام کی اتباع نہ کرے بلکہ اس کے ساتھ سجدہ کرے اور تشہد پڑھے اور جب امام سلام پھیرے تو وہ بقیہ رکعتوں کی ادائیگی کے لئے کھڑاہوجائے، اگر اس نے سلام پھیرا اور اس کاسلام پھیرنادانستہ تھا تو نمازفاسد ہوجائے گی ورنہ نہیں، اگر اس نے بھول کر سلام پھیرا تواس صورت میں سجدہ سہو نہ ہوگا جب امام سے پہلے یامعاً اما کے ساتھ ساتھ بغیرتاخیر سلام پھیرا ہو، اور اگر سلام امام کے بعد سلام پھیرا تواب سجدہ لازم ہے کیونکہ اب وہ تنہا ومنفرد ہے بحر، اور یہاں معیت سے مراد مقارنت ہے اور اس کا وقوع بہت کم ہے، اسی طرح شرح المنیۃمیں ہے کہ اگر اس نے یہ گمان کرتے ہوئے سلام پھیردیا کہ اس پرسلام لازم تھا تویہ عمداً سلام ہوگا جو کہ بنائے نماز سے مانع ہے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب سجود السہو مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۵۴۹)
مسئلہ ۹۵۴ :مرسلہ مرزاباقی بیگ صاحب رامپوری ۱۱/ذیقعدہ ۱۳۰۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرمقیم نے امام مسافر کی اقتدا کی اور ایک یادونوں رکوع نہ پائے مثلاً دوسری رکعت یاصرف التحیات میں شریک ہوا تو بعد سلام امام کے اپنی نماز کس طرح ادا کرے؟ بینوا توجروا
الجواب
یہ صورت مسبوق لاحق کی ہے وہ پچھلی رکعتوں میں کہ مسافر سے ساقط ہیں مقیم مقتدی لاحق ہے
لانہ لم یدرکھما مع الامام بعد مااقتدی بہ
(اس لئے کہ اس نے اقتداء کے بعد امام کے ساتھ ان دورکعتوں کو نہیں پایا۔ت) اور اس کے شریک ہونے سے پہلے ایک رکعت یادونوں جس قدرنماز ہوچکی ہے اس میں مسبوق ہے
لانھا فاتتہ قبل ان یقتدی
(اقتدا سے قبل اس نے اسے فوت کیا ہے۔ت) درمختار و ردالمحتارمیں ہے:
مقیم ائتم بمسافر فھو لاحق بالنظر للاخیرتین وقدیکون مسبوقا ایضا۱ھ کما اذافاتہ اول صلاۃ امامہ المسافر ۱؎ ط۔
اگرمقیم نے مسافر کی اقتداء کی تو وہ آخری رکعتوں کے لحاظ سے لاحق ہے اور کبھی مسبوق بھی ہوسکتاہے جبکہ مسافر امام کی اقتدا ء پہلی رکعت میں نہ کی ہو۔ط(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۴۴۰)
اور حکم اس کا یہ ہے کہ جتنی نماز میں لاحق ہے پہلے اسے بے قراء ت اداکرے یعنی حالت قیام میں کچھ نہ پڑھے بلکہ اتنی دیر کہ سورہ فاتحہ پڑھی جائے محض خاموش کھڑا رہے بعدہ، جتنی نماز میں مسبوق ہوا اسے مع قراء ت یعنی فاتحہ وسورت کے ساتھ اداکرے،
فی الدر المختار اللاحق یبدأ بقضاء مافاتہ بلاقراء ۃ ثم ماسبق بہ بھا ان کان مسبوقا ۲؎ ایضا ۱ھ ملخصا۔
درمختار میں ہے کہ پہلے لاحق فوت شدہ رکعات بغیرقراء ت کے اداکرے پھر وہ رکعات جوامام کے ساتھ رہ گئی تھیں اگرمسبوق ہوا۱ھ ملخصاً(ت)
(۲؎ درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۸۶)
ردالمحتارمیں ہے:
قولہ ماسبق بہ بھا الخ ای ثم صلی اللاحق ماسبق بہ بقرأۃ ان کان مسبوقا ایضا بان اقتدی فی اثناء صلاۃ الامام ثم نام مثلا وھذا بیان للقسم الرابع وھو المسبوق اللاحق الخ۱؎
پھر ماسبق رکعات الخ یعنی اگرمسبوق ہے تولاحق قرأت کے ساتھ سابقہ رکعات اداکرے مثلاً اس نے امام کے ساتھ دوران نماز اقتداء کی پھر مثلاً سوگیا اور یہ چوتھی قسم کابیان ہے جومسبوق لاحق ہے الخ۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۴۴۰)
پس اگردونوں رکوع نہ پائے تھے تو پہلے دورکعتیں بلاقرأت پڑھ کر بعدالتحیات دورکعتیں فاتحہ و سورت سے پڑھے، اور اگرایک رکوع نہ ملاتھا توپہلے ایک رکعت بلاقرأت پڑھ کر بیٹھے اور التحیات پڑھے کیونکہ یہ اس کی دوسری ہوئی، پھر کھڑا ہوکر ایک رکعت اور ویسی ہی بلاقرأت پڑھ کر اس پربھی بیٹھے اور التحیات پڑھے کہ یہ رکعت اگرچہ اس کی تیسری ہے مگرامام کے حساب سے چوتھی ہے اور رکعات فائتہ کونماز امام کی ترتیب پراداکرنا ذمہ لاحق لازم ہوتاہے پھر کھڑا ہوکر ایک رکعت بفاتحہ وسورت پڑھ کر بیٹھے اور بعد تشہد نماز تمام کرے۔
فی ردالمحتار عن شرحی المنیۃ والمجمع انہ لوسبق برکعۃ من ذوات الاربع ونام فی رکعتین یصلی اولامانام فیہ ثم ماادرکہ مع الامام ثم ماسبق بہ فیصلی رکعۃ ممانام فیہ مع الامام ویقعد متابعۃ لہ لانھا ثانیۃ امامہ ثم یصلی الاخری ممانام فیہ ویقعد لانھا ثانیتہ ثم یصلی التی انتبہ فیھا و یقعد متابعۃ لامامہ لانھا رابعۃ و کل ذلک بغیرقرأۃ لانہ مقتد ثم یصلی الرکعۃ التی سبق بھا بقرأۃ الفاتحۃ وسورۃ والاصل ان اللاحق یصلی علی ترتیب صلاۃالامام والمسبوق یقضی ماسبق بہ بعد فراغ الامام ۱؎۱ھ
ردالمحتار میں شرح منیہ و مجمع سے ہے کہ اگر چاررکعات میں سے ایک رکعت گزرگئی اور پھر شریک ہوا پھر دومیں سوگیا تو اب جن میں سویا انہیں پہلے ادا کرے، پھر جس میں امام کے ساتھ اقتداء کی پھر چھوٹی ہوئی، پس وہ جس میں امام کے ساتھ سویا اس کی ایک رکعت پڑھے اور امام کی اتباع میں قعدہ کرے کیونکہ امام کی دوسری رکعات تھی، پھرسونے والی دوسری رکعات اداکرے اور قعدہ کرے کیونکہ اس کی دوسری رکعت ہے پھر وہ پڑھے جس میں بیدار ہوا اور اتباع امام کی وجہ سے بیٹھے کیونکہ یہ اس کی چوتھی ہے اور یہ تمام بغیرقرأت کے ہوں گے پھر وہ قرأت وفاتحہ کے ساتھ وہ رکعات پڑھے جوگزرچکی تھیں، ضابطہ یہ ہے کہ لاحق امام کی ترتیب پرنماز اداکرے لیکن امام کی فراغت کے بعد ماسبق کی ادائیگی کرے ۱ھ۔
(۱؎ ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۴۴۰)
اقول فھذہ ھی الصورۃ المسؤل عنہا بید ان مانحن فیہ اعنی اقتداء المقیم بالمسافر لایتحقق فیہ الادراک بعد ماصار لاحقالانہ انما یصیر لاحقا فی الاخیرین وذلک انما یکون بعد سلام الامام فلا تتأتی ھنا صورۃ المتابعۃ بعد اداء ماھو لاحق فیہ کمالایخفی ولذٰلک تغیر بعض الترتیب واﷲ تعالٰی اعلم۔
اقول(میں کہتاہوں) صورت مسؤلہ یہی ہے علاوہ ازیں جس میں ہم بحث کررہے ہیں یعنی مقیم کا مسافر کی اقتدا کرنا اس میں لاحق سے ادراک امام پایانہیں جاتا کیونکہ آخری رکعتوں میں وہ لاحق ہی ہے اور یہ بات سلام امام کے بعد ہی ہوگی لہٰذا یہاں ایسی صورت نہ ہوگی کہ وہ کچھ ادائیگی کے بعد لاحق ہو جیسا کہ واضح ہے اسی لئے کچھ ترتیب میں تبدیلی آجاتی ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ ۹۵۵ :ازبگرام ضلع ہردوئی محلہ میدانی پورہ مرسلہ حضرت سیّدابراہیم صاحب مارہروی ۲۰/صفر۱۳۱۱ھ
امام نمازظہریاعصر یاعشاء پڑھتاہے اور ایک یا دورکعت پڑھ چکاہے کہ دوسراشخص آکرشامل ہوا توبعد ختم ہونے نماز کے یہ مقتدی اپنے رکعات باقیہ جوپڑھے تو اس میں فاتحہ وسورت و قراء ت کرے یابقدر پڑھنے فاتحہ وسورت کے ساکت رہ کر رکوع وسجود بجالائے تشریحاً لکھا جاوے اور اسی طرح اگرمسافر نمازیں مذکور نصف پڑھ کرختم کرے تومقتدی فاتحہ پڑھے یابقدر قرأت ساکت رہے۔ بینواتوجروا
الجواب
صورت اولٰی میں مقتدی کہ بعد سلام امام رکعت اولٰی یا اولین قضاکرے فاتحہ وسورت وجوباً پڑھے کیونکہ وہ مسبوق ہے اور مسبوق اپنے رکعات میں مثل منفرد، اور منفرد پرقراء ت لازم، اور صورت ثانیہ میں مقیم کہ بعد سلام مسافر رکعتین اخیرتین اداکرے بجائے قراء ت ساکت رہے کہ وہ ان رکعات میں لاحق ہے اور لاحق حکماً مقتدی اور مقتدی کو قرأت ممنوع۔
فی الدرالمختار اللاحق من فاتتہ الرکعات کلھا اوبعضھابعد اقتدائہ کمقیم ائتم بمسافر و حکمہ کمؤتم فلا یأتی بقرأۃ ولاسہو والمسبوق من سبقہ الامام بھا اوبعضہا وھو منفرد حتی یثنی ویتعوذ ویقرؤ فیما یقضیہ فمدرک رکعۃ من غیر فجر یأتی برکعتین بفاتحۃ وسورۃ و تشھد بینھما وبرابعۃ الرباعی بفاتحۃ فقط ۱؎۱ھ ملتقطا۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
درمختار میں ہے لاحق وہ مقتدی ہوتاہے جس کی اقتدا کے بعد تمام یابعض رکعتیں(امام سے)رہ جائیں جیسے کہ کسی مقیم نے مسافر کی اقتداء کی اس کاحکم مقتدی کی طرح ہی ہے وہ قرأت نہیں کرے گا اور نہ ہی سجدہ سہو کرے گا، اور مسبوق وہ ہوتاہے جس سے پیشتر امام سب رکعتیں یابعض رکعتیں اداکرچکاہو اس کے بعد شریک ہو وہ مسبوق منفرد کی طرح ہوتاہے حتی کہ وہ ثناء سبحٰنک اللھم الخ اور تعوذ پڑھے گا بقیہ رکعتوں میں قرأت بھی کرے گا، فجر کے علاوہ ایک رکعت پانے والا دورکعتوں کوفاتحہ اور سورت کے ساتھ ادا کرے اور ان کے درمیان قعدہ بھی کرے، اور چاررکعتی نماز میں چوتھی رکعت میں صرف فاتحہ ہی پڑھے ۱ھ ملتقطا۔