مسئلہ ۹۴۷ :ازفیض آباد مرسلہ منشی احمدحسین خرسندنقشہ نویس اسسٹنٹ انجینئر ریلوے ۲۳ربیع الاول شریف ۱۳۲۳ھ
س کہتاہے جس کو مغرب کی تیسری رکعت جماعت کے ساتھ ملے وہ جب اپنی نمازپوری کرنے کھڑا ہوتو اپنی دوسری رکعت میں قعدہ کرے کیونکہ قاعدہ مصرحہ ہے نماز مسبوق درحق قرأت حکم اول نمازدارد ودرحق قعود حکم آخرنماز مسبوق کی باقی ماندہ نماز) قرأت کے لحاظ سے اول اور بیٹھنے میں آخر کاحکم رکھتی ہے۔ت) ع کہتاہے مسبوق دوسری رکعت پرقعدہ نہ کرے کہ بعض کتب فقہ میں ایسا ہی لکھا ہے اور جو دوسری قعدہ کرے گا توتینوں رکعات علیحدہ علیحدہ ہوجائیں گی، پس سوال یہ ہے کہ قول س کا قابل عمل ہے یاع کا۔ بینواتوجروا
الجواب
قول س کا صحیح ہے، ائمہ فتوٰی سے اسی کااختیار مفیدترجیح ہے، کتب معتمدہ میں اس کی تصریح ہے، درمختارمیں ہے:
یقضی اول صلاتہ فی حق قراء ۃ واٰخرھا فی حق تشھد فمدرک رکعۃ من غیرفجریاتی برکعتین بفاتحۃ وسورۃ و تشھد بینھما وبرابعۃ الرباعی بفاتحۃ فقط ولایقعد قبلھا۱؎۔
قرأۃ کے حق میں وہ اپنی ابتدا نماز اور تشہد کے حق میں آخرنماز تصورکرکے اداکرے فجر کے علاوہ ایک رکعت پانے والا دورکعتوں کو فاتحہ اور سورت کے ساتھ اداکرے اور ان کے درمیان قعدہ بھی کرے اور چاررکعتی نماز میں چوتھی رکعت کو صرف فاتحہ کے ساتھ اداکرے اور اس سے پہلے قعدہ نہ کرے۔(ت)
(۱؎ درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۸۶)
خلاصہ و ہندیہ میں ہے:
لوادرک رکعۃ من المغرب قضی رکعتین وفصل بقعدۃ فتکون بثلث قعدات۲؎۔
اگرکسی نے مغرب کی ایک رکعت پائی تو وہ باقی ماندہ دوبجالائے اور ان کے درمیان قعدہ کے ساتھ فاصلہ کرے تو یہاں تین قعدے ہوجائیں گے(ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیۃ الفصل السابع فی المسبوق واللاحق مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۹۱)
یہاں تک کہ غنیہ شرح منیہ میں فرمایا اگرایک رکعت پڑھ کرقعدہ نہ کیا توقیاس یہ ہے کہ نمازناجائز ہو یعنی ترک واجب کے سبب ناقص وواجب الاعادہ البتہ استحساناً حکم جواز وعدم وجوب اعادہ دیاگیاکہ یہ رکعت من وجہ پہلی بھی ہے، ردالمحتارمیں ہے:
قال فی شرح المنیۃ ولولم یقعد جاز استحساناً لاقیاسا ولم یلزم سجود السھو لکون الرکعۃ اولی من وجہ۳؎۔واﷲ سبحٰنہ، وتعالٰی اعلم۔
شرح المنیہ میں فرمایا ہے اگر اس نے ایک رکعت پڑھ کر قعدہ نہ کیا تو اگرچہ قیاساً نماز درست نہیں مگراستحساناً درست ہے اور اس پر سجدہ سہو لازم نہیں کیونکہ ایک لحاظ سے یہ پہلی رکعت ہے۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۲۴۱)
مسئلہ ۹۴۸ :حافظ عبداﷲ خاں موضع ٹھریا ضلع بریلی بتاریخ ۲۹/جمادی الاخری ۱۳۲۷ھ
جماعت رکوع میں ہو تو مسبوق نمازی کونیت کرکے اور تکبیر کہہ کر ہاتھ باندھنا چاہئے یا بے باندھے دوسری تکبیر کہہ کر رکوع میں جانا چاہئے یا ایک ہی تکبیر اس کے واسطے کافی ہے یاکیا حکم ہے؟ بینواتوجروا
الجواب
ہاتھ باندھنے کی تواصلاً حاجت نہیں اور فقط تکبیرتحریمہ کہہ کر رکوع میں مل جائے گا تو نماز ہوجائے گی مگرسنت یعنی تکبیر رکوع فوت ہوئی لہٰذا یہ چاہئے کہ سیدھا کھڑا ہونے کی حالت میں تکبیر تحریمہ کہے اور سبحٰنک اللھم پڑھنے کی فرصت نہ ہو یعنی احتمال ہو کہ امام جب تک سراٹھالے گا تومعاً دوسری تکبیرکہہ کر رکوع میں چلاجائے اور امام کا حال معلوم ہوکہ رکوع میں دیر کرتاہے سبحٰنک اللّٰھم پڑھ کر بھی شامل ہوجاؤں گا تو پڑھ کر رکوع کی تکبیر کہتاہوا شامل ہو یہ سنت ہے اور تکبیر تحریمہ کھڑے ہونے کی حالت میں کہنی توفرض ہے بعض ناواقف جو یہ کرتے ہیں کہ امام رکوع میں ہے تکبیرتحریمہ جھکتے ہوئے کہی اور شامل ہوگئے اگراتنا جھکنے سے پہلے کہ ہاتھ پھیلائیں توگھٹنے تک پہنچ جائیں اﷲ اکبر ختم نہ کرلیا تونماز نہ ہوگی، اس کاخیال لازم ہے، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۴۹ :ازبلنڈی افریقہ سائل حاجی عبداﷲ و حاجی یعقوب علی
نمازظہر کی جماعت کھڑی ہے میں نے وضو کیا تب تک تین رکعت خلاص ہوگئیں چوتھی میں جاملا، اب میں تین رکعت کس ترتیب سے اداکروں؟
الجواب
سلام اما م کے بعد کھڑے ہوکر سبحٰنک اللھم الخ پہلے اگرنہ پڑھا تھا تو اب پڑھے ورنہ اعوذ سے شروع کرے اور الحمد وسورت پڑھ کر رکوع وسجدہ کرکے بیٹھ کر التحیات پڑھے پھر کھڑا ہوکر الحمدوسورت پڑھے اور رکوع وسجدہ کرکے بغیر بیٹھے کھڑا ہوجائے اور چوتھی رکعت میں فقط الحمد پڑھ کر رکوع وسجدہ کرکے التحیات پڑھے اور نماز تمام کرے، درمختارمیں ہے:
یقضی اول صلاتہ فی حق قراء ۃ واٰخرھا فی حق تشھد فمدرک رکعۃ من غیرفجر یاتی برکعتین بفاتحۃ وسورۃ وتشھد بینھما وبرابعۃ الرباعی بفاتحۃ فقط ولایقعد قبلھا۱؎۔
واﷲ تعالٰی اعلم
قراء ت کے حق میں ابتدائے نماز اور تشہد کے حق میں آخر نمازتصور کرکے اداکرے، فجر کے علاوہ ایک رکعت پانے والا دورکعتوں کوفاتحہ اور سورت اور ان کے درمیان تشہد کے ساتھ اداکرے اور چاررکعتی نماز میں چوتھی رکعت کوصرف فاتحہ کے ساتھ پڑھے اور اس سے پہلے قعدہ نہ کرے(ت)
(۱؎ درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۸۶)
مسئلہ ۹۵۰ :ازلشکر گوالیار محکمہ ڈاک دربارگوالیار مرسلہ مولوی نورالدین احمدصاحب ۹/صفر۱۳۱۲ھ
مخدوم نیازمنداں بسط اﷲ ظلکم ابداً، مسبوق سجدہ سہو میں امام سے ملے یانہیں یعنی اگر اس کو علم ہوکہ امام اور اس کے مقتدی سجدہ سہو کررہے ہیں یاتشہد بعد سجدہ سہو میں بیٹھے ہیں باوجود اس علم کے اس کی اقتداء درست ہے یانادرست؟ بینواتوجروا
الجواب
ضرورمل جائے ہرحال میں اقتدا درست وصحیح ہے، ردالمحتارمیں زیر قول درمختار:
المسبوق یسجد مع امامہ مطلقا سواء کان السہو قبل الاقتداء اوبعدہ لکھا شمل ایضا مااذا سجد الامام واحدۃ ثم اقتدی بہ قال فی البحر فانہ یتابعہ فی الاخری ولایقضی قضاء الاولٰی کما لایقضیہما لواقتدی بہ بعد ماسجدھما۱؎ انتھی۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسبوق اپنے امام کے ساتھ ہرحال میں سجدہ سہو کرے خواہ وہ سہو اقتدا سے پہلے ہو یابعد میں، یہ اس صورت کو بھی شامل ہے جب امام نے ایک سجدہ کرلیاتو پھر اس نے امام کی اقتداء کی، بحرمیں ہے کہ مسبوق دوسرے سجدے میں اقتدا کرے تو اس صورت میں پہلے سجدہ کی قضانہیں، جیسا کہ ان دونوں سجدوں کی ادائیگی کے بعد شمولیت کرنے پرقضانہیں انتہی۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب سجود السہو مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۵۴۹)
مسئلہ ۹۵۱ : ۲۲/رجب ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جب زید صبح کی نماز کے وقت وضو کرکے فارغ ہوا توگمان کیا کہ امام نصف التحیات پڑھ چکا اور جماعت دوسری بھی تیار ہے اس نے سنت پڑھنا شروع کیا، بعدسنت کے جماعت ثانی ہوئی زید اس میں شریک ہوا، آیا یہ سنتیں اس کی ہوئی یانہیں؟ اور زید امام اول کی التحیات میں شریک نہ ہونے سے گنہگار ہوا یانہیں؟ اور اس التحیات میں شریک ہونا اسے ضروری تھا یانہیں؟
الجواب
سنتیں ہوتو ہرحال میں گئیں مگرزید کوحکم یہ تھا ک امام اول کی التحیات میں شریک ہوجائے۔جماعت ثانیہ کے اعتماد پر اولٰی کی شرکت نہ چھوڑے، زید بالقصد بلاعذر صحیح شرعی جماعت اولٰی فوت کردینے سے گنہگار ہوا، درمختارمیں ہے:
اذا خاف فوت رکعتی الفجر لاشتغالہ بسنتہا ترکہا۱؎۔
جب سنتوں میں مشغولیت سے فرائض فجر کے فوت ہونے کا خوف ہوتو سننن کو ترک کردیاجائے۔(ت)
(۱؎ درمختار باب ادراک الفریضہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ /۹۹)
راجح اہل مذہب کے ہاں جماعت کا واجب ہونا ہے اور اس کافوت کرنا بالاتفاق گناہ ہے۱ھ۔ اﷲ تعالٰی کی توفیق سے اپنے فتاوٰی میں اس بات کی خوب تحقیق کی ہے کہ یہ حکم صرف پہلی جماعت کے لئے ہے۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب الاذان مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۲۹۲)
ہاں اگر جماعت اولٰی کاامام غلط خواں یامعاذاﷲ بدمذہب گمراہ یافاسق معلن تھا، اور امام ثانی ان بلاؤں سے پاک، تو زید نے بہت اچھاکیا ایساہی چاہئے تھا بلکہ اگرامام اول مثلاً شافعی المذہب تھا اور اس نے امام حنفی المذہب کی اقتداچاہی ا س نیت سے تاخیر کی جب بھی گناہ نہ ہوا،
کما بینا کل ذٰلک فی فتاوٰنا والمسائل فی ردالمحتار وغیرہ
(جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس بات کی خوب تحقیق کی ہے اور ردالمحتاروغیرہ میں مسائل کی تفصیل ہے۔ت)