مسئلہ ۹۴۲: ازغازی پورمحلہ میاں پورہ مرسلہ منشی علی بخش صاحب محرر دفترججی غازی پور ۱۷/ذی قعدہ ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام پرتحکم کرنا مقتدیوں کویاانتظار کرنا امام کو مقتدی کا بعد اوقات معینہ کے بھی بالخصوص ایسے مقتدی کاجوبے علم اور مشہور جھگڑالو ہو درمیان میں مقتدیوں کے، اور یہ چاہتاہو کہ جب ہم کہیں جب ہی اذان ہو اور جب ہم کہیں جب ہی نماز ہو اگرچہ وقت کچھ ہی ہوجائے اور امام پانچوں وقت بعداذان کے خود آکر ہمیں گھرسے بلالے جایاکرے، پس ایسے شخص کانماز کے باب میں انتظار کرنااور متبع ہونا ا مام کو سزاوارہے یانہیں؟
الجواب
مقتدی کوامام پرتحکم نہیں پہنچتا اور وہ خیالات جوسوال میں مذکور ہوئے محض ظلم واثم ہیں امام کو ایسے شخص کااتباع اور اس کی ان نفسانی خواہشوں کالحاظ ہرگز نہ چاہئے مگرجبکہ شریروموذی ہو اور اس کے ترک انتظارمیں مظنہ فتنہ ہو توبمجبوری تاحدامکان انتظارکرسکتاہے کہ فتنہ سے بچنا ضرورہے۔
قال اﷲ تعالٰی الفتنۃ اشد من القتل۱؎۔
اﷲ تعالٰی کاارشاد گرامی ہے: فتنہ قتل سے بدترہے۔(ت)
(۱؎ القرآن ۲ /۱۹۱)
ملتزمان جماعت جب تک حاضرنہ ہوں اور وقت میں کراہت نہ آئے امام انتظار کرے ورنہ نہیں۔
وقدکان صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا حضرالناس عجل واذا تاخروا اخر۔ واﷲ تعالٰی اعلم
حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کامعمول تھا جب لوگ حاضر ہوتے آپ جلدی فرماتے جب لوگ تاخیر کرتے آپ تاخیرفرماتے(ت)
مسئلہ ۹۴۳ :ازشہرکہنہ مرسلہ رحیم بخش بریلی
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ کھاناتیار ہے اورجماعت بھی تیارہے تواول کھاناکھائے یانماز پڑھ لے؟
الجواب
جماعت تیار ہے اور کھاناسامنے آیا اور وقت تنگ نہ ہوجائے گا اور پہلے جماعت کوجائے توبھوک کے سبب دل کھانے میں لگارہے یاکھانا سردہو کر بے مزا ہوجائے گا یا اس کے دانت کمزور ہیں روٹی ٹھنڈی ہوکر نہ چبائی جائے گی تواجازت ہے کہ پہلے کھانا کھالے اور اگرکھانے میں کوئی خرابی یادقّت نہ آئے گی نہ اسے ایسی بھوک ہے توجماعت نہ کھوئے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۴۴ :مرسلہ اصغرعلی خاں بریلی بانس منڈی
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں دس بیس شخص نمازی روزمرہ جمع ہوتے ہیں ان سب کی رائے سے وقت ظہر دوبجے اور عصر پانچ بجے اور عشا۹ بجے قرارپایاہے اذان ہوئی اور دوایک شخص تشریف لاکر بیٹھے رہے یہاں تک کہ اور نمازی بھی جمع ہوگئے اور صف باندھ کرکھڑے ہوئے تو ان صاحب نے جوپیشتر سے تشریف لائے ہیں کہا کہ ہم نے تو بھی وضو ہی نہیں کیاہے لہٰذا کچھ صاحبوں کی اہل جماعت سے رائے ہوئی کہ وضو کرلینے دو، جملہ نمازی کھڑے رہے، جب اُن صاحب نے وضوکرلیا بلکہ پاؤں دھوناباقی تھے کہ اس عرصہ میں دوچار شخص اور آگئے ان کووضوسے فارغ نہ ہونے دیا اور فوراً کھڑے ہوگئے، دیگر یہ کہ کوئی صاحب تشریف لائے اور وضو کرکے جماعت میں دیر دیکھ کر اپنے مکان کو تشریف لے گئے تو ان کا انتظار کیاجائے یانہیں اور جماعت تیار ہے، بینوا توجروا
الجواب
یہ دوچارشخص جوبعد کو آئے اور ان کے وضو کاانتظار نہ کیا اور جماعت قائم کردی اگریہ لوگ اہل محلہ سے نہ تھے انہیں اس تعیین وقت پرجواہل مسجد نے مقرر کرلی ہے اطلاع نہ تھی اور وقت میں تنگی بھی نہ تھی اور حاضرین میں کسی پرانتظار سے کوئی حرج بھی نہ تھا تو اس صورت میں ان کے وضو کاانتظارکرلینا مناسب تھا خصوصاً جبکہ اس انتظار نہ کرنے میں ان کی دل شکنی ہو کہ بلاوجہ کسی مسلمان کی دل شکنی بہت سخت بات ہے، دوچار منٹ میں وضوہوجائے گا، اس میں ان کاایک نفع اور اپنے تین، اُن کا تویہ کہ تکبیر اولٰی پالیں گے او اپنا پہلانفع یہ کہ اس فضیلت کے ملنے میں مسلمانوں کی اعانت ہوئی اور اس کا اجرعظیم ہے
قال اﷲ تعالٰی تعاونوا علی البر والتقوٰی ۱؎
(اﷲ تعالٰی نے فرمایا: نیکی اورتقوٰی پرلوگوں کے ساتھ تعاون کرو(ت)
( ۱؎ القرآن ۵ /۲)
یہاں تک کہ عین نماز میں امام کو چاہئے کہ اگررکوع میں کسی کی پہچل سنے اور اسے پہچانانہیں تو ایک تسبیح زیادہ کردے کہ وہ شامل ہوجائے، دوم اس رعایت سے ان مسلمانوں کادل خوش کرنا متعدد احادیث میں ہے:
احب الاعمال الی اﷲ بعد الفرائض ادخال السرور علی المسلم۲؎ اوکماقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
فرائض کے بعد سب اعمال میں اﷲ کوزیادہ پیارا مسلمان کادل خوش کرنا ہے جیسا کہ حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاارشاد مبارک ہے۔
(۲؎ الجامع الصغیر مع فیض القدیر حدیث ۲۰۰ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۱۶۷)
(مجمع الزوائد باب فضل قضاء الحوائج مطبوعہ دارالکتاب بیروت ۸ /۱۹۳)
سوم صحیح حدیث میں ارشاد ہوا کہ:
انکم فی صلٰوۃ ماانتظرتم الصلٰوۃ ۱؎۔
بیشک تم نماز ہی میں ہو جب تک نماز کے انتظار میں ہو۔
ورنہ انتظارنہ کرنے میں کوئی حرج نہ ہوا، جوشخص جماعت میں دیر دیکھ کرچلاگیا وقت مقررہ کے بعد اس کے انتظار کی حاجت نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۴۵: ازککرالہ ضلع بدایوں مرسلہ ٰیسین خاں ۷/ذی الحجہ ۱۳۳۶ھ
ایک شخص نے نماز پڑھنا شروع کیادوسرا آیا اس کے برابرکھڑاہوگیا، تیسراآیا وہ دوسری طرف برابرکھڑاہوگیا، چوتھا آیا اس نے دونوں مقتدیوں کوکھینچ کے پیچھے کھڑا کرکے شامل ہوا پوچھاگیا کہ نماز میں کوئی قصور تونہ ہوا کہاحدیث میں آیا ہے کہ مقتدیوں کوکھینچ کے پیچھے کھڑاکرلے۔ بینواتوجروا
الجواب
آج کل بوجہ غلبہ جہل کھینچنا منع ہے پھر بھی نماز ہوگئی اگرہٹنے والے حکم شرع ماننے کے لئے ہٹے ہوں، اور اگر کھینچنے والے کاحکم ماننے کوہٹے نہ مسئلہ کے لحاظ سے تو ان ہٹنے والوں کی نماز نہ ہوئی، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۴۶ :ازڈیرہ غازی خاں بلاک نمبر۱۲ مسؤلہ احمدبخش صاحب ۸صفر۱۳۳۹ھ
حضرت ملک العلماء شمس الفضلا، مقتدائے اہل ایمان ،پیشوائے اہل ایقان ادام اﷲ تعالٰی فضلہم ومجدہم الٰی یوم الدین، السلام و علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،، نیازمند مشتاق زیارت محتاج دعاہزارہزار نیازکے بعد عرض کرتاہے کہ ان ایام میں ایک مسجد جدید تیارکرائی جاتی ہے جس کے متعلق یہ ارادہ ہے کہ سقف پرعورتوں کے نمازپڑھنے کی جگہ تیارہو اس حالت میں جماعت کی وضع اور صورت یہ ہوگی کہ بعض صفوف رجال جونیچے زمین پرہوں گی عورتوں کی صفوں سے مقدم اور بعض محاذی زیروبالا اور بعض مؤخر بیرونی صحن میں، پس کیاایسی جماعت اس لئے کہ عورتوں کے صفوف بعض صفوف رجال کے اوپر اور بعض صفوف رجال سے جوبیرونی صحن میں ہوں گی مقدم ہیں مکروہ یاناجائز ہوگی اس لئے کہ عورتوں کے صفوف اورصفوف رجال کے درمیان دیواریں اور پردے حائل ہوں گے یاکوئی کراہت نہیں، بینواتوجروا
الجواب
جبکہ بیچ میں سقف وجدار حائل ہیں باعث بطلان نماز رجال نہیں ہوسکتا کہ محاذات نہ ہوئی،
تنویرالابصارمیں ہے: