Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
35 - 158
ایک حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من نظر الٰی فرجۃ فی صف فلیسدھا بنفسہ فان لم یفعل فمرمارفلیتخط علی رقبتہ فانہ لاحرمۃ لہ ۱؎ ۔ رواہ فی مسند الفردوس عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
جوکسی صف میں خلل دیکھے وہ خود اسے بند کردے اور اگراس نے بند نہ کیا اوردوسراآیا توا سے چاہئے کہ وہ اس کی گردن پرپاؤں رکھ کر اس خلل کی بندش کوجائے کہ اس کے لئے کوئی حرمت نہیں۔ اسے مسند فردوس میںحضرت 

عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیاہے۔
 (۱؎ المعجم الکبیر        مروی از ابن عباس رضی ا ﷲ تعالٰی عنہ    مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت    ۱۱ /۱۰۵۔۱۱۳)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
ان اﷲ وملٰئکتہ یصلون علی الذین یصلون الصفوف ومن سد فرجۃ رفعہ اﷲ بھا درجۃ ۲؎۔ رواہ احمد و ابن ماجہ وابن حبان والحاکم وصححہ واقروہ عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا۔
بیشک اﷲ تعالٰی اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں ان لوگوں پرجوصفوں کو وصل کرتے ہیں اور جوصف کافرجہ بند کرے اﷲ تعالٰی اس کے سبب جنت میں اس کا درجہ بلند فرمائے گا۔ اسے امام احمد، ابن ماجہ، ابن حبان اور حاکم نے روایت کیااور صحیح کہا اور ان تمام نے اسے حضرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کیاہے۔
 (۲؎ مسند احمدبن حنبل    مروی از مسند عائشہ رضی اﷲ عنہا        مطبوعہ دارالفکر بیروت    ۶ /۸۹)
سوم:   تراصّ یعنی خوب مل کر کھڑاہونا کہ شانہ سے شانہ چھلے، اﷲ عزوجل فرماتاہے:
صفا کانھم بنیان مرصوص۳؎
ایسی صف کے گویا وہ دیوار ہے رانگاپلائی ہوئی۔
 (۳؎ القرآن        ۶۱ /۴)
رانگ پگھلا کر ڈال دیں تو سب درزیں بھرجاتی ہیں کہیں رخنہ فرجہ نہیں رہتا، ایسی صف باندھنے والوں کو مولی سبحٰنہ وتعالٰی دوست رکھتاہے اس کے حکم کی حدیثیں اوپرگزریں، اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
اقیموا صفوفکم وتراصّوا فانی ارٰکم من وراء ظھری ۴؎۔ رواہ البخاری و النسائی عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
اپنی صفیں سیدھی اور خوب گھنی کرو کہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے دیکھتاہوں۔ اسے بخاری اور نسائی نے حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے۔
 (۴؎ صحیح بخاری    باب اقبال الامام علی الناس عند تسویہ الصفوف    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۰۰)
یہ بھی اسی اتمام صفوف کے متممات سے اور تینوں امرشرعاً واجب ہیں
کماحققناہ فی فتاوٰنا وکثیر من الناس عنہ غافلون
 (جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی خوب تحقیق کی ہے اور بہت سے لوگ اس سے غافل ہیں۔ت) اور یہاں چوتھا امر اور ہے تقارب کہ صفیں پاس پاس ہوں بیچ میں قدرسجدہ سے زائد فضول فاصلہ نہ چھوٹے جس کاذکرحدیث دوم میں گزرا وہ یہاں زیربحث نہیں صف میں کچھ مقتدی کھڑے کچھ بیٹھے ہوں تو اس سے امراول یعنی تسویہ صف پرتو کچھ اثرنہیں پڑتا کہ قائم وقاعد بھی خط واحد مستقیم میں ہوسکتے ہیں تسویہ میں ارتفاع کی برابری ملحوظ نہیں نہ وہ ملحوظ ہونے کے قابل کہ ایک پیمائش کے قدرکہاں سے آئیں گے، ہاں جبکہ بیٹھنے والے محض کسل وکاہلی کے سبب بے معذوری شرعی بیٹھیں گے توفرائض وواجبات مثل عیدین ووتر میں امردوم وسوم کاخلاف لازم آئے گا کہ جب بلاعذر بیٹھے توان کی نماز نہ ہوئی اور قطع صف لازم آیا کہ نمازیوں میں غیرنمازی دخیل ہیں، ان بیٹھنے والوں کو خودفساد نماز ہی کاگناہ کیاکم تھا مگرانہیں یہاں جگہ دینا اور اگرقدرت ہو تو صف سے نکال نہ دینا یہ باقی نمازیوں کاگناہ ہوگا کہ وہ خود اپنی صف کی قطع پرراضی ہوئے اور جو صف کوقطع کرے اﷲ اسے قطع کردے، ان پرلازم تھا کہ انہیں کھڑے ہونے پرمجبور کریں اور اگرنہ مانیں توصفوں سے نکال کردور کریں، ہاں نمازی اس پرقادرنہ ہوں تومعذور ہیں اور قطع صف کے وبال عظیم میں یہی بیٹھنے والے ماخوذ ہیں جوحکم فرائض وواجبات کاتھا، رہی تراویح اس میں ہمارے علما کو اختلاف ہے کہ آیا یہ بھی مثل واجبات وسنت فجر بلاعذربیٹھ کرناجائز وفاسد ہوتی ہیں یامثل باقی سنن جائز ہوجاتی ہیں اگرچہ خلاف توارث کے سبب مکروہ ہوتی ہیں بعض علما حکم اول کی طرف گئے اور صحیح ثانی ہے، درمختار میں ہے:
 (التراویح تکرہ قاعد) لزیادۃ تاکدھا حتی قیل لاتصح (مع القدرۃ علی القیام) کمایکرہ تاخیرالقیام الی رکوع الامام للتشبیہ بالمنافقین ۱ ؎۔
 (نمازتراویح بیٹھ کراداکرنا مکروہ ہے) کیونکہ ان میں تاکید زیادہ ہے حتی کہ بعض فقہأ کے قول کے مطابق بیٹھ کر نمازتراویح ہوتی ہی نہیں (قیام پرقدرت کے ہوتے ہوئے) جیسا کہ رکوع امام تک قیام کو مؤخرکرنا (یعنی امام کے رکوع کے وقت نماز کاشروع کرنا) مکروہ ہے، کیونکہ اس میں منافقین کے ساتھ مشابہت ہے۔ت)
 (۱؎ درمختار    باب الوتر والنوافل    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۹۹)
خانیہ و ردالمحتار میں ہے:
لوصلی التراویح قاعدا قیل لایجوز بلاعذر لماروی الحسن عن ابی حنیفۃ لوصلی سنہ الفجر قاعدا بلاعذر لایجوز فکذا التراویح لان کلامنھما سنۃ موکدۃ وقیل یجوز وھوالصحیح والفرق ان سنۃ الفجر سنۃ موکدۃ بلاخلاف والتراویح دونھا فی التاکد فلایجوز التسویۃ بینھم ۱؎۔
اگرکسی نے تراویح بیٹھ کرادا کیں توبعض فقہا کے نزدیک بلاعذر ایساکرنا درست نہیں کیونکہ امام حسن نے امام ابوحنیفہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے نقل کیاہے کہ اگر کسی نے فجر کی سنتیں بلاعذر بیٹھ کر ادا کیں تو یہ جائز نہیں، اسی طرح تراویح کامعاملہ ہے، کیونکہ دونوں سنت مؤکدہ ہیں، بعض فقہا کے نزدیک جائز ہے اور یہی صحیح ہے، فرق یہ ہے کہ سنن فجر بغیر کسی اختلاف کے سنت مؤکدہ ہیں اور تراویح کادرجہ تاکید میں ہونا اس سے کم ہے لہٰذا ان کے درمیان مساوات وبرابری نہ ہوگی۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار    باب الوتروالنوافل    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۴۹۹)
قول اول پرکاہلوں کابلاعذر صف میں بیٹھنا ویساہی ناجائز ومورث گناہ وموجب قطع صف ہوگا جیسا واجبات میں کہ اس قول پریہ لوگ بھی نماز سے خارج ہیں اور قول ثانی پرمستحب ہوگا کہ ان اہل کسل کومؤخر کیاجائے اور صفوں میں یوں دخیل نہ ہونے دیاجائے کہ ایک قول پروہ گناہ ومعصیت ہے اور دوسرے پرمحض بے ضرورت ہے تو اس سے احتراز ہی میں فضیلت ہے۔ علماء تصریح فرماتے ہیں کہ دوسرے مذاہب جواپنے مذہب سے بے علاقہ ہیں جیسے حنفیہ کے لئے شافعیت مالکیت حنبلیت ان کے خلاف کی رعایت رکھنی بالاجماع مستحب ہے جب تک اپنے مذہب کامکروہ نہ لازم آتاہو تو یہ خلاف توخود اپنے علمائے مذہب میں ہے، درمختارمیں ہے:
لاینقضہ مس ذکر وامرأۃ لکن یندب للخروج من الخلاف لاسیما للامام لکن بشرط عدم لزوم ارتکاب مکروہ مذھبہ۲؎۔
مَسِ ذکر اور مَسِ امرأۃ سے وضونہیں ٹوٹتا لیکن ایسی صورت میں اختلاف سے بچتے ہوئے وضو کرلینا مستحب ہے خصوصاً امام کے لئے بشرطیکہ امام کے اپنے مسلک میں مکروہ کاارتکاب لازم نہ آئے(ت)
 (۲؎ دُرمختار    کتاب الطہارۃ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۲۷)
مگریہاں ایک اور نکتہ واجب اللحاظ ہوگا کہ تاخیر اتنے کاہلوں کی ہو جس قدر تمام صف سے زائد ہوں ورنہ اطراف صف آخر میں اقامت ہوتا کہ مذہب صحیح پرقطع صف نہ لازم آئے اس سے تحرز مستحب تھا یہاں واجب ہوگا، توضیح یہ کہ یہاں تین صورتیں ہوں گی:
اوّل یہ کہ قائمین بقدرکمال صف ہوں یعنی ان سے ایک یاچند صفیں پوری کامل ہوجائیں کہ نہ آدمی زائد بچے نہ صف میں جگہ رہے اس صورت میں صفوف سابقہ کاملہ قائمین سے کرلی جائیں اور کاملین سب سے آخر میں اپنی صف یاصفیں کامل یاناقص جس قدر ہیں باندھیں یہ صورت کاہلین کی تاخیرمطلق کی ہوگی۔
دوم قائمین سے اکمال صف نہیں ہوتا خواہ اس قدر کم ہیں کہ پہلی ہی صف پوری کرنے کو اور آدمیوں کی حاجت ہے یاکثیر ہیں ایک یاچند صفین ان سے مکمل ہوگئیں اور اب اتنے بچے جن سے بعد کی صف پوری نہیں ہوتی اور قاصرین سے تکمیل ہوجائے گی اور زیادہ نہ بچیں گے تولازم ہے کہ قائمین کی اخیر صف میں کاہلین کو ایک کنارے پرجگہ دے کرتکمیل صف کریں حتی کہ اگرصف اول ہی ناقص تھی تو اسی کے کنارے پرانہیں رکھیں اس صورت میں کاہلوں نے اصلاً تاخیرنہ پائی، ہاں ایک کنارے پرجمع کردئیے گئے۔
سوم تکمیل صف میں کاہلین کی حاجت ہے اور وہ بعد تکمیل بھی بچتے ہیں تو جس قدر تکمیل کے لئے مطلوب ہیں قائمین کی صف آخر کے ایک کنارے پرانہیں رکھ کرباقی کی صف تاصفوف ناقص یاکامل اخیر میں کردی جائیں یوں بعض کی تاخیر اور بعض کی طرف پر اقامت ہوگی اور وجہ ان سب کی وہی ہے کہ جب مذہب صحیح میں کاہلین کی نماز میں صرف کراہت ہے نہ باطل محض اور قائمین کی صف کوتکمیل کی حاجت ہے تواس سے ہٹا کر کاہلین کو صف دیگر میں رکھنا صف اخیر قائمین کوناقص چھوڑناہوگا اور یہ جائز نہیں پھربہرحال اگراور قائمین آتے جائیں یاانہیں میں سے بعض توفیق پاتے جائیں تووہ بجائے کاہلین فی طرف الصف ہوں اور کاہلین فی الطرف مؤخر ہوتے جائیں یہاں تک کہ مثلاً صورت ثانیہ صورت اولٰی کی طرف رجوع کرے اور ثالثہ ثانیہ یااولٰی ہوجائے
الٰی غیر ذلک من الاحتمالات
 (اس کے علاوہ دیگر احتمالات) یہ سب اس صورت میں ہے کہ کاہلین دست شرع میں نرم ہوں ورنہ بحال فتنہ قدر میسور پرعمل چاہئے،
وباﷲ التوفیق ھذا ماافادہ التفقہ والکتاب واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم بالصواب۔
مسئلہ ۹۴۱ :ازجالندھر محلہ راستہ متصل مکان ڈپٹی محمدجان صاحب مرسلہ محمداحمدخان صاحب     ۲۰/شوال ۱۲۱۴ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی کتاب میں یہ عبارت لکھی ہے البتہ چارمصلّے جو کہ مکہ معظمہ میں مقرر کئے ہیں لاریب یہ امرزبون ہے کہ تکرارجماعت وافتراق اس سے لازم آگیا کہ ایک جماعت ہونے میں دوسرے مذہب کی جماعت بیٹھی رہتی ہے اور شریک جماعت نہیں ہوتی اور مرتکب حرمت ہوتے ہیں مگریہ تفرقہ نہ ائمہ دین حضرات مجتہدین سے ہے نہ علمائے متقدمین سے بلکہ کسی وقت سلطنت میں کسی وجہ سے یہ امرحادث ہواہے کہ اس کو کوئی اہل حق پسندنہیں کرتا پس یہ طعن نہ علمائے اہل حق مذاہب اربعہ پر ہے بلکہ سلاطین پرہے کہ مرتکب اس بدعت کے ہوئے فقط واﷲ تعالٰی اعلم۔ پس دریافت طلب یہ امر ہے کہ یہ چارمصلّے کس کی سلطنت میں ہوئے اور کس امروبنیاد پر قائم کئے گئے کہ جوزیدلکھتاہے کہ لاریب یہ امرزبون ہے صدہاعلمائے کاملین وصلحائے مقبولین گزرے کسی نے آج تک یہ اعتراض نہیں کیا کہ جواب زید یہ اعتراض کرتاہے اس کالکھنا درست ہے یاخلاف؟ اور زید کو شرعاً کیاکہناچاہئے؟ جواب مدلل مکمل صاف صاف تحریر فرمائیں
بینوابالتفصیل جزاکم اﷲ الرب الجلیل۔
الجواب

حقیقت امر یہ ہے کہ حرمین طیبین زادہما اﷲ شرفاً وتعظیماً میں چاروں مذاہب حقہ اہلسنت حفظہم اﷲ تعالٰی کے لوگ مجتمع ہیں اور اُن میں باہم طہارت ونماز کے مسائل میں اختلاف رحمت ہے، ایک بات ایک مذہب میں واجب دوسرے میں ممنوع، ایک میں مستحب دوسرے میں مکروہ، ایک کے نزدیک ایک امرناقص طہارت دوسرے کے نزدیک نہیں، ایک کے یہاں کسی صورت میں وضو تمام دوسرے کے یہاں نہیں، تو جب امام کسی مذہب کا ہو اگر اس نے دوسرے مذہب کے فرائض طہارت وصلاۃ کی رعایت اور ان کے نواقض ومفسدات سے مجانبت نہ کی جب تو اس مذہب والوں کی نماز اس کے پیچھے باطل وفاسد ہی ہوگی اور اگرمراعات ومجانبت مشکوک ہو تومکروہ اور تلفیق مذاہب باجماع جمہورائمہ حرام وباطل اور بحال رعایت بھی ہرمذہب کے مکروہات سے بچنایقینا محال اور بعض امور ایک مذہب میں سنت اور دوسرے میں مکروہ ہیں اگربجالایا تومذہب ثانی اور تارک ہوا تو مذہب اول پر کراہت ولہٰذا غایت امکان قدرفرائض ومفسدات تک ہے، محققین نے تصریح فرمائی کہ بہرحال موافق المذہب کی اقتداء اکمل وافضل، تو انتظار موافق کے لئے نوافل یاذکروغیرہما میں مشغول رہنا جماعت سے اعراض نہیں بلکہ اکمل واعلٰی کی طلب ہے اور یہ تفریق جماعت نہیں بلکہ تکمیل وتحسین ہے خصوصاً ان دومسجد مبارک میں کہ مسجد محلہ نہیں ہرجماعت جماعت اولٰی ہے اس لئے آٹھ سوبرس یا زائد سے مکہ معظمہ و مدینہ طیبہ و بیت المقدس و جدہ و مصرو شام وغیرہا بلاد ِاسلام میں عامہ مسلمین کاعمل اس پرجاری وساری رہا اور بعض کاانکار شاذومہجور قرارپایا تو بعد وضوح حق واستقرار امر اسے زبون وحرام وبدعت کہنا باطل وجہل وسفاہت ہے، چارمصلّے ہونا اسی طریقہ ا نیقہ سے عبارت جسے علمائے مذاہب نے بنظرمصالح جلیلہ مذکورہ پسند ومقرررکھا باقی کسی مکان یاعلامت کابننا کہ یہ بھی صدہاسال سے معہود ومقبول ہے نہ اس کے لئے ضرور نہ ان میں مخل بلکہ وہ بھی منافع پرمشتمل،
درمختارمیں ہے:
یکرہ تطوع عند اقامۃ صلٰوۃ مکتوبۃ ای اقامۃ امام مذھبہ ۱؎۔
نماز فرض کی اقامت کے وقت نوافل مکروہ ہیں یعنی اقامت سے مراد اپنے ہم مذہب امام کی اقامت ہے(ت)
 (۱؎ درمختار            کتاب الصلوٰۃ     مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱ /۶۲)
ردالمحتار میں :
لوانتظر امام مذھبہ بعیدا عن الصفوف لم یکن اعراضا عن الجماعۃ للعلم بانہ یرید جماعۃ اکمل من ھذہ الجماعۃ ۲؎۔
اگرکوئی شخص صفوں سے دور اپنے مذہب کے امام کاانتظارکرتارہا تو یہ جماعت سے اعراض نہ ہوگا کیونکہ یقینا معلوم ہے کہ وہ اس موجودہ جماعت سے اکمل جماعت کاارادہ رکھتاہے(ت)
 (۲؎ ردالمحتار            باب ادراک الفریضہ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۵۲۵)
شیخ علمائے مکہ معظمہ مولانا علی قاری مکی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ رسالہ اہتداء میں فرماتے ہیں:
لوکان لکل مذھب امام کما فی زماننا فالافضل الاقتداء بالموافق سواء تقدم اوتاخر علی مااستحسنہ عامہ المسلمین وعمل بہ جمہور المومنین من اھل الحرمین والقدس ومصر والشام ولاعبرۃ بمن شذ منھم۳؎۔
اگرہرمذہب کاالگ امام موجود ہو جیسا کہ ہمارے دور میں ہے توپھر اپنے موافق کی اقتدا افضل ہے خواہ وہ پہلے ہو یا بعد جیسا کہ اس کو عامہ مسلمین نے پسند کیا، جمہورمومنین اہل حرمین، قدس، مصر اوراہل شام کا اسی پرعمل ہے، اس کی مخالفت کرنے والے شاذونادر کاکوئی اعتبارنہیں۔(ت)
 (۳؎ ردالمحتار بحوالہ رسالہ اہتدائ    باب الامامۃ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۴۱۷)
علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں فرماتے ہیں:
قد سئل بعض العلماء عن ھذہ المقامات المنصوبۃ حول الکعبہ التی یصلون فیھا الاٰن باربعۃ ائمۃ علی مقتضی المذاھب الاربعۃ فاجاب بانھا بدعۃ ولکنھا بدعۃ حسنۃ لاسیئۃ لانھا تدخل بدلیل السنۃ الصحیحۃ و تقریرھا فی السنۃ الحسنۃ لانھا لم یحدث منہا ضرر ولاحرج فی المسجد ولافی المصلین من المسلمین لعامۃ اھل السنۃ والجماعۃ بل فیھا عمیم النفع فی المطروالحر الشدید والبرد وفیھا وسیلۃ للقرب من الامام فی الجمعۃ وغیرھا فھی بدعۃ حسنۃ و ویسمون بفعلھم للسنۃ الحسنۃ و ان کانت بدعۃ اھل السنۃ لااھل البدعۃ لان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال من سن سنۃ ۱؎ حسنۃ الٰی اٰخرما اطال واطاب علیہ رحمۃ الملک الوھاب واﷲ تعالٰی اعلم۔
بعض علماء سے کعبہ معظمہ کے اردگرد مقامات مخصوصہ میں مذاہب اربعہ کی اقتداء میں نماز اداکرنے کے بارے میں پوچھاگیاتوانہوں نے اسے بدعۃ کہا،لیکن یہ بدعت حسنہ ہے سیئہ نہیں کہ یہ سنت صحیحہ کی دلیل وتقریر پرسنت حسنہ میں داخل ہے کیونکہ اس کی وجہ سے کوئی ضررنہیں ہوتا نہ مسجد میں کوئی تنگی ہے اور نہ عام اہل سنت کے نمازیوں میں کوئی حرج ہے بلکہ اس میں بارش اور سخت گرمی وسردی میں فائدہ وآسانی ہے اور اس میں جمعہ وغیرہ میں امام کاقرب بھی حاصل رہتاہے لہٰذا یہ بدعت حسنہ ہے اور فقہاء اپنے اس فعل کانام سنت حسنہ رکھتے ہیں اگرچہ اہلسنت کی بدعت ہے نہ کہ اہل بدعت کی، کیونکہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ''من سن سنۃ حسنۃ'' (جس نے اچھا طریقہ ایجادکیا) الٰی آخرالعبارۃ، اﷲ تعالٰی ان پرلطف وکرم فرمائے، وا ﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
 (۱؎ حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ    وقدسئل بعض العماء عن ہذہ المقامات المنصوبۃ حول الکعبۃ     مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد۱ /۱۱۶)
Flag Counter