Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
34 - 158
مسئلہ ۹۳۸ :کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز میں امام کے واسطے مصلّٰی مخصوص کرنا اور مقتدی بغیرمصلے کے قصداً کھڑے کئے جاتے ہیں بایں نیت کہ امام بہ نسبت مقتدیوں کے ممتازہوناچاہئے مکروہ ہے یاغیرمکروہ بینواتوجروا۔

الجواب

اتفاقاً ایساہوجائے تو مضائقہ نہیں یاامام نے خود نہ چاہا نہ کسی مقتدی نے نہ اس لئے کہ امام ومقتدی میں امتیاز چاہئے بلکہ امام کو کسی فضل دینی کی تعظیم کے لئے، مثلاً وہ عالم دین ہے اس کے نیچے مصلّٰی بچھادیا تو بھی حر ج نہیں اورخاص اس نیت سے بالقصد مقتدیوں کو بے مصلی کھڑاکرنا کہ نماز میں امام ومقتدیان کایوں امتیاز ہوناچاہئے محض بے اصل وخلاف سنت اور دین میں نئی بات نکالنا ہے۔ واﷲ سبحٰنہ، وتعالٰی
مسئلہ ۹۳۹ :کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرکوئی رمضان میں اور مسجد میں کلام شریف سننے جائے تو اپنی مسجد میں عشاء کی جماعت اس کے جانے سے بالکل جاتی ہے کیاایساشخص مقیم جماعت نہ ہوگا گوامام مقرر مسجد نہیں مگرقرآن شریف مایجوزبہ الصلوٰۃ پرقادر ہے، درصورت اس کے موجود ہونے کے جماعت ہوسکتی ہے؟ چنانچہ جمعہ مسجد میں یہی شخص پڑھاتاہے اس کو غیرمسجد میں جانا اپنی مسجد کو ایک وقت معطل چھوڑنا بغرض استماع قرآن جائز ہے یامکروہ یاکراہت ہے؟ لیکن استماع قرآن تراویح میں صرف تراویح سے ثواب اتنازیادہ ہے کہ کراہت کان لم تکن (یعنی کراہت اصلاً نہ رہے۔ت) ہوجائے۔ بینواتوجروا

الجواب

ایساشخص بلاشبہ مقیم جماعت ہے اسے چاہئے کہ نماز فرض اپنی مسجد میں پڑھاکر تراویح کے لئے دوسری مسجد میں چلاجائے کہ جب اپنی مسجد میں قرآن عظیم نہ ہوتا ہو تودوسری مسجد میں اس غرض سے جاناکوئی باک نہیں رکھتا بلکہ مطلوب ومندوب ہے، ہاں تعطیل جماعت فرض جائز نہیں، ولہٰذا فرض یہاں پڑھاکر دوسری جگہ جائے واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۴۰ :ماقولکم رحمکم اﷲ تعالٰی فی جواب ھذا السؤال
 (اے علما ! اﷲ تم پررحم فرمائے اس سوال کاکیاجواب ہے؟ت) جماعت تراویح میں بعض لوگ صف اول ودوم میں متفرق طور پر اس طرح نماز پڑھتے ہیں کہ چارآدمی کھڑے ہوکر پھرچار بیٹھ کر بعد ہی اس کے دوکھڑے ہوئے ازاں بعد پھر تین بیٹھے ہوئے پڑھتے اور قرآن سنتے ہیں اگرچہ یہ بیٹھنے والے سب ضعیف ومعذور نہیں ہیں بلکہ بیشتر نوجوان ہیں جن کو بخیال تطویل قرأت امام برابر کھڑا رہنا بوجہ اپنی کاہلی وتکاسل کے ناگوار ہے آیابیٹھ کرنماز پڑھنا ان کا اندرصفوف بلاکراہت جائز ہے؟ کیاتسویہ صفوف کاحکم اس سے قطعاً غیرمتعلق ہے؟ کیاجماعت فرض وتراویح میں اس کی بابت کوئی حکم تخصیصی ہے؟ ایک فریق کہتاہے کہ بیٹھ کرپڑھنے والے آخر صف میں نماز پڑھیں دوسرافریق مجوز ہے کہ ایسی جماعت بلاکراہت صحیح ودرست ہے چاہے کسی صف میں کوئی شخص بیٹھ کر پڑھتا ہو یا کھڑا ہوکر اس میں کوئی محظور شرعی نہیں ہے ایسی حالت میں کون حق پرہے؟ بینواتوجروا
الجواب

دربارہ صفوف شرعاً تین باتیں بتاکیداکیدماموربہ ہیں اور تینوں آج کل معاذاﷲ کالمتروک ہورہی ہیں، یہی باعث ہے کہ مسلمانوں میں نااتفاقی پھیلی ہوئی ہے۔

اول تسویہ کہ صف برابر ہوخم نہ ہو کج نہ ہو مقتدی آگے پیچھے نہ ہوں سب کی گردنیں شانے ٹخنے آپس میں محاذی ایک خط مستقیم پرواقع ہوں جو اس خط پرکہ ہمارے سینوں سے نکل کر قبلہ معظمہ پر گزراہے عمود ہو، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
عباد اﷲ لتسون صفوفکم اولیخالفن اﷲ بین وجوھکم ۱؎۔
اﷲ کے بندو! ضرور یا تم اپنی صفیں سیدھی کروگے یااﷲ تمہارے آپس میں اختلاف ڈال دے گا۔
 (۱؎ صحیح مسلم        باب تسویۃ الصفوف الخ        مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۱۸۲)
حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے صف میں ایک شخص کاسینہ اوروں سے آگے نکلا ہواملاحظہ کیا، اس پر یہ ارشاد فرمایا۔
رواہ مسلم عن النعمٰن بن بشیر رضی اﷲ تعالٰی عنھما
(اس کو مسلم نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیاہے۔ت)

دوسری حدیث میں ہے فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
راصّوا صفوفکم وقاربوا بینھا وحاذوا بالاعناق فوالذی نفس محمد بیدہ انی لاری الشیاطین تدخل من خلٰل الصف کانھا الخذف ۲؎۔ رواہ النسائی عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
اپنی صفیں خوب گھنی اورپاس پاس کرو اور گردنیں ایک سیدھ میں رکھو کہ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں شیاطین کودیکھتاہوں کہ رخنہ صف سے داخل ہوتے ہیں جیسے بھیڑ کے بچے۔ اس کو نسائی نے حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے۔
 (۲؎ سنن النسائی    حث الامام علی رص الصفوف الخ     مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور    ۱ /۹۳)
تیسری حدیث صحیح میں ہے فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
اقیموا الصفوف فانما تصفون بصف الملٰئکۃ وحاذوا بین المناکب ۱؎۔ رواہ احمد وابوداو،د والطبرانی فی الکبیر و ابن خزیمۃ والحاکم وصححاہ عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
صفیں سیدھی کرو کہ تمہیں توملائکہ کی سی صف بندی چاہئے اور شانے ایک دوسرے کے مقابل رکھو۔ اس کو امام احمد، ابوداؤد، طبرانی نے المعجم الکبیر میں، ابن خزیمہ اور حاکم نے حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کرکے اسے صحیح قراردیا۔
 (۱؎ سنن ابوداؤد    باب تسویۃ الصفوف        مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۹۷

(مسند احمد بن حنبل    مروی ازعبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہ    مطبوعہ دارالفکر بیروت        ۲ /۹۸)
دوم : اتمام کہ جب تک ایک صف پوری نہ ہو دوسری نہ کریں اس کا شرع مطہرہ کو وہ اہتمام ہے کہ اگرکوئی صف ناقص چھوڑے مثلاً ایک آدمی کی جگہ اس میں کہیں باقی تھی اسے بغیر پوراکئے پیچھے اور صفیں باندھ لیں، بعد کو ایک شخص آیا اس نے اگلی صف میں نقصان پایا تو اسے حکم ہے کہ ان صفوں کو چیرتاہوا جاکروہاں کھڑا ہو اور اس نقصان کو پوراکرے کہ انہوں نے مخالفت حکم شرع کرکے خود اپنی حرمت ساقط کی جو اس طرح صف پوری کرے گا اﷲ تعالٰی اس کے لئے مغفرت فرمائے گا۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
الاتصفون کما تصف الملٰئکۃ عن ربھا ۲؎۔
ایسی صف کیوں نہیں باندھتے جیسی ملائکہ اپنے رب کے حضور باندھتے ہیں۔

صحابہ نے عرض کی: یارسول اﷲ ! ملائکہ کیسی صف باندھتے ہیں؟
 (۲؎ صحیح مسلم        باب الامر بالسکون فی الصلوٰۃ الخ     مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی        ۱ /۱۸۱

(سنن ابوداؤد     باب تسویۃ الصفوف         مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۹۷)
فرمایا:

یتمون الصف الاول ویتراصّون فی الصّف۳؎۔ رواہ مسلم وابوداو،د والنسائی وابن ماجۃ عن جابر بن سمرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
اگلی صف پوری کرتے اور صف میں خوب مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔ اس کو مسلم، ابوداؤد،نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت جابربن سمرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے۔
 (۳؎ صحیح مسلم        باب الامر بالسکون فی الصلوٰۃ الخ        مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۸۱)

(سنن ابوداؤد     باب تسویۃ الصفوف            مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۹۷)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
اتموا الصف المقدم ثم الذی یلیہ فما کان من نقص فلیکن فی الصف المؤخر۱؎۔ رواہ الائمۃ احمد وابوداو،د والنسائی وابن حبان وخزیمۃ والضیاء باسانید صحیحۃ عن انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
پہلی صف پوری کرو پھر جو اس کے قریب ہے کہ جو کمی ہو تو سب سے پچھلی صف میںہو۔ اسے ائمہ کرام احمد، ابوداؤد، نسائی، ابن حبان، ابن خزیمہ اور ضیاء مقدسی نے اسانید صحیحہ کے ساتھ حضرت انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے۔
 (۱؎ سنن ابوداؤد    باب تسویۃ الصفوف    مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۹۸

(سنن النسائی    فضل الصف الاول    مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور        ۱ /۹۴)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
من وصل صفا وصلہ اﷲ ومن قطع صفا قطعہ اﷲ۲؎۔ رواہ النسائی والحاکم بسند صحیح عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی تعالٰی عنھما وھو من تتمۃ حدیثہ الصحیح المذکور سابقا عند احمد وابی داؤد والثلثۃ الذین معھما۔
جوکسی صف کو صل کرے اﷲ اسے وصل کرے اور جوکسی صف کو قطع کرے اﷲ اسے قطع کردے۔ اسے نسائی اور حاکم نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیاہے، یہ عبداﷲ ابن عمر کی حدیث اس حدیث صحیح مذکور سابقہ کاتتمہ ہے جسے امام احمد اور ابوداؤد اور دیگرمحدثین نے روایت کیاہے۔
 (۲؎ سنن ابوداؤد    باب تسویۃ الصفوف    مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۹۷)

(سنن النسائی        من وصل صفا    مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور    ۱ /۹۴)
Flag Counter