مسئلہ ۹۳۶تا ۹۳۷: ازگونڈہ ملک اودھ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ حافظ عبدالعزیز صاحب مدرس مدرسہ مذکورہ ۱۳جمادی الاخری ۱۳۱۸ھ
سوال اول: زید کی امامت سے جماعت ثانیہ مسجد، بازار یاسرائے میں ہورہی ہے اسی مسجد میں بکر بھی آیا اس کومعلوم ہوگیا کہ یہ جماعت ثانیہ ہے اس نے علیحدہ وتنہا جماعت کے قریب یا کسی قدر فاصلے سے اپنی نماز اداکی تونماز بکرکی ادا ہوگئی یانہیں؟
سوال دوم: ایک عالم صاحب فرماتے ہیں کہ جماعت ثانیہ کیا بلکہ جماعت اولٰی بھی ہوتی ہو تو اس وقت کوئی دوسراشخص اس مسجد میں آئے اور تنہا اپنی نماز پڑھ لے تو اس کی نماز ہوجائے گی جماعت کا پچیس۲۵ گناثواب نہ ملے گا، نماز ہوجانے کاسبب یہ بتایا کہ جماعت سنت مؤکدہ ہے نہ فرض ہے نہ واجب، اس بارے میں کیاارشاد ہے؟
الجواب
جواب سوال اول: نمازبایں معنی توہوگئی کہ فرض سرسے اترگیا مگرسخت کراہت ولزوم معصیت کے ساتھ کہ بے عذرشرعی ترک جماعت گناہ وشناعت ہے نہ کہ خود بحال قیام جماعت صریح خلاف و اضاعت، یہاں تک کہ اگر کسی نے تنہافرض شروع کردئیے ہنوزجماعت قائم نہ تھی اس کے بعد قائم ہوئی اور اس نے بھی پہلی رکعت کاسجدہ نہ کیا تو اسے شرع مطہر مطلقاً حکم فرماتی ہے کہ نیت توڑدے اور جماعت میں شامل ہوجائے بلکہ مغرب وفجر میں تو جب تک دوسری رکعت کاسجدہ نہ کیا ہو حکم ہے کہ نیت توڑکرمل جائے اور باقی تین نمازوں میں دوبھی پڑھ چکا ہوتو انہیں نفل ٹھہراکر جب تک تیسری کاسجدہ نہ کیا ہو شریک ہوجائے۔
فی التنویر شرع فیھا اداء منفردا ثم اقیمت یقطعھا قائما بتسلیمۃ واحدۃ ویقتدی بالامام ان لم یقید الرکعۃ الاولٰی بسجدۃ اوقیدھا فی غیرر باعیۃ اوفیھا وضم الیھا اخری وان صلی ثلثا منھا اتم ثم اقتدی متنفلا ویدرک فضیلۃ الجماعۃ الافی العصر۱؎۔
تنویر الابصار میں ہے کسی نے تنہا نماز اداکرنا شروع کی پھر اسی فرض کی جماعت کھڑی ہوگئی تو وہ سلام واحد کے ساتھ کھڑے کھڑے نماز ختم کردے اور امام کی اقتدا کرے بشرطیکہ اس نے پہلی رکعت کاسجدہ نہ کیاہو یاپہلی رکعت کا سجدہ کرلیا ہے مگرنماز غیررباعی ہو(یعنی فجرومغرب کی نماز میں) یانماز رباعی ہومگر اس کے ساتھ ایک اور رکعت ملاچکا ہے (ان صورتوں میں نمازتوڑکرامام کی اقتداکرے) اگرتین رکعت اداکرچکا ہے تونماز پوری کرے اس کے بعد بنیت نوافل امام کی اقتداکرے تواسے ثواب جماعت حاصل ہوجائے گا البتہ نمازعصر میں ایسا نہیں کرسکتا(کیونکہ بعدازعصرنفل پڑھنا مکروہ تحریمی ہے۔ت)
جب پیش ازجماعت تنہاشروع کرنے والے کویہ حکم ہے حالانکہ اس نے ہرگز مخالفت جماعت نہ کی تھی اورنیت توڑنا بے ضرورت شرعیہ سخت حرام ہے
قال اﷲ تعالٰی لاتبطلوا اعمالکم۲؎
اپنے عمل باطل نہ کرو،
(۲؎ القرآن ۴۷ /۳۳)
مگرشرع مطہرنے جماعت حاصل کرنے کے لئے نیت توڑنے کو ابطال عمل نہ سمجھا اکمال عمل تصورفرمایا تویہاں کہ جماعت قائمہ کے خلاف اپنی الگ پڑھتاہے کیونکر شرع مطہر کو گوارا ہوسکتاہے بلکہ جوشخص مسجد میں نمازتنہا پوری پڑھ چکا ہو اب جماعت قائم ہوئی ہے اگرظہر یاعشا ہے توشرعاً اس پرواجب ہے کہ جماعت میں شریک ہوکہ مخالفت جماعت کی تہمت سے بچے اور باقی تین نمازوں میں حکم ہے کہ مسجد سے باہر نکل جائے تاکہ مخالفت جماعت کی صورت نہ لازم آئے،
فی الدرالمختار من صلی الظھر والعشاء وحدہ مرۃ فلایکرہ خروجہ بل ترکہ للجماعۃ الاعند الشروع فی الاقامۃ فیکروہ لمخالفتہ الجماعۃ بلاعذر بل یقتدی متنفلا ومن صلی الفجر والعصر والمغرب مرۃ فیخرج مطلقا وان اقیمت، وفی النھر ینبغی ان یجب خروجہ لان کراھۃ مکثہ بلاصلاۃ اشد۱؎۱ھ
نہر میں ہے مناسب یہ ہے کہ جماعت ہونے کے وقت اس کانکل جانا واجب ہے کیونکہ بغیرنماز کے وہاں مسجد میں رکے رہنا زیادہ مکروہ ہے۱ھ مختصراً اگرچہ
مختصرا فی ردالمحتار تحت قولہ الاعند الشروع فی الاقامۃ لان فی خروجہ تھمۃ قال الشیخ اسمٰعیل وھو المذکور فی کثیر من الفتاوٰی والتھمۃ ھنانشأت من صلاتہ منفردا فاذا خرج یؤیدھااہ۲؎
درمختار میں ہے جس نے ظہر وعشاء کی نمازتنہا ایک مرتبہ اداکرلی اس کے لئے مسجد سے نکلنا مکروہ نہیں بلکہ جماعت کاترک مکروہ ہوا مگر اس صورت میں جب اقامت شروع ہوگئی تومکروہ ہے بلاعذر نکلنا بسبب اس کی مخالفت جماعت کے، بلکہ وہ مسجد میں ٹھہرے اور بنیت نوافل امام کی اقتداء کرے، اور جس نے فجر، عصر اور مغرب کی نماز ادا کرلی تووہ ہرحال میں مسجد سے نکل سکتاہے اگرچہ تکبیر شروع ہوجائے،
۔ ردالمحتار میں''الاعند الشروع فی الاقامۃ''
کے تحت ہے کہ اس کے نکلنے میں تہمت ہے۔ شیخ اسمٰعیل فرماتے ہیں کہ بہت سے فتاوٰی میں یہی مذکور ہے اور یہ تہمت کاسبب اس کاتنہا نمازاداکرنا ہے اور جب وہ نکل کھڑا ہواتو اس سے تائید ہوجائے گی الخ
جب جماعت سے پہلے تنہا پڑھنے والا جماعت میں شریک نہ ہو تو متہم اور مخالف جماعت اور وزرعظیم میں مبتلا پاتاہے تو جوباوصف قیام جماعت قصداً مخالفت کرکے اپنی الگ شروع کردے کیونکر سخت متہم وصریح مخالف وگرفتار گناہ شدید نہ ٹھہرے گا بلکہ علمافرماتے ہیں کہ قیام جماعت کی حالت میں اگرکچھ لوگ آکردوسری جماعت جدا قائم کردیں مبتلائے کراہت ہوں گے کہ تفریق جماعت کی حالانکہ یہ نفس جماعت کے تارک نہ ہوئے نہ ان پر اصل جماعت سے مخالفت کی تہمت آسکتی ہے تواکیلا اپنی ڈیڑھ اینٹ کی الگ بنانے والا کس قدر شدید مخالف ہوگا،
فی الخلاصۃ ثم الھندیۃ قوم جلوس فی المسجد الداخل وقوم فی المسجد الخارج اقام المؤذن فقام امام من اھل الخارج فامھم وقام امام من اھل الداخل فامھم من یسبق بالشروع فھو والمقتدون بہ لاکراھۃ فی حقھم۱؎
خلاصہ پھرہندیہ میں ہے کچھ لوگ داخل مسجد اور کچھ مسجد سے باہربیٹھے تھے کہ مؤذن نے اقامت کہی تو باہروالوں میں سے ایک شخص نے امامت کرائی اسی طرح اہل داخل میں سے ایک شخص نے امامت کرائی ان دونوں میں سے جو پہلےشروع ہوا وہ امام ہے اور اس کی اقتدا کرنے والے درست ہیں اور ان میں کوئی کراہت نہیں۔(ت)
(۱؎ خلاصۃ الفتاوی الفصل الخامس عشرفی الامامۃ والاقتدائ مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ /۱۱۴۵
خلاصہ ہندیہ الفصل الثانی فی بیان من ہواحق بالامامۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۸۴)
اور اس جماعت کاجماعت ثانیہ ہونا ان شناعتوں سے نہیں بچ سکتا اگرچہ جماعت ثانیہ کی مخالفت کا تہمت سے مطلقاً بری ہونا مان بھی لیاجائے کہ جب مسجد مسجد محلہ نہیں بازاریاسراکی مسجد ہے تو اس کی ہرجماعت جماعت اولٰی ہے کماحققناہ فی فتاوٰنا (جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق اپنے فتاوٰی میں کی ہے۔ت) ہاں اگر یہ امام قرآن عظیم ایسا غلط پڑھتاہے جومفسد نماز ہو یا اس کی بدمذہبی تاحد فساد ہے یانقص طہارت وغیرہ کوئی اور وجہ فساد کی ہے تو الزام نہیں کہ ان صورتوں میں وہ جماعت خود جماعت ہی نہیں بلکہ اب اس میں شرکت ممتنع ہوگی
لبطلان الصلاۃ خلفہ
(کیونکہ اس کے پیچھے نماز باطل ہے۔ت)
واﷲ سبحٰنہ، وتعالٰی اعلم
جواب سوال دوم: اس کاجواب سوال اول سے واضح ہے۔ ہوجانا بمعنی سقوط فرض مسلم مگر اس قائل کے فحوائے کلام سے ظاہر ہے کہ صرف اس قدراس کی مرادنہیں بلکہ اس میں فقط کمی ثواب مانتا اور لحوق اثم سے پاک جانتاہے ولہٰذا تعلیل میں نہ واجب کالفظ بڑھایا اور نہ سقوط فرض، توبحال ترک جمیع واجبات بھی حاصل ہے اب یہ قول محض غلط ہے، اوّلاً مذہب معتمدمیں جماعت واجب ہے اور اسے سنت مؤکدہ کہنا بوجہ ثبوت بالسنۃ ہے اور نہ بھی سہی تاہم اس کے قصدی ترک میں لحوق گناہ سے مفرنہیں،
فی الدر المختار الجماعۃ سنۃ موکدۃ للرجال قال الزاھدی ارادوابالتاکید الوجوب الخ وفیہ وقیل واجبۃ و علیہ العامۃ ای عامۃ مشائخنا و بہ جزم فی التحفۃ وغیرھا قال فی البحر وھوالراجح عنداھل المذہب ۲؎۱ھ
درمختار میں ہے مردوں کے لئے جماعت سنت مؤکدہ ہے ۔ زاہدی نے کہا یہاں تاکید سے وجوب مراد لیاگیاہے الخ
اسی میں ہے وجوب کا قول بھی کیاگیاہے اور ہمارے عام مشائخ اسی پرہیں، تحفہ وغیرہ میں اسی پرجزم ہے،
بحر میں فرمایا، اہل مذہب کے ہاں یہی راجح ہے۱ھ
(۲؎ درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۸۲)
وفی البحر من باب صفۃ الصلٰوۃ الذی یظھر من کلام اھل المذھب ان الاثم منوط بترک الواجب اوالسنۃ المؤکدۃ علی الصحیح لتصریحھم بان من ترک سنن الصلٰوۃ الخمس قیل لایأثم والصحیح انہ یاثم ذکرہ فی فتح القدیر وتصریحھم بالاثم لمن ترک الجماعۃ مع انہا سنہ موکدۃ علی الصحیح وکذا فی نظائر لمن تتبع کلاھم ولاشک ان الاثم مقول بالتشکیک بعضہ اشد من بعض فالاثم لتارک السنۃ لمؤکدۃ اخف من الاثم لتارک الواجب۱؎۱ھ
اور بحرمیں باب صفت صلوٰۃ میں ہے کہ اہل مذہب کے کلام سے جوظاہرہوتاہے وہ یوں ہے کہ صحیح قول کے مطابق گناہ کامدارترک واجب یاترک سنت موکدہ پرہے کیونکہ انہوں نے تصریح کی ہے کہ جس نے صلوات خمسہ کی سنن کوترک کیا اس کے بارے میں ایک قول ہے کہ وہ گنہگار نہیں ہوگا، اور صحیح یہ ہے کہ وہ گنہگار ہوگا۔ فتح القدیر میں اس کوذکرکیاہے اور یہ بھی ان کی تصریح ہے کہ جس نے جماعت ترک کی وہ گنہگار ہوگا حالانکہ صحیح یہی ہے کہ جماعت سنت موکدہ ہے اسی طرح اس کی دیگر نظائر کاحکم ہے ان کے کلام سے تلاش کرنے والے کو یہی ملے گا، بلاشبہ گناہ کے بارے میں تشکیکی قول ہے، بعض کاقول بعض سے سخت ہے توتارک سنت مؤکدہ کاگناہ تارک واجب سے اخف اور کم ہوگا۱ھ
وفی ردالمحتار عن النھر عن الکشف الکبیر عن اصول ابی الیسرحکم السنۃ ان یندب الٰی تحصیلھا ویلام علی ترکھا مع لحوق اثم یسیرا۲؎۱ھ
اور ردالمحتار میں نہر سے الکشف الکبیر کے حوالے سے ہے، اصول ابوالیسر سے ہے کہ سنت کاحکم یہ ہے کہ اس کوحاصل کرنا مندوب ومستحب ہے اور اس کے ترک پر تھوڑے سے گناہ کے ساتھ ملامت ہوگی۱ھ(ت)