مسئلہ ۹۳۵ :از کلکتہ دھرم تلانمبر۶ مرسلہ جناب مرزاغلام قادربیگ صاحب ۲۶صفرالمظفر۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آپ نے پہلے میرے سوال کے جواب میں تحریرفرمایاتھا کہ امام کے برابر تین مقتدی ہوجائیں گے تونماز مکروہ تحریمی ہوگی، ایک حافظ صاحب کہ آدمی ذی علم ہیں وہ کہتے ہیں کہ جناب مولوی صاحب نے جوحوالہ دیاہے وہ درمختار کے متن سے نہیں بلکہ شرح سے ہے اورچاہتے ہیں کہ اصول سے جواب تحریر فرمادیں۔ بینواتوجروا
الجواب
یہ مطالبہ سخت عجیب ہے درمختارتوشرح ہی کانام ہے، کیاشروح معتبرنہیں ہوتیں یا ان میں درمختارنامعتبرہے یامتن میں شرح کے خلاف لکھا ہے اور جب کچھ نہیں تو ایسا مطالبہ اہل علم کی شان سے بعید، درمختار بحرِ علم کی وہ درِمختارہے کہ جب سے تصنیف ہوئی مشارق ومغارب ارض میں فتوائے مذہب حنفی کاگویا مدار اس کی تحقیقات عالیہ وتدقیقات غالیہ پر ہوگیا، اﷲ عزوجل رحمت فرمائے علامہ سید ابن عابدین شامی پر کہ فرماتے ہیں:
ان کتاب الدرالمختار، شرح تنویر الابصار، قدطار فی الاقطار وسار فی الامصار وفاق فی الاشتھار علی الشمس فی رابعۃ النھار، حتی اکب الناس علیہ وصار مفزعھم الیہ وھوالحری بان یطلب ویکون الیہ المذھب، فانہ الطراز المذھب فی المذھب، فلقد حوی من الفروع المنقحۃ والمسائل المصححۃ، مالم یحوہ غیرمن کبارالاسفار ولم تنسج علی منوالہ یدالافکار ۱؎۔
خلاصہ یہ کہ درمختار نے تمام عالم میں آفتاب چاشت کی طرح شہرت پائی، مخلوق ہمہ تن اس سے گرویدہ ہوکر اپنے مہمات میں اس کی طرف التجا لائی، یہ کتاب اسی لائق ہے کہ اسے مطلوب بنائیں اور اس کی طرف رجوع لائیں کہ یہ دامن مذہب کی زرنگار گوٹ ہے، وہ تصحیح وتنقیح کے مسائل جمع ہیں کہ بڑی بڑی کتابوں میں مجتمع نہیں، آج تک اس انداز کی کتاب تصنیف نہ ہوئی۔
(۱؎ ردالمحتار شروع الکتاب مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۲)
سبحان اﷲ کیا ایسی ۱ کتاب اس قابل ہے کہ اس کاارشاد بلاوجہ محض قبول نہ کریں، خیر۲فتح القدیرتومعتبر ہوگی جس کے مصنف امام ہمام محقق علی الاطلاق کمال الدین محمد بن الہمام قدس سرہ وہ امام اجل ہیں کہ ان کے معاصرین تک ان کے لئے منصب اجتہاد ثابت کر تےتھے
کماذکرہ فی ردالمحتار
(جیسا کہردالمحتار میں اس کا ذکر کیاگیاہے۔ت) ۳تبیین الحقائق تومقبول ہوگی جس کے مصنف امام اجل فخرالدین ابومحمدعثمان بن علی زیلعی شارح کنز ہیں جن کی جلالت شان آفتاب نیمروز سے روشن تر ہے ۔ یہ امام محقق علی الاطلاق سے مقدم اور ان کے مستند ہیں، کافی ۴،امام نسفی تومعتمد ہوگی جس کے مصنف امام برکۃ الانام حافظ الملۃ والدین ابوالبرکات عبدا ﷲ بن محمودنسفی صاحب کنزالدقائق ہیں۔ سب جانے دو ۵ہدایہ بھی ایسی چیز ہے جس کے اعتماد واستناد میں کلام ہوسکے یہ سب اکابرآئمہ تصریح فرماتے ہیں کہ جماعت رجال میں امام کا قوم کے برابر ہوناحرام ومکروہ تحریمی ہے، ہدایہ میں ہے:
محرم قیام الامام وسط الصف۱؎
(امام کا صف کے درمیان کھڑاہونا حرام ہے۔ت)
(۱؎ الہدایۃ باب الامامۃ مطبوعہ المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ /۱۰۳)
فتح القدیرمیں ہے:
صریح فی ان ترک التقدم لامام الرجال محرم وکذا صرح الشارح وسماہ فی الکافی مکروھا وھوالحق ای کراھۃ تحریم لان مقتضی المواظبۃ علی التقدم منہ علیہ الصلاۃ والسلام بلاترک، الوجوب فلعدمہ کراھۃ التحریم فاسم المحرم مجاز۲؎۔
یہ عبارت اس میں صریح ہے کہ مردوں کے امام کا تقدیم کوترک کرنا حرام ہے، اور شارح نے بھی اسی کی تصریح کی ہے، اور کافی میں اسے مکروہ کہا، اور حق بھی یہی ہے یعنی مکروہ تحریمی ہے کیونکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کابلاترک اس پرمواظبت فرماناوجوب کی دلیل ہے لہٰذا اس کاخلاف کرنا مکروہ تحریمی ہوا پس اس پرحرام کااطلاق مجازاً ہے۔(ت)
(۲؎ فتح القدیر باب الامامۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۰۶)
بحرالرائق میں ہے:
محرم وھوقیام الامام وسط الصف فیکرہ کالعراۃ کذا فی الھدایۃ ھویدل علی انھا کراھۃ تحریم لان التقدم واجب علی الامام للمواظبۃ من النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وترک الواجب موجب الکراھۃ التحریم المقتضیۃ للاثم۳؎۔
امام کاوسط صف میں قیام حرام ہے۔ ایسا عمل ننگوں کی طرح مکروہ ہوگا، ہدایہ میں اسی طرح ہے، یہ اس پردال ہے کہ یہ عمل مکروہ تحریمی ہے کہ امام کامقدم ہونا واجب ہے کیونکہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کایہ دائمی عمل ہے اور ترک واجب اس کراہت تحریمی کاموجب ہے جوگناہ کی مقتضی ہے۔(ت)
(امام کاوسط صف میں کھڑا ہونا مکروہ تحریمی ہے ۱ھ تلخیصاً۔ت)
(۳؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر فصل مکروہات الصلوٰۃ مطبوعہ احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۱۲۵)
مستخلص۱۰ میں ہے:
محرم وھووقوف الامام وسط الصف۴؎
(امام کاوسط صف میں کھڑا ہونا حرام ہے۔ت)
(۴؎ مستخلص الحقائق شرح کنزالدقائق باب الامامۃ مطبوعہ کانشی رام پرنٹنگ ورکس لاہور ۱ /۲۰۳)
فتح المعین۱۱ علامہ سیدابی السعود ازہری میں زیرقول شارح
والاثنان خلفہ وان کثرالقوم کرہ قیام الامام وسطھم
(اور دوامام کے پیچھے کھڑے ہوں، اگرلوگ دو سے زیادہ ہوں توامام کا ان کے درمیان کھڑاہونا مکروہ ہے۔ت)
ای تحریما لترک الواجب ۵؎
(یعنی مکروہ تحریمی ہے کیونکہ ترک واجب لازم آرہا ہے ۔ت)
(۵؎ فتح المعین باب الامامۃ مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ /۲۰۹)
۱۲ردالمحتار میں ہے:
تقدیم الامام امام الصف واجب۶؎
(امام کاصف کے آگے کھڑاہونا واجب ہے۔ت)
(۶؎ ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۴۲۰)
باایں ہمہ اگردلیل درکار ہوتو فتح القدیر وبحرالرائق کاارشاد پیش نظر کہ حضور پرنورسیدالمرسلینصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے ہمیشہ ہمیشہ صف پرتقدم فرمایا اور ایسی مداومت کہ کبھی ترک نہ فرمائیں دلیل وجوب ہے
اقول وقد قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم صلوا کما رأیتمونی اصلی۷؎ رواہ البخاری عن مالک بن الحویرث رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
اقول (میں کہتاہوں)اور نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تم اس طرح نمازپڑھو جس طرح تم مجھے نمازاداکرتے دیکھتے ہو۔ اس کو امام بخاری نے حضرت مالک بن حویرث رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے۔(ت)
یہاں امرہے اور امر کامفاد وجوب توجب تک دلیل خصوص مثلاً ترک احیاناً یااقرار علی الترک ثابت نہ ہوا اس عموم میں داخل اور وجوب حاصل اور ترک واجب مکروہ تحریمی اورمکروہ تحریمی گناہ صغیرہ اور صغیرہ بعد اعتیاد کبیرہ اور کبیرہ کامرتکب فاسق اور مردودالشہادۃ اور گناہ توایک ہی بار میں ثابت،