مسئلہ ۹۲۸:۲۹صفر۱۳۱۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام کے انتظار میں وقت میں تاخیرکرنا مقتدیوں کودرست ہے یانہیں؟ بینواتوجروا
الجواب
وقت کراہت تک انتظار امام میں ہرگز تاخیرنہ کریں، ہاں وقت مستحب تک انتظارباعث زیادت اجروتحصیل افضلیت ہے، پھر اگروقت طویل ہے اورآخر وقت مستحب تک تاخیرحاضرین پرشاق نہ ہوگی کہ سب اس پرراضی ہیں تو جہاں تک تاخیر ہواتناہی ثواب ہے کہ ساراوقت ان کانماز ہی میں لکھاجائے گا۔
وقدصح عن الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہم انتظار النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حتی مضی نحو من شطر اللیل وقداقرھم علیہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، وقال انکم لن تزالو فی صلاۃماانتظرتم الصلاۃ۱؎۔
صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین کاحضور اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کایہاں تک انتظارکرنا ثابت ہے کہ رات کاکافی حصہ گزرجاتا اور نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ان کے اس عمل کوبرقراررکھااور فرمایا: تم جب سے نماز کے انتظار میں ہووہ تمام وقت تمہارانماز میں گزرا۔(ت)
(۱؎ صحیح البخاری باب السمرفی الفقہ والخیر بعدالعشائ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۸۴،۹۰)
( مسند احمد بن حنبل مروی ازمسند انس بن مالک مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ /۲۶۷)
ورنہ اوسط درجہ تاخیر میں حرج نہیں جہاں تک حاضرین پرشاق نہ ہو،
فی الانقرویۃ عن التاتارخانیۃ عن المنتقی للامام الحاکم الشھید ان تاخیرالمؤذن وتطویل القرأۃ لادراک بعض الناس حرام، ھذا اذا کان لاھل الدنیا تطویلا وتاخیرا یشق علی الناس و الحاصل ان التاخیر القلیل لاعانۃ اھل الخیر غیرمکروہ ولاباس بان ینتظر الامام انتظار اوسطا۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم
انقرویہ میں تاتارخانیہ سے امام حاکم شہید کی المنتقی کے حوالے سے ہے کہ بعض لوگوں کی خاطر مؤذن کا اذان کو مؤخر کرناا ور امام کاقرأت کولمباکرنا حرام ہے، یہ تب ہے جب دنیاداروں کی خاطرایساکرے اور تطویل وتاخیر لوگوں پرشاق ہو۔ خلاصہ یہ ہے کہ اہل خیر کی اعانت کی وجہ سے کچھ تاخیر کرنے میں کوئی کراہت نہیں لہٰذا امام کو اوسط درجہ کا انتظار کرلینے میں کوئی حرج نہیں۔(ت)
مسئلہ ۹۲۹: ازفیض آباد مسجد مغل پورہ مرسلہ شیخ اکبر علی مؤذن ومولوی عبدالعلی۱۹ربع الاخری۱۳۳۶ھ
اگرکوئی پیریامولوی عربی خواں مسجد کے قریب رہتاہو اور اس مسجد کامنتظم ہوجماعت میں شریک نہ ہو اور اذان وقت بے وقت ہو اور کبھی نہ ہو لوگ بلااذان نمازپڑھ جائیں ایسا شخص گنہگار ہے یانہیں؟
الجواب
ترک جماعت اور ترک حاضری مسجد کاعادی فاسق ہے اور فاسق قابل اتباع نہیں، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۳۰: ازشہرجوناگڈھ محلہ کیتانہ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ حافظ محمدحسین ۲۰ربیع الآخر۱۳۳۶ھ
جوشخص جماعت کے ساتھ نمازپڑھنے کومستحب کہے اس کو علمائے دین کیاکہیں گے، یہاں پرایک مدرسہ ہے اس میں تھوڑے عرصہ سے شوروغوغا مچاہے اور آپ علمائے دین کی منصفی پرسب کااتفاق ہے برائے خدا ہم جاہلوں کوراہ راست بتائیں۔
الجواب
جماعت کو مستحب سمجھنے کے اگریہ معنی ہیں کہ اسے واجب یاسنت مؤکدہ نہیں جانتا صرف ایک مستحب بات مانتاہے توسخت مبطل شدیدخاطی ہے اور احادیث صحیحہ اور تمام کتب فقہ کے ارشاد کامخالف ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۳۱ :ازترسائی کاٹھیاواڑ مرسلہ احمددادصاحب ۲/جمادی الاخری ۱۳۳۶ھ
ایک ہی مسجد میں جماعت ثانی بلاوجہ ہوسکتی ہے یانہیں، مثلاً سہو سے جماعت اول کونہ پہنچ سکے اور بعد میں جماعت ثانی کرلے خواہ گاؤں ہو یاشہر ، شارع عام ہو یاکوچہ، قائم امام ہو یانہ ہو۔
الجواب
جومسجد شارع یابازار یاسریااسٹیشن کی ہو کہ کسی محلہ یاامام سے مخصوص نہیں اس میں سب جماعتیں جماعت اولٰی ہیں جوگروہ آئے نئی اذان واقامت سے محراب میں جماعت کرے اور جومسجد محلہ ہے جس کے لئے امام وجماعت معین ہے اس میں جب امام پہلی جماعت باعلان اذان مطابق سنت اداکرچکا توبعد کوجوآئیں انہیں اعادہ اذان ناجائز ہے اور محراب میں امامت مکروہ، اور بلااعادہ اذان، محراب سے ہٹ کر بے کراہت جائز۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۳۲: ازشہرکہنہ محلہ مروہی ٹولہ مسؤلہ بشیرالدین صاحب ۱۹/رمضان شریف ۱۳۳۶ھ
ایک مصلی پردوشخص علیحدہ نمازفرض اداکریں تو ایسی حالت میں فرض اداہوتے ہیں یانہیں؟
الجواب
اگر اُن میں کوئی امامت کے قابل ہے اور قصداً ترک جماعت کیااور یہ مسجد محلہ نہ تھی یاتھی اور یہ جماعت جماعت اولٰی ہوتی تو جس کی طرف سے یہ ترک ہے وہ گناہگار ہوا ایک خواں دونوں،اور اگر یہ مسجد محلہ تھی اور یہ جماعت جماعت اولٰی نہ ہوتی تو براکیا، رافضیوں سے مشابہت توقدیم سے تھی اب دیوبندیوں گنگوہیوں سے بھی ہوئی، اور اگر ان میں کوئی قابل امامت نہ تھا توحرج نہیں بہرحال فرض ادا ہرصورت میں ہوجائیں گے، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۳۳: ازنمبر۱۰۱ ثلی تال کوہ نینی تال مرسلہ مولوی محمدحسین صاحب تاجرطلسمی پریس ۲۵/شوال ۱۳۳۶ھ
جماعت صرف عورتوں کی جن کامحض امام مرد ہو درست ہے یانہیں؟ اور امام کے سہو کو وہ لڑکی یا عورت بتاسکتی ہے یانہیں جس سے پردہ نہیں ہوتا؟
الجواب
اگریہ جماعت مسجد میں ہو مطلقاً مکروہ ہے کہ عورات کوحاضری مسجد منع ہے اوراگرمکان ہو اور مرد کوحاضری مسجد سے کوئی عذر صحیح شرعی مانع نہیں تومطلقاً مکروہ ہے کہ مرد پرحاضری مسجد واجب ہے اور اگر اسے عذر ہے اور جماعت میں جتنی عورتیں اس کی محرم یازوجہ یاغیرمشتہاۃ لڑکیوں کے سوانہیں تومطلقاً بلاکراہت جائز ہے اور نامحرم مشتہاۃ ہیں تومکروہ بہرحال، اگرامام کوسہو ہو توعورت تصفیق سے اسے متنبہ کرے یعنی سیدھی ہتھیلی بائیں پشت دست پرمارے آواز سے تسبیح وغیرہ نہ کہے کہ مکروہ ہے۔
درمختار:
المرأۃ تصفق لاببطن علی بطن ولو صفق اوسبحت لم تفسد وقدترکا السنۃ تاتارخانیۃ ۱؎۔
عورت تصفیق سے متنبہ کرے مگر باطن ہتھیلی کوبائیں ہتھیلی کے باطن پرنہ مارے، اگرمرد نے تصفیق کی عورت نے تسبیح کہی تونماز فاسد نہ ہوگی البتہ دونوں نے سنت کو ترک کردیا، تاتارخانیہ۔(ت)
(۱؎ درمختار باب ما یفسدالصلوٰۃ الخ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۹۱)
اقول ہاں اگر امام نے قرأت میں وہ غلطی کی جس سے نماز فاسد ہو توعورت مجبورانہ آوازہی سے بتائے گی جبکہ وہ تصفیق پرامام کویاد نہ آجائے
وذلک لان الضرورات تبیح المخطورات
(اور وہ اس لئے کہ ضرورتیں ممنوعات کومباح کردیتی ہیں۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۳۴ :یکم جمادی الاخری ۱۳۰۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک سمجھ وال لڑکا آٹھ نوبرس کاجونمازخوب جانتاہے اگرتنہاہو تو آیا اسے یہ حکم ہے کہ صف سے دورکھڑا ہویاصف میں بھی کھڑاہوسکتاہے؟ بینواتوجروا
الجواب
صورت مستفسرہ میں اسے صف سے دور یعنی بیچ میں فاصلہ چھوڑکرکھڑا کرنا تومنع ہے
فان صلاۃ الصبی الممیز الذی یعقل الصلاۃ صحیحۃ قطعا وقدامر النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بسدالفرج والتراض فی الصفوف ونھی عن خلافہ بنھی شدید۔
کیونکہ ممیزبچے (جونماز کوجانتاہو) کی نمازقطعاً صحیح ہے اور حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے صفوف میں خلا نہ چھوڑنے اور متصل رکھنے کاحکم دیا ہے اوراس کے خلاف پرنہی شدید فرمائی ہے۔(ت)
اور یہ بھی کوئی ضروری امرنہیں کہ وہ صف کے بائیں ہی ہاتھ کوکھڑا ہو، علماء اسے صف میں آنے اور مردوں کے درمیان کھڑے ہونے کی صاف اجازت دیتے ہیں، درمختار میں ہے:
یصف الرجال ثم الصبیان ظاھرہ تعددھم فلو واحد ادخل الصف ۱؎۔
مردصف بنائیں پھربچے، اس کاظاہرواضح کررہاہے یہ اس وقت ہے جب بچے متعدد ہوں، اگراکیلا ہوتو اسے صف کے اندرکھڑاکرلیاجائے(ت)
اگربچے زیادہ نہیں توایک بچے کومردوں کی صف میں کھڑاکرلیاجائے۔(ت)
(۲؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی فصل فی بیان الاحق بالامامۃ مطبوعہ نورمحمد کتب خانہ کراچی ص۱۶۸)
بعض بے علم جویہ ظلم کرتے ہیں کہ لڑکا پہلے سے داخل نماز ہے اب یہ آئے تواسے نیت بندھا ہوا ہٹاکر کنارے کردیتے اور خود بیچ میں کھڑے ہوجاتے ہیں یہ محض جہالت ہے، اسی طرح یہ خیال کہ لڑکابرابر کھڑا ہوتو مرد کی نماز نہ ہوگی غلط وخطا ہے جس کی کچھ اصل نہیں۔ فتح القدیر میں ہے:
امردکامحاذی ہونا فسادِنماز کاسبب نہیں، اس مسئلہ پر تمام فقہانے تصریح کی ہے البتہ شاذونادرطورپرکچھ لوگوں نے اس کی مخالفت کی ہے ان کے لئے نہ روایۃً کوئی دلیل ہے نہ درایۃً ملخصاً(ت)
(۳؎ فتح القدیر باب الامامۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۱۲)