Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
30 - 158
مسئلہ ۹۰۵: از محلہ سوداگران مسؤلہ شمس الہدی صاحب طالب علم مدرسہ منظرالاسلام ۱۲صفر ۱۳۳۹ھ

حضور اس مسئلہ میں کیاارشاد فرماتے ہیں کہ کوئی شخص ایسا ہو کہ وہابی کے مدرسہ میں پڑھتا ہو اور ان کے اقوال بھی جانتا ہے اور پھر وہابی کے مکان میں رہتاہے اس کے یہاں کھاناکھاتاہے تو اس صورت میں اسے اہلسنت کی نمازجماعت میں کھڑا ہونے دیں یانہیں اور اگر کھڑا ہوگا تو فصل لازم آئے گا یانہیں؟

الجواب

اگر وہ وہابیہ کے عقائد سے واقف ہو کر انہیں مسلمان جانتاہے تو ضرور صف میں اس کے کھڑے ہونے سے فصل لازم آئے گا اور صف قطع ہوگی اور قطع صف حرام ہے۔
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من قطع صفا قطعہ اﷲ ۱؎ ۔
نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے صف کو کاٹا اسے اﷲ تعالٰی اپنی رحمت سے کاٹ دے گا۔(ت)
 (۱؎ سنن ابوداؤد    باب تسویۃ الصفوف    مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۹۷)
اور اگروہابیہ کو کافرجانتاہے تو ان سے میل جول کے باعث جس میں سب سے بدتر اُن سے پڑھنا ہے سخت فاسق ہے امامت کے قابل نہیں، نماز اس کے پیچھے مکروہ تحریمی ہوگی مگر صف میں اس کے کھڑے ہونے سے صف قطع نہ ہوگی۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۰۶ :مولوی عبداﷲ صاحب بہاری مدرس مدرسہ منظرالاسلام محلہ سوداگران بریلی ۹صفر ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک جماعت میں چار صفیں ہیں، صف اول میں کسی مقتدی یاامام کاوضوجاتارہا تب وہ مقتدی یاامام باہر کس طرح آسکتاہے کیونکہ درمیان میں تین صفیں ہیں جو شانہ سے شانہ ملائے ہیں اور مقتدی کی جوجگہ خالی ہے اس کے واسطے کیاحکم ہے؟

الجواب

مقتدی جس طرف جگہ پائے چلاجائے، یونہی امام دوسرے کوخلیفہ بناکر، اب صفوں کاسامنا سامنانہیں کہ امام کاسترہ سب کاسترہ ہے اور مقتدی کی جوجگہ خالی رہی کوئی نیاآنے والا اسے بھردے یایونہی رہنے دے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۰۷: ازشہر محلہ باغ احمد علی خاں    مسؤلہ نیاز احمدصاحب    ۲۴ صفر ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک محلہ میں دوگروہ آباد ہیں دیوبندی و سنی حنفی، اس محلہ کی مسجد میں دودوجماعتیں ہوتی ہیں پہلی جماعت دیوبندی فرقہ کی ہوتی ہے وہ لوگ عداوت کی وجہ سے مغرب اور فجر کی نماز میں دیرکردیتے ہیں اس میں جماعت(نماز) قضاہونے کااندیشہ ہے اگرسنی اپنی جماعت پہلے کراناچاہتے ہیں تو وہ لوگ فساد پرآمادہ ہوتے ہیں ایسی حالت میں سنیوں کوکیاکرناچاہئے؟ بینوا توجروا

الجواب

عین ان کی جماعت ہونے کی حالت میں سنی اپنی جماعت کرسکتے ہیں کہ نہ ان کی جماعت جماعت ہے نہ اُن کی نماز نماز۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۰۸ :ازشہرممباسہ ضلع شرقہ افریقہ    دکان حاجی قاسم اینڈسنزمسؤلہ حاجی عبد اللہ حاجی یعقوب ۲۶/رمضان ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام نمازپڑھاتاہے جماعت کو، بعد دوسرے آدمی امام شافعی علیہ الرحمۃ کے مقلد آئے اور صحن میں جماعت پڑھانے لگے اسی طرح دوجماعت ایک مسجد میں ساتھ اداکرناجائز ہے یانہیں اور صحن میں ایک امام نمازپڑھارہاہے مقلد شافعی کے ہاں مسبوق کے ساتھ اقتداکرنا جائز ہے اسی طرح نماز جماعت سے پڑھتے ہیں اور امام آیا اور تکبیر ہوئی اور جماعت کھڑی ہوئی اسی طرح دوجماعت ایک مسجد میں پڑھناجائز ہے یانہیں؟ بینواتوجروا

الجواب

ایک مسجد میں ایک فرض کی دوجماعتیں ایک ساتھ قصداً کرنابلاوجہ شرعی ناجائز وممنوع ہے لیکن ایک جماعت حنفیہ کی امام حنفی کے پیچھے ہو اور دوسری شافعیہ یامالکیہ یاحنبلیہ کی اپنے ہم مذہب امام کے پیچھے ہو اس میں حرج نہیں جس طرح حرمین شریفین میں معمول ہے کہ یہ وجہ شرعی سے ہے مسبوق کی اقتداء ہمارے مذہب میں باطل ہے اگرچہ وہ مسبوق شافعی المذہب ہو۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۰۹: ازموضع دھرم پور ضلع بلند شہرپرگنہ ڈبائی کوٹھی نواب صاحب مسؤلہ عبدالرحیم۲۸/رمضان ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نمازباجماعت ہوچکی، بعد میں دوچارآدمی فراہم ہوگئے اور جماعت سے رہ گئے تووہ آپس میں مل کرنمازباجماعت سے پڑھ سکتے ہیں یانہیں، کیونکہ اکثرایسا دیکھاگیاتھا اب ایسا معلوم ہواہے کہ اول جماعت کے بعد پھر جماعت سے نمازپڑھنا موجب ثواب نہیں بلکہ عذاب ہے لہٰذا جوحکم شریعت ہو اس سے آگاہ فرمائیے؟ بینواوجروا

الجواب

جومسجد کسی معین قوم کی نہیں جیسے بازار یاسرایااسٹیشن کی مسجدیں، ان میں تو ہرجماعت جماعت اولٰی ہے

ہرجماعت کاامام اسی محل قیام امام پرمحراب میں کھڑا ہوکرامامت کرے بلکہ افضل یہ ہے کہ ہرجماعت جدید اذان سے ہو۔ ہاں مسجد محلہ میں جس کے لئے امام وجماعت معین ہیں اس اعتماد پرکہ ہم اپنی جماعت دوبارہ کرلیں گے بلاعذر شرعی مثل بدمذہبی امام وغیرہ جماعت اولٰی کاقصداً ترک کرناگناہ ہے اور اگرامام کے ساتھ اہل محلہ کی جماعت ہوگئی اور کچھ لوگ اتفاقاً یاعذرصحیح کے سبب رہ گئے تو ان کواذانِ جدید کی اجازت نہیں اور محراب میں قیام امام کی جگہ ان کے امام کوکھڑاہونا مکروہ ہے اذان دوبارہ نہ کہیں اور محراب سے ہٹ کرجماعت کریں یہی افضل ہے اسے جوموجب عذاب بتاتاہے غلط کہتاہے کما حققنا فی فتاوٰنا(جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۱۰: ازمدرسہ اہلسنت منظراسلام بریلی مسؤلہ عبداﷲ مدرس    ۳/شوال ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک صف پردویاچارشخص علیحدہ علیحدہ فرض پڑھ سکتے ہیں یانہیں؟ بینواتوجروا

الجواب

اگرجماعت کرسکتے ہوں توترک جماعت نہ کریں رافضیوں سے مشابہت نہ کریں اور اگر یہ جماعت جماعت اولٰی ہے جب تو اس کاترک گناہ اور ناجائز ہے مگرنماز سب کی بہرحال ہوجائے گی۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۱۱ تا ۹۲۲: ازگورکھپور محلہ دھوبی    مسؤلہ سعیدالدین    ۹شوال ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:

(۱) جماعت کے لئے تعین وقت گھڑی سے جائز ہے یانہیں؟

(۲) امام کو کسی مقتدی کے لئے جوممبرمسجد ومیرمحلہ ہو اور سید ہو باوجودگزرجانے وقت معین گھڑی کے جماعت کے لئے انتظار کرنا درست  ہے یانہیں؟

(۳) امام کے نزدیک تمام مقتدیوں کی عزت برابرہونی چاہئے یانہیں؟

(۴) ایک مقتدی کوجوممبرمسجد ومیرمحلہ اور سید ہو دوسرے مقتدی پرفوقیت ہے یانہیں۔

(۵) اگرکوئی مقتدی سنت مستحب نمازپڑھتاہو تواس کی سنت ختم ہونے تک امام کو انتظارکرناچاہئے یانہیں، سنت مؤکدہ کی تعریف کیاہے؟

(۶) کسی مقتدی کابوجہ اس کی امارت اعزاز کے باوجود تعین وقت گھڑی وضو اور سنت کا انتظارکرناجائز ہے یاناجائز؟

(۷) امام کاکہنا کہ ہم کومقتدیوں کے انتظار کی ضرورت نہیںبلکہ مقتدیوں کوامام کے انتظار کی ضرورت ہے صحیح ہے یانہیں؟

(۸) امام کووقت معین گھڑی پرآناجائز ہے یانہیں؟

(۹) امام کاکہنا کہ گھڑی کامعین صرف مؤذن کی اذان کے لئے ہے جماعت کے لئے نہیں درست ہے یانہیں؟

(۱۰) باوجود تعین وقت گھڑی امام کاکہنا کہ جب امام نماز کے لئے کھڑا ہوجائے وہی وقت نماز کا ہے درست ہے یانہیں؟

(۱۱) مقتدیوں کاپیش امام سے جو کہ وقت معین پرنماز نہ پڑھاتے ہوں کہنا کہ آپ وقت معین سے ۲۔۴۔۱۰ منٹ پہلے تشریف لائیے درست ہے یانہیں؟

(۱۲) امام کا کہنا میں حشرتک نہ آؤں گا درست ہے یانہیں؟ بینواتوجروا
الجواب

(۱) جائز ہے، واﷲ تعالٰی اعلم۔

(۲) درست ہے جبکہ حاضرین پرگراں نہ ہو اور وقت وسیع ہو واﷲ تعالٰی اعلم۔

(۳) جس کو دینی عزت زائد ہے ہرمسلمان کے نزدیک زائد ہے، اس کی وہ رعایت کی جائے گی جودوسرے کی نہ ہوگی جب تک کوئی حرج شرعی لازم نہ آئے، واﷲ تعالٰی اعلم

(۴) ہے مگرنہ ایسی کہ اس کی ذاتی رعایت اوروں پر باعث بار ہو اور عین نماز میں کسی معین کی رعایت جائز نہیں مثلاً امام رکوع میں ہے اور کوئی شریک ہونے کوآیا اگرامام نے نہ پہچانا تو اس کے لئے رکوع میں بعض تسبیحیں زائد کرسکتاہے جس میں وہ شامل ہوجائے کہ یہ دین میں اعانت ہے لیکن اگر پہچانا کہ فلاں ہے اور اس کی خاطر سے زائد کرنا چاہے توجائز نہیں ویخشی علیہ امرعظیم (اس سے ڈرنا چاہئے یہ بہت بڑا معاملہ ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم

(۵) انتظارکرسکتاہے اگروقت میں وسعت ہو اور اوروں پرگرانی نہ ہو۔ سنت موکدہ وہ امردینی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ہمیشہ کیامگرنادراً یاکبھی ترک نہ فرمایا مگراتفاق سے کسی نے ترک کیا تو اس پرانکار بھی نہ فرمایا، واﷲ تعالٰی اعلم

(۶) اس کا جواب نمبر۵ کے مطابق ہے مگر خاص اس کی مالداری کے سبب رعایت کی اجازت نہیں لیکن اس حالت میں کہ رعایت نہ کرنے سے فتنہ ہو۔ واﷲ تعالٰی اعلم

(۷) مقتدیوں کوامام کاانتظار چاہئے امام کوتاحدوسعت مقتدیوں کاانتظار چاہئے۔ حدیث میں ہے:

لوگ جلدجمع ہوجاتے تو حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جلد نماز پڑھ لیتے اور لوگ دیر میں آتے تو تاخیر فرماتے۔ واﷲ تعالٰی اعلم

(۸) جائز کیا بلکہ مناسب ہے وا ﷲ تعالٰی اعلم

(۹) تعیین وقت جماعت ہی کے لئے کی جاتی ہے، لوگ جب وقت معین پرآجائیں توامام کو بلاضرورت زیادہ دیرلگانے کی اجازت نہیں کہ وجہ ثقل وباعث نفرت جماعت ہوگا۔ واﷲ تعالٰی اعلم

(۱۰) جب وقت معین ہوچکا تو اس کے بعد دیر کرکے امام کانمازپڑھانا اس کاحکم ابھی سوال سابق میں گزرا اور اس سے پہلے جلدی کرکے پڑھ لینا باعث تفریق جماعت ہوگا اور وہ بلاضرورت جائزنہیں واﷲ تعالٰی اعلم۔

(۱۱) پیشتر کی استدعا فضول ہے، یہ استدعا کریں کہ وقت معین پرتشریف لایاکیجئے واﷲ تعالٰی اعلم

(۱۲) اگرپیشتر آنے سے انکار ہے توبیجا نہیں، امام انتظار کے لئے نہیں بنایاگیا واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۲۳: ازچاند پارہ ڈاک خانہ شہرت گنج ضلع بستی مسؤلہ محمدیار علی نائب مدرس ٹریننگ اسکول۱۸/ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرامام کو مقتدی کی صف کے آگے کھڑاہونے کی جگہ نہیں ہے تو امام صف مقتدی میں کس صورت سے کھڑا ہو، آیا امام مقتدی سے کچھ امتیاز کے واسطے آگے کھڑا ہو یامقتدی امام کی دونوں جانب یعنی دہنی بائیں امام کے پیر کے برابرکھڑے ہوں؟ بینواتوجروا
الجواب

جب صرف ایک مقتدی ہو تو سنت یہی ہے کہ وہ امام کے برابر دا ہنی طرف کھڑا ہو مگر اس کا لحاظ فرض ہے کہ قیام، قعود، رکوع، سجود کسی حالت میں اس کے پاؤں کاگِٹّا امام کے گِٹّے سے آگے نہ بڑھے۔ اسی احتیاط کے لئے امام محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ یہ فرماتے ہیں کہ یہ اپنا پنجہ امام کی ایڑی کے برابررکھے، اور اگردومقتدی ہوں تواگرچہ سنت یہی ہے کہ پیچھے کھڑے ہوں، پھر بھی اگرامام کے دہنے بائیں برابر کھڑے ہوجائیں گے حرج نہیں مگردو سے زیادہ مقتدیوں کاامام کے برابرکھڑا ہونا یاامام کاصف سے کچھ آگے بڑھا ہونا کہ صف کی قدر جگہ نہ چھوٹے یہ ناجائز وگناہ ہے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی، اگرمقتدیوں کی کثرت اور جگہ کی قلت ہے باہم صفوں میں فاصلہ کم چھوڑیں پچھلی صف اگلی صف کی پشت پرسجدہ کرے اور امام کے لئے جگہ بقدرضرورت پوری چھوڑیں اور اگر اب بھی امام کو جگہ ملنا ممکن نہ ہو نہ ان میں کچھ لوگ دوسری جگہ نماز کوجاسکیں مثلاً معاذاﷲ کسی ایسی کوٹھڑی میں محبوس ہیں جس کاعرض جانب قبلہ گزسواگز ہے تویہ صورت مجبوری محض ہے اس میں قواعد شرع سے ظاہر یہ ہے کہ جماعت کریں امام بیچ میں کھڑا ہو پھر تنہاتنہا اس کااعادہ کریں جماعت اقامت اشعار کے لئے او ر اعادہ رفع خلل کے واسطے۔ درمختار میں ہے:
کل صلاۃ ادیت مع کراھۃ التحریم تجب اعادتھ ۱؎ ۔
جونماز کراہت تحریمی کے ساتھ اداکی گئی ہو اس کا اعادہ واجب ہے۔(ت)
 (۱؎ درمختار    باب صفۃ الصلوٰۃ     مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۷۱)
اسی میں ہے:
لوتوسط اثنین کرہ تنزیھا وتحریما لواکثر ۲؎۱ھ
اگرامام دومقتدیوں کے درمیان کھڑاہوا تو یہ مکروہ تنزیہی ہے اگردو سے زیادہ مقتدی ہوں تو مکروہ تحریمی۱ھ
 (۲؎ درمختار    باب الامامۃمطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۸۳)
ولایقال الجماعۃ واجبۃ بل قیل سنۃ موکدۃ وکراھۃ التحریم فی جانب النھی کالوجوب فی جانب الامر، والاجتناب عن المناھی اھم من ایتان الاوامر، فی الحدیث لترک ذرۃ مما نھی اﷲ خیرمن عبادۃ الثقلین، لانانقول اقامۃ الشعار اھم من کل شیئ حتی اباحوا للختان ولیس الاسنۃ صریح المحرمات من النظر والمس قیل فی الھندیۃ عن العتابیۃ فی ختان الکبیر اذا امکن ان یختن نفسہ فعل والالم یفعل الا ان یمکنہ ان یتزوج اویشتری ختانۃ فتختنہ وذکر الکرخی فی الجامع الصغیر ویختنہ الحمامی ۱؎۔
یہ نہ کہاجائے کہ جماعت واجب ہے بلکہ اسے سنت مؤکدہ کہاگیاہے اور جانب نہی میں کراہت تحریمی، جانب امر میں وجوب کی طرح ہے اور مناہی سے اجتناب اوامر پرعمل سے اہم ہے۔ حدیث شریف میں ہے: اﷲ تعالٰی کے منع کردہ ایک ذرہ کاچھوڑدینا تمام جن وانس کی عبادت سے افضل ہے۔ کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ شعار کی اقامت ہرشے سے اہم ہے حتی کہ علمانے ختان کے لئے صریح محرمات پرنظرمس کومباح قراردیا حالانکہ ختنہ صرف سنت ہے۔ فتاوٰی ہندیہ میں عتابیہ کے حوالے سے کبیر کے ختنے کے بارے میں کہاگیا ہے کہ اگراس کیلئے اپنا ختنہ کرناممکن ہو توخود کرے ورنہ نہ کرے مگر اس صورت میں کہ جب اس کے لئے شادی ممکن ہو یا ایسی لونڈی خریدناممکن ہو جو اس کاختنہ کردے تو ایسا ہی کرے۔ امام کرخی نے جامع صغیرمیں فرمایا اس کا ختنہ حجام کردے۔
 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ    الباب التاسع عشرفی الختان الخ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور        ۵ /۳۵۷)
اقول ویؤیدہ ماعن الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھم انھم کانوا لایختنون اولادھم الابعد البلوغ وقال فی الدر وقتہ غیرمعلوم وقیل سبع سنین کذا فی الملتقی وقیل عشر وقیل اقصاہ اثنتا عشرۃ سنۃ ۲؎
اقول(میں کہتاہوں) اس کی تائید صحابہ کرام رضوا ن اﷲ علیہ اجمعین کے اس عمل سے ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کاختنہ بلوغت کے بعد کرتے تھے۔ درمختار میں ہے کہ ختنہ کاوقت مقرر نہیں، بعض نے سات سال، بعض نے دس سال، اور بعض نے کہا ہے کہ آخری وقت بارہواں سال ہے۔
 ( ۲؎ردالمحتار        مسائل شتّی             مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۲ /۳۴۹)
زاد الشامی عن الطحطاوی وقیل لایختن حتی یبلغ لانہ للطھارۃ ولاتجب علیہ قبلہ۳؎
شامی نے طحطاوی کے حوالے سے اضافہ کیاہے کہ بلوغ سے قبل ختنہ نہ کیاجائے کیونکہ اس کا مقصد طہارت ہے اور وہ بلوغ سے پہلے لازم نہیں ہوتی۔
 (۳؎ درمختار        مسائل شتّی            مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۵ /۵۳۰)
قال فی الدر وقیل العبرۃ بطاقتہ وھوالاشبہ۴؎
درمختار میں ہے اعتبار طاقت وقوت کا ہے، اور یہی مختار ہے۔
 (۴؎ درمختار        مسائل شتّی            مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۲ /۳۵۰)
قال ش ا ی بالفقہ زیلعی وھذہ من صیغ التصحیح ۵؎۱ھ
شارح شامی نے فرمایا یعنی یہی عقل و دانش کے زیادہ قریب ہے زیلعی، اوریہ (اشبہ) تصحیح کے صیغوں میں سے ایک ہے۱ھ
 (۵؎ ردالمحتار        مسائل شتّی             مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۵ /۵۳۰)
فشمل اذا لم یلق الابعد البلوغ لایقال فلیصل ثلثۃ ثلثۃ تتری یؤم کل اثنین امام فالجماعۃ یحرزون وعن الکراھۃ یحترزون لانا نقول لا اصل فی الشریعۃ الطاھرۃ لتفریق الجماعۃ الحاضرۃ ولم یرض اﷲ بہ للمسلمین وھم فی نحرالعدو فما ظنک بسائر الاحوال ھذا ماظھر لی وعند ربی علم حقیقۃ کل حال۔ واﷲ تعالٰی اعلم
یہ اس صورت کوبھی شامل ہے جب بلوغ کے بعد ہی طاقت رکھتاہو، یہ بھی نہیں کہاجاسکتا کہ تین تین الگ ہوکرنماز اداکریں اور امام ہردوکی امامت کرائے توجماعت حاصل کرلیں گے اور کراہت سے بچ جائیں گے کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ شریعت طاہرہ میں جماعت حاضر ہمیں تفریق کی اجازت نہیں ہے حتی کہ دشمنوں کے سامنے بھی اﷲ تعالٰی نے مسلمانوں کے لئے ایسے عمل کو پسند نہیں کیا تو دیگر حالات میں یہ کیسے ہوسکتاہے، یہ بات مجھ پر آشکار ہوئی ہے حقیقت حال کاعلم میرے رب کریم کے پاس ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
مسئلہ ۹۲۴تا۹۲۷:ازغازی پورمحلہ میاں پورہ مرسلہ منشی علی بخش صاحب محرر دفترججی غازی پور ۱۷/ذی القعدہ ۱۳۲۲ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین:

(۱) ایک مسجد میں دو تین جماعتوں کایکے بعددیگرے ہوناکیسا ہے، چاہئے یانہیں؟

(۲) کراہت جماعت ثانیہ میں آپ کی کیاتحقیق ہے؟

(۳) ایک مسجد میں ایک ہی وقت دوتین آدمیوں کافرداً فرداً فرض پڑھنا کیسا ہے؟

(۴) اور اگرفرداً فرداً چندشخص فرض پڑھیں تونمازہوجائے گی یانہیں؟
الجواب

(۱) مسجد دوقسم ہے ایک مسجد عام جسے کسی خاص محلہ سے خصوصیت نہیں جیسے مسجد جامع یابازار یاسرایا اسٹیشن کی مسجد(۲) دوسری مسجد محلہ کہ ایک محلہ خاص سے اختصاص رکھتی ہو اس کی معمولی جماعت معین ہے اگرچہ کچھ راہگیر یامسافر بھی متفرق اوقات میں شریک ہوجایاکریں، اور یکے بعددیگرے چندجماعتیں کرنے کی بھی دوصورتیں ہیں، ایک یہ کہ جماعت موجودہ کے دویاچندحصے کردیں، جب ایک حصہ کرلے تودوسرا کرے۔ دوسرے یہ کہ وہ حاضر ہواپڑھ گیا دوسرا اس کے بعد آیا یہ اب جماعت کرتاہے تعدد جماعت کی پہلی صورت بلاضرورت شرعیہ مطلقاً حرام ہے خواہ مسجد محلہ ہو یامسجد عام، ہاں بضرورت جائز ہے جیسے صلوٰۃ الخوف میں۔ رہا یہ کہ مسجد میں کوئی بدمذہب گمراہ یافاسق معلن یاقرآن مجید کاغلط پڑھنے والا امامت کرتاہے کچھ لوگ براہ جہل یاتعصب اس کے پیچھے پڑھتے ہیں دوسرے لوگ اس کے روکنے پرقادرنہیں یہ اس کی اقتدا سے بازرہتے ہیں اور اس کے فراغ کے بعد اپنی جماعت جداکرتے ہیں جس کاامام سب بلاؤں سے پاک ہے یہ صورت مطلقاً جائز بلکہ شرعاً مطلوب ہے مسجد عام ہو خواہ مسجد محلہ۔ اور تعدد جماعت کی صورت ثانیہ کہ یہ گروہ پہلی جماعت کے وقت حاضرنہ تھا یہ مسجد عام میں مطلقاً جائزومطلوب ہے یہاں تک کہ کتابوں میں تصریح ہے کہ بازار وغیرہ کی عام مساجد میں افضل یہ ہے کہ جو گروہ آتاجائے نئی اذان نئی اقامت سے جماعت کرے سب جماعتیں جماعت اولٰی ہوں گی
کما فی فتاوی الامام قاضی خاں وغیرہ
 (جیسا کہ فتاوٰی امام قاضی خاں وغیرہمیں ہے۔ت) اور مسجد محلہ میں بھی اگرپہلی جماعت کسی غلط خواں یابدمذہب یامخالف مذہب نے کی یا بے اذان دئیے ہوگئی یااذان آہستہ دی گئی دوسری جماعت مطلقاً جائز ومطلوب ہے اور اگر ایسانہیں بلکہ اہل محلہ موافق المذہب سنی صالح صحیح خواں امام کے پیچھے باعلان اذان کہہ کر پڑھ گئے اب باقی ماندہ آئے توانہیں دوبارہ اذان کہہ کر جماعت کرنی مکروہ تحریمی ہے اور بے اذان دیئے محراب جماعت اولٰی میں امامت کرنی مکروہ تنزیہی، اور اگرمحراب بدل دیں تواصلاً کراہت نہیں۔ اس مسئلہ کی تفصیل تام فقیر نے اپنے فتاوٰی میں ذکرکی۔

(۲) اس کاجواب اول میں آگیا۔

(۳) اگران میں کوئی شرعی حیثیت سے قابل امامت ہو اور دانستہ بلاوجہ شرعی ترک جماعت کریں توگنہگار ہوں گے اگرچہ نمازہوجائے گی۔ اور نادانستہ ہو یعنی ایک شخص فرض پڑھ رہاہے دوسراآیا اسے معلوم نہیں کہ یہ فرض پڑھ رہاہے اس نے بھی فرض کی نیت الگ باندھ لی، اسی طرح تیسراآیا اس نے بھی فرض کی نیت باندھ لی یااُن میں کوئی قابل امامت نہیں تو حرج نہیں۔

(۴) نماز ہوجاتی ہے مگرترک جماعت سے گناہ ہوتاہے جبکہ کوئی عذرشرعی نہ ہو۔
Flag Counter