| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ) |
مسئلہ۸۹۶: دوشخص ایک چٹائی ایک مصلے پرجداجدا برابرکھڑا ہوکر ایک ہی نماز فریضہ قبل جماعت یابعد جماعت پڑھ رہے ہیں ان کی نماز ہوجائے گی یانہیں؟ الجواب نماز تو ہرطرح ہوجائے گی لیکن قبل جماعت الگ الگ پڑھیں اور ایک کاحال دوسرے کومعلوم ہو اور ان میں ایک قابل امامت ہے ا س کوکوئی عذرشرعی نہ ہو تو ان پرترک جماعت کاالزام ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۸۹۷: ازشہر بریلی محلہ باغ احمدخاں ۲۰/ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ جماعت جمعہ کے اندر پہلی صف میں دو یاتین شخض جن کی داڑھی منڈی ہوئی اور ایک شخص کی کتری ہوئی اس نے یہ لفظ کہا کہ بزرگ لوگ پیچھے بیٹھے ہوئے ہیں وہ اگلی صف میں آجائیں اور منڈی اور کتری ہوئی پیچھے چلے جائیں، لہٰذا اس نے گناہ کیا یانہیں، اور اگلی صف میں منڈی ہوئی ہیں اور پیچھے صف میں پرہیزگار اور متقی ہیں ان کو پہلی صف میں لے جائیں اور منڈی ہوئی کوپیچھے ہٹایاجائے یانہیں، اور وہ لوگ جن کی داڑھی منڈی ہوئی ہے اس مسجد کو چھوڑ کر دوسری مسجد کونماز پڑھنے کوجاتے ہیں اورایک کے ساتھ ایک یادو داڑھی والے بھی جاتے ہیں اس بات کو ان لوگوں نے نہایت ناگوارمعلوم کیا۔
الجواب داڑھی کترانا منڈانا حرام ہے اور اس کے مرتکب فاسق ان کوتفہیم ہدایت کی جائے، بہتریہ ہے کہ امام کے قریب دانشورلوگ ہوں، حدیث میں فرمایا:
لیلینی منکم اولوالاحلام والنھی ۲؎۔
تم میں سے دانشور اور عقلمند لوگوں کو میرے قریب ہوناچاہئے۔(ت)
(۲؎ صحیح مسلم باب تسویۃ الصفوف مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۸۱)
اور وہی دانشور ہے جو متقی ہو، متقیوں کوچاہئے تھا کہ یہی پہلے آتے کہ سب سے اول میں جگہ پاتے اب کہ وہ دوسری قسم کے لوگ پہلے آگئے تو انہیں مناسب ہے کہ متقیوں کے لئے جگہ خالی کردیں ورنہ انہیں ہٹانے کی کوئی وجہ نہیں خصوصاً جبکہ سبب فتنہ ہو اعمال میں ہدایت نرمی سے چاہئے کہ سختی سے ضد نہ بڑھے واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۸۹۸: ازشہر بانس منڈی مسؤلہ محمدجان بیگ ۱۰/محرم الحرام ۱۳۳۹ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص پانچوں وقت کی نماز اداکرتاہے اور صوم وصلوٰۃ کابھی پابند ہے مگرمسجد میں صرف تین وقت کی نمازیں ظہروعصر ومغرب باقی عشاء وفجر کی اپنے مکان پرتنہاپڑھتاہے اوروجہ تنہائی میں پڑھنے کی یہ ہے کہ بعد نماز عشاء وفجر کے وظیفہ میں زیادہ وقت لگتاہے اورقرآن عظیم کی تلاوت بھی کرتاہے تنہاپڑھنے میں علیحدہ کوئی حرج تو نہیں؟ الجواب پانچوں وقت کی نماز مسجد میں جماعت کے ساتھ واجب ہے ایک وقت کابھی بلاعذر ترک گناہ ہے، وظیفہ وتلاوت باعث ترک نہیں ہوسکتے فرض مسجد میں باجماعت پڑھ کر وظیفہ وتلاوت مکان پرکرے ورنہ صورت مذکورہ فسق وکبیرہ ہے
فان کل صغیرۃ بالاعتیاد کبیرۃ وکل کبیرہ فسق
(ہرصغیرہ گناہ کا معمول اسے کبیرہ بنادیتاہے اور ہرکبیرہ گناہ فسق ہے۔ت) حدیث میں ہے ظلم اور کفرنفاق سے ہے۔ یہ بات کہ آدمی اﷲ کے منادی یعنی مؤذن کوپکارتا سنے اور حاضر نہ ہو، وہ وظیفہ وتلاوت کہ جماعت مسجد سے روکین وظیفہ وتلاوت نہیں بلکہ ناجائز ومعصیت۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۸۹۹: از اسیریاں محلہ سادات ضلع فتح پور مسؤلہ حکیم سید نعمت اﷲ صاحب ۲۳/محرم ۱۳۳۹ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جماعت ثانیہ میں اقامت کہ جائے یانہیں اور جماعت ثانیہ میں امام کو زور سے جہری نماز میں قرأت کرنی چاہئے یاجماعت اولٰی کے لوگ جوسنتیں پڑھ رہے ہوں ان کے خیال سے برائے نام آواز سے پڑھے تاکہ دوسروں کی نماز میں ذہن نہ منتقل ہو جوحکم شرعی ہو ارشاد فرمائیں؟ الجواب جماعت ثانیہ کے لئے اعادہ اذان ناجائز ہے تکبیر میں حرج نہیں اور اس کا امام نماز جہری میں بقدرحاجت جماعت جہر کرے گا اگرچہ اور لوگ سنتیں پڑھتے ہوں واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۰۰: از شہرکہنہ محلہ لودھی ٹولہ مسؤلہ حبیب اﷲ خاں صاحب ۲۹محرم ۱۳۳۹ھ (۱) کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید و بکر باہم رشتہ دار ہیں دونوں میں خانگی معاملات میں مع دیگررشتہ داران زید و بکر عرصہ سے نااتفاقی ہے اور زید وبکر دونوں شریک ہوکر ایک جماعت میںہمیشہ نماز پڑھتے ہیں، اما صاحب سے کسی کو کچھ کدورت نہیں ہے اب اہل محلہ زید و بکر سے کہیں کہ تم دونوں باہم میل کرلو، بکر یہ جواب دے کہ ہم باہم رشتہ دار ہیں ہمیں میل کرنے میں کچھ انکارنہیں ہے مگراس معاملہ میں دیگررشتہ دار داماد بھائی حقیقی وغیرہ بھی شریک ہیں جن کے ساتھ زیدکو مع دیگررشتہ داران ناراضگی ہے ان کی موجودگی کی بھی ضرورت ہے ـــــــــــــــــــــاس وقت پورا میل ہوسکتاہے تنہامیل کرنے میں دیگررشتہ داران کومجھ سے رنج ہوجائے گا بغیر ان کی موجودگی کے میل ناممکن ہے، یہ جواب بکر کاچنداشخاص کوناگوار معلوم ہوا اور ان اشخاص نے ناخوش ہوکر بکر سے کہا کہ اگرتم اس وقت ہمارے کہنے سے میل نہیں کرو گے تو ہم جماعت میں شریک نہیں ہونے دیں گے ہرطرح پریشان کریں گے لہٰذا اس بنا پر ایک شخص نے مسجد میں وقت نماز اعلان کیا کہ زید و بکر میں باہم رنج ہے جب دوشخص ایسے جن میں رنج ہے وہ شریک جماعت ہوں توپوری جماعت کی نماز نہیں ہوتی ہے اور نہ دعا اس جماعت کی قبول ہوتی ہے اور صرف بکر کو یہ کہہ کر جماعت سے علیحدہ کردیا، تویہ عمل ان اشخاص کاجائز ہے یاناجا ئز، اگرناجائز ہے توعلیحدہ کردینے والوں کو شرع شریف کاکیاحکم ہے؟ (۲) سوال بصورت حال مندرجہ بالا جو اشخاص وقت نماز جماعت سے علیحدہ کردیں ان کے واسطے شرع شریف کاکیاحکم ہے؟
الجواب (۱) اس صورت میں اس کو جماعت سے علیحدہ کرناجائز نہیں اور یہ کہنا محض باطل ہے کہ جس جماعت میں دوشخص آپس میں رنج رکھتے ہوں نماز نہیں ہوگی اور یہ بھی غلط محض ہے کہ وہاں دعاقبول نہیں ہوگی، ہاں باہم اہلسنت کے اتفاق رکھنے کاحکم ہے اور دوبھائیوں میں کسی دنیوی وجہ سے قطع مراسم تین دن سے زیادہ حرام ہے اور جوباہم موافقت کی طرف سبقت کرے گا وہ جنت کی طرف سبقت کرے گا اور جس سے اس کابھائی معافی چاہے گا اور وہ بلاعذر شرعی معاف نہ کرے گا توحدیث میں فرمایا کہ اسے روز قیامت حوض کوثر پر میرے پاس حاضر ہونا نصیب نہ ہوگا۔ واﷲ تعالٰی اعلم (۲) بلاوجہ شرعی کسی مسلمان کو جماعت سے علیحدہ کرنا ظلم شدید ہے اس میں حق اﷲ کابھی مواخذہ ہے اور حق العبد کی بھی گرفتاری، توبہ بھی کریں اور ان لوگوں سے معافی بھی چاہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۰۲ : ازشہر تکیہ سفر علی شاہ مسؤلہ مولوی احمدبخش صاحب ۳/صفر۱۳۳۹ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز عشاکے واسطے (۰۸) بجے وقت مقرر کرلیاگیا کہ بلاانتظار کئے دوسرے کے اس وقت جماعت کھڑی ہوجائے گی کل شب میں ۱۴آدمی دروازے پرمسجد کے کھڑ ے تھے پانچ سات کووضوکرناتھا دوتین کرچکے تھے یہ سب ایک مسئلہ پر ذکرکررہے تھے جماعت کی تکبیر والے نے ان سب کو نہیں بلایا نماز شروع کردی، آیا بلانا یاانتظار واجب تھا یانہیں؟ الجواب اگراذان کے بعد انتظار بقدرمسنون کرلیاگیا ہو پھرزیادہ انتظار کی حاجت نہیں اور اگروقت میں وسعت ہو اور حاضرین پرگراں نہ ہو تو جوآگئے ہیں ان کے وضو کاانتظار کرلینا بہتر، اذان کے بعد غیرمغرب میں بحالت وسعت وقت اتنا انتظار مسنون ہے کہ کھانے والاکھانے سے فارغ ہوجائے جیسے قضائے حاجت کرنی ہے اس سے فراغ پائے اورطہارت ووضو کرکے آجائے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۰۳: ازمونڈیا جاگیر ضلع بریلی مسؤلہ عبدالصمد ۵/صفر ۱۳۳۹ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے یہاں پانچ آدمی ہیں اور سب کلام مجید خواں اور نمازی ہیں، ایک روززید نے بوقت عشا بوجہ تنہائی مکان اپنے گھر نماز ادا کی بوجہ حاضر نہ ہونے مسجد کے زید کا مع اس کے برادران اور اہل خانہ حقہ پانی بھنگی بہشتی دھوبی جملہ کام والوں کو اس سے بند کردیا اور پانچ دن سے بند ہے یعنی یکم صفر سے ۵صفر تک، حالانکہ زیدنماز کے لئے کوئی عذر وحیلہ نہیں کرتا بلکہ بوجہ مجبوری کے حاضر نہیں ہے، آیا زید اس سزا کامستوجب تھا یانہیں، اگرنہ تھا توسزادہندگان کوکیاکرناچاہئے؟ الجواب اگرواقعی مکان تنہاتھا اور تنہاچھوڑ کرآنے میں اندیشہ تھا تویہ عذر قابل قبول ہے اور ایسی حالت میں سزادینا ظلم ہے، اور اگر کوئی عذرصحیح نہ ہو بلاعذرجماعت چھوڑے تو شرعاً قابل سزا ہے واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۰۴: ازمونڈیاجاگیر ضلع بریلی مسؤلہ عبدالصمد ۵/صفر ۱۳۳۹ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کومرض جذام ہے سال گزشتہ میں ڈاکٹر نے مرض مذکورکی تصدیق کردی ہے اب ناخون وغیرہ کے دیکھنے سے مرض کی شدت کاثبوت ہوتاہے چونکہ زید مسجد میں آکر وضوکرتاہے جس سے بعض اشخاص تنفرکرتے ہیں بلکہ مسجد میں نماز پڑھنے سے جماعت سے احتراز کرناچاہتے ہیں او ر اکثرمقتدیان کاعزم ہے کہ زید اگرجماعت میں شامل ہوگا تو ہم گھر پرنماز پڑھ لیاکریں گے دریں صورت مسلمانوں کو کیاکرناچاہئے، آیا زید کو مسجد سے روک دیناچاہئے یالوگوں کوگھرپرنماز پڑھ لینا، اور کبھی کبھی خود بھی نماز پڑھانے کو کھڑاہوجاتاہے۔ الجواب اس صورت میں زید کو چاہئے کہ نمازگھر میں پڑھے جماعت منتشرنہ کرے، اور اس کی امامت مکروہ ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم