(۵) وصلیہ اولٰی ہے بدلیل حدیث محجن رضی اﷲ تعالٰی عنہ:
عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا جئت المسجد وکنت قدصلیت فاقیمت الصلٰوۃ فصل مع الناس وان کنت قدصلیت۱؎۔
نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: جب تومسجد میں آئے جبکہ کہ تو نماز اداکرچکاتھا پس جماعت کھڑی ہوگئی تو تو لوگوں کے ساتھ نماز ادا کر اگرچہ تونے نماز پڑھ لی تھی(ت)
(۱؎ مشکوٰۃ المصابیح الفصل الثالث من باب من صلی مرتین مطبوعہ مجتبائی دہلی ص۱۰۳)
(مؤطاالامام مالک اعادۃ الصلوٰۃ مع الامام مطبوعہ میرمحمد کتب خانہ کراچی ص۱۱۵)
(مسند احمد بن حنبل حدیث محجن الدیلمی مطبوعہ دارالفکر بیروت ۴ /۳۴)
یہ وہی مضمون وحکم ہے اور اس میں وصلیہ متعین
والحدیث خیرتفسیرللحدیث
(ایک حدیث دوسری حدیث کے لئے سب سے بہترتفسیر ہوتی ہے۔ت)
(۶) ہاں درست ہے جہاں شرع مطہر سے ممانعت ثابت نہ ہو اور یہ عموم آیہ کریمہ کی تخصیص نہیں بلکہ وہ (ممنوع) عموم میں داخل ہی نہیں کہا من تطوع خیرافرمایا ہے اور ممنوع خیرنہیں کہ خیرممنوع نہیں۔ اقول تحقیق مقام یہ ہے کہ شے مطلوب الفعل اوالترک باحد الطلبین الجازم وغیرہ ہوگی یا لاولا یہیں سے احکام خمسہ پیداہوئےان كا خامس مباح
(اس سے متعلق تحقیق ہمارے رسالے ''الجود الحلوفی ارکان الوضو'' میں ہے جو کسی اور کتاب میں نہیں ملے گی۔ ت) اربع اول کو ثبوت درکار اور عدم ثبوت طرفین کانتیجہ خامس مگر یہ خامس کسی مستحسن کے نیچے اندراج اور نیت حسنہ کے اندراج سے مستحسن ہوجاتاہے جیسے نیت قبیحہ سے مستقبح، فعل لوح سادہ ہے اور نیت نقش صورت اخیرہ میںوہ مکروہ حرام اور اس سے بدتر ہوسکتااور اولٰی میں تطوع ہوکر دونوں آیہ کریمہ کے عموم میں آئے گا۔ اشباہ و ردالمحتار وغیرہما میں ہے:
المباحات تختلف صفتہا باعتبار ماقصدت لاجلہ فاذا قصد بھا التقوی علی الطاعات اوالتوصل الیہا کانت عبادۃ کالاکل و النوم واکتساب المال والوطء ۲؎ انتھی
مباحات کامختلف نیات کے اعتبار سے حکم مختلف ہوجاتاہے پس جب اس سے طاعات پرفتوٰی یاطاعات کی طرف ایصال متصور ہو تو یہ عبادات ہوں گی مثلاً کھاناپینا، سونا، حصول مال اور وطی کرنا انتہی (ت)
(۲؎ الاشباہ والنظائر بیان دخول البیت فی العبادات مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ۱ /۳۴)
ل
ہذا مسئلہ دائرہ میں یہ حکم نہ دیں گے کہ نماز عید دوبارہ پڑھنا مستحب ہے کہ یہ طلب شرعی سے خبردے گا یعنی شرعاً مطلوب ہے کہ دوبارہ پڑھے اور یہ باطل ہے کہ اس کوثبوت درکار اور ثبوت نہیں ولہٰذا اس کا فعل بے وجہ ہوگا کہ سبب نہیں یہ اس کافی نفسہ حکم ہے پھر اگرخارج سے وجہ پیداہو مثلاً یہ امام متبرک بہ ہے یااس جماعت میں وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ پڑھنے میں امید رحمت ہے کہ
ھم القوم لایشقی بھم جلیسھم ۱؎
(وہ ایسی قوم ہیں جن کاساتھی اور ہم نشین بدبخت نہیں ہوتا۔ت)
(۱؎ صحیح مسلم باب فضل مجالس الذکر مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۴۴)
یا وہ وجہ جو ہم نے نمبردوم میں بیان کی کہ معظم دینی سے موافقت ومحوصورت مخالفت،تو یہ سب نیت محمودہ ہیں اور مباح نیت محمودہ سے محمود اور محمود کاادنٰی درجہ نفل خصوصاً نماز کہ
الصلٰوۃ خیرموضوع فمن استطاع ان یستکثر منھا فلیستکثر۲؎ رواہ الطبرانی الاوسط عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
نماز سب سے بہترین عمل ہے اس میں جتنا بھی کوئی اضافہ کرسکتاہے کرے۔ اسے طبرانی نے اوسط میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیاہے(ت)
(۲؎ مجمع الزوائد بحوالہ طبرانی اوسط باب فضل الصلوٰۃ مطبوعہ دارالکتب بیروت ۲ /۲۴۹)
یوں تحت کریمتین داخل ہوگا، کشف الغمہ میں امیرالمؤمنین مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ، سے ہے:
فکان رضی اﷲ تعالٰی عنہ لاینھی احدا تطوع بشیئ زائدا علی السنۃ ویقول فمن تطوع خیرا فہوخیرلہ۳؎۔
حضرت علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کسی کو بھی سنت سے زائد نوافل سے نہ روکتے اور فرماتے جونیکی میں اضافہ کرناچاہتاہے اس کے لئے یہ بہترعمل ہے۔(ت)
(۳؎ کشف الغمۃ عن جمیع الامۃباب صلوٰۃ العیدین مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ /۱۹۱)
رہا کریمتین میں ترک واووفایہ لکھنا تلاوت قرآن کا وقت نہ تھا بلکہ استدلال کا اور ترک کسی ایسے حرف کا نہ کیا جس پرنظماً یا معنیً صحت کو توقف یاموجب تغیر ہو تو اسے کسی طرح غلطی نہیں کہہ سکتے۔ ابن ابی حاتم و بیہقی نے امیرالمؤمنین علی کرم اﷲ وجہہ، سے روایت کی:
ان رجلا سأل علیاً عن الھدی مماھو فقال من الثمانیۃ الازواج فکان الرجل شک فقال ھل تقرأ القراٰن قال نعم قال فسمعت اﷲ یقول لیذکروا اسم اﷲ علی مارزقھم
ایک آدمی نے حضرت علی سے ہدی(قربانی) کے بارے میں پوچھا کہ وہ کیا ہے؟ فرمایا آٹھ جوڑوں میں سے ، اس آدمی کو شک گزرا، فرمایا کیا تونے قرآن حکیم پڑھاہے؟ عرض کیا۔ ہاں۔ فرمایا کیا تونے یہ سنا ہوگا کہ اﷲتعالٰی
من بھیمۃ الانعام ومن الانعام حمولۃ وفرشا قال نعم فسمعتہ یقول من الضأن اثنین ومن المعز اثنین ومن الابل اثنین ومن البقر اثنین قال نعم۱؎۔
فرماتاہے ''چاہئے کہ وہ اﷲ کانام ذکرکریں اس کے دئیے ہوئے بے زبان چوپایوں پر، اور چوپایوں میں سے بعض وہ ہیں جو بوجھ اٹھانے والے اور کچھ زمین پربچھے ، میں نے عرض کیا ہاں، فرمایا تونے یہ بھی سنا ہوگا کہ اﷲ تعالٰی فرماتاہے ایک جوڑا بھیڑ کا، ایک جوڑا بکری کا، ایک جوڑا اونٹ کا اور ایک جوڑا گائے کا، فرمایا: ہاں۔(ت)
امیرالمؤمنین نے ایک آیت سترہویں پارے کی لی ایک آٹھویں کی اور ان کو سیاق واحد میں ذکرفرمایا دوبار سورہ انعام کی آیتوں میں خاص وسط میں سے اتنے جملے چھوڑدئیے:
قل ء آ الذکرین حرم ام الانثیین اما اشتملت علیہ الارحام الانثیین نبؤنی بعلم ان کنتم صٰدقین۔
تم فرماؤ کیا اس نے دونوں نرحرام کئے یا دونوں مادہ، یا وہ جسے دونوں مادہ پیٹ میں لئے ہیں کسی علم سے بتاؤ اگرتم سچے ہو۔(ت)
اب یہاں کیا حکم ہوگا نبؤنی بعلم ان کنتم صٰدقین۔ واﷲ تعالٰی اعلم
(۱؎ السنن الکبرٰی للبیہقی باب الہدایا من الابل والبقر والغنم مطبوعہ دارصادربیروت ۵ /۲۲۹)
مسئلہ ۸۹۱: ازشہر کہنہ بریلی محلہ کانکڑٹولہ مسئلہ محمدظہورخاں صاحب ۱۳/شوال ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فجر کی نماز امام پڑھارہاہے اب دوسرا نمازی آیا تو شامل جماعت ہوجائے یااول سنت اداکرے، اگرمسجد چھوٹی ہے یاصحن مسجد قلیل ہے اورکانوں میں امام کی آواز آرہی ہے ایسی صورت میں ادائیگی سنت کس صورت سے ہوناچاہئے، یابلاادائیگی سنت شامل ہوجائے اور سنت بعد طلوع آفتاب ہونا بہتریا اوّل یعنی جماعت میں شامل ہوگیاتھا اس کے بعد؟
الجواب
اگرجانتا ہے سنتیں پڑھ کر جماعت میں شامل ہوسکے گا اور صف سے دور سنتیں پڑھنے کو جگہ ہے تو پڑھ کرملے ورنہ بے پڑھے، پھر بعد بلندی آفتاب پڑھے، اس سے پہلے پڑھناگناہ ہے، کان میں آواز آنے کا اعتبارنہیں، امام اندرپڑھ رہاہو باہرپڑھے، باہرپڑھتا ہو اندرپڑھے، حدمسجد کے باہر پاک جگہ پڑھنے کو ہو تو سب سے بہتر۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۸۹۲ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعض نمازیوں کی کسی دنیاوی ضرورت کی وجہ سے مثلاً بازار کو خریدوفروخت کے لئے جاناہوتاہے تو اس کے لئے ان کی رعایت سے وقت مستحبہ پرنماز کو ترک کرنا اور اول وقت پڑھنے میں کچھ قباحت تونہیں ہے یا امام کو وقت مستحبہ پرپڑھنا چاہئے مثلاً عصر کے وقت کہ بعد گزرنے دومثل سایہ کے پندرہ بیس منٹ کا وقفہ اذان وصلوٰۃ کے لئے دے کر جماعت کرنے میں افضلیت توترک نہ ہوگی۔
الجواب
عام جماعت کوضرورت ہو تو حرج نہیں ایک کے لئے جماعت منتشر کرنا یاسب کو ترک وقت مستحبہ کی طرف بلانا بے جاہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۸۹۳: سیکریٹری انجمن مشفق المسلمین محلہ ابراہیم پورہ بریلی
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم کیا فرماتے ہین علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص مبتلائے جذام کو جس سے طبا اجتناب واجب ہے اور مسلمانان محلہ اس کے دخول مسجد واستعمال ظروف سے حذر کرتے ہیں مسجد میں بغرض شرکت جماعت وغیرہ آنے سے شرعاً بغرض فائدہ عوام روکاجاسکتاہے یانہیں؟ بینواتوجروا
الجواب
ہاں جبکہ اس کے آنے سے مسجد میں نجاست کاظن غالب ہو تو وجوباً اور ایسانہ ہو صرف نفرت عوام و احتمال تقلیل جماعت ہو تو استحباباً۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۸۹۴: حافظ نجم الدین گندہ نالہ بریلی
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:
(۱) ایک شخص کو غسل کی حاجت ہے اگروہ غسل کرتاہے تو فجر کی نماز قضاہو ئی جاتی ہے تو اس وقت اسے کیاکرناچاہئے۔
(۲) جبکہ امام رکوع میں ہے اور ایک شخص ایک تکبیر کہہ کر شامل جماعت ہوگیا تو یہ کبیر تحریمہ ہوئی یا مسنونہ، اس صورت میں نماز اس مقتدی کی ہوگی یانہیں؟
الجواب
(۱) تیمم کرکے نماز پڑھ لے اور غسل کرکے پھر اعادہ کرے۔
(۲) اگر اس نے تکبیرتحریمہ کہی یعنی سیدھے کھڑے ہوئے تکبیر کہی کہ ہاتھ پھیلائے توزانو تک نہ جائے تو نماز ہوگئی اور اگرتکبیر انتقال کہی یعنی جھکتے ہوئے تکبیر کہی تو نماز نہ ہوگی اسے دوتکبیر کہنے کاحکم ہے تکبیرتحریمہ اور تکبیرانتقال، پہلی تکبیر تحریمہ قیام کی حالت میں اور دوسری تکبیرانتقال رکوع کوجاتے ہوئے۔ درمختارمیں ہے:
لووجد الامام راکعا فکبر منحنیا ان الی القیام اقرب صح ولغت فیہ تکبیرۃ الرکوع ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم
اگرکسی نے امام کو حالت رکوع میں پایا تو اس نے جھکتے ہوئے تکبیر کہی اگریہ مقتدی قیام کے زیادہ قریب ہوتودرست ہے اور ا س کی تکبیر رکوع لغو ہوجائے گی۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)