Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
27 - 158
مسئلہ ۸۸۵ تا ۸۹۰: ازکانپور    محلہ بوچڑخانہ    مولو ی نثار احمدصاحب    ۲۰/صفر ۱۳۳۷ھ
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم، حامدا ومصلیا ومسلما
(اﷲ تعالٰی کی حمد اور حضور علیہ السلام کی خدمت میں صلوٰۃ وسلام عرض کرتے ہوئے۔ت)۔ حضرات علمائے کرام ادام اﷲ بقاء ہم علٰی رؤس المسلمین وحماہم۔ ان چندسوالوں کاجواب مرحمت فرمائیں:

(۱) یہ کہ اختلاف علماء ہو یوم النحر میں، توقربانی کواحتیاطاً ایک روز مؤخر کرانے والا اختلاف علماء سے بچنے کے لئے مجرم ہے یانہیں۔

(۲) سہ شنبہ ۱۰/ذی الحجہ کو عیدالاضحٰی کی نماز واجب کی نیت سے پڑھانے والا امامت سے بوجہ ثبوت شرعی ماننے کے اور چہارشنبہ کو اس جگہ حاضر ہوکر جہاں عیدالاضحٰی بوجہ ثبوت کامل نہ ہونے کے عید سہ شنبہ کو نہیں ہوئی تھی بلکہ آج چہارشنبہ کو عیدالاضحٰی تھی اور جماعت میں شریک ہوگیا، نفلی نیت سے مجرم ہوا یانہیں۔

(۳) سہ شنبہ کوامامت وخطبہ کے بعد احتیاطی جملہ کاتلفظ اور دوسرے روز اسی کاجماعت میں بہ نیت نفل شریک ہونا لوگوں کو شبہہ دلاتاہے کہ اس نے اپنی نماز دہرالی اور ہم لوگوں کی نمازیں خوب خراب کیں مگر امام کو دوشنبہ کو اعلان وقت نماز کے یقین تھا عید کا، اور راضی تھا، اور خود سہ شنبہ کو وہ ایک اعلان دینے پرراضی تھا کہ میں نے ثبوت کویقین جان کر بہ نیت واجب پڑھی اور امام ہوکر اقرارکرتاہے اصرار سے کہ واجب یقینی جان کرپڑھائی اوراحتیاطی جملہ میں بھی یہ عرض کیا کہ دینی بھائیو! آج عید ہے اور اکثرجگہ ہے، نماز بھی عید کی پڑھی گئی مگر قربانی کل کرنے میں احتیاط ہے، ایسی اختلافی حالت میں کس کے قول کو ماناجائے امام کے قول کو یامقتدیوں کے۔

(۴) پڑھی ہوئی نماز نفل کی نیت سے پھر پڑھنا حنفیوں کے نزدیک حدیث یزید ابن عامر رضی اﷲ تعالٰی عنہ جوباب ''من صلاۃ مرتین'' میں ہے، سے ثابت ہوتا ہے یانہیں۔

(۵) اس حدیث میں وان کنت قدصلیت (اگرچہ تونے نماز پڑھ لی ہو۔ت) میں ان وصلیہ ہے یا شرطیہ، اولٰی وصلیہ ہوتاہے یاشرطیہ۔

(۶) آیہ کریمہ ومن تطوع خیرا فھو خیرلہ (اور جو کوئی اپنی طرف سے نیکی زیادہ کرے تو وہ اس کے لئے بہترہے۔ت) اور من تطوع خیراً فان اﷲ شاکر علیم (جوکوئی اپنی طرف سے اچھائی کرے تو اﷲ تعالٰی نیکی کاصلہ دینے والا اور جاننے والا ہے۔ت) سے عبادات مالیہ اور بدنیہ جس میں نفلی نماز بھی داخل ہے کوئی ثابت کرے تو استدلال درست ہے یانہیں اور معطوف علیہ نہ ہونے کی وجہ سے تحریر میں بغیر واؤ کے لکھنے والا اور آیہ ثانیہ میں بغیر ف ترتیبیہ کے لکھنے والا غلطی کرنے والا ہے یانہیں۔ بینواتوجروا رحمکم اﷲ تعالٰی۔
الجواب

(۱) محل اختلاف علماء میں مراعات خلاف جہاں تک ارتکاب مکروہ کو مستلزم نہ ہو بالاجماع مستحب ہے، مستحب جرم نہیں ہوتا بلکہ اسے جرم کہنا جرم ہے،درمختار میں ہے:
یندب للخروج من الخلاف لاسیما للامام لکن بشرط عدم ارتکاب مکروہ مذھبہ۱؎۔
اختلاف سے نکلنا مستحب ہے خصوصاً امام کے لئے، لیکن شرط یہ ہے کہ اپنے مذہب میں مکروہ کاارتکاب لازم نہ آئے(ت)
(۱؎ درمختار        کتاب الطہارۃ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۲۷)
 (۲) جبکہ اس نے ثبوت شرعی پایا اورروزسہ شنبہ کوروزعید جان کر بہ نیت واجب نماز عید اداکی اور دوسرے جن کو ثبوت نہ پہنچنے کے باعث ان پر شرعاً آج عید واجب تھی ان کی جماعت جماعت روز اول تھی اور سہ شنبہ کے دن پڑھنے والے کے نزدیک اگرچہ جماعت روزدوم تھی مگرامام صالح امامت عید اور اس کے مقتدیوں نے کل ادا نہ کی تھی اور یہاں تاخیر بالعذر بالاجماع بلاکراہت جائز ہے، اور عدم تحقیق ثبوت عندہم سے بڑھ کر اور کیاعذرہوسکتاہے بہرحال یہ نماز امام وقوم اور اس کل پڑھنے والے سب کے نزدیک جماعت واجبہ تھی تو اس کا بہ نیت نفل اس میں مل جانا ہرگز جرم نہیں ہوسکتا جرم نہیں مگرمخالفت امراﷲ یہاں کون سے امراﷲ کاخلاف ہوا
ام تقولون علی اﷲ مالاتعلمون ۲؎
 (کیا تم اﷲ کے بارے میں ایسی بات کہتے ہو جسے تم نہیں جانتے۔ت)
(۲؎ القرآن        ۲ /۸۰)
ہاں اگر ایک دن نماز عید ہوکر دوسرے دن مطلقاً ناجائز ہوتی حتی کہ اس امام صالح امامت عید وقوم کوبھی جس نے کل بعذرنہ پڑھی تو البتہ اسے شریک ہونا جرم ہوتا اگرچہ ان پر جرم کیسا، وہ اپناادائے واجب کررہے تھے کہ ان کو کل کاثبوت نہ پہنچاتھا مگر اس کے اعتقاد میں توعید کل ہوچکی تھی آج دوسرادن تھا جس میں نماز ناجائز تھی تو یہ اپنے اعتقاد کی رو سے ایک ناجائز فعل میں شرکت کرتا اور مجرم ہوتا
فان المرء مواخذ بزعمہ
 (ہرآدمی کامواخذہ اس کے زعم واعتقاد پرہوگا۔ت)مگرایسا ہرگزنہیں بلکہ قطعاً جواز ہے
کمانصوا علیہ قاطبۃ
(جیسا کہ اس پر تمام فقہا نے نص کی ہے۔ت) تو ایک جماعت جائزہ میں متنفلا شریک ہونا کس نے منع کیا نماز عید، نمازجنازہ نہیں جس سے تنفل میں شرعاً عدم جواز کاحکم ثابت ہے، بدائع امام ملک العلماء میں ہے:
لایصلی علی میت الامرۃ واحدۃ لاجماعۃ ولاوحدانا عندنا لنا ماروی ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم صلی علی جنازۃ فلما فرغ جاء عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ ومعہ قوم فاراد ان یصلی ثانیا فقال لہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الصلٰوۃ علی الجنازۃ لاتعادوا لکن ادع للمیّت واستغفرلہ وھذا نص فی الباب (الٰی قولہ) دلیل علی عدم جواز التکرار۱؎۔
ہمارے نزدیک میّت پرفقط ایک دفعہ نماز ادا کی جائے گی دوبارہ نہیں، نہ تنہا نہ جماعت کے ساتھ، کیونکہ منقول ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے جنازہ پڑھایا جب فارغ ہوئے تو حضرت عمراور ان کے ساتھ کچھ لوگ آئے اورانہوں نے دوبارہ جنازہ پڑھنے کاارادہ کیا آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: جنازہ کی نماز لوٹائی نہیں جاسکتی البتہ میّت کے لئے دعا اور استغفار کرو، یہ اس باب میں نص ہے (یہاں تک ) یہ تکرار کے عدم جواز پردلیل ہے۔(ت)
 (۱؎ بدائع الصنائع    فصل فی صلوٰۃ الجنازہ    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۳۱۱)
صلاۃ عید میں نہی کہاں، ہاں ثبوت بھی نہیں، پھر عدم ثبوت کو ثبوت عدم سے کیاعلاقہ
وھذا بحث لقد فرغنا عنہ فی الرد علی الوھابیۃ مرارا
ً(یہ وہ بحث ہے جس کو ہم وہابیوں کے رد میں بارہا تفصیلاً بیان کرچکے ہیں۔ت) غایت یہ کہ بے طلب شرع بے وجہ ہے جبکہ کوئی عارض خاص نہ ہو مثلاً مرید یاتلمیذ یا ابن کے نزدیک کل ثبوت شرعی ہوگیا تھا پڑھ لی شیخ یااستاذ یا اب کے یہاں آج ملنے کو حاضر ہوا ان کے نزدیک آج عید ہے، یا نماز کوکھڑے ہوئے اب ان کی مخالفت اس امر میں کہ شرعاً ممنوع وحرام نہیں معیوب وقبیح ہے لہٰذا متنفلاً شریک ہوگیا تو یہ صورت بے وجہ بھی نہیں بلکہ بوجہ وجیہ ہے، امام مجتہد مطلق عالم قریش سیدنا امام شافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے تو جب مزارمبارک امام الائمہ سیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حضور نماز صبح پڑھائی دعائے قنوت نہ پڑھی نہ بسم اﷲ وآمین جہر سے کہی نہ غیرتحریمہ میں رفع یدین فرمایا علی مافی الروایات (جیسا کہ روایات میں ہے)
خود اپنا مذہب مجتہد نے ترک کیا اور عذر بھی بیان فرمایا کہ مجھے ان امام اجل سے شرم آئی کہ ان کے سامنے ان کا خلاف کروں
کما بیناہ فی حیاۃ الموات فی بیان سماع الاموات
 (جیسا کہ ہم نے ''حیات الموات فی بیان سماع الموات'' میں بیان کیا ہے۔ت)
 (۳) امام اپنے قلب سے نیت کرتاہے اور قلب غیب ہے اور زبان اس کاذریعہ بیان۔ ہرمسلم اپنے مافی الضمیر پرامین ہے جب تک ظاہر اس کا مکذب نہ ہو، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
افلا شققت عن قلبہ حتی تعلم اقالھا ام لا۱؎ رواہ مسلم۔
کیاتونے اس کا دل چیرکردیکھا ہے حتی کہ تونے جان لیا کہ اس نے دل سے کہا یانہیں۔ اسے مسلم نے روایت کیا(ت) ۱؎
(۱؎صحیح مسلم    باب تحریم قتل الکافر بعد قول لاالٰہ الااﷲ        مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی    ۱ /۶۸)
مقتدیوں کا یہ وسوسہ بد گمانی ہے اور بدگمانی:
قال تعالٰی یاایھا الذین اٰمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم ۲؎
اﷲ تعالٰی کاارشاد ہے اے ایمان والو! بہت زیادہ ظن سے بچاکرو کیونکہ بعض ظن گناہ ہوجاتے ہیں۔
 (۲؎ القرآن        ۴۹ /۱۲)
وقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایاکم والظن فان الظن اکذب۳؎ الحدیث۔
اور نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: بدگمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے بڑی جھوٹی بات ہے(ت)
 (۳؎ صحیح البخاری        کتاب الوصایا            مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۳۸۴)
 (۴) ہاں ثابت ہے
کما فصلناہ فی الفتوی السابقۃ بمالامزید علیہ
 (جیسا کہ ہم نے سابقہ فتوٰی میں اس کی تفصیل بیان کی جس پر اضافہ نہیں ہوسکتا۔ت) فجرومغرب کاحدیث میں استثناء فرمایا۴؎
رواہ الدار قطنی بسند صحیح عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
 (اسے دارقطنی نے صحیح سند کے ساتھ حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے حوالے سے نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے بیان کیاہے۔ت) تعلیل حکم نے فجر سے عصر، مغرب سے وترکاالحاق بتایا اور یہی مذہب حنفیہ ہے۔
 (۴؎ المصنف لعبدالرزاق    باب الرجل یصلی فی بیتہ الخ     حدیث ۳۹۳۹    مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت    ۲ /۴۲۲)

(کنزالعمال        اعادۃ الصلوٰۃ     حدیث ۲۲۸۳۲    مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت    ۸ /۲۶۲)
Flag Counter